Tarjuman-e-Mashriq

یہ اُن دِنوں کی بات ہے-30

1972ء اور 1973ء کا سال میرے لیے مصیبتوں ، پریشانیوں اور دربدری کا سال تھا ۔ میرپور ہاسٹل میں چند روز ہی گزرے تھے کہ راجہ یونس کےپُھوپھی زاد بھائی راجہ ادریس اکرم جو بی اے  کا امتحان دیے بغیر ہی گھر چلے گئے تھے اچانک واپس آ گئے. ایف اے سے بی اے تک وہ اپنے رشتہ داروں کے ہاں ماڈرن جبوٹ میں رہتے تھے ۔ وہ اپنے لباس خود ہی ڈیزائین کرتے اور طرزِ زندگی شاہانہ تھا۔ اُن دِنوں اُن کے پاس ایک کار بھی تھی جو میرپور جیسے شہر میں ہر کسی کے پاس نہ تھی ۔ ادریس اکرم صاحب ، جو اَب مولانا ادریس اکرم (ایڈووکیٹ) ہیں کا ایک الگ حلقہ احباب تھا جس میں کچھ خواتین بھی شامل تھیں مگر یہ دور اسکینڈلز کا ہرگز نہ تھا۔ خواتین چونکہ پڑھی لکھی نہیں ہوتی تھیں اسلیے خط و کتابت نہیں ہو سکتی تھی ۔ چلتے پھرتے کبھی سلام دُعا ہو جائے تو اسے عشق و محبت کی انتہاسمجھ لیا جاتا. اُن دنوں دوستیاں عقیدت ، محبت اور خلوص کی بنیاد پر استوار ہوتیں اور اکثر ازدواجی زندگی میں بدل جاتیں مگر مولوی صاحب کی زندگی میں اچانک روحانی انقلاب کی وجہ سے محبتیں مریدی اور مرشدی میں بدل گئیں ۔ وہ جو اُن سے پیار کرتے تھے کسی ویران مسجد یا اُجڑے کھنڈر مکان کے بے کواڑ در پر بندھی چادر یا بوسیدہ ٹاٹ کے ٹکڑے کے باہر بیٹھے اپنے بچوں کیلئے نظر بد سے بچنے ، بیمار بھینس ، بکری یا پھر ہمسفر کی صحت مندی کیلئے تعویز کے حصول یا پھونک مروانے کے منتظر ہوتے۔
مولوی صاحب انتہا کے ذھین ، حاضر جواب ، خوش اخلاق ، خوش لباس اور بذلہ سنج شخصیت کے حامل ہیں ۔ سنا ہے کہ جب عدالت میں بحث کرتے ہیں تو جج بھی مسکرا دیتے ہیں ۔ مولوی صاحب کی عمر اب اسی سال کے قریب ہو گی مگر زندگی میں ٹھہراوٗ نہیں۔ طالب علمی کے دور میں آزاد جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے سٹوڈنٹ لیڈر تھے۔ صدارتی انتخابات میں سردار عبدالقیوم خان اور ایم ایل اے کی سیٹ کیلئے الحاج راجہ محمد اکرم صاحب (مرحوم) کی انتخابی مہم کامیابی سے چلائی ۔ حاجی صاحب پہلی کامیابی کے بعد ہمیشہ کامیاب ہوتے رہے اور مسلم کانفرنس کے ہر دور حکومت میں وزیر بھی رہے ۔
ان ہی دنوں مولوی صاحب کی ملاقات کھوئیرٹہ کے مشہور پیر سائیں رکن دین صاحب کے ساتھ ہوئی ۔ آپ نے اُن کے ہاتھ پر بیعت کی اور سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر تنہائیوں اور ویرانوں کا رخ کر لیا۔ آپ چالیس چالیس روزہ چلہ کاٹتے اور اکثر روزے سے رہتے ۔ یہ مولوی صاحب کی زندگی کا دوسرا دور اور پہلا روحانی انقلاب تھا ۔ پھر پتہ نہیں کیا ہوا کہ وہ اپنا بیگ اُٹھا کر اپنی ممانی اور میری خالہ محترمہ جمشید بیگم مرحومہ کے ہمراہ یونس کے کمرے میں آگئے ۔ یونس کا کمرہ اسلیے تھا کہ میں نے اپنے حصے کے تیس روپے یونس کو نہیں دیے  تھے ۔ والدہ صاحبہ (مرحومہ ) کو ابھی پینشن نہیں ملی تھی اسلیے یونس کی والدہ سے پانچ دن کی مہلت لے رکھی تھی ۔ یونس کی والدہ نیک ، سادہ طبعیت اور قبیلہ پرور تھیں ۔ میری خالہ مرحومہ جمشید بیگم یونس کی تائی اماں اور ہونے والی ساس بھی تھی۔ اُن کی بیٹی کی یونس سے منگنی ہو چکی تھی اور امتحان کے بعد رخصتی تھی ۔ اسطرح یونس ، مولوی ادریس صاحب اور خالہ جنھیں علاقہ کے لوگ بواجی کہتے تھے قریبی رشتہ دارتھے جبکہ یونس کے خاندان سے ہمارا محلے داری کا ہی تعلق تھا۔
