کوئی بیس سال بعد، حال ہی میں، عبدالقیوم چوہدری سے ملاقات ہوئی ۔ چوہدری صاحب ریاست جموں کشمیر کے سابقہ صدر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کے ذاتی معاون تھے اور بعد میں وہ یونیورسٹی آف آزاد کشمیر میں کسی انتظامی پوسٹ پر تعینات رہے . اس سے پہلے عبدالقیوم چوہدری نے باضابطہ صحافت کی اور پاکستان کے موقر روزناموں جیسے ڈان، دی نیشن ، دی نیوز وغیرہ کے لیے کام کیا وہ وزارت خارجہ میں اِبْلاغ کے نمائندے بھی تھے ، ان کی اردو اور انگریزی اچھی ہے اور "زمانہ حصول ” کے دنوں میں میرپور میں عبدالقیوم چوہدری سے ملاقات تب ہوئی جب ہم دونوں کالج میگزین ” سروش” کے ساتھ منسلک تھے . ہمار ا ” زمانہ حصول ” ہر گز عطیہ فیضی جیسا ” زمانہ حصول ” نہیں تھا . ہمارے زمانہ حصول میں حصول علم درسگاہ سے باہر بہت تھا اور اس دوران جو جو مجھے ملا اس نے مجھے بہت سکھایا ، میں ذاتی طور پر ان صحبتی اساتدہ کا تادم مرگ شکر گزار رہوں گا ۔
عبدالقیوم چوہدری اب برطانیہ میں آ آباد ہوئے ہیں اور جب سے انہوں نے مجھے اپنے آنے کی خبر کی ہے ہم کبھی کبھی بات کرتے ہیں اور ایک بار ہماری ملاقات بھی ہوئی مگر ہر بار جیسے اچھی فلم جلد ختم ہونے یا اچھی کتاب کے آخری باب کو دیکھ کر دکھ ہوتا ہے ویسے ہی عبدالقیوم چوہدری کے ساتھ فون کال کاٹتے ہوئے مجھے برا لگتا ہے۔غریب الوطنی میں جہاں بہت سے مسائل زندگی کے دریا کا رخ موڑ دیتے ہیں وہیں ذاتی اور گھریلو مصروفیات بھی ہیں جن سے نکلنا "مشکل ہی نہیں ناممکن” بھی بن جاتا ہے ۔کچھ روز پہلے میں نے لکھا تھا کہ مجھے اب بھی اپنے اندر ایک بچہ کہیں من کی کسی گلی میں چھپا ہوا مل جاتا ہے۔ اب زندگی کے پچاس برس پورے ہونے کو ہیں، مگر دبلیاہ راجگان کے کھیتوں میں بیلوں کے پیچھے بندھے ہل کے ساتھ جھولتا ہوا وہ بچہ آج بھی میرے اندر زندہ ہے۔ میں اسے بھول نہیں پایا ہوں، اور سچ تو یہ ہے کہ میں اسے بھولنا بھی نہیں چاہتا۔
ایسے ہی میرے کچھ مخلص دوست ہیں جنھیں سالوں بعد بھی میں ملتا ہوں تو گمان وہیں لے جاتا ہے جہاں ہم آخری بار ملے تھے ۔
عبدالقیوم چوہدری ان لوگوں میں سے ہیں جو بظاہر ایک عام سی بات کرتے ہیں مگر اس کا اثر دل و دماغ پر ایسے چھوڑ جاتے ہیں جیسے کسی پرانے کمرے میں اچانک عطر کی خوشبو پھیل جائے۔ پچھلے دنوں انہوں نے نہایت سنجیدہ چہرے اور نیم مسکراہٹ کے ساتھ مجھ سے فرمایا کہ آج کل کے صحافی، صحافی کم اور "بشیرا” زیادہ ہو گئے ہیں۔
