رانی کے مطابق میں ایک عجیب آدمی ہوں۔ جبکہ میں بہت سالوں سے اسے سمجھا رہا ہوں کہ میں عجیب نہیں، بس تھوڑا الگ ہوں کیونکہ جب دنیا کسی نئی ایجاد پر تالیاں بجاتی ہے، تو میں سوچتا ہوں کہ یہ تو پہلے بھی ہو چکا ہے ، آج کا انسان جب خود کو عظیم کہتا ہے تو مجھے لگتا ہے وہ خود کو ایک دھوکے کے پردے کے پیچھے سے دیکھ رہا ہے ، دنیا میں ہر طرح کی آزادی اور ناجانے کس طرح کی آزاد خیالی کی مانگ کی جاتی ہے وہ بھی میری سمجھ سے باہر ہے ۔
ہماری ساری توجہ جب مذہب ، سیاست اور جھوٹ پہ قائم نہیں رکھی جاسکتی تو ہمیں حقوق کی غلام گردشوں میں بھٹکایا جاتا ہے تا کہ ایک عام ذہن مصروف رہے . ان حقوق اور آزادیوں میں ایک نعرہ "حقوق نسواں ” کا بھی ہے ۔ جب کوئی کہتا ہے کہ آج کی عورت پہلی بار آزاد ہوئی ہے تو میرے ذہن میں ایک سوال اٹھتا ہے: کیا واقعی یہ سچ ہے ؟ کیا اس سے پہلے کوئی عورت آزاد نہ تھی؟
میں برطانیہ میں رہتا ہوں۔ مصروف زندگی ، بے شمار زمہ داریاں، مصروف لوگ اور سب سے زیادہ مصروف یہ ذہن جو یہ سوچنے کی فرصت نہیں دیتا کہ ہم اصل میں کہاں سے آئے ہیں، کیا کر رہے ہیں اور کہاں جانا ہے ، ایک مشینی زندگی ہے، جس میں ہر چیز کو ایک طے شدہ وقت پر روز کرنا ہوتا ہے اور ایسا سالوں سے ہو رہا ہے ۔
مجھے لگتا ہے کہ انسان نے جو کچھ آج دریافت کیا ہے وہ دراصل دریافت نہیں، تجدید ہے۔ ہم وہی سوالات پوچھ رہے ہیں جو صدیوں پہلے پوچھے جا چکے ہیں۔ وہی جوابات ڈھونڈ رہے ہیں جو بہت پہلے مل چکے تھے مگر پھر بھلا دیے گئے۔
میری یہ کہانی اس بھولے ہوئے کی تلاش ہے۔یہ کہانی ان عظیم عورتوں کی ہے جنہوں نے وقت سے پہلے وہ سوالات پوچھے جن کے جواب آج بھی ڈھونڈے جا رہے ہیں ۔
یہ کہانی میری ہے ، ایک مسافر کی کہانی ، جو وقت میں سفر کرنا چاہتا ہے، مگر منزل پر نہیں پہنچنا چاہتا کیونکہ منزل ہے ہی نہیں صرف راستہ ہے جس پر بہت سے بکھرے ہوئے خیالات کو جب بھی سمیٹا جاتاہے تو ایک کہانی ترتیب میں آ جاتی ہے اور آج بھی کچھ ایسی ہی کیفیت ہے ۔
کل شام میرے لیے کچھ مختلف تھی۔ جیسے سابقہ تحریر میں لندن کی شاموں کا ذکر کیا تھا ایسے ہی برطانیہ کی تمام شامیں عموماً ایک جیسی ہوتی ہیں۔ سرمئی آسمان، تیز رفتار لوگ، اور ہوا میں وہ ٹھنڈک جو ہڈیوں تک پہنچتی ہے اور شاید اسی لیے یہاں جذبات بھی سرد ہی ہوتے ہیں ۔ آپ مجھ سے اختلاف کر سکتے ہیں کیونکہ جذبات صرف یہاں نہیں ہر جگہ اب سرد ہی ہیں ، آج کا انسان جدید ہونے کے ساتھ ساتھ تنہا بھی ہے اور تنہا انسان کہیں بھی ہو اس کے جذبات سرد ہی ہونگے . آج میں کہانی کا آغاز ” ایک دفعہ کا ذکر ہے” سے نہیں کروں گا. اس کہانی کا کوئی پلاٹ نہیں یہ تو بس ایک شام کا ماجرا ہے. ایک بے چینی، ایک کھنچاؤ سے بھرپور شام جس کا احساس کچھ ایسا تھا جیسے کوئی نادیدہ دھاگہ مجھے کہیں لے جانا چاہتا ہو اور میں آپ کو ساتھ لے جانا چاہتا ہوں ۔