خالہ مرحومہ کچھ دیر ہمارے پاس ٹھہریں ، ہم تینوں کو دوپہر کا کھانا کھلایا اور شام کے وقت راولپنڈی سے انگلینڈ کے شہر بریڈفورڈ چلی گئی۔ یونس میٹرک تو  نہ کر سکا مگر شادی کے بعد اپنی والدہ ، بھائی اور بیگم کے ہمراہ  اپنے والد کے پاس انگلینڈ چلا گیا ۔ یونس کا گھر اور کاروبار انگلینڈ کے شہر ڈڈلی میں ہے ۔ دونوں بھائی بڑے کامیاب بزنس مین ہیں ۔ سنا ہے کہ پاکستان میں بھی اُن کی فیکٹریاں ہیں جو اُن کے بزنس پارٹنر چلا تے ہیں ۔ دو تین روز مولوی صاحب ہمارے پاس رہے اور ہم دونوں نانگی مسجد میں نماز ادا کرتے ۔ مولوی صاحب کا بستر زمین پر تھا اور رات کو کسی وقت وہ تہجد پڑھنے مسجد چلے جاتے۔
ایک روز نماز ظہر کے بعد امام مسجد نے لاوڈ سپیکر پر اعلان کیا کہ مسجد سے منسلک رہائشی خاتون کا کردار اچھا نہیں ۔ اُسے ملنے والے لوگ مسجد کے غسل خانے استعمال کرتے ہیں اور مسجد کی بے حرمتی ہوتی ہے ۔ اہل محلہ سے درخواست ہے کہ وہ اِس کا نوٹس لیں ۔ میں تھانے والوں کو کئی بار شکایت کر چکا ہوں مگر عورت اور اُس کی بیٹیاں اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتی ہیں ۔ میں نے ایس ڈی ایم سے بھی گزارش کی تھی مگر شنوائی نہیں ہوئی ۔ ہماری رہائش گاہ کے سامنے ایک میدان تھا جہاں اب چھوٹا سا پارک ہے۔ پارک کے کونے پر امام صاحب نے ایک کھوکھا لگا رکھا تھا جہاں وہ پھل اور سبزیاں فروخت کرتے تھے ۔ مسجد کھوکھے کے سامنے ہی تھی۔ دوسرے کونے پر سروس  اور باٹا شوز کی دو دکانیں تھیں جن میں سے ایک جنرل راجہ سروپ کے والد میجر راجہ عباس اور دوسری اُن کے بھانجے راجہ سنگر خان کی ملکیت تھی ۔ میں نے اُنھیں کئی بار دکانوں کے سامنے بیٹھے لوگوں سے گپ شپ لگاتے دیکھا۔ امام صاحب نے جب مسجد کی پڑوسن کے متعلق اعلان کیا تو تب بھی میجر صاحب اور راجہ سنگر خان وہاں تشریف فرما تھے ۔
اعلان کے بعد امام صاحب حسب معمول کھوکھے کا دروازہ کھول کر اندر بیٹھے ہی تھے کہ مذکورہ خاتون نے تین چار لڑکیوں کے ہمراہ امام صاحب پر حملہ کر دیا۔ امام صاحب بھاری بھرکم تھے .بڑی سرعت سے باہر نکلتے ہی سڑک پر گِر گئے ۔ عورتوں نے گالیوں کے علاوہ پھلوں اور سبزیوں سے امام صاحب کی پٹائی شروع کر دی اور سامان اُٹھا کر باہر پھینک دیا ۔ قریب ہی شیخوں کا محلہ تھا، سارا دن  شیخ صاحبان کھالوں کو نمک لگانے میں مصروف رہتے مگر باقاعدگی سے نماز بھی پڑھتے تھے ۔ اوپر کی منزل پر اُن کے گھر تھے اور نیچے گلی کے دونوں اطراف جانوروں کی کھالوں کے ڈھیر لگے رہتے ۔
عورتوں نے امام صاحب پر حملہ کیا تو شیخ صاحبان اُسطرف دیکھے بغیر ہی گھروں کو چل دیے البتہ اُن کی بیگمات نے چھتوں پر آکر جنگ کا منظر دیکھا۔ پارک کی دوسری سمت سینما تھا اور سامنے ہوٹل تھا جہاں قریبی تھانے جسے تھانہ صدر میرپور کہا جاتا ہے کے پولیس والے سارا دِن موجود رہتے اور سائیلین سے مفت چائے اور کھانے کھاتے۔
حیرت کی بات یہ تھی کہ پولیس والوں سمیت کوئی دکاندار ، سنار، نمازی یا محلے دار امام صاحب کی مدد کو نہ آیا۔ شور سن کر میں اور مولوی ادریس صاحب باہر آئے تو یہ منظر دیکھ کر مولوی صاحب نے مجھے وہیں کھڑا رہنے کا کہا اور آگے بڑھ کر بلند آواز میں کہا رُک جاوٗ۔  رک کا حکم صادر ہوتے  ہی حملہ آور دستہ واقعی ہی رک گیا تو مولوی صاحب نے کہا گھر جاؤ. خواتین نے مار دھاڑ اور توڑ پھوڑ ختم کر دی اور خاموشی سے پسقدمی کرتے ہوئے واپس چلی گئیں ۔ مولوی صاحب نے امام صاحب کو اُٹھایا ۔ مجھے سکول جانے کا کہا اور خود امام صاحب کیساتھ ملکر پھل اور سبزیاں اکٹھی کرنے لگے۔ سکول سے واپسی پر میں نے راجہ یونس کو مسجد والے حادثے اور مولوی صاحب کے متعلق بتایا تو کہنے لگا ہو نہ ہو یہ عورتیں صوفی صاحب کی مریدنیاں ہوں گی ۔ ادریس اکرم صاحب اُن دِنوں صوفی ادریس بھی تھے ۔ عوام نے اُنھیں اپنی اپنی پسند کے نام دے رکھے تھے ۔ واپس کمرے میں آئے تو مولوی صاحب وہاں موجود نہ تھے اور اگلے تین دِن تک غائب رہے۔ تین روز بعد وہ تشریف لائے اور پھر چلے گئے ۔ اُن کے جانے کے بعد میں اور یونس کھانے کیلئے ہوٹل گئے تو  وہاں دو رکشوں سے کچھ لوگ اُترے اور ہوٹل کے منیجر پر حملہ کر دیا۔ بعد میں پتہ چلا کہ یہ ہوٹل اور ملحقہ پراپرٹی بیرسٹر راجہ قربان اور اُن کے عزیزوں کی ہے۔ بیرسٹر صاحب کا گھر کوٹلی روڈ پر تھا. وہ برمودہ نما نیکر پہنے اکثر گھر کے باہر بیٹھے اخبار پڑھتے تھے۔ اُس وقت آبادی انتہائی کم تھی اور ٹریفک بھی زیادہ نہ تھیں ۔ سنا تھا کہ بیرسٹر صاحب سخت طبعیت اور سوشلسٹ نظریات کے حامل ہیں ۔
ہوٹل کا منیجر طویل القامت تھا اور ہمیشہ تہبند باندھتا تھا ۔ منیجر نے ہمارے دیکھتے ہی ایک بڑے سائیز کا تلوار نما چھرا نکالا اور بہت سے حملہ آوروں کو زخمی کردیا ۔ حملہ آوروں نے بھی منیجر پر چھریاں اور ڈنڈے چلائے مگر وہ میدان میں ڈٹا رہا۔ یہ منظر دیکھ کر سب سے پہلے مفت خورے پولیس والے اپنے سائیلوں سمیت بھاگے اور پھر سوائے میرے اور یونس کے گاہک  بھی اپنی پلیٹیں اور کپ چھوڑ کر بھاگ گئے ۔ ہوٹل کے دیگر عملے نے حملہ آوروں پر دور سے سنگ باری کی جس کی زد میں پولیس والے اور گاہک بھی آئے ۔ آخری پتھر رکشے والے کو لگا جس کے بعد زخمی حملہ آور رکشوں میں بیٹھ کر بھاگ گئے ۔ میں نے اور یونس نے یہ منظر قریبی چوک سے دیکھا جہاں آجکل جیولری کی دُکانیں ہیں ۔
جنگ بندی کے بعد یونس نے ہوٹل منیجر سے طبیعت کا پوچھا وہ خون بہنے کے باوجود مطمئن اور اپنی فتح یابی پر خوش تھا ۔ کسی نے بتایا کہ منیجر بیرسٹر قربان کا رشتہ دار ہے ۔ امام صاحب کے واقع کے بعد یہ دوسرا جنگی واقع تھا جو میرے میرپور آتے ہی دیکھا گیا۔ میرپور تب دیہاتی شہر تھا سوائے المنظر ہوٹل کے باقی سب پرانے طرز کے منجی بستر  والے تقریباً گندے اور ڈرائیور ہوٹل تھے ۔ ہوٹل والی جنگ کے بعد میں اور یونس تھوڑا دور مرکزی جامع مسجد کے قریب الوطن ہوٹل جا کر کھانا کھانے لگے ۔ یہ ہوٹل کالا ڈب کے حاجی نور صاحب کا تھا۔ حاجی صاحب انتہائی صاف ستھرے ، تہجد گزار اور پانچ وقت کے نمازی تھے ۔ اُن کے کھانے صاف اور ذائقہ دار ہوتے ۔ دو یا تین دن میں یونس کے ہمراہ وہاں جاتا رہا کہ مولوی ادریس اکرم صاحب ایک بار پھر تشریف لے آئے ۔ کہنے لگے میں کھوئیرٹہ سائیں صاحب کے پاس حاضری کیلئے گیا تھا واپسی پر تمہاری والدہ سے بھی ملا ۔ اُنہوں نے تمہارے لیے چالیس روپے دیے ہیں ۔مولوی صاحب نے یہ بھی بتایا کہ اُن کے مرشد سائیں رکن دین صاحب نے حکم دیا ہے کہ کوٹلی روڈ پر خالی میدان میں ایک بڑی مسجد ہے اور قریب ہی شیخ برادری کے کچھ مکان بھی ہیں ۔ شیخ برادری سائیں صاحب کے مریدوں میں شمار تھی اور وہ لوگ اس مسجد کو آستانہ عالیہ رکن آباد سے منسلک کرنا چاہتے تھے۔ غیر آباد اور بہت بڑی عالیشان مسجد جو شیخ صاحبان کے پلاٹ پر تعمیر کی گئی تھی کو آباد کرنے کا حکم ملتے ہی مولوی صاحب وہاں منتقل ہو گئے ۔ یونس کا ایک مخصوص حلقہ احباب تھا اُس کے دوستوں سے میرا کوئی تعلق نہ ہونے کی وجہ سے میں بھی مولوی صاحب کے ساتھ دو تین میل دور مسجد کے وسیع حجرے میں چلا  گیا ۔
