23 اپریل کو نائیک سیف علی جنجوعہ شہید، ہلالِ کشمیر/نشانِ حیدر، کا یومِ پیدائش تھا۔ اسی مناسبت سے میں نے ان کی سوانح عمری “ہلالِ کشمیر” کا اشتراک ایک فیس بک گروپ میں کیا ، جو ریٹائرڈ فوجی افسران پر مشتمل ہے۔ میرا مقصد صرف یہ تھا کہ شہید کی یاد تازہ کی جائے اور ان کی داستان ان لوگوں تک پہنچے جو خود اس ادارے سے وابستہ رہے ہیں۔ میں نے ایڈمن سے درخواست بھی کی کہ اسے منظور کیا جائے تاکہ گروپ کے ممبران تک یہ مواد پہنچ سکے۔
لیکن اگلے ہی دن یہ کتاب ہٹا دی گئی۔ وجہ یہ بتائی گئی کہ اس میں تاریخی حقائق کو گمراہ کن انداز میں پیش کیا گیا ہے، اور ساتھ ہی ثبوت طلب کیا گیا کہ آیا نائیک سیف علی جنجوعہ شہید کو ہلالِ کشمیر یا نشانِ حیدر عطا کیے جانے کا کوئی سرکاری نوٹیفیکیشن موجود بھی ہے یا نہیں۔
یہ پڑھ کر مجھے حیرت نہیں بلکہ گہری تشویش ہوئی۔ سوال یہ نہیں کہ ایک عام قاری کو علم کیوں نہیں، بلکہ یہ ہے کہ آج 78 برس گزر جانے کے بعد بھی، جب بات ایک ایسے شخص کی ہو جو وطن کے لیے اپنی جان نچھاور کر چکا ہو، تو کیا ہم اس مقام پر آ کھڑے ہوئے ہیں کہ اس کی قربانی کی صداقت پر بھی سوال اٹھایا جائے؟ اس سے زیادہ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ یہ سوال ان لوگوں کی جانب سے اٹھایا جا رہا ہے جو خود فوجی پس منظر رکھتے ہیں۔
سوچنے کی بات ہے کہ اگر ایک ریٹائرڈ فوجی افسران کے گروپ میں بھی اپنے ہی ایک نشانِ حیدر کے حقیقی ہونے پر سوالیہ نشان لگا دیا جائے، تو پھر ہم اپنی نئی نسل کو کیا تاریخ اور کیا شناخت منتقل کر رہے ہیں؟
یہ المیہ ہے یا غفلت؟ یہ سوال صرف ایک کتاب کے ہٹائے جانے کا نہیں، بلکہ ہماری اجتماعی یادداشت کے اس خلا کا ہے جہاں اپنے ہیروز کی پہچان بھی دھندلا جاتی ہے۔ جب میں نے اس معاملے کو غور سے دیکھا تو معلوم ہوا کہ اس پوسٹ میں اکسیر علی سیف کو ٹیگ کیا گیا تھا، جو سیف علی شہید کے پوتے ہیں۔ یہ بات اور بھی بوجھل کر دیتی ہے کہ ایک ایسا خاندان، جس نے نسلوں تک قربانی کی قیمت چکائی، آج بھی اپنی شناخت کے ثبوت کا سامنا کر رہا ہے۔
میں خود سیف علی شہید کا سوانح نگار ہوں۔ مجھے یہ موقع آئی ایس پی آر اور کرنل منصور رشید کی وساطت سے ملا کہ میں ان کی زندگی پر تحقیق کروں، ایک ایسے کردار کی داستان تلاش کروں جو وقت کی دھول میں کہیں گم ہو چکا تھا، اور اسے لفظوں میں محفوظ کر سکوں۔ اس سوانح عمری کی اشاعت کے بعد بالآخر وہ دروازے کھلے جن کے پیچھے برسوں کی ناانصافی چھپی تھی، اور پاک فوج نے اس خاندان کو وہ مقام اور مرتبہ دیا جس کے وہ حقیقی معنوں میں مستحق تھے۔
یہ ایک عجیب تضاد ہے کہ جس جنگ میں سیف علی نے اپنی جان دی، وہ تو سرحدوں پر ختم ہو گئی، مگر ان کی پہچان کی جنگ نصف صدی تک جاری رہی۔ اس دوران ان کے اہلِ خانہ نے کسمپرسی میں زندگی گزاری۔ مجھے آج بھی وہ پہلا منظر یاد ہے جب میں ان کے گھر پہنچا تھا ایک کچا سا مکان، جس میں ایک بیوہ اور اس کے بچے اپنے شہید کے نام کے سائے میں جیتے تھے، مگر اس نام کی روشنی ان تک نہیں پہنچی تھی۔
