کشمیر کی پانچ ہزار سالہ تاریخ اس خطہ زمین کی تہذیب و ثقافت کی امین ہے۔ کشمیر دنیا کی قدیم ترین ریاست ہے جس کی تاریخ کا تسلسل آج بھی قائم ہے۔ کشمیر کی درخشندہ تاریخ اس کی عظمت رفتہ کے ابواب سے نہ صرف مزین ہے بلکہ دیگر دنیا کے لیے دفاعی لحاظ سے مضبوط، سیاسی لحاظ سے متحد، علمی لحاظ سے روشن خیال اور معاشی لحاظ سے ایک خوشحال ریاست کا اعلی نمونہ بھی پیش کرتی ہے۔
تاریخ صرف حادثات، واقعات اور قوموں کے عروج و زوال کی داستان نہیں بلکہ یہ انسانی رویوں، نفسیاتی رجحانات، علمی میلان، معاشرتی اقدار و روایات، عصبیت و کردار اور جرات و استقلال کا بیان بھی ہے۔
پنڈت کلہن لکھتے ہیں کہ تاریخ آئینہ اور تاریخ دان آئینہ ساز ہے۔ تاریخ سچائی اور تاریخ دان وہ مصنف ہے جو سچ اور جھوٹ کی پہچان کرتا اور سچائی کے حق میں فیصلہ صادر کرتا ہے۔ ابن خلدون لکھتے ہیں کہ من گھڑت واقعات اور حکمرانوں کے قصے اور قصیدے لکھنے والا مورخ خائن ہے۔ کشمیر کی تاریخ صرف کشمیریوں نے ہی نہیں لکھی بلکہ چینیوں، ایرانیوں، رومیوں اور یونانیوں نے بھی اس ملک کی خوشحالی، اعلی تہذیبی روایات اور اقدار کو موضوع بحث بنایا ہے۔
چینی سیاحوں اور تاریخ دانوں نے کشمیر کو ہر لحاظ سے ایک مثالی ریاست قرار دیا ہے۔ چینی تاریخ دان اوکانک، فاھین اور ھیون سانگ لکھتے ہیں کہ خطہ کشمیر ہر لحاظ سے پرامن، خوشحال، علم دوست اور دفاعی لحاظ سے مضبوط اور محفوظ ہے۔ اس کے حکمران عادل، دلیر، باجرات اور عوام دوست ہیں۔ اس کے تعلیمی ادارے مثالی اور تحقیقی لحاظ سے منفرد اور مستند ہیں۔ دنیا کے دیگر ممالک سے سیاح، مورخ، طالب علم اور محقق اس خطہ زمین پر قدم رکھنا باعث عزت و برکت سمجھتے ہیں۔
ھیروڈوٹس اور پانینی نے اسے ارم سے تشبح دی ہے۔ لکھتے ہیں کہ جس طرح صحرائے عرب کے ایک کونے میں ارم آباد ہے ویسے ہی دنیا کی بلند ترین چوٹیوں اور سلسلہ کوہ ہمالیہ کی گود میں ایک اور ارم آباد ہے جسے کشیر کہتے ہیں۔ البیرونی لکھتے ہیں کہ فاتح ہند محمود غزنوی کی خواہش تھی کہ وہ کشمیر پر فتح حاصل کرے مگر وہ اس میں ناکام رہا۔ لکھتا ہے کہ راجہ سنگرام کشمیر کا حکمران تھا۔ اس کی فوج دلیر اور جرنیل جنگی حکمت عملی سے لیس تھے۔ کشمیری عوام اور افواج نے محمود کا سخت مقابلہ کیا اور اسے پونچھ سے آگے نہ بڑھنے دیا۔ محمود کے بعد اس کے بیٹے مسعود نے بھی کشمیر پر حملہ کیا مگر ناکام رہا۔ کشمیری عوام اپنے قدیم حکمرانوں راجہ گوند، رانی یشومتی، للتادت اور اونتی ورمن پر فخر کرتے ہیں۔ سارے کشمیر میں ہر سال للتادت کا یوم ولادت بڑی شان و شوکت سے مناتے ہیں اور اس کی عسکری، معاشی، معاشرتی، تعمیری، علمی اور عوام دوستی کو یاد کرتے ہیں۔