مولوی صاحب کبھی کبھی کالج جاتے اور میں باقاعدگی سے سکول جاتا ۔ یونس کیساتھ کوئی دس روز گزارے تھے چلتے وقت کرایہ لیے بغیر اُس نے مجھے بیس روپے دیتے ہوئے وعدہ لیا کہ میں دوپہر کے کھانے پر اُسے وطن ہوٹل پر ملونگا اور وہیں سے سکول جائینگے۔ اُن دِنوں میرپور میں رکشوں کی آمد ہوئی تھی ۔ آبادی کم اور دور دور تھی۔ کوئی مارکیٹ ، پلازہ یا شاپنگ مال نہ تھا ۔ صرف کچہریاں آباد تھیں جہاں سارے ضلعے کے لوگ آزادی کے بعد تھانوں اور پٹوار خانوں کی قید کاٹنے آتے اور عدالتوں سے انصاف کے بجائے اگلی تاریخ لے کر چلے جاتے۔ وطن ہوٹل سی ایم ایچ میرپور کے سامنے تھا جہاں مریضوں کی تیمارداری کرنیوالے آتے تھے۔ عبداللہ ہوٹل کی ایک برانچ کچہریوں کے سامنے اور دوسری کوئی ڈیڑھ کلو میٹر کے فاصلے پر کھوئیرٹہ کے کرنل قاضی محمد جان صاحب (ستارہ جراٗت) کے دو خالی پلاٹوں پر ایک بڑے چھپر کے نیچے قائم تھی  جسکا نام ہی چھپر ہوٹل تھا ۔ چھپر ہوٹل کے سامنے بیس پچیس چارپائیاں بچھی ہوتیں جہاں کچہریوں میں دھکے کھانے والے کوٹلی ، نکیال اور سہنسہ جیسے دور علاقوں کے سائیلین ایک رات پہلے آکر قیام کرتے  ۔ یہ سارے علاقہ جات تب تک ضلع میرپور کا حصہ تھے۔ آزاد حکومت قائم ہونے کے صرف 23سالوں کے اندر انتظامیہ نے اسقدر ترقی کر لی تھی کہ شہر بسنے سے پہلے ہی کچہریاں ، عدالتیں اور تھانے میلے جیسا سماں پیش کرتے تھے۔ ایک دو روز تو میں وطن ہوٹل جا کر راجہ یونس سے ملتا رہا مگر بعد میں اسے وہاں نہ پاکر میں اور مولوی صاحب چھپر ہوٹل سے کھانا کھا کر اپنے اپنے تعلیمی اداروں کا رُخ کرتے ۔ اکبر روڈ وہاں سے کافی دور تھی مگر میں شروع سے ہی طویل مسافتوں کا عادی تھا ۔ کچھ دنوں بعد پتہ چلا کہ راجہ یونس ، چوھدری اورنگزیب اور میاں نائب قریشی سمیت بہت سے طالب علم اکثر غیر حاضر رہتے ہیں ۔ میرے علاوہ کچہری میں کام کرنیوالے وکیلوں کے دو منشی باقاعدگی سے آتے تھے ۔ دوسرے سیشن میں لڑکیاں بھی پڑھتی تھیں جن میں سے بیشتر مڈل کے بعد پرائمری سکولوں میں پڑھاتی تھیں ۔ یونس وقت گزاری کیلئے پڑھ رہا تھا ورنہ میٹرک کے بعد اُس کی شادی طے تھی۔ انگلینڈ جانے کیلئے بھی اُس کے والد راجہ اللہ داد خان (مرحوم) نے کیس ڈال رکھا تھا جسکا فیصلہ جلد متوقع تھا۔
مولوی صاحب مسجد میں آئے تودو تین نمازی بھی اُنہیں میسر آگئے ۔ نماز کے بعد روحانی محفل ہوتی اور مولوی صاحب اپنے مرشد اور سلسلہ عالیہ کے روحانی کمالات بیان کرتے۔ کبھی کبھی ہم شام کا کھانا سیف الملوک کیفے پر کھاتے جو آزاد کشمیر کے سابق نائب صدر اور کھوئیرٹہ سے منتخب ہونیوالے ایم ۔ ایل۔ اے غلام محمد رضا کی ملکیت تھا۔ میرپور میں اس سے اچھا اور صاف ستھرا کوئی کیفے ٹیریا نہ تھا ۔ رضا صاحب بھی مولوی صاحب کے تصوف اور سیاست کے حوالے سے جاننے والے تھے۔
میرپور کا سب سے بہتر ہوٹل المنظر تھا۔ کالا ڈب کے مقام پر فلم  ‘‘ھاشو خان’’ اور پیر گلی کے قریب نیل کچا واں موڑ پر فلم ‘‘سرحد کی گود میں ’’ کی شوٹنگ  ہوئی  ۔ سرحد کی گود میں کی ھیروئین نشو تھی ۔ ان فلموں کے یونٹ المنظر ہوٹل میں ہی ٹھہرتے تھے . ہوٹل کے سامنے کوئی بلند عمارت نہ ہونے کی وجہ سے منگلا ڈیم سے پیر گلی کے سرسبز پہاڑوں اور ان کے پیچھے پیر پنجال کی برف پوش چوٹیوں کا نظارہ قابل دید تھا۔
میں اور مولوی صاحب کبھی کبھار المنظر کے ٹیرس پر بیٹھ کر چائے بھی پیتے اور شام تک بیٹھتے ۔ المنظر ہوٹل سے ملحق مرحوم جسٹس عبدالمجید ملک کا گھر تھا ۔ کبھی کبھی وہ بھی راجہ اسلم مرحوم ایڈووکیٹ کے ہمراہ اپنے گھر کے ٹیرس پر نظر آتے تھے ۔
مولوی صاحب کے ساتھ منتقل  ہونے کا سب سے بڑا فائدہ پڑھائی میں یکسوئی اور مولوی صاحب کی رہنمائی کے علاوہ شب بیداری اور سکون تھا۔ مولوی صاحب تہجد گزار اور باقاعدگی سے تلاوت کلام پاک بھی کرتے تھے۔ وہ اپنی پڑھائی کے علاوہ کالج لائیبریری سے تاریخ اور تصوف پر لکھی کتابیں بھی لاتے جو میرے مطالعہ میں بھی رہتیں ۔ مولوی صاحب کا کہنا تھا کہ درسی کتب سے بوریت محسوس ہو تو کسی دوسری کتاب کے مطالعہ سے اکتاہٹ ختم ہو جاتی ہے ۔