وقت نے آہستہ آہستہ کروٹ لی، حالات بدلے، اور اس خاندان کو وہ حق ملا جس کا وہ مدت سے انتظار کر رہے تھے۔ میں نے اس سوانح عمری کو “ہلالِ کشمیر” کے نام سے شائع کیا، مگر نہ کسی بڑے ناشر نے اسے چھاپا ، نہ ہی آزاد کشمیر کی حکومت نے اس میں کوئی کردار ادا کیا۔ اس کے باوجود، جب یہ کتاب منظر عام پر آئی، تو بہت سے اہلِ قلم فاضل اساتذہ، سینئر بیوروکریٹس، صحافی اور کالم نگاروں نے اس کے حصے بلا اجازت اپنے ناموں سے شائع کیے۔ مجھے اس پر کبھی اعتراض نہیں ہوا، کیونکہ میری نیت شہرت یا فائدہ حاصل کرنا نہیں تھی، بلکہ ایک گمنام ہیرو کی کہانی کو زندہ کرنا تھا۔

خلیل جبران نے “سینڈ اینڈ فوم” میں لکھا ہے کہ ایک عظیم انسان کے دو دل ہوتے ہیں ایک زخم کھاتا ہے اور دوسرا صبر کرتا ہے۔ سیف علی شہید کی داستان بھی کچھ ایسی ہی ہے؛ ایک دل نے وطن کے لیے خود کو قربان کیا، اور دوسرا دل نسلوں تک صبر کرتا رہا، یہاں تک کہ تاریخ نے آخرکار اپنی گواہی درست کی۔
اس پس منظر کے بعد اب میں یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ میں یہ سب کیوں لکھ رہا ہوں۔ میرا مقصد کسی فورم، اس کے منتظمین یا ان افراد کو نشانہ بنانا نہیں جن سے مجھے شکوہ ہے۔ میں نام لینے سے اس لیے گریز کر رہا ہوں کہ مجھے اپنی ذمہ داری کا احساس ہے، اور میں کسی بھی طرح کی تلخی یا اشتعال میں اضافہ نہیں کرنا چاہتا۔
لیکن جو کچھ میں نے کل دیکھا، اس نے مجھے اندر تک ہلا دیا۔ جب میں نے سیف علی شہید کے حوالے سے سابق فوجیوں کے تبصرے پڑھے تو ایک لمحے کے لیے جیسے سب کچھ رک سا گیا۔ میں نے فوراً اکسیر علی سے رابطہ کیا؛ وہ بھی اسی طرح حیران اور پریشان تھے۔ یہ محض اختلافِ رائے نہیں تھا، یہ ایک ایسی حقیقت پر سوال تھا جس کے پیچھے ایک پوری تاریخ، ایک قربانی، اور ایک خاندان کی دہائیوں پر محیط جدوجہد کھڑی ہے۔
“We haven’t heard the name of Naik Saif Ali as a recipient of Nishan-e-Haider before. His name has wrongly been included in the list. It is a deceiving act.”
یہ جملے پڑھ کر میں دنگ رہ گیا۔ مگر سچ یہ ہے کہ میں حیران نہیں ہوا، کیونکہ یہ پہلی بار نہیں تھا۔ تاریخ کے کچھ کردار ایسے ہوتے ہیں جنہیں وقت بار بار آزماتا ہے، اور ہر بار ان کی سچائی کو نئے سرے سے ثابت کرنا پڑتا ہے۔
اس لمحے مجھے یوں محسوس ہوا جیسے ایک بار پھر مجھ سے اسی مٹی کے ایک عظیم بیٹے کی قربانی کا ثبوت مانگا جا رہا ہو وہ بیٹا جس نے اپنے حصے کا سب کچھ دے کر بھی شاید یہ گمان نہ کیا ہوگا کہ اس کی پہچان کبھی سوالیہ نشان بن جائے گی۔
