Tarjuman-e-Mashriq

بکھری ہوئی کہانی کے دو رخ

لندن کی شام اپنے اندر ایک عجیب سی اداسی سمیٹے ہوتی ہے۔ میں نے برسوں لندن میں کام کیا، ہجرت سے پہلے یہی شہر میرا ٹھکانہ تھا۔ اس شہر کی شاموں پر مجھے ہمیشہ ترس آتا تھا اور آج بھی، برسوں بعد، یہی احساس باقی ہے۔ لندن کی مصروف شاہراہیں، روشنیوں میں ڈوبا ہوا ہجوم، اور اس سب کے بیچ کہیں ایک اداس شام جو اپنے دل کی بات سنانے کو بے چین ہوتی ہے، مگر شور اتنا ہے کہ اس کی صدا کوئی سن نہیں پاتا۔

پچھلے سال  برمنگھم کے  ایک مصروف ریلوے اسٹیشن پر روپ  اسکاٹ لینڈ جاتے ہوۓ مجھ سے ملی تھی ۔ پھر وہ واپس پیرس چلی گئی اور میں اپنی مصروف زندگی کے دائرے میں گھومتا رہا۔ اس سال اس نے دوبارہ آنا تھا مگر اس کا قیام صرف لندن میں تھا ۔وہ دن بھر اپنے کاموں میں مصروف رہی جبکہ میں بعد از دوپہر برمنگھم سے نکلا اور  شام ڈھلنے سے پہلے  ٹیمز کے کنارے اس کا  انتظار کرنے لگا ۔ ہم ایسے ہی ملتے ہیں ، بغیر کی پیشگی منصوبہ بندی کے  بس کچھ گھنٹوں کے لیے اور پھر وہ واپس چلی جاتی ہے اور میں اگلی ملاقات تک اسے یاد کرتا ہوں . اس شام  ہم نے کھانا کھایا، چائے پی، اور پھر دریا کے ساتھ ساتھ چلنے لگے۔

ہوا میں خنکی تھی اور پانی پر شہر کی روشنیاں ٹوٹ کر بکھر رہی تھیں۔ ہم واٹرلو برج کی طرف بڑھ رہے تھے۔ میں اور روپ جب بھی ملتے ہیں، گفتگو کہیں سے بھی شروع ہو، انجام ہمیشہ کسی گہری بات پر ہوتا ہے۔

"ٹیمز کی خاموشی کو محسوس کرو راجہ” روپ بولی ۔ میں مسکرایا اور اسے یاد دلایا کہ ریڈیو کے دنوں میں اس نے مجھے امریتا پریتم کی ایک نظم اج آکھاں وارث شاہ نوں پڑھ کر سنائی تھی ، اس میں تقسیم ہند بلکہ تقسیم پنجاب کا نوحہ بیان کیا گیا تھا . میں نے روپ سے اسے پھر سے پڑھنے کے لیے کہا تو اس نے ایک معنی خیز مسکراہٹ کے ساتھ  ایک مصرعہ پڑھا اور  ٹیمز کی طرف دیکھتے ہوئے بولی “ ہیر  کا درد وارث شاہ نے اپنی داستان میں لکھا اور  اسے  پڑھ کر ہر آنکھ اشک بار ہوئی مگر  آج کوئی نہیں جو آج کی عورت کا دکھ پڑھ پائے ، تم نے کبھی سوچا ہے ایک ہی معاشرے میں، ایک ہی وقت میں، دو عورتیں کس قدر مختلف زندگیاں جیتی ہیں؟”  اس  نے میری  جانب دیکھتے ہوے اچانک پوچھا۔

“کون سی دو عورتیں؟” میں نے سوال کیا۔

“ایک وہ… جسے معاشرے نے تاج پہنایا ہوا ہے اور دوسری جسے معاشرہ جاننا نہیں چاہتا ۔”

وہ کہنے لگی پہلی عورت وہ ہے جس کا بڑا  اونچی فصیلوں والا گھر ہوتا ہے، جس کی وہ رانی کہلاتی ہے کیونکہ اس کا شوہر کامیاب، بااثر اور معزز ہوتا ہے۔ اور اس عزت کا ایک حصہ خود بخود اس کے نام منتقل ہو جاتا ہے بغیر کسی جدوجہد کے۔ وہ “مسز فلاں” کے نام سے پہچانی جاتی ہے، اور یہی اس کی اصل پہچان بن جاتی ہے۔

وہ دعوتوں میں جاتی ہے، ہر محفل میں اس کے لیے خاص جگہ ہوتی ہے۔ اسے القاب دیے جاتے ہیں، اس کی رائے کو اہمیت دی جاتی ہے، اس کی خاموشی کو بھی وقار سمجھا جاتا ہے۔