میں اپنے گھر سے کام کرتا ہوں اور یہاں ایک کمرہ میرا دفتر ہے ، کتابوں ، کاغذات ، نئے پرانے آلات ، بہت سی تاروں اور میرے بستوں کا قبرستان ، میرا دفتر جہاں سے میرے شہر کی ایک مصروف شاہراہ دکھتی ہے ۔ یہاں کوئی نہیں آتا بس میں ہوتا ہوں اور میرے ساتھ میرے خیالات ، جب کام نہیں ہوتا تو میں وقت میں پیچھے کا سفر کرنے کے لیے ماضی کے اوراق پلٹتا رہتا ہوں اور ہر ورق مجھے سابقہ ورق پہ جانے کی تحریک دیتا ہے کیونکہ انسانی تاریخ کے بہت سے ابواب سالوں سے خاموش ہیں اور ان میں چھپے راز ایک بار پھر سے ابھرنے کے لیے بیتاب رہتے ہیں ۔
کل شام میں اپنے دفتر میں تھا ، یہاں خاموشی تھی جیسی صرف کتابوں کے درمیان ہوتی ہے، جہاں ہزاروں آوازیں ایک ساتھ چپ ہو بھی جائیں تو کچھ نہ کچھ کہتی رہتی ہیں ۔
میں ماضی کے صفحات پلٹ رہا تھا ، میں اسے ماضی میں سفر کرنا کہتا ہوں اور میں کل اس سفر پر اندلس جا پہنچا ، میں چلتا جا رہا تھا علم کے میناروں کی قطاروں کے درمیان، جیسے کسی جنگل میں جہاں ہر درخت ایک دنیا ہوتا ہے۔ چلتے چلتے ایک نام نے مجھے روک لیا ، جیسے کوئی گرد آلود، پرانی، بے نام سی کتاب ملتی ہے تو تجسس بڑھ جاتا ہے ایسے ہی اس نام کا مقناطیسی اثر تھا یا جیسے کوئی آواز دے رہی ہو میں نے اپنے لیپ ٹاپ پر ایک کتاب کھولی ہوئی تھی جس کے مصنف کا نام ابن بشکوال تھا اور کتاب کا نام ” کتاب الصلۃ ” تھا ۔ یہ کتاب عربی زبان میں تھی ، میں نے ترجمہ ڈھونڈا تو کچھ صفحات کا ترجمہ انگریزی میں دستیاب ہوا ، یہاں کچھ نام لکھے تھے ، ان ناموں کے ساتھ ان کی زندگی کے احوال درج تھے جبکہ میری نظر جس نام پہ ٹھہری وہ ” لبنی قرطبیہ ” کا تھا ( کچھ حوالوں میں لبنی بنت عبد المولیبھی لکھا گیا ہے ) ۔
ان کے بارے میں بس چند سطور درج تھیں کہ ایک عورت جو الحکیم ثانی کی کاتبہ، ریاضی دان ، نحو اور شاعری میں ماہر اموی دربار میں بے مثال کردار والی عظیم عالمہ تھیں اور جو قرطبہ میں مدینۃ الزہراء کے عظیم کتب خانے کی نگران تھیں جہاں کم از کم چار لاکھ کتابیں موجود تھیں۔
میں نے وہ سطور کئی بار پڑھیں اور ہر بار محسوس ہوا کہ جیسے ان الفاظ کے پیچھے کوئی دنیا چھپی ہو جو اپنی کہانی سنانے کی منتظر ہے کیونکہ بعض سطور کسی وسیع سمندر کی سطح جیسی ہوتی ہیں کیونکہ ان کی گہرائی میں ایک پوری کائنات دکھ رہی ہوتی ہے ۔