بہت سال پہلے، جب “ہلالِ کشمیر” کا مسودہ مکمل ہوا، تو میں اسلام آباد کے ایک اخبار کے دفتر گیا۔ میں نوجوان تھا، دل میں ایک عجیب سا یقین اور آنکھوں میں ایک خواب تھا۔ میرے ہاتھ میں مہینوں کی محنت، سینکڑوں صفحات پر مشتمل تحقیق، اور ایک ایسے شہید کی داستان تھی جسے وقت نے کہیں پیچھے چھوڑ دیا تھا۔ مجھے لگا تھا کہ اگر یہ کہانی ایک بڑے اخبار میں چھپ جائے تو شاید یہ قوم اپنے ایک بیٹے کو پہچان لے۔
وہاں بیٹھے ایک صاحب نے میری بات سنی، مجھے دیکھا، اور پھر ایک جملہ کہا جو آج تک میرے کانوں میں گونجتا ہے:
“جاؤ، بھاگ جاؤ… نئے نئے شہید نہ نکال کر لاؤ، ہم تمہیں گرفتار کروا دیں گے۔”
یہ وہ پہلا “اعزاز” تھا جو اس شہید کو ملا اپنی ہی سرزمین پر، اپنے ہی لوگوں کی طرف سے۔
میں نے کہیں پڑھا تھا کہ جوانی کی حرارت انسان کے اندر ایک شاعر جگا دیتی ہے،ایک ایسا انسان جو زمین سے جڑا ہو، جو محبت کرنا جانتا ہو، اور جو خواب دیکھنے کی جرات رکھتا ہو۔ شاید میں بھی اسی کیفیت میں تھا۔ نہ جھجھک، نہ خوف ،بس ایک یقین کہ میں سچ کے ساتھ ہوں۔ اسی یقین کے ساتھ میں نے اگلا دروازہ کھٹکھٹایا، آزاد کشمیر تب صدر جناب سردار ابراہیم کے دفتر تک بات پہنچانے کی کوشش کی۔
وہاں سے جواب آیا: “وہ اس معاملے میں نہیں پڑنا چاہتے۔”
اور جب میں نے اپنی بات پر اصرار کیا، اپنے کام کی اہمیت بیان کی، تو جواب طنز میں ڈھل گیا:
“ان کا جنازہ کب ہے؟ ابھی تدفین تو نہیں ہوئی؟”
میں یہ سب سنتا رہا۔ ہر جملہ جیسے ایک زخم تھا، مگر میں رکا نہیں۔ کیونکہ مجھے معلوم تھا کہ سچ کو وقتی انکار سے مٹایا نہیں جا سکتا۔ سچ کا راستہ لمبا ضرور ہوتا ہے، مگر وہ کہیں نہ کہیں جا کر اپنی پہچان خود بناتا ہے۔
اور آج، اتنے برس گزر جانے کے بعد، جب وہی سوال، وہی شکوک، وہی الزامات دوبارہ سامنے آتے ہیں، تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے وقت نے ایک دائرہ مکمل کر لیا ہو مگر سوچ وہیں کی وہیں کھڑی ہے۔
آئیے، آج اس سوال کا جواب صرف الفاظ سے نہیں دیتے بلکہ دستاویزات، شواہد اور تاریخ کی اپنی زبان میں دیتے ہیں تاکہ ایک بار پھر کسی کو یہ جرات نہ ہو کہ اس مٹی کے ایک عظیم بیٹے کی قربانی کو سوالیہ نشان بنا سکے۔
پھر دستاویز نمبر 2، 3 نومبر 1985، آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی۔ ایک منتخب ایوان، جہاں سوال نمبر 82 کے جواب میں حکومت نے واضح طور پر تسلیم کیا کہ نائیک سیف علی شہید کو ہلالِ کشمیر دیا گیا، اور یہ اعزاز پاکستان آرمی کے نشانِ حیدر کے برابر ہے۔ پارلیمنٹ کے فلور پر دیا گیا یہ جواب محض الفاظ نہیں ہوتا، یہ ریاست کی اجتماعی تصدیق ہوتی ہے۔
دستاویز نمبر 3، 16 اگست 1992، بریگیڈیئر محمد اکبر خان کا خط صدرِ آزاد کشمیر کے نام۔ ایک حاضر سروس اعلیٰ فوجی افسر، جو نہ صرف ان کی بہادری کا اعتراف کرتا ہے بلکہ انہیں قوم کے ان دو درخشاں سپوتوں میں شمار کرتا ہے جنہوں نے 1948 میں بے مثال جرات دکھائی۔ اسی تسلسل میں ان کے نام پر “سیف علی باغ” اور “سیف علی روڈ” کا قیام بھی ایک علامتی نہیں بلکہ ادارہ جاتی اعتراف ہے۔ یہ کسی فرد کی رائے نہیں، ایک نظام کی توثیق ہے۔
