سکھر اور روہڑی کے درمیان پل کے قریب گاڑی مسلسل ہارن بجا رہی تھی جیسے روہڑی پلیٹ فارم پر داخلے کی اجازت نہ ملنے پر احتجاج کر رہی ہو۔ باہر دیکھا تو ہر طرف دھند ہی دھند تھی۔ مسافر سردی کے مارے اپنی چادروں اور کمبلوں میں دبکے بیٹھے اور لیٹے تھے۔ دروازہ کھول کر باہر دیکھنے کی کسی میں ہمت نہ تھی ۔ آخر احتجاج ختم ہُوا اور گاڑی جھٹکے سے چل پڑی ۔ تھوڑی ہی دیر بعد ہم روہڑی اسٹیشن پر تھے۔ باہر سخت سردی اور تُند ہَوا چل رہی تھی ۔ پہلی صبح کی آذان میانوالی کے قریب سُنی تھی اور اَب دوسری صبح سکھر میں تھی۔ اسٹیشن پر کافی گہما گہمی تھی مگر بھیڑ نہ تھی ۔ سست رفتار روہڑی پسنجر سے کافی مسافر اُترے اور باہر نکلنے لگے۔ مسافروں کے علاوہ کوئی دو سو کے قریب ایف۔سی کے جوان اپنے بھاری سامان کے ساتھ اسٹیشن میں داخل ہوئے تو پلیٹ فارم چھاونی کی شکل اختیار کر گیا۔ سارے جوان مسلح تھے اور پشتو میں اونچی اونچی باتیں کر رہے تھے۔ وہ پلیٹ فارم کے ایک کونے میں جمع ہوئے ، اپنا سامان ترتیب سے رکھا تو اُن کے کسی عہدیدار نے سیٹی بجا کر سب کو فال اِن کیا۔ اِن صاحب نے پشتو میں کچھ بیان کیا ۔ اتنی دیر میں اُنکا کمانڈر آیا تو عہدیدار نے اسے پریڈ سٹیٹ پیش کی۔ کمانڈر نے جوانوں کو آسان اور آرام باش کا حکم دیکر کچھ بات چیت کی اور باہر چلا گیا جہاں اُس کی جیپ کھڑی تھی۔
فرنٹیر کانسٹیبلری کے جوانوں کو دیکھنے کے بعد میں ٹکٹ کلرک کی کھڑکی کے سامنے گیا اور سبی پسنجر کی روانگی کا پوچھا۔ ٹکٹ کلرک نے بتایا کہ اِسی ٹرین کے ساتھ سبی پسنجر کی چند کوچوں کا اضافہ ہو گا جس میں ایف۔سی کے جوان سوار ہوکر کوئٹہ جائینگے۔ اب یہی ٹرین سبی اور پھر کوئٹہ پسنجر کی صورت میں چلے گی ۔ تھوڑی دیر بعد ٹرین کا انجن اُتر کر آگے چلا گیا اور ٹرین کی صفائی شروع ہو گئی ۔ صفائی کے ساتھ ہی کوچوں میں پانی بھر ا گیا ۔ کوئی دو گھنٹوں بعد انجن تین مسافر کوچوں کے ساتھ آگے آیا تو ایف۔ سی کے جوان اپنا سامان لیکر اپنی مخصوص کوچوں میں سوار ہو گئے ۔ روہڑی کے بعد گاڑی کچھ تیز ہو گئی مگر حسب عادت ہر اسٹیشن پر رُکتی رہی ۔ سارے اسٹیشن ویران ہی تھے ۔ شکارپور اور جیکب آباد دو بڑے اسٹیشن آئے جہاں گاڑی نے طویل قیام کیئے۔ مسافروں سے پتہ چلا کہ اِن اسٹیشنوں پر مال گاڑیوں اور پسنجر یعنی تیسرے درجے کی ٹرینوں کو روک کر ایکسپریس گاڑیوں جن میں کوئٹہ ایکسپریس اور بولان میل شامل ہیں کو راستہ دیا جاتا ہے۔ اِن دو بڑے اسٹیشنوں کے علاوہ بیل بھٹ اور جھٹ پٹ نامی دو اسٹیشن بھی آئے جو قدرے آباد تھے۔ سنا ہے کہ اب اِن کے نام بدل دیے گئے ہیں اور اِن میں سے ایک کا نام ڈیرہ مراد جمالی ہے۔ یہیں سے ایک سڑک سابق وزیراعظم پاکستان مرحوم میر ظفر اللہ خان جمالی اور اُن کے کزن سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان تاج محمد خان جمالی کے علاقہ ڈیرہ مراد جمالی کو جاتی ہے۔ قائداعظم ؒ کے دست راست اور بلوچستان کو ریفرنڈم کے ذریعے پاکستان میں شامل کروانے والے میر جعفر خان جمالی بھی اِس علاقہ کے اہم سردار تھے۔
