Tarjuman-e-Mashriq

یہ اُن دِنوں کی بات ہے۔31

میرے خلاف مضروب پارٹی کی درخواست اور ملزم نامزد کرنے پر محلے کا کوئی بھی شخص پوچھنے نہ آیا اور نہ ہی ہمدردی کا اظہار کیا۔ شام کے وقت میری مہربان نانی جنہوں نے ساری زندگی ہمارا ساتھ دیا اور جو کچھ ہو سکا مدد بھی کی پریشانی کے عالم میں آئیں ۔ مجھے دلاسہ دیا اور کچھ پیسے میری جیب میں ڈالکر کہا کہ بیٹا ہمت نہ ہارنا۔ صبح سویرے گھر سے نکل جاوٗ اور جہاں تمہارا بھائی نوکری کرتا ہے وہاں چلے جاوٗ ۔ میرے بڑے بھائی اُن دِنوں گیمن پاکستان میں اکاونٹنٹ تھے ۔ گیمن اُن دِنوں سانگلہ ہل ضلع شیخوپورہ میں ماڈرن شوگر مل تعمیر کر رہی تھی ۔ اس سے پہلے سالانہ چھٹیوں کے دوران میں سانگلہ ہل جاتا رہا تھا اسلیے وہاں جانا کوئی مشکل نہیں تھا۔
نانی صاحبہ نے بتایا کہ اُن کے بھتیجے اور کارِ مختار راجہ مہربان نے بتایا ہے کہ اگرپرچہ درج ہو گیا تو ملاں سرور اور شبیر تو بچ جائیں گے مگر ایوب کو کم از کم سات سال سزا ہو گی ۔ چار پانچ لوگوں نے گواہی کا وعدہ کیا ہے جو موقع پر موجود تھے۔ نانی صاحبہ مرحومہ کی موجودگی میں ہی مولوی اشرف صاحب کے صاحبزادے راجہ گلریز خان آئے اور کہنے لگے کہ وہ کل صبح اپنے بہنوئی راجہ حبیب الرحمٰن جو اس وقت آئی۔ایس۔آئی میں کسی سول پوسٹ پر تعینات تھے سے ملنے لاہور جا رہے ہیں۔ راجہ گلریز صاحب ٹیچرز ٹریننگ کالج افضل پور میں پڑھتے تھے ۔ آزاد کشمیر کے تعلیمی اداروں میں افضل پور ایک اچھا اور معیاری تعلیمی ادارہ تھا۔ بنیادی طور پر یہ ہائی سکول تھا جہاں میٹرک پاس پرائمری سکولوں کے اساتذہ کی تربیت ہوتی تھی ۔
گلریز صاحب نے ہمارے ساتھ ہی میٹرک کا امتحان دیا اور اب وہ گھر میں فارغ تھے اسلیے چھٹیاں گزارنے لاہور جا رہے تھے ۔ میں نے گلریز صاحب کو بتایا کہ میں بھی میرپور جا رہا ہوں اور صبح جلدی نکل جاوٗں گا۔ حاجی گلریز صاحب لاڈلے بچے تھے اسلیے اُمید نہیں تھی کہ وہ اتنی جلدی تیار ہونگے مگر دوسری صبح وہ پینٹ ، شرٹ اور ٹائی پہن کر مجھے لینے آگئے ۔ میر پور سے چڑھوئی تک روڈ تو تھی مگر بسیں صرف دو ہی چلتی تھیں ۔ لوگ بسوں کے عادی بھی نہ تھے ۔ جنھیں شہر میں کوئی کام ہوتا وہ صبح سویرے پیدل چل کر اپنا سفر طے کر لیتے ۔ گلریز کا اٹیچی کیس اُن کا نوکر لیکر پہلے ہی جا چکا تھا ۔ میرے پاس والد مرحوم کا کینوس بیگ تھا جس میں کپڑوں کے تین جوڑے تھے ۔ ہم پیدل چل کر براستہ سہار پہاڑی سے نیچے اُترے اور کوئی دو اڑھائی گھنٹوں میں رام سنگھ تالاب سے تھوڑا آگے میرپور کوٹلی روڈ پر پہنچ گئے ۔ گلریز صاحب کا ملازم وہاں کھڑا انتظار کر رہا تھا ۔ ہمارے پہنچتے ہی بس آگئی اور ہم صبح سویرے میرپور اور پھر دینہ سے لاہور چلے گئے ۔ مجھے جانا تو سانگلہ ہل تھا مگر گلریز کے کہنے پر وقت گزاری کے لیے لاہور چلا گیا ۔ لاہور میں ہمارا قیام مسجد وزیر خان والی گلی میں تھا۔ یہ مغلیہ دور کی پتھروں سے بنائی کشادہ گلی تھی جو بلندی کی طرف جاتی تھی ۔ سڑک نما گلی صاف ستھری اور خوشبووٗں کا مسکن تھی ۔ دونوں اطراف پھولوں اور مٹھائیوں کی دُکانوں کے علاوہ گلریز صاحب کے رشتے کے ماموں اور بہنوئی راجہ حبیب الرحمٰن کے بڑے بھائی راجہ مٹھا خان کی بیکری تھی ۔ بیکری کے اوپر دو بڑے کمرے تھے جن میں چار چار پلنگ بچھے تھے ۔ راجہ مٹھا خان بڑے ملنسار اور مہمان نواز تھے ۔ اُن کے گاوٗں تندڑ کے علاوہ اندرلہ کوٹہڑا جو کھوئیرٹہ کے قریب ہے سے جتنے لوگ لاہور آتے وہ مٹھا خان کے پاس ٹھہرتے ۔ اندرلہ کوٹہٹرا مٹھا صاحب کا سسرالی اور ننہالی گاؤں تھا۔

مٹھا خان 1947ء کے بعد لاہور آئے اور کسی بیکری پر ملازم ہو گئے جو ریلوے اسٹیشن کے قریب تھی ۔ ریلوے کے لوکو موٹوو شیڈ کے قریب ایک مسجد اور ہوٹل تھا ۔ مجھے یاد ہے کہ جب میں اور میری والدہ والد محترم کے ہمراہ لاہور پولیس لائن میں رہتے تھے تو ابا جی کبھی کبھی اِس مسجد میں نماز جمعہ ادا کرنے جاتے تو مجھے بھی ساتھ لے آتے۔ نماز سے فارغ ہو کر ہم قریبی ہوٹل پر جاتے جو کھوئیرٹہ سے آگے ایل او سی کے قریب کسی گاوٗں کے رہائشی ماموں جی پہاڑ والے کی ملکیت تھا ۔ یہ ماموں جی پہاڑ والے مشہور شخصیت اور بڑے ہمدرد انسان تھے ۔ دراصل یہ ماموں جی پہاڑ والے راجہ مٹھا خان ، تندڑ والے پیر فضل الرحمٰن اور راجہ گلریز صاحب کی والدہ کے ماموں تھے۔ پہاڑ والے ماموں نہ صرف قبیلہ پرور بلکہ علاقہ پرور بھی تھے ۔ انگریزی دور میں وہ بھی تلاش روزگار کے سلسلہ میں لاہور آئے ۔ محنت مزدوری کرتے رہے اور پھر مسجد کے قریب اپنا ہوٹل تعمیر کر لیا۔
راجہ مٹھا خان کے علاوہ تندڑ ، اندرلہ کوٹہڑا اور گرد و نواح کے پہاڑوں کے مکین لاہور آتے تو ماموں اُنھیں اپنا مہمان بنا لیتے ۔ دیکھ بھال کرتے اور پھر کسی جگہ نوکری دلوا دیتے ۔ پہاڑ والے ہوٹل پر سینکڑوں لوگ کھانا کھاتے تھے جن میں زیادہ تعداد ریلوے ملازمین ، مزدوروں اور مسافروں کی ہوتی ۔ اُن دنوں براستہ واہگہ بھارت جانے والے غریب مسافر اسی ہوٹل پر قیام کرتے چونکہ ہوٹل کے سامنے ہی امرتسر جانے والی ریل کے ڈبے صفائی کے بعد کھڑے ہوتے تھے ۔ میں اور ابا جی پہاڑ والے ہوٹل پر جاتے تو ماموں صاحب خوش ہو کر ملتے ۔ میری والدہ کا پوچھتے ۔ اگر اُن کے علاقے سے کوئی لڑکا نوکری کی تلاش میں آیا ہوتا تو اُس سے ملاقات کرواتے چونکہ والد صاحب بھی ایسے جوانوں کی مدد کرتے تھے ۔ بعد میں پتہ چلا کہ پیر فضل الرحمٰن صاحب بھی ریلوے شیڈ والی مسجد میں قائم مدرسے سے فارغ التحصیل ہیں ۔ آپ نے اپنے دینی علم کی تکمیل اسی مدرسے سے کی اور پھر کسی انٹیلی جنس ایجنسی میں کچھ عرصہ نوکری کے بعد روحانیت کی دُنیا سے وابستہ ہوگئے۔ پیر صاحب ؒ کے متعلق پچھلے ابواب میں مفصل ذکر ہو چکا ہے کہ آپ پیر صاحب موہڑہ شریف کے مرید اور خلیفہ مجاز تھے ۔ موہڑہ شریف سے آپکا تعلق آپ کی والدہ محترمہ اور تندڑ کے رہائشی سائیں اللہ دتہ صاحب ؒ کی وجہ سے تھا۔
