سگنل ٹریننگ سینٹر میں دو ہفتے مختلف علاقوں سے آئے نوجوانوں کے سیاسی ، سماجی اور ثقافتی خیالات اور روایات کی داستانیں سننے میں گزر گئے۔ جتنے ریکروٹ بھرتی ہو کر آئے تھے اُن میں کوئی حب الوطنی کا جوش و ولولہ یا جذبہ جہاد کا عنصر نہ تھا ۔ سب مجبوریوں کے مارے یا معاشرے کے ستائے ہوئے غرض مند تھے ۔ ریکروٹ کی تنخواہ 73روپے اور ٹریننگ کے اختتام پر تین سو روپے تھی ۔ اکرم سینٗر اپنے آپ کو ریاستی جبر کا نشانہ بتاتا تھا ۔ جب وہ سمگلر تھا تو اُس کی بڑی عزت تھی مگر ریاستی اداروں یعنی پولیس اور( ایف۔سی )کو اُس کا متبادل مل گیا تو اکرم کی جان خطرے میں پڑ گئی ۔ مجبوراً اُسے سستانے اور جرائم پیشہ عناصر سے دور رہنے کیلئے وردی کا سہارا لینا پڑا ۔ مختار گوندل، بشیر، مرزا خان سمیت دس بارہ دیگر جن میں میرا بھی شمار تھا سیاسی اور سماجی جبر کا نشانہ تھے۔ کچھ دِنوں بعد جہلم سے خاور ، اکرم جونئیر ، گوجرخان سے مبارک بھٹی اور چکوال کے قصبہ بھین پادشاہاں جو جنرل عبدالقیوم اعوان کا بھی گاوٗں ہے سے نواز نامی پختہ عمر کا لڑکا بلکہ مرد ہمارے قبیلے میں شامل ہوا ۔ اُن چاروں کے پختہ پن ، گہری سوچ اور مختلف رویوں سے یوں لگتا تھا جیسے اکہتر کی جنگ لڑ کر آئے ہوں ۔ اکرم کا گاوٗں سرائے عالمگیر اور کھاریاں کے درمیان تھا جہاں سڑک نہیں جاتی تھی ۔ زیادہ تر لوگ فوج میں تھے یا پھر کراچی میں محنت مزدوری کرتے تھے ۔ کچھ لوگ سیاسی جماعتوں سے بھی وابستہ تھے اور جرائم پیشہ تھے۔ یہی لوگ علاقہ کی سیاست پر قابض اور آسودہ حال تھے۔
اکرم چب راجپوت تھا اور اُسکا والد ریٹائیرڈ فوجی تھا۔ اکرم بھی سیاسی ورکر رہ چکا تھا مگر اُس نے کبھی اپنے متعلق کچھ نہ بتایا ۔ خاور کا تعلق جہلم شہر سے تھا۔وہ پینٹ شرٹ پہنتا اور مکمل شہری تھا۔ اُسکا بہنوئی سینٹر میں ہی نائب صوبیدار تھا۔خاور اور اکرم ہم خیال تھے اور آپس میں ہی گپ شپ لگاتے تھے۔ اسی طرح مبارک اور نواز کی جوڑی تھی۔ مبارک کا بڑابھائی جنگی قیدی تھا اور تعلق ملٹری پولیس سے تھا۔مبارک کبھی کبھی اپنے بھائی کا ذکر کرتا کہ وہ کس طرح قید ہوا۔ اور پھر رہائی تک بھارت کے قیدی کیمپوں میں کیسے دِن گزارے ۔ مبارک اور نواز کی جوڑی بھی ایک معمہ تھی۔ یوں لگتا تھا کہ وہ پہلے بھی کبھی کسی ادارے میں اکھٹے رہ چکے ہیں ۔