مسجد میں مختصر قیام میرے لیے فائدہ مند ثابت ہُوا۔ امتحان کی اچھی تیاری کے علاوہ مولوی صاحب کے سوشل سرکل سے واقفیت اور تاریخی کتابوں کا مطالعہ بھی میسر ہُوا ۔ چھپر ہوٹل، کشمیر ہوٹل اور وطن ہوٹل بھی مطالعہ گاہوں سے کم نہ تھے۔ کشمیر ہوٹل بسوں کے اڈے پر تھا جہاں مظفرآباد اور پاکستان کے دیگر شہرو ں راولپنڈی ، لاہور، فیصل آباد ، گوجرانوالہ  اور سیالکوٹ کیلئے دو بجے رات کو ہی بسیں روانہ ہو جاتیں ۔ وہ لوگ جنہوں نے جہلم ریلوئے اسٹیشن سے کراچی، کوئٹہ یا حیدر آباد جانا ہوتا وہ بھی جہلم کیلئے چلنے والی بسوں پر ہی سفر کرتے ۔ کشمیر ہوٹل صفائی کے لحاظ تو اچھا نہ تھا مگر منجی بستر کی دستیابی کے علاوہ بسوں کے ٹکٹ رات کو ہی مل جاتے ۔ کچھ مسافر بسوں کے اندر یا چھتوں پر وقت گزاری کرتے تھے۔
مولوی صاحب کھوئیرٹہ آستانہ عالیہ ہر ہفتہ وار اور کبھی دوبار بھی چلے جاتے ۔ قریشی ہائی سکول میں دو ماہ مکمل ہونے والے تھے مگر مولوی صاحب کا خیال تھا کہ میں امتحانوں تک یہیں رہوں ۔ شاید پہلے بھی ذکر کیا ہے کہ مسجد کے سامنے ایک گھر تھا جو سامنے والی سڑک جسے آجکل ہال روڈ کہا جاتا ہے کی  دوسری طرف تھا۔ سڑک کے ساتھ والا پلاٹ خالی تھا اور مکان کا فرنٹ دوسری سڑک کی جانب تھا ۔ مکان کی پچھلی دیوار پر پاکستان کا جھنڈا پینٹ کیا ہوا تھا جس کے نیچے چھوٹے بچے زمین پر بیٹھ کر پڑھتے تھے ۔
ماسٹر صاحب کرسی پر بیٹھتے اور بچے اونچی آواز میں سبق یاد کرتے ۔ مولوی صاحب کی غیر موجودگی میں ، مَیں ماسٹر صاحب کو سلام کرنے گیا تو پتہ چلا کہ یہ راجہ عجائب خان ہیں ۔ جن دِنوں سڑکیں نہیں تھیں تو عجائب صاحب گھوڑی پر بیٹھ کر کبھی کبھی ہمارے گھر آتے  اور دو تین روز بعد اُن کے رشتہ دار ناڑا کوٹ (چڑہوئی) سے آکر اُنھیں گھوڑی پر بٹھا کر لے جاتے۔ ناڑا کوٹ والے راجہ محبت خان اُن کے سوتیلے بھائی اور میری دادی اماں کے کزن تھے۔ عجائب صاحب کی والدہ کی پہلی شادی محبت خان کے والد سے ہوئی اور دوسری شادی میرپور راجہ عجائب کے والد سے ہوئی ۔ عجائب صاحب پیدائشی معذور تھے۔ اُن کی ٹانگیں کمزور تھیں ۔ وہ دو لاٹھیوں کے سہارے چلتے تھے،  غریب بچوں کو مفت پڑھاتے اور اُن کی کفالت بھی کرتے۔ وہ اپنے والدین کی اکلوتی اولاد اور خود بھی اولاد سے محروم تھے۔ عجائب خان کو میں نے نانگی والے جنگی ہوٹل پر بھی کئی بار دیکھا ۔ وہ رکشے پر بیٹھ کر آتے تو لمبے قد والا منیجر اُٹھ کر اُنھیں رکشے سے نکلنے میں مدد کرتا اور پھر ایک کونے میں اُن کیلئے ایک آرام دہ کرسی اور ٹیبل رکھ کر چائے پیش کرتا ۔ تھوڑی دیر بعد کافی سارے لوگ عجائب خان صاحب سے ملنے آتے اور دیر تک بیٹھتے ۔ ملاقات پر وہ بہت خوش ہوئے اور کہنے لگے کہ ہوٹل پر واقفیت ہو جاتی تو میں آپ کو اپنے گھر رکھتا ۔ آپ آئیندہ مسجد میں نہیں رہینگے ۔ میں نے عرض کی کہ مولوی صاحب ایک دو روز میں واپس آجائینگے تو میں امتحانوں تک گھر چلا جاونگا۔ عجائب صاحب نے بتایا کہ یوسف قریشی صاحب بہت اچھے استاد ہیں ۔ آپ نے اچھا کیا جو اُن کے ادارے کا انتخاب کیا۔ کہنے لگے کہ بیرسٹر قربان میری برادری کے ہیں ۔ اُن کی زیادہ تر زمینیں اکبر روڈ اور نانگی کی طرف ہیں ۔ میرے والد کی چھ سو کنال زمین جو ڈھیری جٹاں تک پھیلی ہوئی تھی مگر اب زیادہ تر زمینوں پر جٹوں ،بینسوں  اور کچھ پر جرالوں نے قبضہ کر لیا ہے ۔