ویدک ایج کا مصنف آرسی موجمدار لکھتا ہے کہ کشمیری ہنرمندوں، تاجروں، حکمرانوں، شاعروں اور ادیبوں کی طرح ان کے تاریخ دان بھی بے مثال ہیں جبکہ ازمنہ قدیم کا ہندوستانی فلسفہ قیاس پر مبنی ہے۔
ڈاکٹر مبارک علی لکھتے ہیں کہ کسی قوم کی تاریخ مسخ کر دی جائے یا گم ہو جائے تو وہ تنہا اور دوسروں کے رحم و کرم پر ہو جاتی ہے۔ وہ اپنے اجداد کے بجائے اپنے آقاؤں پر فخر کرتی ہے اور غلاموں کی نسل کہلاتی ہے۔ جس قوم کی جتنی قدیم تاریخ ہوتی ہے اتنا ہی وہ اس کے لیے فخر اور مباہات کا موجب بنتی ہے۔ اگر انسان ماضی سے کٹ جائے تو وہ جاہل ہو جاتا ہے۔ اس کی عصبیت کا خاتمہ ہو جاتا ہے وہ علم کے باوجود جاہل، اجڑ اور خونخوار ہو جاتا ہے۔
لکھتے ہیں کہ تاریخ میں دوسرا رجحان شخصیت پرستی کا ہے جس کی وجہ سے تاریخ محدود اور بے معنی ہو گئی ہے۔ یہ حکمران طبقے کی تاریخ ہوتی ہے عوام کی نہیں۔ یہ علماء کی تاریخ ہے مذہبی پیرو کاروں کی نہیں، یہ زمینداروں، جاگیرداروں، کارخانہ داروں اور تاجروں کی تاریخ ہے، ہنر مندوں، کسانوں، محنت کشوں اور فنکاروں کی نہیں۔ یہ فوجی جرنیلوں کی تاریخ تو ہے مگر ملک کی سرحدوں پر جان نچھاور کرنے والے اور قوم کے محافظ سپاہیوں کی نہیں۔ خواص کی تاریخ کبھی سچائی کی ترجمان نہیں ہوتی اصل تاریخ عوام کی ہوتی ہے اور عوام کا دوسرا نام قوم ہے جس کے وجود سے ریاست قائم ہوتی ہے۔
تاریخ کے آئینے میں دیکھا جائے تو کشمیر کی پانچ ہزار سالہ درخشاں تاریخ میں پانچ سو سالہ غلامی کا دور بھی شامل ہے مگر ہمارے تاریخ دان اس پر بھی فخر کرتے ہیں۔ چک خاندان کی بد اعمالیوں، سیاسی انتشار اور مذہبی منافرت سے تنگ آکر علماء کا ایک وفد اکبر کے دربار میں حاضر ہوا اور اسے تسخیر کشمیر کی دعوت دی۔ 1585 میں مغلوں نے کشمیر پر قبضہ کیا تو کشمیری قوم غلامی کے دلدل میں دھنستی چلی گئی۔ مغلوں نے کشمیریوں پر ایسے ایسے ظلم کئے جو تاریخ کے اوراق پر بد نما داغ ہیں۔
مغلوں کے جبر و استحصال سے عاجز آکر کشمیری رہنماؤں کا ایک وفد افغان حکمران احمد شاہ ابدالی سے لاہور جا کر ملا اور اسے کشمیر پر فوج کشی کی دعوت دی۔ 1753 میں احمد شاہ عبدالی نے اپنے درندہ صفت جرنیل عبداللہ ایشک اقاصی کو براستہ بھمبر کشمیر پر حملہ کرنے کا حکم دیا۔ کشمیر پر قبضے کے بعد افغانوں نے بھی ظلم و جبر کی کوئی حد باقی نہ چھوڑی۔ 1819 میں پنڈت بیربل ایک وفد لے کر مہاراجہ رنجیت سنگھ کے دربار میں پیش ہوا اور اسے کشمیر پر حملے کی ترغیب دی۔ سکھ دور پچھلے ادوار سے بڑھ کر ظالمانہ، سفاکانہ اور بے رحمانہ تھا۔