میں نے کہا، “مگر یہ سب اس کی اپنی کمائی ہے؟ وہ اپنا گھر چھوڑ کر ایک نئی زندگی بناتی ہے، قربانیاں دیتی ہے کیا ایسا نہیں؟”

روپ مسکرائی، اور  ہلکی سی تلخی کے ساتھ بولی ،“نہیں۔ یہ اس کے شوہر کا سایہ ہے  اور وہ اس سایے میں اس طرح جی رہی ہوتی ہے جیسے یہی اس کی اصل پہچان ہو۔ جب تک وہ سایہ قائم ہے، وہ ملکہ ہے۔ جب تک وہ ڈھانچہ سلامت ہے، اس کا وجود بھی سلامت ہے۔ اسے کبھی موقع ہی نہیں دیا گیا کہ وہ خود کو پہچانے بس یہ بتایا گیا کہ وہ کس کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔”

ہم چلتے رہے۔ کنارے پر بیٹھی ہوئی بھیڑ اپنی اپنی دنیا میں گم تھی۔ کچھ ہنس رہے تھے، کچھ خاموش تھے۔ زندگی اپنی رفتار سے چل رہی تھی بے نیاز اور بے رحم۔

“اور دوسری؟” میں نے پوچھا۔

روپ کے قدم آہستہ ہو گئے،“دوسری  ایک عام گھریلو لڑکی۔ جو اپنی آزادی کے حصول میں چار دیواری عبور کرتی ہے  اور بدنام ہو جاتی ہے۔”

وہ بولی، “جب تک وہ اپنی حدود میں تھی، گھر میں وسائل کم تھے مگر عزت تھی اور وہی ان کی سب سے بڑی دولت تھی۔ وہ ذہین تھی، خوبصورت تھی  اور یہی خوبیاں ایک دن اس کے لیے بوجھ بن گئیں۔”

“اس نے محبت کی،” روپ نے دھیمی آواز میں کہا، “یا شاید محبت نے اسے چن لیا۔ ایک لمحہ تھا، ایک کمزوری تھی جیسے انسانوں سے ہو جاتی ہے  مگر بات پھیل گئی۔ کسی نے دیکھا، کسی نے سنا، کسی نے بڑھا چڑھا کر بیان کیا  اور پھر وہی ہوا جو ہمیشہ ہوتا ہے۔”

“کیا ہوا؟” میں نے پوچھا۔

روپ نے ایک گہری سانس لی،“اس کے باپ کی کمر جھک گئی۔ بڑھاپے سے نہیں  لوگوں کی نظروں اور تہمتوں سے ۔ اس کی ماں نے گھر سے نکلنا چھوڑ دیا۔ اس کے بھائی کی زندگی متاثر ہوئی۔ اور وہ خود…”

وہ رک گئی۔

“اور وہ خود؟” میں نے آہستہ سے پوچھا۔

“ زہر کھا کر یا کسی ریلوے کے پل سے چھلانگ لگا کر جان دے دیتی  ہے  اور محبت کے نام پر اسے رسوا کرنے والا اپنا گھر آباد کر کے خوشی سے  جیتا ہے اور وہ والدین جو پہلے صرف شرمندہ تھے اب روز جیتے اور روز مرتے ہیں ۔”

ہم پل پر پہنچ چکے تھے۔ نیچے پانی خاموشی سے بہہ رہا تھا۔ دور روشنیوں میں لپٹا شہر دھندلا سا دکھائی دے رہا تھا۔

میں نے آہستہ سے کہا،
“عجیب بات ہے  نہ پہلی نے اپنی زندگی خود چنی، نہ دوسری نے۔ ایک کو تاج ملا، دوسری کو سزا۔ مگر کسی نے یہ نہیں پوچھا کہ وہ خود کیا چاہتی تھیں۔”

روپ نے فوراً جواب نہیں دیا۔ وہ ریلنگ پر ہاتھ رکھے دریا کو دیکھتی رہی۔

پھر وہ بولی،“تم جانتے ہو میں نے یہ بات کیوں شروع کی؟”

میں خاموش رہا۔

وہ بھی کچھ دیر خاموش رہی، جیسے اپنے اندر سے الفاظ ڈھونڈ رہی ہو، پھر آہستہ سے بولی “میں نے یہ بات اس لیے چھیڑی ہے کیونکہ میں پچھلے کچھ عرصے سے  میں دنیا کے مختلف ملکوں میں  فیشن شوز میں جا رہی ہوں جہاں میں ہر خطے، ہر ملک کی عورتوں کی زندگیاں قریب سے دیکھ رہی ہوں  مگر جب بھی میں انڈیا ، پاکستان ، بنگلہ دیش یا سری لنکا  گئی تو  ایک عجیب بات  میرے سامنے آئی ہے۔”

میں خاموشی سے سنتا رہا۔

“ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ زندگی دو طرح کی ہوتی ہے یا تو مکمل، یا  بکھری  ہوئی۔ مگر حقیقت میں دونوں کے درمیان ایک باریک سا دھاگا ہوتا ہے جو نظر نہیں آتا۔”