میں نے لیپ ٹاپ کی اسکرین بند کر دی اور گھر کے نیچےکے حصے میں چلا گیا مگر ذہن وہیں چار لاکھ کتابوں والے مدینۃ الزہراء کے عظیم کتب خانے کے دروزاے پر چھوڑ آیا تھا . تحقیق کا ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ کتاب بند بھی ہو جائے تخیل میں تجسس کبھی رکتا نہیں اور کل رات میں اسی تجسس کے ساتھ بستر پہ لیٹا تو آنکھیں بند کرتے ہی میں پھر سے قرطبہ میں تھا ، اس عظیم کتب خانے میں جہاں روشنی اور خوشبو دونوں تھے ۔
سیاہی اور پرانے کاغذات کی خوشبو ۔ میں نے خود کو ایک وسیع کتب خانے میں پایا۔دیواروں کے ساتھ کتابوں کی لمبی قطاریں تھیں ، جیسے کوئی لشکر صف بستہ کھڑا ہو، خاموش اور تیار۔ کہیں لوگ قلم چلا رہے تھے، کہیں سرگوشیوں میں بحث ہو رہی تھی، کہیں کوئی آنکھیں بند کیے کچھ یاد کر رہا تھا۔
یہ دسویں صدی کا قرطبہ تھا جو کبھی دنیا کا دل تھا۔ یونان کی حکمت، ہند کے اعداد، فارس کی روایت ، سب یہاں آ کر ایک نئی، زندہ شکل اختیار کر رہے تھے۔
پھر میں نے انہیں دیکھا جیسے جلتی شمع کے گرد خاموشی ہوتی ہے ان کے ہاتھ میں قلم تھا اور آنکھیں کسی مخطوطے پر جمی ہوئیں تھیں ناجانے کیوں مگر میں جانتا تھا کہ یہ لبنیٰ ہی ہیں ، قرطبہ کے عظیم کتب خانے کی نگران ، ایک ریاضی دان ، صدیوں پہلے آزاد ہونے والی عورت جن کا حسن نہیں عمل بولتا تھا اور آج یہ وقت میں سفر کرنے والے مجھ سےمسافر کو قرطبہ لے آئیں . یہ روحانی سفر تھا ، میں آج تک جسمانی طور پر قرطبہ نہیں گیا تھا ، میں بس وقت کے کسی اور کنارے سے آیا ہوا مسافر آج یہاں کیسے پہنچا مجھ خود پتہ نہیں تھا ۔
میرے سامنے منظر بدلا، جیسے فلم کے مناظر بدلتے ہیں ، جیسے آسمان کے رنگ بدلتے ہیں ، جیسے رات کو ستاروں کی چال بدلتی ہے ویسے ہی منظر بدلا ۔
وہی کتب خانہ مگر اس کی عظمت کسی فتنے کی بھینٹ چڑھ گئی اور یہاں اب خاموشی کی جگہ بے چینی تھی۔ دور سے شعلوں کی آنچ آ رہی تھی، لوگ بھاگ رہے تھے، کتابیں زمین پر بکھر رہی تھیں۔ قرطبہ ٹوٹ رہا تھا وہ روشنی جو صدیوں سے جل رہی تھی، بجھنے پر آمادہ تھی۔
پھر میں نے خود کو پہاڑوں کے درمیان پایا۔ ٹھنڈی ہوا مگر فضا میں وہ اداسی تھی جو بڑے نقصان کے بعد آتی ہے۔
لبنیٰ وہاں کھڑی تھیں ، انہوں نے مجھے دیکھا تو بولیں :
” اے اجنبی تم کون ہو؟”
"میں ایک مسافر ہوں ، وقت کا مسافر، مستقبل سے آیا ہوں۔” میں بولا
وہ مجھے دیکھتی رہیں ، جیسے میرے الفاظ کی سچائی کو پرکھ رہی ہوں ، پھر ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ بولیں ۔”مستقبل۔ وہاں کیا ہے؟”
میں نے نظریں جھکا لیں، میرے پاس کہنے کو کچھ تھا ہی نہیں ۔”کیا وہاں کچھ نیا ہے؟”انہوں نے سوال کرنا جاری رکھا.