اِن چاروں کی آمد کا فائدہ ہُوا اور ہماری ٹریننگ شروع ہو گئی ۔ پی۔ٹی ، ڈرل اور ہتھیاروں کی سکھلائی جو صرف رائفل تک ہی محدود تھی زیادہ وقت کلاس روم میں ہی گزرتا ۔ ہم سب وائیرلیس آپریٹر تھے اِس لیے ٹریڈ ٹریننگ پر زور تھا ۔ ٹریننگ شروع ہوتے ہی مجھے بھائی جان کی طرف سے رجسٹری موصول ہوئی جس میں میری میٹرک کی مارک شیٹ کے علاوہ خط میں لکھا تھا کہ گاوٗں والی جنگ سیز فائیر میں بدل گئی ہے۔ تھانے میں رپورٹ تو درج ہو گئی تھی مگر اصل مدعا علیہان نے تھانے جانے سے انکار کر دیا ۔ اُنہوں نے کہا کہ یہ سب پٹواری اور کھڑ پینچوں کی بد معاشی کا نتیجہ تھا۔ جن لوگوں سے جھگڑا ہُوا اُنھیں تو درخواست میں شامل ہی نہیں کیا گیا لہذا ہم راجپوتوں کی آپسی دشمنیوں کا حصہ نہیں بننا چاہتے ۔ ہمارے صدیوں پرانے اور اچھے تعلقات ہیں ۔ ہم ایک ہی جگہ کہ رہنے والے ہیں اِس لیے تھانوں اور کچہریوں میں جا کر اپنا دین و ایمان فروخت نہیں کر سکتے ۔ اِسی طرح پٹواری نے بھی اِس مقدمے سے دستبرداری اختیار کر لی ہے۔ محمد جی اور محمد حسن سے پولیس نے تفتیش کی تو وہ کوئی تسلی بخش جواب نہ دے سکے اور نہ ہی گواہوں میں سے کوئی تھانے گیا۔ گواہان جھوٹے تھے اور اُن کا تعلق دور دراز علاقوں سے تھا۔
بھائی جان نے لکھا کہ اب تمہارے خلاف کوئی مقدمہ نہیں ہے۔ ہو سکے تو واپس آ جاوٗ۔ اب واپسی تو ممکن نہ تھی اور فوج میں بھرتی کے بعد بھاگنا جرم تھا۔ جو لوگ فوج سے بھاگتے ہیں وہ پولیس کے رحم و کرم پر ہوتے ہیں ۔ پولیس اُن سے پیسہ لیکر پکڑتی تو نہیں مگر کچھ دِنوں بعد لگاتار پیسہ وصول کرتی ہے۔ دوسری صورت میں پکڑ کر فوج کے حوالے کرتی ہے جہاں بھگوڑے فوجی کا کورٹ مارشل ہوتا ہے ۔ میں نے ڈسچارج ہونے کا پتہ کیا تو بتایا گیا کہ ٹریننگ کے بعد یونٹ میں جا کر ڈسچارج کی درخواست دی جا سکتی ہے جسکا فیصلہ تین چار مہینوں سے پہلے ممکن نہیں ہوتا۔ تین سال بعد ویسے ہی ڈسچارج ہونا تھا اسلیے صبر سے کام لینا ہی دانشمندی تھی۔
ٹریننگ شروع ہوئی تو پتہ چلا کہ دوسری بیرکوں میں بھی سینکڑوں لوگ موجود ہیں جن میں قسم قسم کے ٹریڈوں اور شعبوں کے جوان تربیت حاصل کر رہے ہیں ۔ صبح کی پی۔ٹی ، ڈرل اور شام کی کھیلوں کے دوران سب لوگ اگھٹے ہوتے تو ایک جم غفیر نظر آتا۔
سینٹر میں ایک بہت بڑی لائیبریری تھی جس میں ہزاروں کتابیں رکھی تھیں ۔ ٹریننگ کی مصروفیت اور لائیبریری کی وجہ سے میں چھٹی کے دن دیگر دوستوں کے ساتھ کبھی درہ آدم خیل یا کوہاٹ کے زندہ پیر کے دربار پر حاضری کیلئے نہ گیا ۔ مرزا خان نے مجھے کئی بار درہ آدم خیل کی دعوت دی مگر میں نے دنبہ کڑاہی پر لائیبریری کو فوقیت دی۔