وہ دریا کی طرف دیکھتی رہی،“ایک عورت کو معاشرہ اتنا اوپر اٹھا دیتا ہے کہ وہ خود کو دیکھ ہی نہیں پاتی  اور دوسری کو اتنا نیچے گرا دیتا ہے کہ وہ اٹھنے کی ہمت کھو دیتی ہے۔ مگر دونوں میں ایک بات مشترک ہوتی ہے دونوں اپنی نہیں رہتیں۔”

میں نے   پوچھا،“تو پھر فرق کیا ہوا ان میں؟”

ہوا کا ایک جھونکا آیا، اس نے اپنے ہاتھ جیب میں ڈال لیے  مگر بات جاری رکھی، “فرق صرف نظر آنے کا ہے۔ ایک کی قید چمکتی ہے، دوسری کی قید دکھتی ہے  ۔ہم نے عورت کو کبھی جینے نہیں دیا  ہم نے اسے یا تو کردار دے دیا، یا کہانی بنا دیا۔ اور دونوں صورتوں میں وہ خود کہیں کھو گئی۔”

“تو پھر سیکھنے والی بات کیا ہے؟” میں نے پوچھا .

مسٹر راجہ  سیکھنے والی بات یہ ہے  کہ انسان کو خاص طور پر عورت کو اپنی زندگی کا مرکز خود بننا چاہیے، نہ کہ کسی اور  کے سائے  کا محتاج ۔ کیونکہ سایہ ہمیشہ ساتھ نہیں رہتا اور جب وہ ہٹتا ہے تو انسان کو پہلی بار احساس ہوتا ہے کہ وہ خود کون ہے یا شاید یہ کہ وہ کبھی تھا ہی نہیں اور شاید یہ بھی  کہ ہمیں کسی کی زندگی پر فیصلہ سنانے سے پہلے ایک لمحہ رک جانا چاہیے۔ کیونکہ جو ہمیں کہانی لگتی ہے، وہ کسی کی پوری زندگی ہوتی ہے  اور ہم اس کا صرف ایک صفحہ دیکھتے ہیں۔”

پھر اس نے  بات  سمیٹتے ہوئے کہا ،“اصل المیہ یہ نہیں کہ ایک عورت ٹوٹ جاتی ہے  المیہ یہ ہے کہ دوسری کو ٹوٹنے کا احساس بھی نہیں ہونے دیا جاتا۔ ایک چیخ کر بکھرتی ہے، دوسری خاموشی میں ختم ہو جاتی ہے  اور ہم دونوں کو دیکھ کر بھی کچھ نہیں سمجھتے۔”

ہم چلتے چلتے ٹیکسی اسٹینڈ کے پاس آ گئے۔ روپ نے اسکارف درست کیا، بیگ کندھے پر رکھا اور کہا،مجھے اب چلنا ہوگا۔

“ابھی؟”

“کل صبح فلائٹ ہے، میں اٹلی جا رہی ہوں۔”

“اٹلی؟ اب وہاں کیا کام آ پڑا؟”

“میلان میں اس سال بین الاقوامی کپڑوں کی نمائش ہے… مجھے جج کے طور پر بلایا گیا ہے۔”

میں نے مسکرا کر پوچھا،

“اور اس بار سب سے مضبوط امیدوار کون ہے؟”

وہ ہلکی سی مسکراہٹ ساتھ بولی،“ہمارا پرانا دوست… غنی۔”

میں بھی  مسکرایا ،“غنی! وہ آج بھی تمہارا پیچھا نہیں چھوڑتا؟”

“پیچھا؟ وہ تو ہمیشہ آگے آگے چلتا ہے… لوگوں کو اپنے ساتھ لے کر، جیسے ہر شہر اس کا اپنا ہو۔”

یہ کہہ کر روپ ٹیکسی میں بیٹھ گئی۔ اس نے ایک مختصر سی مسکراہٹ کے ساتھ مجھ سے اجازت چاہی۔ ٹیمز کے اوپر وہ مسکراہٹ جیسے لمحہ بھر کو ٹھہر گئی، پھر دھند میں کہیں تحلیل ہو گئی۔

میں جب تک اس کی سواری بھیڑ میں گم نہ ہوئی وہیں کھڑا رہا، اور اس کے الفاظ میرے کانوں میں گونجتے رہے،

"ہیر کا دکھ لکھا گیا تو داستان بن گیا… جبکہ آج…”یہ جملہ پھر ادھورا رہ گیا۔

اسی ادھورے پن کے ساتھ میں بھی  اپنی غلام گردش میں لوٹ آیا  جہاں ہر کہانی مکمل ہونے سے پہلے ہی کہیں رک جاتی ہے۔

Exit mobile version