"لوگ کہتے ہیں ہاں ہے مگر مجھے لگتا ہے کچھ نہیں ہے ۔ جو کچھ وہ کر رہے ہیں، وہ تو آپ پہلے ہی کر چکی ہیں ۔ جو سوال وہ پوچھ رہے ہیں، آپ توان کے جوابات کا رستہ ہموار کر گئیں تھیں ۔”
لبنیٰ نے ایک گہری سوچ کے ساتھ پوچھا "تم یہاں کیوں آئے؟”
میں جواب دیتے ہوۓ سہما ہوا تھا ، علم کے منار کے سامنے ایک کم علم کیا بولتا ، قدر جھجھک کے ساتھ بولا "جاننا چاہتا ہوں کہ کیا واقعی ہم نے سب کچھ کھودیا ہے یا بس بھلا دیا ہے؟”
لبنیٰ کی آنکھوں میں ایک چمک آئی اور وہ بہت شفقت سے کہنے لگیں "میں تمہاری پہلی منزل ہوں، آخری نہیں۔ میرے بعد بھی بہت کچھ ہے بہت سی آوازیں ہیں جو تم نے نہیں سنیں۔ سننا چاہتے ہو ؟”
” جی ” میں نے جھکی پلکوں کے ساتھ کہا . "تو پھر آنکھیں بند کرو میں تمہیں حلب لیکر جاتی ہوں ۔”انہوں نے بھی آنکھیں بند کر لیں.
میں نے آنکھیں بند کیں تو ہر طرف ستارے تھے لاتعداد اور بے شمار . جیسے کسی نے آسمان پر روشنی کی چادر بچھا دی ہو۔ میں ایک کھلی چھت پر تھا، اور سامنے ایک اور عورت بیٹھی تھیں ، ہاتھ میں ایک عجیب سا آلہ تھامے آسمان پر نظریں جمائے وہ تاروں سے محو گفتگو تھیں ۔
وہ اسطرلاب تھا۔ دھات کی وہ پیچیدہ گول شکل والا سائنسی آلہ ہے جو فلکیات میں استعمال ہوتا تھا۔ اس کے ذریعے سورج، چاند اور ستاروں کی پوزیشن معلوم کی جاتی تھی، وقت کا اندازہ لگایا جاتا تھا، اور سمت نکالی جاتی تھی۔ میرے سامنے مریم الاسطرلابی تھیں جو دسویں صدی کی ایک ماہرِ فلکیات، ریاضی دان اور اسطرلاب ساز تھیں، جن کا تعلق حلب سے تھا اور انہوں نے فلکیاتی آلات کی درستگی میں بہتری لا کر جہاز رانی اور وقت کے تعین میں مدد فراہم کی۔
"مریم؟” میں نے آہستہ سے کہا۔
انہوں نے مڑ کر دیکھا ، وہ میرے ہونٹوں سے اپنا نام سن کر حیران نہیں تھیں ایسے لگتا تھا ، جیسے میرا آنا ان کے لیے متوقع تھا۔
"لبنیٰ نے بھیجا ہے تمہیں ؟”انہوں نے پوچھا
"ہاں۔” میں نے جواب دیا
وہ مسکرا کر دوبارہ آسمان کی طرف دیکھنے لگی۔”بیٹھ جاؤ۔ اوپر دیکھو۔”
میں بیٹھ گیا۔ آسمان دیکھا۔ اور پہلی بار محسوس ہوا کہ ستارے محض روشنی کے نقطے نہیں وہ وقت کے نشان بھی تھے ۔ ہر ستارے کی روشنی ہزاروں سال پرانی ، ہم جو آج دیکھ رہے ہیں وہ کل کا ماضی ہے۔ "جانتے ہو یہ آلہ کیا کرتا ہے؟” مریم نے اسطرلاب اٹھایا اور پوچھا ۔
"ستاروں کی پوزیشن بتاتا ہے۔ وقت بتاتا ہے۔ راستہ دکھاتا ہے۔” میں نے بہت اعتماد سے جواب دیا.