میں نے عرض کیا”چوہدری صاحب، یہ بشیرا کون سی نئی صحافتی سند ہے؟”
کہنے لگے” نہ سند، نہ منصب، نہ عہدہ ہے یہ ایک کیفیت ہے، ایک مزاج ہے، ایک ایسی مخلوق ہے جو خبر سے کم اور خبر کے ہنگامے سے زیادہ محبت رکھتی ہے۔”
ایک زمانہ ہو ا کرتا تھا جب صحافی کو لوگ بڑے احترام سے دیکھتے تھے۔وہ قلم کا آدمی ہوتا تھا، سوال کرتا تھا، سچ کے پیچھے بھاگتا تھا، اور کبھی کبھی حکومتوں کی نیندیں بھی اڑا دیتا تھا۔
پھر وقت بدلا، موسم بدلے، چینل بڑھے، اسکرینیں روشن ہوئیں، مائیک لمبے ہوئے، اور صحافی آہستہ آہستہ”صحافی” سے "صافی” اور پھر”بشیرا” بنتا چلا گیا۔ پہلے مرحلے میں تو صرف "صحافی” سے "ح” غائب ہوا تھا مگر آنے والے سالوں میں یہ مکمل "بشیرا” بنا اور اس نے ایک ایسا عظیم مقام حاصل کر لیا جہاں عام "صحافی” کی نہ پہنچ ہے اور نہ ہی پہنچنے کی کوئی خواہش ۔
یہ نہ مکمل صحافی ہوتا ہے، نہ مکمل تجزیہ کار، نہ مکمل دانشور، مگر ہر شعبے میں خود کو امامِ وقت سمجھتا ہے۔اس کی سب سے بڑی خوبی یہ ہوتی ہے کہ اسے ہر مسئلے کا جواب پہلے سے معلوم ہوتا ہے، بس مسئلہ یہ ہے کہ حقیقت کو اس جواب کا علم نہیں ہوتا۔بشیرا صبح اٹھتے ہی سب سے پہلے آئینہ نہیں دیکھتا، رجحان دیکھتا ہے۔
اگر ہوا مشرق سے چل رہی ہو تو وہ مشرقی دانشوری جھاڑتا ہے، اگر ہوا مغرب سے چلے تو جمہوریت، آزادیِ صحافت اور عالمی اصولوں کا رومال نکال لیتا ہے۔
اس کا ایمان خبر پر نہیں، خبر کے مصرف پر ہوتا ہے۔وہ یہ نہیں دیکھتا کہ کیا ہوا ہے، وہ یہ دیکھتا ہے کہ کیا بنایا جا سکتا ہے۔ بشیرا ایک الگ قسم کی سائنس ہے جس پر تحقیق ہونا ابھی باقی ہے ۔
بشیرا جب ٹی وی اسکرین پر آتا ہے تو یوں لگتا ہے جیسے قوم کے تمام سوالات کا آخری جواب اسی کے پاس محفوظ ہے۔
اب چاہے موضوع معیشت ہو، موسم ہو، کرکٹ ہو، فلسطین و کشمیر ہو، مقامی کونسل کا نالہ ہو یا پڑوس کے کتے کے بھونکنے کا سیاسی پس منظر ، بشیرا ہر موضوع پر ایسے بولے گا جیسے کل رات ہی اس نے کائنات کے مسائل حل کرنے والی کسی عالمی تنظیم کے اجلاس میں شمولیت اختیار کی ہو۔
اس کی گفتگو کے چند لازمی اجزاء ہوتے ہیں:”باخبر ذرائع کے مطابق…””اندر کی خبر یہ ہے…””میں ذمہ داری سے کہہ رہا ہوں…”اور سب سے خطرناک جملہ:”میں نے پہلے ہی کہا تھا…”
یہ "پہلے ہی کہا تھا” بشیرا کی وہ ڈھال ہے جس سے وہ ہر غلطی کو بھی پیش گوئی ثابت کر دیتا ہے۔اگر بات سچ نکل آئے تو کہتا ہے: "دیکھا؟ میں نہ کہتا تھا!”