میں اکیلا اور معذورہوں ۔ اس وقت جرالوں کی میرپور پر حکومت ہے ۔ کمشنر مرزا نذیرجرالوں کو اچھی اچھی زمینیں الاٹ کر رہا ہے ۔ میں نے ناڑا کوٹ اپنے بھائیوں سے درخواست کی تھی کہ وہ مجھے کچھ رقم دیکر کم از کم سو کنال تو خرید لیں مگر وہ کہتے ہیں کہ پتھروں ، گیدڑوں اور سانپوں کا صحرا خرید کر کیا کریں گے۔ آپ کے ماموں راجہ بشیر میرے ہم جماعت ہیں آپ اُنھیں میرا پیغام دیں کہ وہ تین سو روپے کنال کے حساب سے جتنا رقبہ چاہیں خرید لیں چونکہ بینس برادری کی اس جگہ پر نظر ہے ۔ عدالت میں وہ تین سو کے حساب خرید لیں ۔ کاغذی کاروائی مکمل ہونے کے بعد میں آدھی رقم اُنھیں واپس کر دونگا۔ حیرت کی بات ہے کہ جب میں نے ماموں صاحب کو یہ پیغام دیا تو اُنہوں نے اپنے سسرال والوں سے مشورہ کرنے کے بعد راجہ محبت خان والا ہی جواب دیا۔ ماموں مرحوم نے دُنیا میں کوئی کام سسرال والوں سے پوچھے بغیر نہیں کیا ۔ آج بھی اُن کا سسرال ان کی جائیداد کا وارث ہے ۔
دوسرے دن مولوی ادریس اکرم یا صوفی ادریس اکرم کھوئیرٹہ سے تشریف لائے تو اُن کے بعد شام کی گاڑی سے نوجوان مولویوں کی ایک کمپنی نے مسجد کے صحن میں اپنا سامان رکھا اور نماز مغرب کے بعد بلند آواز میں ذکر شروع کر دیا۔ شیخ صاحبان کے گھروں سے اُن کے لیے کھانا آیا اور مولوی صاحب نے ایک موذن اور نائب امام مقرر کیا چونکہ امامت مولوی صاحب کے ذمہ تھی ۔ مولوی صاحب اپنی سپاہ تعینات کر چکے تو میں نے اُنہیں راجہ عجائب خان سے ملاقات کا بتایا۔ اُنھیں یہ بھی بتایا کہ جناب یوسف قریشی صاحب نے ہمیں کچھ نوٹس لکھوائے ہیں اور دسویں کلاس کو سکول سے فارغ کردیا ہے ۔ کہتے ہیں گھر جا کر تیاری کرو.اس ماہ کی  فیس بھی معاف کر دی ہے ۔ میں کل گھر جا رہا ہوں ۔ کھوئیرٹہ سے آئے ینگ مشائخ نے شام کا کھانا شیخ صاحبان کی طرف سے کھایا اور جلدی سے اپنا لنگر خانہ بھی تیار کر لیا۔ راشن شیخ برادری کی طرف سے بھجوایا گیا ۔ میں نے اور مولوی صاحب  نے کیفے سیف الملوک پر ڈنر کیا اور چھپر ہوٹل سے چائے پی کر واپس آئے ۔ دوسرے روز میں گھر آگیا چونکہ گھر بارشوں کی وجہ سے بوسیدہ ہو گیا تھا۔ پہلے بھی لکھاہے کہ یہ گھر سو سال پرانا اور قلعہ نما تھا۔ کچھ حصہ اب بھی رہائش کے قابل تھا مگر ہم نے گھر کے سامنے پہلے سے بنے ایک کمرے کی صفائی کی اور  اُس میں رہائش اختیار کر لی ۔
کچھ روز گھر رہنے کے بعد امتحان دینے گیا تو میرے ماموں راجہ بشیر احمد مرحوم نے مجھے اپنے دوست صوبیدار رشید صاحب کے گھر رہنے کا کہا ۔ رشید صاحب کی پوسٹنگ مظفر آباد سے آگے بارڈر پر تھی ۔ اُن کا بیٹا ریاض احمد بھی میٹرک کا امتحان دے رہا تھا ۔ سٹاف کالونی میں رہنے کا فائدہ یہ تھا کہ میں اور ریاض اگلے پیپر کی مل کر تیاری کرتے تھے۔ ماموں صاحب نے میرے کھانے کا بندوبست عبداللہ ہوٹل پر کر رکھا تھا۔ میں صبح نماز کیلئے نکلتا اور پیپر سے فارغ ہو کر مولوی ادریس صاحب کے پاس چلا جاتا ۔ مولوی صاحب کی فورس میں اب اضافہ ہو چکا تھا۔ مسجد اور ملحقہ پلاٹوں پر قبضے کا بھی خطرہ نہ رہا ۔
شنید تھی کہ قبلہ سائیں رکن دین صاحب جلد ہی اپنا آستانہ میرپور منتقل کرنے والے ہیں ۔ آستانے کی تعمیر اور سائیں صاحب کی رہائش گاہ مولوی صاحب کی منصوبہ بندی میں شامل تھی ۔ مولوی صاحب نے بی۔ اے کب پاس کیا ، اسکا علم تو نہیں مگر جلد ہی آستانہ کھوئیرٹہ سے میرپور منتقل ہوا تو مولوی صاحب آستانہ عالیہ کے مہتمم خاص مقرر ہوئے۔ اُن کے لیے الگ دفتر اور عملے کا انتظام بھی کیا گیا ۔ کچھ عرصہ بعد جناب سائیں رکن دین صاحب نے شیخ برادری کی ایک نوجوان تعلیم یافتہ لڑکی سے تیسری یا پھر چوتھیشادی کر لی جسپر سائیں صاحب کے مخالفین نے ھنگامہ کھڑا کر دیا ۔ سائیں صاحب کچھ وقت کیلئے حوالات میں بھی بند رہے اور اُن کے خلاف جلسے جلوس اور پریس کانفرنسیں بھی ہوتی رہیں ۔ مولوی صاحب بھی مخالفین کا ڈٹ کر مقابلہ کرتے رہے اور آخر کار یہ مسئلہ راولپنڈی پہنچ کر اختتام پذیر ہُوا۔