چھٹی کے دِن گیارہ بجے سے بارہ بجے تک بلیک ایڈ وائٹ ٹیلی وژن پر کمال کو شو ہوتا۔ فلم ایکٹر کمال جن کا تعلق کوہاٹ کے گاوٗں جنگل خیل سے بتایا جاتا تھا اس شو کے میزبان تھے۔ سید کمال کے شو میں وقت کی علمی، ادبی اور فلمی شخصیات مہمان ہوتیں اور موسیقی کا بھی اہتمام ہوتا۔ ٹریننگ شروع ہوئی اور ختم ہو گئی ۔ پتہ ہی نہ چلا کہ چھ ماہ کیسے گزر گئے ۔ ابتداٗ میں ٹریننگ کا دورانیہ نو ماہ بتایا گیا تھا مگر سات ماہ کے آخر پر ٹریننگ کا اختتام ہو گیا ۔ اس دورانیے میں وہ دِن بھی شامل تھے جو ہم نے نفری پوری ہونے کے انتظار میں گزارے تھے۔ مقدمے سے فراغت کا سنکر میں نے مرزا خان کے ماموں کے ہاں پناہ لینے یا مختار گوندل کے بتائے پھالیہ کے کسی ڈیرے پر جانے کا ارادہ ترک کر دیا۔ البتہ مختار گوندل اور مرزا خان کی کہانیاں سنتا رہا۔ جن میں پنجاب کا سیاسی اور سماجی رنگ نمایاں تھا۔ اکرم سینئر کا پیشہ بھی دلچسپ مگر زیادہ خطرناک تھا۔ اکرم بتاتا تھا کہ اُس کے کئی سینئر دوستوں نے عالمی مارکیٹ تک رسائی حاصل کی اور اب وہ یورپ میں بڑے کاروبار چلاتے ہیں جبکہ بہت سے مارے بھی گئے اور کچھ ایران اور ترکی کی جیلوں میں قید ہیں ۔ کوئٹہ پوسٹنگ کے بعد پتہ چلا کہ اکرم کی باتوں میں کچھ سچائی بھی تھی ۔ بیس سال سے زیادہ عرصہ بعد اچانک اکرم سے ملاقات ہوئی تو اُس کی کہانیاں سچ لگیں ۔
ہماری سیاست میں ہر طرف اکرموں کا ہی راج ہے۔ پیشہ سب کا ایک ہی ہے مگر طریقہ کار اور وارداتیں الگ الگ ہیں ۔ اکرم اور بشیر کہتے تھے کہ ملک دو ہی ادارے چلا رہے ہیں ایک پولیس اور دوسرا پٹوار۔ بشیر زمیندار تھا اور شوقیہ ٹرانسپورٹر بھی تھا اسلیے پٹوار اور پولیس سے معاملات درست رکھنے کا ہنر جانتا تھا جو اسے اپنے والد سے ورثے میں ملا تھا۔ مختار گوندل کا بھی یہی خیال تھا مگر اُس کی لائن سیاست سے جڑی ہوئی تھی ۔ سرگودھا کے ایک ریاض شاہ بھی تھے جو کسی آستانے سے تعلق رکھتے تھے ۔ ریاض شاہ شیعہ مسلک سے تعلق رکھتے تھے ۔ میں نے شاہ صاحب کی وساطت سے کوہاٹ کے سبھی مزاروں پر حاضری دی اور لنگر کھائے ۔ مزے کی بات یہ تھی کہ ہم جس بھی مزار پر جاتے وہاں کے متولی اور مجاور ہندکو بولتے تھے۔ شاہ صاحب سرگودھا میں اپنے بزرگوں کا ذکر کرتے تو اُن کا احترام کیا جاتا ۔ ریاض شاہ صاحب کے بزرگ شاہ جیونہ آف جھنگ کے مریدوں میں سے تھے جنھیں شاہ جیونہ کی طرف سے خلافت ملی تھی۔
سنا تھا کہ فوج میں رہتے ہوئے بھی وہ پیری مریدی کے سلسلے سے منسلک رہے ۔ صوبیدار بن کر ریٹائیر ہوئے اور سرگودھا کے نواحی علاقہ میں گدی نشین ہوئے ۔ اکرم جونئیر سے بھی کوئٹہ میں ہی ملاقات ہوئی ۔ اُن دِنوں وہ حوالدار تھا اور ریٹائرمنٹ قریب تھی ۔ اُن دِنوں میرا ماموں ذاد بھائی کیپٹن راجہ جاوید اقبال شہید ڈیو لوکیٹنگ بیٹری میں تعینات تھا۔ میری پوسٹنگ تو خضدار میں تھی مگر جب بھی کوئٹہ آتا جاوید سے ملنے پرانے ٹیلیوژن اسٹیشن کی جگہ نئے تعمیر ہوئے آفیسر میس جاتا۔ خضدار ہٹ چلتن مارکیٹ کے قریب تھا اور آفیسر میس سے زیادہ دور نہ تھا ۔ میں اکثر پیدل میس تک جاتا اور پھر ہم کوئٹہ کلب یا پھر جاوید کے پسندیدہ سرینہ ہوٹل جا کر کھانا کھاتے ۔ کھانے کے بعد خضدار ہٹ آکر چائے پیتے اور وہ واپس میس چلا جاتا۔