اگر غلط نکل آئے تو فوراً وضاحت دیتا ہے: "میرے کہنے کا مطلب وہ نہیں تھا جو آپ نے سمجھا، میرے کہنے کا اصل پس منظر کچھ اور تھا۔”بشیرا کی اصل طاقت اس کی آواز میں نہیں، اس کے اعتماد میں ہوتی ہے۔
وہ ایسی ایسی باتیں پورے یقین سے کر جاتا ہے کہ سچ بھی کونے میں بیٹھ کر سوچنے لگتا ہے کہ شاید غلطی واقعی مجھ ہی سے ہوئی ہے۔یہ پرانے زمانے کا رپورٹر نہیں ہوتا جو دھوپ میں پھرے، کاغذات کھنگالے، دروازے کھٹکھٹائے، اور خبر ڈھونڈنے کے لیے جوتے گھسائے۔نہیں جناب، یہ جدید بشیرا ہے۔
یہ خبر تک نہیں جاتا، خبر اس کے پاس حاضر ہوتی ہے ، میک اپ روم سے ہوتی ہوئی، پروڈیوسر کی پرچی پر لکھی ہوئی، اسپانسر کے اشارے سے سنوری ہوئی یا کبھی واٹس ایپ پر یا کسی طاقتور کے دفتر سے ۔
پرانے صحافی سوال پوچھتے تھے،بشیرا سوال کو بھی اس انداز سے پوچھتا ہے کہ جواب پہلے ہی اس کی جیب میں رکھا ہوتا ہے۔وہ مہمان سے سوال نہیں کرتا، اس پر سوال تھونپتا ہے۔
مثلاً”کیا یہ سچ نہیں کہ آپ کی خاموشی دراصل ایک گہری سازش ہے، اور کیا آپ اس پر قوم سے معافی مانگیں گے؟”بیچارہ مہمان اگر پانی مانگ لے تو بشیرا فوراً بول اٹھتا ہے،”ناظرین! آپ نے دیکھا، میرے سوال پر یہ گھبرا گئے ہیں!”
بشیرا کے نزدیک بحث کا مقصد سچ تک پہنچنا نہیں، شور تک پہنچنا ہوتا ہے۔وہ جتنی اونچی آواز میں بولے، اتنا ہی خود کو حق پر سمجھتا ہے۔اگر سامنے والا مدلل بات کر دے تو بشیرا فوراً ٹوکتا ہے،”ایک منٹ، ایک منٹ، ایک منٹ! آپ میرے سوال کا جواب نہیں دے رہے!”حالانکہ سوال بھی اکثر وہی ہوتا ہے جس کا جواب خود تین منٹ پہلے دے چکا ہوتا ہے۔
سوشل میڈیا نے بشیرا کو مزید نکھار دیا ہے۔اب وہ صرف ٹی وی کا مخلوق نہیں رہا، ہر وقت موبائل کی سکرین میں بھی زندہ رہتا ہے۔وہ صبح ایک ٹویٹ میں انقلاب لا دیتا ہے، دوپہر کو ایک ویڈیو میں جمہوریت بچا لیتا ہے، اور شام تک ایک "بریکنگ” سے پوری قوم کا بلڈ پریشر چیک کر لیتا ہے۔اس کی سب سے بڑی مہارت یہ ہے کہ معمولی بات کو قومی سانحہ اور قومی سانحے کو معمولی بات بنا دے۔اگر کسی محلے میں بکری کھل جائے تو بشیرا کہے گا،”سوال یہ ہے کہ آخر اس بکری کے پیچھے کون ہے؟”
اور اگر کوئی بڑا مسئلہ کھڑا ہو جائے تو فوراً سنجیدگی سے فرمائے گا،” دیکھیں، اس وقت ہمیں جذباتی نہیں ہونا چاہیے۔”
ایک شہر میں ایسے ہی کئی بشیرے آباد سو سکتے ہیں ۔وہ روز شام کو ایک دوسرے کے پروگراموں میں جا کر ایک دوسرے کو "سینئر صحافی” کہتے ہیں ۔یہ لقب وہ ایک دوسرے کو اسی طرح بانٹتے تھے جیسے شادیوں میں مٹھائی بانٹی جاتی ہے۔