"نہیں۔” انہوں نے سر ہلایا۔ "یہ ماضی اور حال کو جوڑتا ہے۔ ستاروں کی روشنی لاکھوں سال پرانی ہے اور ہم اسے آج ناپتے ہیں۔ کیا یہ تجدید نہیں؟”
میں چپ ہو گیا۔
"تم سوچتے ہو کہ انسان آج کچھ نیا نہیں کر رہا بس پرانے کو دہرا رہا ہے۔ مگر کیا تجدید کم عمل ہے؟ ہر بار جب کوئی آسمان کو دیکھتا ہےوہ پہلی بار دیکھتا ہے تو یہ اس کے لیے پہلی بار ہی ہوتا ہے ۔”
میں نے قدر پریشانی سے پوچھا "مگر ہم نے یہ علم کھو دیا ہے ” ۔ "علم نہیں کھویا ” مریم نے اسطرلاب زمین پر رکھا اور میری طرف پلٹیں "صرف وہ لوگ کھوئے جو اسے اگلی نسل تک پہنچا سکتے تھے۔ علم آسمان میں لکھا ہے ، ستاروں میں، پانی میں، ہوا میں، جو ڈھونڈے گا، پائے گا۔”
وہ اٹھیں اور چلنے سے پہلے کہنے لگیں ،”آگے جاؤ۔ ابھی بہت سی آوازیں تم نے سننی ہیں سفر یہیں ختم نہیں ہوتا ۔” یہ بھی ایک آزاد عورت تھیں جن کومغرب کے لوگ فلکیاتی کمپیوٹر کا موجد کہتے ہیں مگر ہم انہیں بھول چکے ہیں۔
ایک بار پھر میں قرطبہ لوٹ آیا ۔ دن کا وقت تھا، میں ایک باغ میں تھا درختوں کی چھاؤں میں عورتیں اور مرد بیٹھے شعر سن رہے تھے۔ فضا میں الفاظ جذبوں کی طرح آزاد تھےجیسے جرأت سے کوئی کلمہ حق بلند کرتا ہے ۔
ولادہ بنت المستکفی ان سب کے درمیان شاہانہ انداز سے بے باک بیٹھی تھیں ۔ یہ اندلس کی شہزادی تھیں جس کی پیدائش 994 عیسوی میں ہوئی . یہ عربی زبان کی بہترین شاعرہ اور اموی سلطنت کے گھرانے سے تعلق رکھنے والی ایک آزاد عورت تھیں .
میں قریب گیا۔ انہوں نے مجھے دیکھا اور بولیں "آ گئے؟ لبنیٰ نے کہا تھا کوئی آئے گا۔”
میں نے پوچھا "آپ کو کبھی ڈر نہیں لگا؟ وہ لکھنے یا کہنے سے، جو آپ سوچتی ہیں اور جو شاید معاشرے کو اچھا نہ لگے ؟ ہمارے دور میں تو عورت ابھی آزادی کی جنگ لڑ رہی ہے جبکہ آپ تو یہاں ……. ” میں جملہ مکمل نہ کر پایا .