اور پھر 30 نومبر 1995 کا حکومتِ پاکستان کا باضابطہ اعلان، جس میں ہلالِ کشمیر کو نشانِ حیدر کے مساوی قرار دیا گیا، اور نائیک سیف علی جنجوعہ کو اس اعزاز کا حامل تسلیم کیا گیا۔ یہ اعلان آج بھی پاک فوج کے سرکاری ریکارڈ کا حصہ ہے۔
اس کے بعد بھی اگر کوئی کہے کہ “ہم نے یہ نام پہلے نہیں سنا”، تو یہ دراصل تاریخ کی نفی نہیں بلکہ اپنی لاعلمی کا اعتراف ہے۔ نہ سننا، نہ ہونے کی دلیل نہیں ہوتا۔ تاریخ ان لوگوں کی محتاج نہیں ہوتی جو اسے یاد رکھتے ہیں، بلکہ وہ خود اپنے ثبوت اپنے اندر رکھتی ہے اور جب وقت آتا ہے تو وہ خود بولتی ہے۔
1947 میں جب کشمیر کی سرزمین پر پہلا خون بہا تو وہ محض ایک زمینی لڑائی نہیں تھی، وہ شناخت، وابستگی اور ایمان کی جنگ تھی۔ اس مٹی نے اپنے بیٹوں کو پکارا، اور ان میں نائیک سیف علی جنجوعہ جیسے سپوت بھی تھے، اور ان جیسے بے شمار وہ گمنام نام بھی جن کا تعلق ہمارے اپنے گھروں، اپنے خاندانوں سے تھا۔ انہوں نے پاکستان کے لیے جان دی، وردی پہنی، اور ایسے وقت میں دشمن کے جہازوں، توپ خانے اور جدید اسلحے کے سامنے کھڑے ہوئے جب ان کے پاس وسائل کم تھے مگر حوصلہ بے پناہ۔
اگر میرے معزز فوجی بھائی جن کی خدمت اور جذبے کا میں دل سے معترف ہوں “ہلالِ کشمیر” کو محض ایک پوسٹ سمجھ کر ہٹانے کے بجائے اسے پڑھ لیتے، تو شاید آج کسی ثبوت کی ضرورت ہی پیش نہ آتی۔ کیونکہ کچھ سچ ایسے ہوتے ہیں جو دلیل نہیں مانگتے، وہ خود دلیل بن جاتے ہیں۔
میں نے برسوں اس شہید کی داستان کو زندہ رکھنے کے لیے جدوجہد کی۔ دروازے بند ملے ، کبھی مذاق اڑایا گیا ، کبھی خاموشی سے کسی نے فون رکھ دیا ، اور کبھی دھمکیوں کی صورت میں رکاوٹیں آئیں۔ مگر ایک بات ہمیشہ دل میں رہی کہ سچ کو وقتی طور پر روکا جا سکتا ہے، مٹایا نہیں جا سکتا۔
آج جب کوئی یہ کہتا ہے کہ “یہ جعلی نشانِ حیدر ہے”، تو دراصل وہ ایک فرد یا ایک نام کی نفی نہیں کر رہا ہوتا، بلکہ ایک پورے تسلسل کو رد کر رہا ہوتا ہے۔ وہ یہ کہہ رہا ہوتا ہے کہ 14 مارچ 1949 کی ڈیفنس کونسل کا فیصلہ بے بنیاد تھا، 1985 میں اسمبلی کا جواب غلط تھا، 1992 میں ایک بریگیڈیئر اکبر کی تحریر بے وقعت تھی، 30 نومبر 1995 کا سرکاری اعلان گمراہ کن تھا، اور وہ تمام ریکارڈ جنہیں اداروں نے محفوظ رکھا، وہ سب محض کاغذ کے ٹکڑے ہیں۔
مگر حقیقت اس کے برعکس ہے۔ تاریخ اپنی گواہی خود دیتی ہے، اور قربانیاں اپنی سچائی خود لکھتی ہیں۔ نائیک سیف علی جنجوعہ کا نام کسی فہرست میں شامل ہونے سے معتبر نہیں ہوا، بلکہ اس مٹی میں رچے ہوئے اس خون نے اسے وہ مقام دیا ہے جو نہ وقت مٹا سکتا ہے نہ سوال کمزور کر سکتے ہیں۔
یہ صرف ایک نام کا دفاع نہیں، یہ اس اصول کا دفاع ہے کہ ہم اپنے شہداء کو یاد رکھیں، انہیں پہچانیں، اور ان کی قربانی کو کسی لاعلمی یا بے خبری کے سپرد نہ کریں۔
نائیک سیف علی جنجوعہ شہید — زندہ باد
پاکستان — پائندہ باد