ایک نے دوسرے کو سینئر کہا، دوسرے نے تیسرے کو معروف کہا، تیسرے نے چوتھے کو معتبر کہا اور یوں پوری محفل خود ہی ایک دوسرے کی عظمت کی گواہ بن گئی۔
جیسے مارننگ شو ز نے معاشرے میں آج مختلف معیار کی بنیادیں قائم کر دی ہیں ویسے ہی بشیرا نے بھی ایک نئے قسم کی صحافت کی بنیاد رکھی ہے ۔
اس موقع پہ ایک بات یاد آ گئی جو پیش کرتا ہوں ، ایک دوست نے بتایا کہ ایک دن شہر کے ایک سادہ سے آدمی نے جو بشیرا کے لائف سٹائل ، پریس کارڈ اور کار پہ لگی غیر قانونی پلیٹ جس پر ” صحافی” لکھا سے متاثر تھا نے اپنے بچے سے کہا:”بیٹا، کبھی صحافی بننا، بڑا مقدس کام ہے۔”بچہ اپنے وا لد کی نسبت حالات سے بہتر آگاہی رکھتا تھا بولا،”ابو، صحافی یا بشیرا؟”باپ کچھ دیر خاموش رہا، پھر بولا،”بیٹا، نیت صاف رکھنا، ورنہ زمانہ خود فیصلہ کر دے گا کہ تم صحافی ہو یا بشیرا۔”
وقت گزراشہر میں سچ کم اور تبصرے زیادہ ہو گئےواقعات کم اور تجزیے زیادہ ہو گئے۔خبر ایک نحیف سی چیز بن گئی، جسے ہر بشیرا اپنی مرضی کے کپڑے پہنا کر اسٹیج پر لے آتا تھا۔کبھی اسے حب الوطنی کا چوغہ پہنا دیتا، کبھی آزادیِ اظہار کا، کبھی مذہب کا، کبھی ترقی کا، اور کبھی محض ریٹنگ کا۔مگر سچ، اپنی پرانی عادت کے مطابق، خاموشی سے ایک کونے میں بیٹھا رہتا۔وہ شخص جانتا تھا کہ بشیروں کا موسم ہمیشہ نہیں رہتا۔شور کی عمر کم ہوتی ہے، اور خبر آخرکار اپنے اصل چہرے کے ساتھ واپس آ ہی جاتی ہے۔ اسی امید پر اس بچے نے صحافت پڑھی اور وہ اپنے کردار سے ثابت کرنا چاہتا تھا اس کے والد کا گمان کہ ” نیت صاف ہو تو وقت فیصلہ کرتا ہے ” حقیقی ہے ، اس نے عملی صحافت کا آغاز کیا . یہ "صحافی” سے ” صافی ” والا دور تھا اور ایک روز میں ایک ٹی وی اسٹوڈیو میں بیٹھا تھا . اس دور میں باکمال لوگوں کی محافل ہوا کرتی تھیں ، کوئی خبر نیوز روم سے نیوز کاسٹر تک تب تک نہیں جاتی تھی جب تک کہ اس کی صحت اور سچائی کو مکمل طور پر پرکھ نہ لیا جائے ۔
میں جس کمرے میں بیٹھا تھا وہاں ہمارے ساتھ ایک ” صافی” بھی تھا ، یہ نوجوان آیا اور اس نے ایک مستقبل کے ٹی وی شو کا سٹوری بورڈ ٹی وی اسٹیشن کے مالک کے سامنے پیش کیا . اس نوجوان کا کام مثالی تھا اور جب میں نے تعریف کی تو ” صافی” بولا ” اس لڑکے نے اپنی جوانی یونیورسٹی میں برباد کر دی ہے اور پڑھی لکھی باتیں کرتا ہے آپ میرے ساتھ کیمرہ بھجوائیں میں کل تک آپ کو دو پروگرام بھجواتا ہوں بس آپ نے ان پرگراموں میں ” بوٹے کسائی ” اور ” گامے کڑاہی والے ” کو دو چار بار دکھانا ہے .