ولادہ نے قہقہہ لگایا اور اپنا ایک شعر پڑھا
"أنا والله أصلح للمعالي-وأمشي مشيتي وأتيه تيها”
(بخدا، میں بلندیوں کی سزاوار ہوں، اور جب میں چلتی ہوں تو اپنی ہی شان میں مست ہو کر چلتی ہوں )
"ڈر؟ ڈر اُن کو لگتا ہے جو یہ سمجھتے ہیں کہ اُن کے الفاظ مر سکتے ہیں میں جانتی ہوں میرے الفاظ کبھی نہیں مریں گے ۔ تم آج میرے پاس ہو کیا یہ ثبوت کافی نہیں کہ میرے الفاظ آج بھی زندہ ہیں ؟”
میں خاموش رہا۔”تم کہتے ہو کہ تمہارے دور میں کچھ نیا نہیں ہوتا شائد تم ٹھیک کہتے ہو گے مگر یاد رکھنا ہم نے جو لکھا اسے لکھنے کی ہمت کس میں نہ تھی اور تمہارے دور میں بھی کوئی نہ کوئی ویسا ہی لکھ رہا ہو گا جو سوچنے والے کو حیران کر دیتا ہو گا ۔ بس نام بدل گئے ہیں ، زبانیں بدل گئیں ہیں مگر جرأت وہی ہے۔”
"تو کیا ہم آگے بڑھ رہے ہیں؟” میں نے پوچھا۔
ولادہ نے کچھ دیر سوچا پھر بولیں ،”یہ سوال غلط ہے۔ آگے پیچھے کچھ نہیں ہوتا صرف روشنی ہوتی ہے اور اندھیرا۔ جہاں روشنی ہو، وہاں جاؤ۔”
میں نے دیکھا ولادہ جا چکیں تھیں اور سامنے ایک اور آزاد عورت عائشہ بنت احمد اکیلی بیٹھی تھیں اور اکیلی ہونے میں انہیں کوئی تکلیف نہ تھی۔ میں ابھی بھی دسویں صدی میں تھا ۔
ایک بڑے سے کمرے میں عائشہ بنت احمد کتابوں میں گھری ایک میز پر ٹیک لگائے کچھ لکھ رہی تھیں ۔ قلم کی آواز اس سکوت میں ایک ساز سے نکلنے والی دھن جیسی محسوس ہو رہی تھی ۔
عائشہ بنت احمد علمِ بیان کی ماہر معلمہ ، جن کے بارے میں ابن حیان نے لکھا کہ پورے جزیرہ نما آیبیریا میں انکا کوئی ثانی نہ تھا۔
لبنی کی طرح انہوں نے بھی علم کو اپنایا اور ایسا اپنایا کہ اپنے قریب کتابوں کے سوا کسی کو نہ آنے دیا ۔
"آپ کا رفیق حیات کون ہے ؟” میں نے پوچھا شاید بے ادبی تھی، مگر وہ سوال منہ سے نکل گیا۔
انہوں نے قلم نہیں روکا لکھتے لکھتے بولیں ،”علم میرا رفیق حیات اور یہ کتابیں میری میراث ہیں ، کیا یہ کم ہے ؟تم مستقبل سے آئے ہو وہاں انسان کو علم ملا؟”
"ہاں ملا۔ مگر ابھی بھی ایک جنگ جاری ہے، کہیں پہچان کی اور کہیں نام کی ۔” میں نے جواب دیا
"جنگ تو ہمیشہ رہے گی۔ علم کی قدر کبھی آسان نہیں ہوتی۔ جو آسانی سے ملے، وہ علم نہیں وقت گزاری ہے۔”
وہ دوبارہ لکھنے لگ گئیں ایسے لگ رہا تھا ایک علوم کا چراغ جل رہا ہے جس کے نور سے بہت سے قلب روشن ہو رہے ہیں ۔ میں ان انوارات کی جھلک دیکھ کر ابھی آنکھیں مل ہی رہا تھا کہ منظر پھر سے بدلا اور کہکشاں کے ستاروں کی طرح ایک کے بعد ایک آزاد عورت آٹھ سو سالہ سنہری دور میں مجھے علم کی روشنی بکھیرتے اور چراغ جلاتے نظر آئی .
میں واپس انہی پہاڑ وں میں لوٹا جہاں لبنی مجھے ملیں تھیں ، شاید وہ میری منتظر تھیں ۔
"کہاں کہاں گئے مسافر ؟” انهوں نے پوچھا۔
"حلب، قرطبہ، فاس گیا اور فاس میں فاطمہ الفہری کی قدیم جامعه دیکھی جو نویں صدی میں علم کا ایک عظیم مقام تھا ، اس کے علاوہ اور بھی کئی مقامات کی سیاحت کی ” میں نے کہا، "اور کیا ملا؟” انہوں نے پوچھا.