لاہور میں دس روزہ قیام کے دوران راجہ مٹھا صاحب نے ہمارا بہت خیال رکھا۔ ہمارے کمرے کی اُن کا ملازم روزانہ صفائی کرتا اور کپڑے دھو کر استری کرکے سرہانے رکھ دیتا۔ مٹھا صاحب کی ھدایت تھی کہ صبح کا ناشتہ کرنے کے بعد جہاں جی چاہے جاوٗ مگر شام کا کھانا میرے ساتھ کھانا ہوگا ۔ صبح کا ناشتہ بند، مکھن اور جمبو سائیز کا لسی کا گلاس ہوتا ۔ ناشتے کے بعد میں اور حاجی گلریز صاحب گلی سے باہر آتے جہاں تانگے والے مختلف علاقوں میں جانیوالوں کیلئے صدائیں بلند کرتے ۔ بھاٹی ، چوبرجی، داتا صاحب اور دیگر علاقوں کے نام پکارتے ۔ ہم نے فیصلہ کیا کہ روزانہ الگ سمت کے تانگے پر بیٹھ کر اُس کی آخری منزل تک جائینگے ۔ اگر فاصلہ کم ہوا تو وہاں سے اگلے منزل یا کسی دوسری جگہ جانیوالے تانگے پر بیٹھ کر کسی دور جگہ جائینگے اور پھر گھومتے پھرتے ، کھاتے پیتے اور جگہوں کی سیر کرتے شام سے پہلے واپس آیا کرینگے۔
شام کا کھانا مٹن شوربہ اور کلچے ہوتے ۔ مٹھا صاحب کا ملازم زمین پر دستر خوان بچھاتا اور بڑے بڑے پیالے اور شوربے کا دیگچہ درمیان میں رکھ دیتا ۔ کوئی شام ایسی نہ تھی جب مٹھا صاحب کے ایک یا دو مہمان کھانے میں شریک نہ ہوتے۔ مٹھا صاحب شوربہ اور تین بڑی بڑی بوٹیاں پیالوں میں ڈالتے اور اُن کا ملازم بیکری سے گرم گرم کلچے لے آتا۔ کھانے کے بعد فالودہ اور پھر کچھ دیر تک مٹھا صاحب گاوٗں کی یادیں تازہ کرتے ۔ وہ میرے والد محترم کا ہمیشہ عزت سے نام لیتے اور اُن کی خدمات کا احترام کرتے۔ لاہور گردی کے دوران ایک روز ہم دونوں لاہور میوزیم جا پہنچے ۔ میوزیم کی سیر کے بعد قریب ہی فوجی بھرتی کا دفتر دیکھا تو اندر چلے گئے ۔ دو سو سے زیادہ نوجوان اپنے اپنے علاقائی لباس پہنے گپ شپ لگا رہے تھے ۔ ہمارے دریافت کرنے پر پتہ چلا کہ یہ لوگ فوج میں بھرتی ہونے آئے ہیں ۔ معلومات حاصل کرنے کے بعد ہم کسی اور سمت جانے والے تانگے پر سوار ہوئے اور ایک سینما گھر کے سامنے جا اُترے ۔ شہری زندگی کے متعلق حاجی صاحب کی معلومات زیادہ تھیں چونکہ وہ اکثر لاہور اور گوجرانوالہ کا چکر لگاتے تھے ۔ گوجرانوالہ میں اُن کی خالہ ہوتی تھیں اور لاہور والے رشتہ داروں کے پاس ہم ایک ہفتے سے ٹھہرے ہوئے تھے ۔
اِس دوران مجھے خدشہ رہتا تھا کہ کہیں گلریز میرے خلاف ہونے والے پولیس کیس کا مٹھا صاحب یا اپنے بہنوئی سے ذکر نہ کر دے ۔ ہو سکتا ہے کہ پولیس کیس کا سنکر اُن لوگوں کی نظریں بدل جائیں اور وہ مجھے چلے جانے کا کہہ دیں ۔ کسی مفرور یا مجرم کو پناہ دینے والا بھی مجرم بن جاتا ہے ۔ میں جب بھی سانگلہ ہل جانے کی کوشش کرتا حاجی گلریز اور مٹھا صاحب مجھے روک لیتے مگر لاہور میں ٹھہرنا میرے لیے مشکل ہوتا جا رہا تھا۔ میں جب بھی پولیس والوں کو دیکھتا یوں لگتا جیسے مجھے ہی ڈھونڈ رہے ہیں ۔ لاہور کے کسی دور علاقے میں گلریز کا کوئی جاننے والا تھا جسے ملنے گئے تو وہ گھر پر نہیں تھا ۔ گھر والوں نے ہمیں رکنے کا کہا تو حاجی صاحب راضی ہو گئے مگر میں نے واپسی پر اصرار کیا تو حاجی صاحب بھی مان گئے ۔ ابھی وقت کافی تھا اور حاجی صاحب نے وقت گزاری کیلئے فلم دیکھنے کا پروگرام بنا لیا۔ یہ کوئی پنجابی فلم تھی جس میں یوسف خان اور ساون مد مقابل تھے ۔ فلم شروع ہوتے ہی یوسف خان اور ساون کی پارٹیاں لاٹھیاں ، برچھیاں اور بندوقیں لیکر میدان میں آئیں اور ایک دوسرے پر حملہ کر دیا۔ بہت سے لوگ مارے گئے اور کچھ زخمی ہوئے پھر پولیس نے یوسف خان اور ساون کو گرفتار کر لیا۔ دونوں کو عدالت میں پیش کیا گیا تو اُن کے ہاتھوں اور گلے میں لوہے کے سنگل اور پاوٗں میں بیڑیاں تھیں ۔ وہ بد مست بیلوں کی طرح پھنکار رہے تھے اور خونخوار نظروں سے ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے ۔ فلم کے دوران میں سو گیا اور پھر پولیس مجھے بھی پکڑ کر لے گئی ۔ فلم کے اختتام پر آنکھ کھلی تو میں پسینے سے شرابورتھا ۔ رات بے چینی سے گزری ۔ مجھے چھوٹا بھائی یوسف اور والدہ بہت یاد آئیں ۔ لگتا تھا جیسے سالوں سے گھر نہیں گیا ۔ صبح ناشتے کے بعد میں حاجی گلریز کے ساتھ دو دن پہلے دیکھے ہوئے بھرتی دفتر چلا گیا ۔ حاجی صاحب میرے بھرتی ہونے کے فیصلے پر پریشان ہوئے ۔ وجہ میرے سانگلہ ہل کے بجائے لاہور آنا اور اچانک فوج میں بھرتی ہونے کا فیصلہ تھا ۔ میں نے بھرتی کرنیوالے کلرک کے پاس جا کر اپنا نام اور پتہ لکھوا یا ۔ میں نے کلرک کو بتایا کہ میرے پاس میٹرک کی سند نہیں ۔ چاہو تو مجھے ناخواندہ سپاہ کی فہرست میں رکھ لو۔ کلرک نے کہا کہ اگر کوئی سرکاری ملازم تصدیق کر دے کہ تین ماہ کے اندر تم میٹرک کی سند یا مارک شیٹ جمع کروا دو گے تو تمہاری بھرتی آسان ہو جائیگی ۔ ریکروٹنگ سینٹر کی ضروری کاروائی کے بعد ہم نے تصدیق فارم لیا اور آئی ایس آئی کے دفتر راجہ حبیب الرحمٰن کے پاس چلے گئے ۔ تصدیق فارم دیکھ کر وہ بھی پریشان ہوئے ۔ کہنے لگے آپ ہمارے مہمان ہو اور آپ کی والدہ کو پتہ چلا تو وہ ناراض ہونگی ۔ راجہ حبیب صاحب کو راضی کیا تو اُنھہوں نے گارنٹی فارم اپنے ڈیٹ کمانڈر (میجر) سے تصدیق کروا دیا ۔ تصدیق شدہ فارم بھرتی دفتر میں واپس دیا تو اُنھہوں نے مجھے ایک سفری راہداری اور کچھ کاغذات دیے ۔ ریکروٹنگ سینٹر سے کاغذات وصول کرنے پر مجھے تحفظ کا احساس ہوا اور سات سال تک جیل جانے والے خوف سے کچھ نجات ملی ۔ میں اسی شام فیصل آباد جانیوالی ریل کار پر بیٹھ کر بھائی کے پاس سانگلہ ہل چلا گیا ۔ اُنھہیں گاوٗں میں ہونے والے واقعات اور فوج میں بھرتی کا بتایا تو وہ پریشان ہو گئے ۔ بھائی جان دیر تک روتے رہے ۔ کہنے لگے اب تمہاری پڑھائی کا کیا ہو گا؟ والدہ گھر میں اکیلی ہیں اور فوج کی سختیاں برداشت کرنا مشکل ہے ۔
میں نے بتایا کہ یہ مستقل نوکری نہیں ہے ۔ بھرتی دفتر والوں نے بتایا ہے کہ ہمیں ریزرو فوج میں بھرتی کیا گیا ہے جس کی مدت ملازمت صرف تین سال ہے۔ سات سال جیل میں رہنے سے تین سال فوج میں رہنا بہتر ہے ۔ ہم دونوں بھائی دیر تک دادی اماں کی باتیں یاد کرتے رہے ۔ وہ بتایا کرتی تھیں کہ جب ہمارے دادا راجہ وزیر خان ایک حادثے میں وفات پا گئے تو تب ہمارے والد کی عمر صرف دس دِن تھی ۔ ہمارے والد کو اُن کے سوتیلے چچاوٗں اور اُن کے بیٹوں سے ہمیشہ خطرہ رہا۔ کمسنی میں ہی دادی نے اُنھیں انڈیا کے دور دراز علاقے دیرہ دون میں اپنے بھائی صوبیدار راجہ صلاح محمد کے پاس بھجوا دیا ۔ صوبیدار صاحب دراصل پولیس انسپیکٹر تھے ۔ اُس دور میں پولیس انسپیکٹر کو صوبیدار کہا جاتا تھا ۔ سندھ میں اب بھی (ایس ۔ایچ۔او ) صوبیدار کہلواتا ہے ۔ مغلیہ دور میں صوبے کا گورنر صوبیدار ہوتا تھا۔ برطانوی دور میں دیسی لوگوں کو ڈی ایس پی تک ترقی ملتی تھی جسے پولیس کپتان کہا جاتا تھا۔ راجہ صلاح محمد خان بھی پولیس سے اعزازی کپتان ریٹائیر ہوئے مگر علاقہ کے لوگ اُنھیں صوبیدار ہی کہتے تھے۔