میرے میر پور قیام کے دوران تین بڑے واقعات رونما ہوئے ۔ پہلا واقعہ حنیف اور بشارت کا تھا جنھیں لندن کے بھارتی سفارت خانے میں برٹش پولیس نے شہید کر دیا تھا۔ دوسرا واقعہ میرپور پولیس کا کالج کے طلباٗ پر فائیر تھا جو سردار عبدالقیوم کے بھائی عبدالغفار کی میرپور آمد اور اشتعال انگیزی کی وجہ سے رونما ہوا۔ پولیس جب اندھا دھند فائیر کر رہی تھی تو میں اور چند ساتھی جو کالج میں امتحان دینے جارہے تھے پولیس لائین کی زیر تعمیر مسجد میں چھپ کر جان بچائی ۔ اِس فائیر کے نتیجے میں ایک طالب علم شہید بھی ہوا تھا۔
تیسرا واقعہ سائیں رکن دین صاحب کی میر پور آمد اور اُن کے خلاف مظاہروں ، مقدمات اور شادی کا تھا جسے پاکستانی پریس نے بھی اہمیت دی۔ امتحان کے بعد گھر گیا تو اُن دِنوں زمینوں کا بندوبست (اشتمال اراضی) ہو رہی تھی۔ اُس سے پہلے میری والدہ کے چچا ریٹائیرڈ فاریسٹ آفیسر مولوی اشرف صاحب نے محلے کے دس پندرہ گھروں سے پچاس روپیہ فی گھر کے حساب سے جمع کیا اور پٹواری کو فیس اور کچھ جیب خرچ دیکر مثل حقیت بنوائی ۔ موضع نرماہ چھ گاوٗں پر مشتمل تھا جن میں ساہ، نرماہ، کھڈال ، چندرون ، بلوانٹی اور آدھا حصہ کالا ڈب کا بھی شامل تھا ۔ اِن گاوٗں کی ساری آبادی آسامیاں کہلواتی تھیں اور مالکان نارمہ راجپوتوں کے پندرہ گھر تھے ۔ اس سے پہلے سردار عبدالقیوم نے آزاد کشمیر سے مالیہ کا نظام ختم کر دیا جس کی وجہ سے نمبر داریاں ، ذیلداریاں اور چوکیدارا نظام بھی ختم ہو گیا ۔
یہ تاریخی حقیقت ہے کہ صدیوں سے جاری کسی بھی نظام کے خاتمے پر کوئی بھی نیا نظام اُسکا حقیقی نعم البدل نہیں ہو سکتا بلکہ عرصہ تک ایک سیاسی، اخلاقی اور انتظامی خلاٗ پیدا ہو جاتا ہے۔ مجاہد اوّل کے اس کارنامے سے نہ تو اُنھیں کوئی ذاتی فائدہ ہوا اور  نہ ہی مغلیہ دور سے جاری اس نظام کے خاتمے پر جو خلا پیدا ہوا وہ آج تک پُر ہو سکا۔
بندوبست سے پہلے اسامیوں یا مزارعین کیلئے آزاد حکومت نے ایک قانون وضع کی تھا کہ وہ اپنی زیر کاشت زمین کا معاوضہ سرکاری خزانے میں جمع کروائیں جس کی حد حکومت نے مقرر کی تھی ۔ حاصل شدہ معاوضے کا کچھ حصہ حکومت نے رکھ لیا اور باقی اسامیوں کی تعداد کے لحاظ سے مالکان میں تقسیم کر دیا۔ یہ شاید 1962ء یا 1963 ء کا سال تھا جب میں والدہ کے ساتھ معاوضہ لینے کوٹلی گیا تھا۔
معاوضے کی وصولی کے بعد اسامیوں کو زیر کاشت زمینوں کے حقوق منتقل ہو گئے مگر شاملات کا رقبہ بدستور مالکان کی ملکیت ہی رہا۔ حکومت نے شاملات کی خرید و فروخت ، حصہ داری اور تقسیم کا قانون بھی بنا رکھا ہے مگر دیگر قوانین کی طرح اس پر کبھی عمل نہیں ہوتا۔ شاملاتوں اور سرکاری زمینوں پر قبضہ سرکاری ملازمین کی آمدنی کا بڑا ذریعہ ہے جس میں پٹواری اور تھانیدار سے لیکر اعلیٰ ترین حکومتی عہدیدار ملوث ہوتے ہیں ۔ زیر بیان بندوبست کے دوران بھی پٹواری عباس علی نے جسکا تعلق مظفر آباد سے تھا دو پارٹیوں کے درمیان خونی تصادم کروا دیا ۔ مثل حقیت کے مطابق یہ رقبہ شاملات مقبوضہ مالکان تھا مگر دوسری پارٹی اسے بندوبست میں اپنے نام منتقل کروانا چاہتی تھی ۔ تکرار شروع ہوا ترو پٹواری خاموشی سے اپنا سامان اُٹھا کر ایک طرف ہو گیا ۔ دونوں طرف سے دو جوشیلے جوانوں نے ایک دوسرے پر حملہ کر دیا جس کی وجہ سے ایک جوان اور اسکا چچا شدید زخمی ہو گئے ۔ شور سن کر زخمی افراد کی برادری کے لوگ تازہ کمک لے کر آئے مگر اُن کا ایک اور جوان بھی شدید زخمی ہُوا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ مالکان کی طرف سے دفاع کرنے والا جس نے تین افراد کو شدید زخمی اور کچھ کو معمولی زخموں سے دوچار کیا ایک ہی شخص راجہ شبیر احمد (مرحوم) تھا ۔ راجہ شبیر میری والدہ کا چچا زاد اور رشتے میں میرا ماموں تو تھا مگر کئی وجوہات کی بنا پر میری والدہ کے اپنے چچوں اور والد کے کار مختارکے ساتھ کبھی اچھے تعلقات نہ تھے۔