میں نے سوچا ، کیا جواب دوں؟ کیا ملا تھا؟ میں نے اپنی کم علمی کے بوجھ تلے دبے لفظوں میں کہا انسان نے اپنا مقام کھویا نہیں ، بھلا دیا ہے ، بیشک تجدید بھی ایک تخلیق ہے اور مجھے آج علم ہوا کہ اصل آزادی تو انسان کو علم سے ملی تھی چاہے وہ مرد ہو یا عورت ۔”
لبنیٰ نے آہستہ سے سر ہلایا اور بولیں "ہم نے وہ دنیا بنائی تھی جہاں علم کو عبادت سمجھا جاتا تھا۔ ہم نے وہ سوالات پوچھے جو پوچھنے کی ہمت نہ تھی۔ ہم نے وہ راستے بنائے جن پر چلنے کا حق کسی نے نہیں دیا تھا۔ اور پھر وہ دنیا بکھر گئی اور شاید مرد کے ساتھ ساتھ عورت بھی ۔”
"کیوں بکھری؟” میں نے پوچھا۔ "کیونکہ ہم نے یہ نہ سوچا کہ جو بنا ہے، اسے سنبھالنا بھی پڑتا ہے اسے اپنا مقام قائم رکھنا پڑتا ہے ۔”
یہ سنتے ہی میں بیدار ہوا میں اپنے کمرے میں، اپنے بستر پر دراز تھا جب الارم کلاک کی آواز نے کمرے کا ماحول بدل دیا ،یہ برطانیہ کی ایک اور صبح تھی جب باہر بارش کے شور میں بہت سی آوازیں غیر واضح ہو رہی تھیں اور میں ابھی بھی اس روحانی سفر میں کھویا تھا ۔
میں نے کھڑکی کھولی، ٹھنڈی ہوا اندر آئی اس میں کچھ تھا، کوئی خوشبو، جیسے پرانے کاغذ کی، جیسے سیاہی کی، جیسے ہزاروں سال پرانے علم کی۔
میں اٹھ کر دفتر والے کمرے میں کرسی پہ بیٹھ گیا ، لیپ ٹاپ کی اسکرین کھولی تو لبنیٰ کا نام ابھی بھی وہیں تھا چند سطروں میں قیدمگر اب وہ سطریں کچھ اور کہہ رہی تھیں۔
میں نے ایک کاغذ نکالا اور لکھنا شروع کیا، پھر رک گیا۔ کیا لکھتا؟ کون میرا یقین کرے گا؟
نہ جانے ان کی کل تعداد کتنی تھی، مگر کم از کم اب میں ایسی تیس آزاد عورتوں کو جانتا تھا جو علم اور عظمت کی مثال تھیں۔ ان میں سے ایک کا نام لبنیٰ تھا، جنہوں نے آٹھ سو سال بعد مجھ سے پوچھا تھا کہ کیا میرے دور میں کتاب عام ہے، اور کیا آزادی کا راستہ کتابوں کے سائے میں ڈھونڈا جاتا ہے؟
میں انہیں کیا جواب دیتا کہ آٹھ صدیوں بعد ہماری آزادی کا راستہ کہیں کھو گیا ہے۔ ہم جہاں آج کھڑے ہیں، وہاں سب راستے، سب قافلے اندھیروں کے غاروں کی طرف جاتے ہیں۔ ہر شاخ سے “میری مرضی، میری مرضی” کی صدائیں تو بلند ہو رہی ہیں، مگر ان میں کہیں بھی سچ کی طلب نہیں۔
اور لبنیٰ کے کتب خانے کی کتابوں میں لگی آگ کے شعلے آج بھی بھڑک رہے ہیں، اور ان میں صدیوں سے ہم جل جل کر جھلس رہے ہیں، کیونکہ ہماری آزادی کی اصل تعریف حقوق کی جنگ میں ماری جا چکی ہے اور اس میں صرف عورت نہیں، سارا معاشرہ برسرِ احتجاج ہے۔