بھائی جان نے مجھے ایک دری، تکیہ، دو بستر کی چادریں اور کچھ ضروری چیزیں جو میرے کینوس بیگ میں آسکتی تھیں لیکر دیں اور شاہ کوٹ سے راولپنڈی کی بس پر بٹھا دیا۔ راولپنڈی سے میں کوہاٹ جانیوالی بس پر بیٹھا تو میرے ساتھ لاہور سے بھرتی ہونے والے چار لڑکے شامل ہو گئے ۔ اِن میں ایک رینالہ خورد کا جعفر علی، ساہیوال کا اکرم، خانیوال کا بشیر اور لیاقت شامل تھے۔ کوہاٹ اڈے پر بس سے اُترے تو شام ہو چُکی تھی۔ ہم پانچوں اپنا سامان لیکر ایک طرف کھڑے ہو گئے اور لوگوں سے سگنل ٹریننگ سینٹر کا پوچھنے لگے ۔ ہمارے ساتھ راولپنڈی سے آنیوالے ایک مسافر نے بتایا کہ اُس کا تعلق بلوچ رجمنٹ سے ہے اور اُس کی یونٹ بھی اسی طرف ہے جو یہاں سے زیادہ دور نہیں ۔ سگنل ٹریننگ سینٹر راستے میں آتا ہے اور آپ کے پاس کوئی بھاری سامان بھی نہیں ۔
ہم نے اپنا اپنا بیگ اُٹھایا اور بلوچ رجمنٹ کے جوان کے ساتھ چل پڑے۔ اڈے سے باہر نکلے تو اُس نے بتایا کہ دائیں جانب کی عمارت پاک فورسز کا سینما ہے۔ ٹریننگ شروع ہونے کے کچھ عرصہ بعد تم لوگوں کو یہاں فلم دکھانے لایا جائے گا۔ تھوڑا آگے بائیں جانب انگریزوں کے دور کی بنی عمارتوں کا ایک سلسلہ تھا جو کوہاٹ کی ضلع کچہری اور عدالتیں تھیں ۔ 2002ء میں ، میں اور بریگیڈئیر منظور اقبال بنگش کئی بار اس کچہری میں ڈپٹی کمشنر کے دفتر جاتے رہے جو تب تک اُنھیں عمارتوں میں کام کر رہی تھی ۔
کچہری سے آگے سڑک کشادہ ، صاف ستھری تھی اور سڑک کے دونوں جانب گھنے اور اونچے درخت تھے ۔ اگر بجلی نہ ہوتی تو یہاں گھپ اندھیرا ہوتا۔ بلوچی سپاہی نے بتایا کہ اس سڑک کا نام ہیپی ویلی روڈ ہے اور بائیں جانب ذرا اونچائی پر پشاور روڈ ہے جو درہ آدم خیل سے ہو کر وادی پشاور میں اُترتی ہے۔ تھوڑا آگے چلکر اُس نے بتایا کہ کوہاٹ پشاور روڈ پر تمہارا ٹریننگ ایریا ہے جہاں تم اگلے چھ ماہ تک روزانہ ہی آیا کرو گے ۔ اسی جانب کوہاٹ کا مشہور گاوٗں جنگل خیل ہے جو اِس علاقے کا سب سے بڑا گاوٗں ہے۔ اسی جانب پہاڑوں میں زندہ پیر کا دربار ہے جہاں فوجی جوان اور افسر پیر صاحب کو سلام کرنے جاتے ہیں ۔ پیر صاحب کی کرامات کے قصے مشہور ہیں جس کی وجہ سے لوگ دور دراز علاقوں سے حاجت روائی کیلئے آتے ہیں ۔ بلوچی جوان کا تعلق ہمارے ساتھی جعفر کے علاقہ سے تھا۔ وہ رانگڑ راجپوت تھا اور نام رانا جبار تھا۔ رانا کی یونٹ اُس کی خاندانی یونٹ تھی ۔ اُس نے بتایا کہ اُس کا دادا ، باپ اور چچا اسی یونٹ سے یکے بعد دیگرصوبیدار بن کر ریٹائیر ہوئے ۔ اُسکا بڑا بھائی اُسی یونٹ میں نائب صوبیدار ہے اور رانا جبار یونٹ میں ہی بھرتی ہُوا تھا۔