شور سُن کر محلے کے لوگ بھی وہاں جمع ہو گئے جن میں میرے علاوہ دیگر بھی شامل تھے ۔ مخالف پارٹی کے لوگ بھی جمع ہوئے مگر کوئی بد کلامی یا مزید بد نظمی نہ ہوئی ۔ تھوڑی دیر بعد پتہ چلا کہ علاقائی کھڑپینجوں نے زخمی ہونے والے افراد کو اپنے شکنجے میں لے لیا ہے اور اُنھیں عدالت جانے پر اکسا رہے ہیں ۔ کھڑپینجوں کا یہ گروپ سارا دن کالا ڈب چوھدری فرمان علی یا پھر راجہ انور آف پلاہل کلاں کی دکان پر بیٹھا رہتا۔
اس فورم میں سائیں سخی محمد، راجہ مہربان ، راجہ انور ، راجہ فیروز ، چوھدری فرمان دکاندار اور محمد حسن بھٹی شامل تھے ۔ زخمی افراد کا تعلق محمد حسن بھٹی کی برادری سے تھا اور اِ ن میں سے ایک جوان جسے ‘‘محمد جی’’ کے نام سے پکارا جاتا تھا بھٹی صاحب کا رشتہ دار تھا۔ بھٹی صاحب اپنی برادری کو لیکر کھڑپینج گروپ کے پاس چلے گئے ۔ کھڑپینج گروپ کا سن کر ہمارے لوگ بھی وہاں پہنچے جن میں ملاں سرور، راجہ شبیر کے والد راجہ عبداللہ صاحب ، مولوی اشرف صاحب اور سائیں کالا صاحب (مرحوم) شامل تھے ۔ پنچائیت کا سنکر میرے علاوہ محلے کے تین چار لڑکے بھی وہاں چلے گئے جن میں راجہ یونس بھی شامل تھا ۔
یاد رہے کہ راجہ مہربان میرے نانا مرحوم ذیلدار ، سفید پوش راجہ ولائیت خان مرحوم کے کارمختار تھے ۔ راجہ انور مرحوم ، دکاندار راجہ شبیر مرحوم کا رشتے میں ماموں تھا اور حضرت سائیں سخی صاحب بعد از وفات بہت بڑے ولی اللہ مشہور ہوئے ۔ ہر سال اُن کے مزار پر عرس کا اہتمام ہوتا ہے ۔ پاکستان اور آزاد کشمیر کے دور دراز علاقوں سے لاکھوں زائرین تین روزہ عرس کا اہتمام کرتے ہیں ۔ راجہ فیروز خان راجہ انور خان کے مدد گار تھے اور دکان پر کام کرتے تھے ۔ دکان معمولی سی تھی جبکہ چوھدری فرمان کی دکان ڈوگرہ دور سے چلی آرہی تھی ۔ پرانے کالا ڈب کے محلے میں چوھدری فرمان کے والد ہندو ساہوکاروں بخشی ایشر اور بخشی لعل کے ملازم تھے ۔ 1947ء میں بخشی خاندان بھارت چلا گیا تو اپنی ساری جائیداد چوھدری شاہ محمد کے حوالے کر گیا ۔
بہرحال ہمارے محلے کے لوگ کالا ڈب پہنچے تو سارے کھڑپینج مولوی اشرف صاحب اور راجہ عبداللہ صاحب کو دیکھ کر تتر بتر ہو گئے ۔ بعد میں پتہ چلا کہ پنچائیت کے فیصلے کے مطابق مخالف برادری کے پٹواری نے درخواست لکھی ہے جس کے مطابق بلوائیوں اور تین افراد کو شدید زخمی کرنیوالوں میں میرا نام سرفہرست ہے ۔ دوسرا نام ملاں سرور صاحب کا اور تیسرا راجہ شبیر مرحوم کا ہے ۔ ان تین ناموں کے علاوہ درخواست میں لکھا گیا ہے کہ  راجہ عبداللہ خان اور مولوی اشرف صاحب کے اکسانے پر محلہ دبلہاہ راجگان کے مرد، خواتین اور بچے موقع پر آئے اور کارِ سرکار میں مداخلت کرتے ہوئے بندوبست (اشتمال اراضی) کرنے والی محکمہ مال کی ٹیم پر بھی حملہ آور ہوئے ۔ پٹواری اور انکے معاونین کو زد و کوب کیا اور بندوبستی کاروائی رکوا دی ۔
اس سے پہلے ہمارا گھرانہ ذیلداروں، نمبرداروں اور علاقہ بھر کے لوگوں کے باہمی جھگڑوں کے منصفانہ فیصلوں کیلئے مشہور تھا ۔ سردار عبدالقیوم کے نئے نظام نے ہمارے علاقوں کی صدیوں پُرانی روایات کا خاتمہ کیا اور علاقہ بھر میں ہونے والے اِس پہلے جھگڑے کے پہلے ملزم کا اعزاز مجھے ہی نصیب ہُوا۔ (جاری ہے)

Exit mobile version