میری رہائش اور میس کے درمیان ایک بخاری بابا کا مزار تھا ۔ مزار برلب سڑک تھا اور دونوں جانب سگنلز اور توپخانے کی یونٹیں تھیں ۔ 1973ء میں میری پہلی پوسٹنگ کوئٹہ ہوئی تو میری میری یونٹ (سگنل کمپنی) اسی جگہ پر تھی ۔ دربار کے ساتھ ایک بیرک میں فیڈرل سیکورٹی فورس جسے تب بھٹو فورس کہا جاتا تھا کی ایک کمپنی رہائش پذیر تھی ۔ اسی کمپنی کی گارڈ ٹیلیویژن اسٹیشن پر تعینات ہوتی جن کا کمانڈر ایک انسپیکٹر تھا ۔ بیرک کا آخری کمرہ مسجد میں تبدیل کیا گیا تھا جہاں ایف ایس ایف کا خوبصورت اور انتہائی سمارٹ انسپیکٹر امامت کے فرائض بھی سر انجام دیتا ۔ انسپیکٹر کی عمر بیس بائیس سال تھی اور قراٗت سے لگتا تھا کہ کسی دینی ادارے سے بھی منسلک رہا ہے ۔ 1973ء میں ہماری کمپنی دو ماہ تک یہاں رہی اور پھر ہم لوگ سبی چلے گئے ۔ اُن دِنوں بلوچستان میں اِنسرجنسی (بغاوت، بد امنی اور دھشت گردی) کا دور چل رہا تھا ۔ کوئٹہ چھاونی تقریباً خالی تھی ۔ فوجی یونٹس سارے بلوچستان میں پھیلی ہوتی تھیں اور جگہ جگہ جھڑپیں اور آپریشن ہو رہے تھے۔ اُس روز میں حسب عادت بخاری بابا کے مزار پر کھڑا دعا کر رہا تھا کہ میرے قریب دوسرا آدمی بھی دعا میں مصروف ہو گیا ۔ ہم دونوں دعا سے فارغ ہوئے تو اُس نے نے مجھ سے ہاتھ ملاتے ہوئے نام پوچھا ۔ نام بتانے پر اُس نے کہا کہ میں راجہ اکرم ہوں ۔ میرا تعلق کھاریاں سے ہے ۔ شاید ہم دونوں سگنل ٹریننگ سنٹر کوہاٹ میں اکھٹے تھے ۔ آپ نے مجھے نہیں پہچانا ۔ ہم چوبیس سال بعد ملے ہیں ۔ اب میں ریٹائیر ہو کر واپس گھر جا رہا ہوں ۔ میرے دو بیٹے اے ایس سی (سپلائی اینڈ ٹرانسپورٹ) کے محکمہ میں کلرک بھرتی ہوئے ہیں ۔ میں واقع ہی اکرم کو نہ پہچان سکا ۔ وہ کچھ بوڑھا ہو چکا تھا حالانکہ وہ میرا ہم عمر تھا ۔ اُس کے پوچھنے پر میں نے بتایا کہ میری یونٹ خضدار میں ہے اور یہاں خضدار ہٹ میں رہتا ہوں ۔ یہ سنکر اکرم کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور خوشی سے ایک بار پھر بغلگیر ہو ا۔ کہنے لگا اگر دیر نہیں ہو رہی تو میرے ساتھ قریبی کینٹین پر چائے پی کر جاوٗ۔ چائے سے فارغ ہو کر وہ میرے ساتھ اسٹیشن میس تک آیا۔ میں نے اور جاوید نے اسے کھانے کی دعوت دی تو اُس نے معذرت کرلی ۔ اکرم سے ملاقات میری یادوں کا حسین لمحہ تھا۔