ہیپی ویلی روڈ کا ہیپی سفر جلد ہی ختم ہو گیا اور ہم پانچوں سگنل ٹریننگ سینٹر کے گیٹ پر جا پہنچے ۔ رانا جبار کا شکریہ ادا کیا اور گیٹ پر کھڑے سنتری کو اپنی آمد کا بتایا ۔ سنتری صاحب جو ہماری طرح ریکروٹ ہی تھے ساتھ والے کمرے میں بٹھا کر ڈیوٹی کلرک کو فون کیا۔ ڈیوٹی کلرک صاحب وردی کی بجائے سر شام دھوتی بنیان میں ملبوس تشریف لائے ۔ بھرتی دفتر سے دیے گئے کاغذات وصول کیے اور سامنے والی بیرک میں جانے کا حکم صادر فرمایا ۔ اس بیرک میں لوہے کی چارپائیوں کا ڈمپ تھا ہمیں ایک ایک چارپائی اُٹھانے کا کہا گیا ۔ چارپائیاں اُٹھا چکے تو ہمیں دوسری بیرک میں لایاگیا جو بازار کا سماں پیش کرتی تھی ۔ ہم سے پہلے کوئی پندرہ جوان یہاں رہائش پذیر تھے ۔ کچھ تاش کھیل رہے تھے اور کچھ لڈو کھیلنے میں مگن تھے ۔ باقی اکٹھے بیٹھے گپ شپ کر رہے تھے جیسے گاوٗں کی پنچائت میں بیٹھے ہوں ۔ ہمیں دیکھ کر سب اُٹھ کھڑے ہوئے جیسے سالوں سے بچھڑے بھائی اچانک گھر آگئے ہوں ۔ بغل گیر ہوکر ملے ، حال احوال پوچھا، ہماری چارپائیاں لگائیں ، دوسری بیرک میں جا کر ہمارے لیے کٹ باکس اُٹھا لائے ۔ اُنھیں چارپائیوں کے نیچے رکھا۔
چھوٹے قد کا امین سب سے زیادہ متحرک تھا ۔ کہنے لگا تین، تین روپے دو میں کینٹین سے تمہارے لیے اچھے تالے لے آوٗں ۔ وہ تالوں کے ساتھ خاکی رنگ کے کاغذ بھی لے آیا ۔ کہنے لگا کہ اپنے بیگ اِس کٹ باکس میں رکھ کر تالہ لگا دو۔ صبح میں آپ کو بتاونگا کہ باکس میں کاغذ کیسے لگانا ہے ۔
ملاقات کے بعد چائے پلائی اور پھر علاقے اور گاوٗں کا پوچھا گیا۔ بتایا گیا کہ نفری کم ہے اسلیے ٹریننگ شروع نہیں ہو رہی ۔ چار پانچ بھائی آتے ہیں تو اتنے ہی خاموشی سے بھاگ جاتے ہیں ۔ ہماری آمد کے بعد تعداد بیس ہو گئی ۔ بیرک کے آتشدان کے پاس ایک بڑے سایئز کی کیتلی ، دو بالٹیاں اور ایک ٹوکری رکھی تھی ۔ بعد میں پتہ چلا کہ یہ بیرکس او ٹی ایس ‘‘آفیسر ٹریننگ سکول’’ کا حصہ تھیں ۔ ہمارے گائیڈ بلوچی سپاہی رانا جبار کی یونٹ بلوچی لائینز میں تھی ۔ قیام پاکستان کے بعد اور پاکستان ملٹری اکیڈیمی کاکول کے قیام سے پہلے ہمارے فوجی افسروں کی تربیت کچھ عرصہ تک چراٹ اور اوجڑی کیمپ راولپنڈی میں ہوتی رہی اور پھر آفیسر ٹریننگ سکول کوہاٹ میں قائم ہوا ۔
1986ء میں وائس چیف آف آرمی سٹاف جنرل کے ایم عارف چھمب کے دورے پر آئے تو پنجاب رجمنٹ کے ایک لیفٹیننٹ سے اُس کا کورس پوچھا ۔ زندہ دل افیسر نے کہا سر میں آپ سے صرف ایک کورس جونئیر ہوں ۔ جنرل کے ایم عارف نے قہقہہ لگایا اور افیسر کو گلے لگا لیا ۔ شہید جنرل محمد حسین اعوان سمیت سبھی لوگ ایک دوسرے کو دیکھ رہے رھے تھے کہ جنرل صاحب نے کہا ۔ بھائی میں او ٹی ایس کوہاٹ سے آخری کورس میں پاس آوٹ ہوا تھا اور نوجوان افیسر سالوں بعد منگلا او ٹی ایس کے پہلے کورس میں شامل ہُوا۔ اس میں شک نہیں کہ کورس کے لحاظ سے میں صرف ایک کورس سینئر ہوں ۔ فوج میں ایسے زندہ دل افسروں اور جوانوں کی کمی نہیں جو حاضر جواب اور ذھین ہونے کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ ٹینشن فری لائف اسی کا نام ہے ۔