سو آج کے دور میں اگر آپ کسی شخص کو بہت زور سے بولتے، کم سنتے، زیادہ بتاتے، کم جانتے، ہر حکومت میں اصولی اور ہر اپوزیشن میں انقلابی دیکھیں،اگر وہ ہر خبر میں اپنا عکس اور ہر واقعے میں اپنی دانش چمکاتا پھرے،اگر وہ سوال سے زیادہ زاویہ، حقیقت سے زیادہ ہیڈلائن، اور امانت سے زیادہ مفاد کو عزیز رکھے تو سمجھ لیجیے، آپ صحافی کے عہد میں نہیں،بشیروں کے عہد میں زندہ ہیں۔
اور اس عہد کا سب سے بڑا المیہ یہ نہیں کہ بشیرے بہت ہیں، بلکہ یہ ہے کہ ہر بشیرا خود کو آخری سچا آدمی سمجھتا ہے۔بشیروں کی ایک اور پہچان بھی ہے، یہ ہر دور میں زندہ رہتے ہیں۔ حکومت بدلے، چہرے بدلے، نعرے بدلے، ان کی آواز، ان کا زاویہ، ان کا جوش، ان کی وفاداری سب لمحوں میں بدلتی رہتی ہے ۔
کل جو شخص ایک فریق کے حق میں زمین و آسمان ایک کیے ہوئے تھا، آج اسی سکون سے دوسرے کے لیے دلائل دے رہا ہوتا ہے، جیسے پرانا بیان اس کے ہمزاد نے دیا ہو۔اگر آپ ان کو پرانی بات یاد دلائیں تو کہتے ہیں،”آپ نے میرے موقف کو سیاق و سباق سے ہٹا کر دیکھا ہے۔”یعنی قصور ہمیشہ سامع کا ہوتا ہے، بشیرا کبھی غلط نہیں ہوتا۔
مجھے یوں لگتا ہے کہ پرانے زمانے کا صحافی خبر کے پیچھے دوڑتا تھا، جبکہ آج کا بشیرا خبر کو اپنے پیچھے دوڑاتا ہے۔وہ پہلے نتیجہ طے کرتا ہے، پھر سوال بناتا ہے، پھر آواز بلند کرتا ہے، اور آخر میں اسے "تجزیہ” کہہ دیتا ہے۔کچھ ایسے بھی ہیں جو سوال پوچھتے کم اور مہمان کو اپنے جواب پر آمادہ زیادہ کرتے ہیں۔
گویا محفل ان کی، مائیک ان کا، نتیجہ ان کا، اور بیچ میں بے چارہ مہمان صرف سانس لینے کے لیے بلایا گیا ہو،صحافی کبھی کبھی خاموش بھی ہو جاتا ہے، بشیرا خاموش ہو جائے تو اس کی دکان بند ہو جاتی ہے۔
آپ اگر یہاں تک پڑھ چکے ہیں تو گزارش ہے کہ ہمارے عہد میں شور کو بصیرت سمجھ لیا گیا ہے،اعتماد کو علم،اور مسلسل بولتے رہنے کو سچائی کی سند۔حالانکہ سچ بہت کم گو ہوتا ہے۔ اسے چیخنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ یقین مانیں بشیروں کا مسئلہ یہی ہے کہ وہ خبر کے آئینے میں حقیقت نہیں، اپنا چہرہ دیکھتے ہیں۔انہیں قوم سے زیادہ اپنی آواز عزیز ہوتی ہے، سوال سے زیادہ اپنی نمود، اور تحقیق سے زیادہ اپنی "پہلے ہی بتا دیا تھا”والی خود ستائی۔
خدا خیر کرے، اب تو یوں لگتا ہے کہ اگر کسی دن قیامت کی نشانیوں پر بھی کوئی پروگرام ہو تو ایک نہ ایک بشیرا وہاں بھی بیٹھا یہی کہہ رہا ہو گا،”دیکھیں، میں یہ بات پچھلے تین برس سے کہہ رہا تھا، مگر کسی نے سنجیدگی سے نہیں لیا!”
سو اب جب بھی کسی شخص کو دیکھتا ہوں جو آدھی خبر کو پورا ہنگامہ، اور پورے ہنگامے کو ذاتی انکشاف بنا کر پیش کرے، تو میں دل ہی دل میں کہتا ہوں، "یہ صحافت کا زمانہ کم،بشیروں کا عہد زیادہ ہے۔”