ٹریننگ سینٹر میں عارضی بھرتی ہونے والے اِس گروپ میں سارے پاکستان کی نمائیندگی تھی۔ کراچی سے طیب اور جلیل بھی بھرتی ہوکر آئے مگر سندھی یا بلوچی نہ تھے۔ دونوں سابق فوجیوں کے بیٹے اور سندھ میں پنجابی آباد کار تھے۔ 1947ء میں اُن کے خاندان مشرقی پنجاب سے ہجرت کرکے آئے تو اُنھیں سانگھڑ میں کچھ زمین ملی تھی جو آہستہ آہستہ مقامی وڈیروں نے چھین لی۔ طیب اور جلیل کے والد فوج میں بھرتی ہوئے اور ریٹائیر ہو کر کراچی میں آباد ہوئے۔
چھ ماہ کی اس تربیت کا زیادہ دورانیہ کلاس روم تک ہی محدود رہا جسے ٹریڈ ٹریننگ کہا جاتا ہے ۔ بنیادی فوجی تربیت مثلاً پی۔ٹی ، ڈرل ، فیلڈ کرافٹ اور فائیرنگ کے بغیر تو فوجی بنتا ہی نہیں ۔ فوج میں بہت سے سویلین بھی بھرتی ہوتے ہیں جو دردی نہیں پہنتے اسی لیے وہ سپاہی نہیں کہلاتے ۔ میرے نزدیک سپاہی ایک شاندار لفظ ہے ۔ دانشوروں کا خیال ہے کہ جو شخص اچھا سپاہی نہ ہو وہ اچھا انسان نہیں ہو سکتا۔ سپاہی ہی اچھا شہری، اچھا سیاست دان ، اچھا جج ، اچھا جرنیل ، اچھا حکمران اور اچھا انسان ہوتا ہے۔ امریکی جنرل میکارتھر کی کتاب ‘‘سپاہی کبھی مرتا نہیں ’’ میری پسندیدہ کتابوں میں شامل ہے۔ ڈسپلن ایک مکمل علم کا نام ہے جسپر کبھی لکھا ہی نہیں گیا۔ سورۃ توبہ میں فرمایا کہ قرآن ایک مکمل کتاب ہے جسے حکمتوں والے رَبّ نے نازل کیا۔ اس میں جھوٹ کبھی شامل نہیں ہو سکتا ۔ اسی سچے اور مکمل علم والی روشن کتاب میں لکھا ہے کہ اے لوگو جب میں نے تمہیں آدم کی پیٹھ سے نکالا تو کیا تم سے نہیں پوچھا تھا کہ تمہارا رَبّ کون ہے ۔ تم سب نے کہا ‘‘قالو بلٰی’’ تو ہی ہمارا رَبّ ہے ۔ ڈسپلن یعنی نظم و ضبط کی اصل بنیاد تسلیم و رضا ہے جسکی بنیاد عقیدہ ہے۔ عقیدہ کی بنیاد اطاعت اللہ اور اطاعت رسولؐ ہے۔ بد عقیدہ شخص پر علم کا اثر نہیں ہوتا اور نہ ہی اُس کے عہدے یا رتبے سے مخلوق فائدہ حاصل کر سکتی ہے۔
اللہ کا کائیناتی نظام ایک ڈسپلن یعنی نظم و ضبط کے تحت چل رہا ہے ۔ یہ نظم و ضبط اللہ کا حکم ہے جسے عدل سے تشبیہ دی گئی ہے۔ اللہ کا حکم ساری مخلوق ارضی و سماری پر لاگوں ہے۔ سپاہی حکم بردار ہوتا ہے اگر ایسا نہ ہو تو وہ ملک کا محافظ نہیں ہو سکتا ۔ برطانیہ کی ملکہ وکٹوریہ سپاہی کی بیٹی تھی۔ مرتے وقت اُس کے باپ نے کہا تھا کہ تم ایک سپاہی کی اولاد ہو ۔ سپاہی کبھی کسی کے سامنے جھکتا نہیں ۔ وکٹوریہ نے یہ بات پلے باندھ لی اور ساری زندگی اسی اصول کی پاسداری کرتی رہی۔ وکٹوریہ میں بھی رانا جبار کی طرح وردی کا ڈی ۔ این۔اے تھا جو نسل در نسل منتقل ہوتا ہے جسکا دوسرا نام عصبیت یا خودی ہے۔