او ٹی ایس بیرک میں آگ تو نہیں جلائی جاتی مگر آتش دان اب بھی قائم ہیں ۔ آتش دان کے قریب کوئلہ رکھنے والی جگہ پر بڑی کیتلی لنگر سے چائے اور بالٹیاں سالن کیلئے رکھی تھیں ۔ ٹوکرا روٹیوں کیلئے تھا ۔ بھاگ جانے والے جوانوں کے انیمل مگ اور پلیٹیں نئے مہمانوں کیلئے موجود تھیں تا کہ اُنھیں نئے برتن خریدنے کی بچت رہے۔
اس بیرک کا ماحول انتہائی دوستانہ تھا ۔ ہر کسی نے اپنا علاقائی لباس پہنا ہوتا، تہمند، لنگی، شلوار قمیض کے علاوہ کچھ لوگ بیل باٹم پینٹ اور شرٹ پہن کر پھرتے تھے ۔ بیرک میں نمازیوں کی تعداد زیادہ تھی۔ بیرک کے ایک حصے میں چٹائیاں بچھی تھیں اور جو لوگ با جماعت نماز پڑھتے تھے وہ ٹریننگ سینٹر کے باہر پیر بخاری کے دربار پر جاکر نماز ادا کرتے۔ کوہاٹ میں ایک زندہ پیر جو اب زندہ نہیں رہے کے علاوہ پیر بخاریوں کے بہت سے مزار ہیں ۔ ہمارے بیس کے اس گروپ میں چھ ایف اے اور دو بی اے پاس تھے۔ احسن خان دوبار آئی ایس ایس بی سے مسترد ہوا تو واپس گھر جانے کے بجائے سپاہی بھرتی ہو گیا ۔ دو جوان پہلے پولیس میں بھرتی ہوئے اور پھر وہاں سے ڈسچارج ہو کر فوج میں آگئے۔ بشیر( ایف ۔اے) پاس تھااور اپنے رشتہ دار کی بس کا کنڈیکٹر رہا تھا ۔ ساہیوال میں اُس کے والد کی دو مربع زمین تھی اور بس میں حصہ داری بھی تھی ۔ بس ساہیوال اور ملتان کے درمیان چلتی تھی اور کنڈیکٹری کا مقصد دیہاتوں سے آنیوالی زنانہ سواریوں سے دوستی اور گپ شپ تھی ۔ اکرم بھی ساہیوال کا ہی تھا اور کوئٹہ سے (ایف۔ ایس ۔ سی) کرنے کے بعد سمگلنگ کے پیشے سے منسلک ہو گیا ۔ وہ تفتان بارڈر سے ایرانی کپڑا کوئٹہ لاتا اور پھر اُس کی رینج ملتان تک بڑھ گئی ۔ وہ کئی بار ایران بھی جا چکا تھا اور روزانہ ہمیں اپنی کہانیاں سنا کر سمگلر بننے کی ترغیب دیتا ۔ اگرچہ اس کے خلاف کوئی ایف آئی آر تو درج نہ تھی مگر سمگلر ساتھیوں کی طرف سے جان کو خطرہ لاحق ہوا تو فوج میں آگیا۔ اکرم امیر ریکروٹ تھا اور روزانہ ہمیں کینٹین سے چائے کے ساتھ پیسٹریاں کھلاتا۔ اُس کی کہانی خطر ناک اور دلچسپ تھیں ۔ ایف سی بلوچستان کے علاوہ بلوچستان ، سندھ اور جنوبی پنجاب کے پولیس افسروں سے اُس کے رابطے تھے جنھیں وہ قیمتی تحفے اور خرچی دیتا تھا۔ اکرم واقعی سمگلر تھا ۔ وہ فوج میں سستانے آیا اور کچھ عرصہ بعد فوج چھوڑ کر واپس اپنے سابقہ کاروبار سے منسلک ہو گیا ۔
عرصہ بعد کوئٹہ میں اکرم سے ملاقات ہوئی تو وہ بالکل بدل چکا تھا ۔ اب وہ امیر اور با عزت شہری اور کاروباری شخصیت کے روپ میں تھا ۔ سندھ اور بلوچستان کے کئی اسمبلی ممبر اور سینیٹر اُس کے قریبی دوستوں میں شمار تھے۔