سکھوں کے بعد ڈوگرا دور شروع ہوا جو پچھلے ادوار کا ہی تسلسل تھا۔ 1947 کی تحریک آزادی کی ناکامی کے بعد ہندوستان کی طرح کشمیر بھی تقسیم ہوا جس کی بڑی وجہ قیادت کا فقدان، رابطے کی کمی اور شخصیت پرستی تھی۔ تاریخ کے اس تجزیے کا نچوڑ یہ ہے کہ کشمیریوں کی سرشت میں غلامی کا عنصر غالب ہے۔ عوام و خواص، جاہل و عالم، ہر طبقہ فکر کے لوگ شخصیت پرستی کے محدود دائرے کے مقید غلامی کو آزادی اور جبر کو جمہوریت کا حسن تسلیم کر چکے ہیں۔
غیر ملکی حکمرانوں کو دعوت حکمرانی دینے اور آزادی کے بدلے غلامی کا طوق گلے میں سجانے کا جو سلسلہ 1585 میں شروع ہوا وہ آج تک جاری ہے۔ 1947 کے بعد من گھڑت اور جھوٹ پر مبنی تاریخ کا سلسلہ شروع ہوا جو شخصی تاریخ اور قبائلی تعصب کی بدترین مثال ہے۔ آزاد کشمیر اور مقبوضہ کشمیر کے حالات میں کوئی خاص فرق نہیں۔ وہاں کے حکمران دلی اور یہاں کے اسلام آباد کی منظوری سے مسلط ہوتے ہیں۔ عوام بے معنی اور عوامی رائے بے وقت ہو چکی ہے۔ جس قوم کی نفسیات غلامانہ ہو اس کے نزدیک آزادی اور غلامی کا تصور مٹ جاتا ہے۔ جناب کی ایج خورشید مرحوم نے فلش مین ہوٹل راولپنڈی میں میرپور سے گئے ایک وفد سے ملاقات کے دوران بتایا کہ سردار ابراہیم آزاد کشمیر کے صدر تھے۔ محترمہ فاطمہ جناح نے ان سے ملاقات کی اور آزاد کشمیر میں تعلیمی نظام بہتر کرنے کا مشورہ دیا۔ محترمہ نے اپنی جانب سے کثیر رقم فراہم کرنے کا وعدہ بھی کیا مگر سردار ابراہیم نے اس پر کوئی توجہ نہ دی۔
جناب خورشید نے بتایا کہ ایک ملاقات کے دوران محترمہ نے پوچھا کہ آزاد کشمیر کے سلیبس میں تحریک آزادی پر کتنے ابواب ہیں۔ میں نے عرض کی کہ آزاد کشمیر کا کوئی تعلیمی سلیبس ہی نہیں۔ ہمارے بچے لاہور اور سرگودھا بورڈ کا سلیبس پڑھتے ہیں۔ محترمہ نے کہا اس کی مثال ایسی ہے جیسے کسی سپاہی کی آنکھ پر پٹی باندھ کر اس کے ہاتھ میں بندوق دے دی جائے۔ اب اس کی مرضی وہ باپ یا بھائی کو ہی دشمن سمجھ کر مار دے۔ اگر آزاد کشمیر کا تعلیمی نظام ایسے ہی رہا تو بہت جلد عوام تحریک آزادی کو بھول کر ایک نئی ذہنی، سیاسی، معاشرتی اور شخصی غلامی کے عادی ہو جائیں گے۔ دیکھا جائے تو آج ہم ایسے ہی ماحول میں زندہ ہیں۔
علامہ اقبال نے تو بہت پہلے ہی کشمیریوں کی اس ذہنی کیفیت کا اندازہ لگاتے ہوئے لکھا تھا۔
کثیری کہ بابندگی خوگرفتہ
بتے می تراشد ز سنگ مزارے
ضمیرش تہی از خیال بلندے
خودی ناشناسے ز خود شرمسارے
بریشم قبا خواجہ از محنت او
نصیب تنش جامئہ تار تارے
نہ در دیدہ او فروغ نگاہ
نہ در سینہ او دل بے قرارے
ازاں مئے فشاں قطرہ بر کثیری
کہ خاکسترش آفریند شرارے
پرانی پوسٹ