صدیاں پہلے راجہ معظم خان نے وردی پہنی جسکا ڈی این اے تانو خان، غلام محمد خان، بہادر علی خان، حفیظ خان ، ثنا اللہ خان ، بنارس خان ، کرمداد خان ، عبداللہ خان ، اشرف خان، یٰسین خان، کیپٹن جاوید اقبال شہید اور راقم تک قائم رہا۔ میرے تینوں بیٹے وردی کے ڈی این اے کی قوت سے فوج میں گئے مگر حادثات نے انہیں سفر جاری رکھنے نہ دیا۔
ٹریننگ کے چھ ماہ چھ دِنوں کی طرح گزر گئے ۔ چھٹی کے دن سارے دوست آوٹ پاس چلے جاتے ۔ کچھ زندہ پیر جاتے اور باقی درہ آدم خیل جا کر چپل کباب اور دنبہ کڑاہی کھاتے۔ اِن چھ ماہ کے دوران میں کبھی بھی درہ آدم خیل یا پشاور نہ گیا۔ مرزا خان ہر بار درے چلنے کی دعوت دیتا مگر میں لائیبریری جا کر ٹیلیویژن پر کمال کا شو دیکھنے کو ترجیح دیتا ۔ میرے علاوہ مبارک اور نواز بھی کمال کا شو دیکھتے اور چلے جاتے۔ زیر تربیت ریکروٹوں کو دن ایک بجے تک لائیبریری میں بیٹھنے کی اجازت تھی چونکہ چھٹی کے دن ایک سے دو بجے تک لنگر سے کھانا ملتا تھا۔ ریکروٹوں کو لائیبریری سے کتاب بیرک میں لے جانے کی اجازت نہ تھی ۔ آپ کتاب پڑھ کر واپس رکھ دیتے اور پھر اگلی بارباقی حصہ پڑھ سکتے تھے۔ میں نے کبھی کسی ریکروٹ کو کتاب پڑھتے نہ دیکھا ۔ کبھی کبھی افسروں کے اردلی کتابیں واپس کرنے آتے اور نئی کتابیں لے جاتے ۔ لایئبریرین سویلین تھا اور مری کا رہنے والا تھا ۔ اُس نے بتایا کہ زیادہ تر کتابیں افسروں کی بیگمات پڑھتی ہیں ۔
میں نے اس لائیبریری میں بیٹھ کر تاریخ خلافت عثمانیہ، انقلاب روس اور انقلاب فرانس پر لکھی اردو ترجمہ شدہ کتابیں پڑھیں ۔ تزکِ بابری اور تزکِ تیموری میری پسندیدہ کتابیں تھیں ۔ ٹریننگ کے اختتام پر ہمیں ایک جگہ جمع ہونے کا حکم ملا ۔ سینٹر کے ہیڈ کلرک جو صوبیدار میجر تھے نے ایک مختصر تقریر کرتے ہوئے کہا کہ اب آپ لوگ ملک کے سپاہی ہیں اور آپ پر بہت سی ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں ۔ ایک سنتری کے بھروسے پر ساری پلٹن رات کے وقت سکون سے سوتی ہے اور بارڈر پر کھڑے ایک سپاہی کے بھروسے پر ساری قوم امن و چین کی زندگی بسر کرتی ہے ۔ آپ کا بنیادی کام پیغام رسانی ہے ۔ درست اور بروقت پیغام بالا کمانڈر کے منصوبے کی کامیابی کی ضمانت ہے۔ بعض پیغام انتہائی اہم اور خفیہ نوعیت کے ہوتے ہیں اور دُشمن کا مواصلاتی نظام ایسے پیغامات چوری کرنے کے درپے رہتا ہے۔ تقریر کے بعد انہوں نے سب کا نام لیکر پوسٹنگ آرڈر پڑھے ۔ گلگت سے کراچی اور کوئٹہ تک سب کو پھیلا دیا گیا۔ گلگت اور کوئٹہ جانے والوں کو حکم ملا کہ آپ اپنی گرم وردی سینٹر سے ساتھ لے جائینگے ۔ ہو سکتا ہے کہ آپ کو اپنی ڈیوٹی کی جگہ پہنچنے میں کئی دِن لگ جائیں ۔ گلگت جانے والوں کو راولپنڈی ٹرانزٹ کیمپ جانے کا حکم ملا اور بتایا گیا کہ ٹرانزٹ کیمپ سے ہوائی جہاز کی سیٹیں میسر ہونے پر آپ کو گلگت بھجوایا جائے گا ۔ ہوائی سفر کا سن کر یہ لوگ خوش ہوئے چونکہ راولپنڈی جا کر اُنھیں صرف گھومنا پھرنا یا چھٹی لیکر گھروں کی سیر کرنا تھی۔