دوسرا بشیر سیالکوٹ کا تھا جبکہ ساہیوال سے تعلق رکھنے والے لیاقت اور طفیل بی۔ اے پاس تھے۔ لیاقت ایک بار آئی ایس ایس بی سے مسترد ہو چکا تھا اور اب عمر بڑھ چکی تھی ۔ فوج میں بھرتی ہونے سے اسے دو سال کی چھوٹ مل گئی۔ ٹریننگ کے دوران ہی اُس نے گریجویٹ کورس کیلئے درخواست دی اور اس بار پھر ناکام ہو گیا ۔ اکرم کی زبانی پتہ چلا کہ لیاقت آرمی ایجوکیشن کور میں صوبیدار ہے اور اُسکا بیٹا ائیر فورس میں پائلٹ ہے۔ سرگودھا سے تعلق رکھنے والا ممتاز حسین بھی صوبیدار بنا اور بعد میں سپیشل شارٹ سروس کورس میں کمیشن حاصل کر لیا۔ ممتاز کور آف سگنلز سے ہی میجر ریٹائیر ہوا۔ مرزا خان کا تعلق سرائے عالمگیر سے تھا ۔ اُس کا ماموں پیپلز سٹوڈنٹس آرگنائیزیشن کا سر گرم رکن اور پنجاب میں ہونے والی کئی خونی وارداتوں میں ملوث رہا ۔ اگرچہ اب حکومت پیپلز پارٹی کی تھی مگر وہ مفرور مگر مزیدار زندگی گزار رہا تھا۔ مرزا کے ماموں کا ایک دوست درہ آدم خیل کا بڑا کاروباری خان تھا ۔ گجرات کے چوہدری اُسکے مخالف تھے اور اُن کے بندے اُسکی تلاش میں رہتے تھے ۔ مرزا کے ماموں نے درہ آدم خیل میں اپنے ایک دوست کے ہاں پناہ لی اور اُس کی بہن سے شادی کے بعد خود بھی ایک اسلحہ ساز فیکٹری کا مالک بن گیا ۔
مرزا خان اکثر اپنے ماموں کے پاس درہ آدم خیل جاتا تھا۔ ماموں کی دو بیٹیاں جوان تھیں اور بقول مرزا خان کے دونوں ہی اس پر فاریفتہ تھیں۔ مرزا خان کی دلچسپ ، پُر خطر مگر رومانوی داستانیں سنکر میں نے اسے بتایا کہ اگر مجھے بھی مفرور ہونا پڑا تو تم مجھے بھی اپنے ماموں کی دامادی میں دے دینا۔ مرزا میرا کندھا پکڑ کر کہتا یا ر گل ہی کوئی نی۔ کسی دِن میرے ساتھ درے چل دیکھنا تیری مہمان نوازی کیسے ہوتی ہے۔ چونکہ میں ابھی مکمل مفرور نہیں ہوا تھا اسلیے درہ آدم خیل کا پروگرام ادھورا ہی رہا۔
گپ شپ کے اس گروپ میں چوھدری مختار گوندل بھی شامل تھا۔ گوندل بھی کسی طلباٗ تنظیم کا رکن رہا تھا اور تھانوں کچہریوں ، ڈیروں اور جلسے اُلٹنے کے علاوہ جلوس روک کر دما دم مست قلندر کرنیوالے خصوصی دستے کا تجربہ کار سپاہی تھا ۔ لمبے قد والا مختار آہستہ بولتا جیسے سرگوشی کر رہا ہو ۔ وہ انتہائی سست اور کچھ خوفزدہ رہتا ۔ مختار کا تعلق پھالیہ سے تھا ۔ اُس نے بتایا کہ پھالیہ ، منڈی بہاوالدین اور گردونواح میں گجرات کے چوھدریوں کے علاوہ مانک بسال گروپ کی مرضی کے بغیر پرندہ پر نہیں مار سکتا۔ ڈیرے اُن کے حکم پر چلتے ہیں ، مفروروں کو پناہ ملتی ہے، ڈیروں پر اسلحے کی بھرمار ہوتی ہے ، شاہی پکوان پکتے ہیں ، رسہ گیروں کو مختلف علاقوں میں مشن دے کر بھیجا جاتا ہے ، اُن کے خاندانوں کی کفالت سیاستدان کرتے ہیں ، کچہریوں میں مجسٹریٹ ، جج اور انتظامیہ اُن کی مرضی سے تعینات ہوتی ہے جنہیں ڈبل تنخواہ ملتی ہے ۔ ایک تنخواہ سرکار دیتی ہے اور دوسری ڈیروں سے آتی ہے۔ اس کے علاوہ ہر سرکاری افسر کو مرغیاں ، انڈے ، گوشت ، آٹا، چینی ، دودھ اور دیگر سامان رسد وافر مقدار میں مہیا کیا جاتا ہے۔ مختار کا تعلق مانک بسال کے مخالف گروپ سے تھا ۔ دشمنی کی وجہ سے وہ ایف ایس سی کا امتحان نہ دے سکا اور فوج میں آ گیا۔ وہ کچھ عرصہ فوج میں رہنے کے بعد پولیس انسپیکٹر بننے کا ارادہ رکھتا تھا۔ مختار کی کہانی پنجاب کا خوفناک سیاسی منظر پیش کرتی تھی اور میرے لیے باعث کشش نہ تھی۔ مفرور ہونے کی صورت میں مجھے درہ آدم خیل میں پناہ لینا پنجاب کے ڈیرے سے زیادہ بہتر لگا۔

Exit mobile version