خوش قسمتی یا پھر بد قسمتی کوئٹہ جانیوالا میں اکیلا ہی مسافر تھا۔ گرم وردی وصول کرنے گیا تو سٹور مین جو کوئٹہ رہ چکا تھا نے کوئٹہ کے موسم اور بلوچ انسرجنسی کے متعلق بڑی تفصیل سے بتایا ۔ کہنے لگا آجکل بلوچستان میں تعینات فوج تین محاذوں پر لڑ رہی ہے ۔ انسرجنٹ یا دھشت گرد مقامی لوگ ہیں اور اُن کے پاس زیادہ تر روایتی ہتھیار ہیں ۔ نشانہ درست لیتے ہیں اور چھوٹے چھوٹے گروپوں کی صورت میں حملہ آور ہو کر شدید نقصان پہنچاتے ہیں ۔ جب تک مستند اطلاع نہ ہو دوست و دشمن میں فرق کرنا انتہائی مشکل ہے ۔ یہ لوگ صدیوں سے جھگیوں اور غاروں میں رہتے ہیں یا پھر کچے اور عارضی مکان تعمیر کرتے ہیں ۔ گلہ بانی اور نقل مکانی کرتے ہیں ۔ اپنی علاقائی زبانوں بلوچی اور براہوی کے سوا کوئی زبان نہیں بولتے ۔ اپنے سرداروں کے علاوہ کسی کا حکم نہیں مانتے اور ملکی فوج کو نگریزوں کی فوج سمجھ کر حملہ کرتے ہیں ۔ سنا ہے کہ اُنھیں افغانستان، سوویت یونین ، بھارت اور کچھ مغرنی ممالک سے بھی محدود مدد ملتی ہے۔ میں ہر روز بی بی سی اردو سروس سنتا ہوں ۔ بی بی سی ریڈیو بلوچ انسرجنٹوں کے حق میں بھر پور پراپیگنڈہ کرتا ہے۔
دھشت گردوں کے علاوہ موسم بھی دشمن ہے ۔ سردیوں میں نمونیہ اور گرمیوں میں ہیٹ سٹروک عام ہے ۔ اسی طرح شدید لڑائی کے علاقوں جن میں خضدار ، سبی ، مری اور بھگٹی کے علاقوں میں سینڈ فلائی کے متاثرین کی خاصی تعداد پائی جاتی ہے۔ یہ کوئی ان دیکھا کیڑا یا مکھی ہے جس کے ڈسنے سے متاثرہ حصہ گل سڑ جاتا ہے اور پھر جسم میں سوراخ ہو جاتا ہے ۔ مقامی لوگوں پر اسکا کوئی اثر نہیں ہوتا۔ سنا ہے کہ اب ایسے انجیکشن آ گئے ہیں جو مریض کے زخم کے اندر لگائے جاتے ہیں جو انتہائی تکلیف دہ علاج ہے۔ سٹور مین کی بریفنگ سنکر میں خوفزدہ ہو گیا کہ نہ جانے سب سے پہلے کس دُشمن کا سامنا کرنا ہو گا ۔
وردی وصول کرنے کے بعد اپنی باری پر کمپنی کلرک کے ہاں حاضری دی تو موومنٹ آرڈر کے ساتھ مجھے ریلوے کا فری ووچر اور ریلوے حکام کیلئے ایک مختصر خط دیا گیا ۔ سٹور مین کی طرح کلرک صاحب نے بھی بتایا کہ فری ووچر دکھانے کے بعد تمہیں راولپنڈی سے کوئیٹہ تک پسنجر ٹرین کا فری ٹکٹ ملے گا۔ راولپنڈی سے براستہ میانوالی ایک روز کی مسافت کے بعد تم ملتان پہنچ جاوٗ گے۔ وہاں سے روہڑی پسنجر پر بیٹھ کر روہڑی تک پھر سبی پسنجر پر سبی کا مزیدار سفر کرنا ہو گا۔ سبی پسنجر آگے کوئیٹہ بھی جاتی ہے مگر کسی وجہ سے کوئیٹہ نہ جا سکے تو ریلوے کے نام اس لیٹر پر تم کسی بھی ٹرین میں بیٹھ سکتے ہو ۔ انسرجنسی کی وجہ سے بلوچستان کے علاقوں میں ریلوے کا سفر فری ہے ۔
سٹور مین کی طرح کمپنی کلرک نے بتایا کہ انسرجنٹ کبھی کبھی ٹرینوں پر فائیر کرتے ہیں مگر کبھی کوئی بڑا نقصان نہیں ہوتا ۔ ریل گاڑیوں میں بھی سیکیورٹی کا انتظام ہے۔ گاڑی کی پہلی اور آخری بوگی میں ایف سی کی خاصی نفری تعینات ہوتی ہے ۔ اِن بوگیوں میں سینڈ بیگ لگا کر مشین گنیں لگا دی گئی ہیں ۔ پتہ نہیں کہ یہ سب کچھ ٹریننگ کے دوران کیوں نہ بتایا گیا ۔ چھٹی کہ روز میں لائیبریری میں اخبار بھی پڑھتا تھا مگر اخباروں پر بھٹو صاحب چھائے ہوئے تھے ۔ بھٹو کی تقریریں اور کارنامے اخباروں کی زینت تھے۔ سوائے کمال کے شو کے کبھی خبریں نہ سنیں اور نہ ہی بلوچستان سے کوئی ریکروٹ بھرتی ہو کر آیا تھا ۔ چھ ماہ تک ہم مانک بسال، چوھدری طہور الہی، مصطفٰے کھر، بھٹو اور ممتاز بھٹو کے ہی قصے کہانیاں سنتے رہے۔ اس کے علاوہ 71ء کی جنگ اور قیدیوں کے متعلق کچھ ادھوری معلدیات تھیں ۔ میں نے اکرم سے رابطہ کیا تو کہنے لگا بھیا یہ سچ ہے ۔ پوری جنگ ہے بھائی خوفناک جنگ۔ پنجابیوں کے خلاف نفرت ہے جو وہاں کے وڈیروں، سرداروں اور نوابوں نے پھیلائی ہے۔ اصل لڑائی بھٹو اور بلوچی سرداروں کے درمیان ہے جو عوام کو بیوقوف بنا رہے ہیں ۔ بھائی ہماری بلوچستان سے نکلنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے ۔ کیا پتہ کوئی دوست ہی دھشت گرد بن کر ٹھکانے لگا دے۔ میں نے اکرم سے پوچھا کہ تم دُنیا جہان کی کہانیاں سناتے رہے ہو کبھی اسپر بھی بات کرتے۔ کہنے لگا مجھے کیا پتہ تھا کہ تم نے ہی بلوچستان جانا ہے ۔ ویسے بھی ریکروٹوں کو انسرجنسی کا کیا پتہ۔ 71ء کی جنگ کی ہی کہانیاں بہت ہیں ۔ اکرم سے آخری بریفنگ لے کر میں کوہاٹ سے کوئیٹہ کے سفر پر چل نکلا۔ راولپنڈی ریلوئے اسٹیشن کے مال خانے میں اپنا کٹ بیگ جمع کروا کر رسید لی اور ایک ہفتے کی چھٹی پر گھر چلا گیا۔ ریلوے کا مال خانہ یا امانت خانہ دو روپے فی نگ یومیہ کے حساب سے کرایہ لیتا تھا ۔ میں نے ریلوے کلرک کو چودہ روپے اور کٹ بیگ میں رکھی اشیاء کی فہرست لکھ کر دی۔ اُس نے ان ہی اشیاء کی فہرست رسید کی پشت پر لکھ کر مجھے واپس کی اور ساری چیزیں گننے کے بعد کٹ بیگ ایک شیلف میں رکھ دیا ۔
میری چھٹی تو دس دِن کی تھی مگر چھٹے روز شام کے بعد مجھے راولپنڈی سے سفر کرنا تھا جو چار روزہ بھی ہو سکتا تھا۔ (جاری ہے)
یہ اُن دِنوں کی بات ہے- 32
پرانی پوسٹ