جمالی قبیلے کا تحریک پاکستان میں بڑا مثبت اور اہم کردار رہا ہے۔ علاقہ صحرائی ہے مگرپٹ فیڈر کینال سسٹم کی وجہ سے اسکا بہت سا حصہ زرخیز ہے۔ صوبہ بلوچستان کا یہ حصہ سندھ کے بڑے شہروں شکارپور، لاڑکانہ، جیکب آباد ، سکھر ، کشمور ، کند کوٹ اور گڈو سے بذریعہ سڑک سوئی ، ڈیرہ بگٹی اور اندرونی بلوچستان کے بہت سے دشوار علاقوں کی سندھ اور پنجاب تک رسائی ہے۔
پہلی افغان جنگ کا احوال لکھنے والے برٹش انڈین آرمی کے صوبیدار سیتا رام نے اپنی سرگزشت کے احوال میں سبی سے جیکب آباد تک کے اِن صحرانوردوں کی بہادری کا خصوصی ذکر کیا ہے۔ یہ وہ دور تھا جب ریل یا روڈ کا نظام نہیں تھااور پنجاب کے مہاراجہ رنجیت سنگھ نے برٹش آرمی کو افغانستان پر حملے کیلئے پنجاب سے گزرنے کی اجازت نہ دی۔
بہاولپور ، خیرپور اور نواب شاہ کے میروں ، جاگیرداروں ، پیروں اور نوابوں نے نہ صرف اپنے علاقوں تک رسائی دی بلکہ نواب آف بہاولپور اور نواب شاہ نے دس دس ہزار اونٹ اور ساربان بھی مہیا کیئے۔ صوبیدار سیتا رام نے اپنی سرگزشت اپنے انگریز کمانڈنگ آفیسر کی فرمائش پر لکھی۔ سیتا رام لکھتا ہے کہ ایک ڈویژن فوج معہ توپخانے کے جیکب آباد سے آگے بلوچستان میں داخل ہوئی تو ہزاروں اونٹوں کے قافلے قطار اندر قطار صحرا میں چل رہے تھے۔ دن کے وقت موسم کی شدت اور ریت کے طوفان تھے تو راتوں کو بلوچ جنگجووٗں کا سامنا تھا۔ بلوچی قبائل گھوڑوں پر سوار اچانک نمودار ہوتے اور آخری قطاروں سے دس پندرہ اونٹوں کی رسیاں کاٹ کر بھاگ جاتے۔ اِن اونٹوں پر سپاہ کی خوراک اور جنگی سامان ہوتا جو آنکھ جھپکتے ہی غائب ہو جاتا۔ چھ روز بعد جب قافلہ سبی پہنچا تو گنتی سے پتہ چلا کہ سپاہ سینکڑوں مال بردار اونٹوں سے محروم ہو چکی ہے۔
بہرحال سبی پسنجر کی بوگیاں کٹ جانے کا خطرہ نہ تھا مگر رفتار اونٹ کے برابر ہی تھی۔ یوں لگتا تھا جیسے وہ ایک دِن میں ایک ہی منزل کا فاصلہ طے کرتی ہے۔ ایک شام راولپنڈی سے چلی اور دوسری شام ملتان پہنچی ، دوسری شام ملتان سے چلی اور صبح روہڑی پہنچ گئی اور اَب حسب عادت سبی کی طرف سرکتی اور مٹکتی ہوئی چل رہی تھی ۔ سبی پلیٹ فارم پر پہنچی تو یہاں بھی مغرب کی آذان ہو رہی تھی ۔ پلیٹ فارم پر باوردی فوجیوں کے علاوہ سول کپڑوں میں ملبوس مسافر بھی فوجی ہی لگ رہے تھے جو شاید چھٹی جا رہے تھے۔
جلد ہی دوسرے پلیٹ فارم پر کوئٹہ ایکسپریس پہنچی تو مسافر جلدی جلدی اُترنے اور چڑھنے کیلئے جدوجہد کرنے لگے۔ اُن دِنوں پنجاب جانے والی یہی ریل گاڑی تھی۔ دوسری روہڑی پسنجر تھی جسپر میں تین دِن سے سوار تھا اور شاید راولپنڈی سے روانہ ہونے والا واحد مسافر بھی تھا۔ کوئٹہ ایکسپریس کی روانگی کے بعد اسٹیشن پر مایوسی چھا گئی جیسے دُلہن کی رُخصتی کے بعد بابل کا گھر ویران لگتا ہے۔ باوردی فوجی بھی غائب ہو گئے جیسے کبھی یہاں تھے ہی نہیں ۔
اب کوئٹہ جانیوالے غریب مسافر اور ایف ۔ سی کے جوان تھے جو سکھر سے سوار ہوئے تھے ۔ ایف۔ سی کے جوان اپنے ہتھیاروں سمیت ایک بار پھر تین قطار میں کھڑے ہوئے، اُن کے عہدیداروں نے کمانڈر کو پریڈ سٹیٹ اور سب اچھا کی رپورٹ دی ۔ جوان واپس اپنی کوچوں میں چلے گئے تو گارڈ نے سیٹی بجا کر کوئٹہ روانگی کا اعلان کیا ۔ سبی سے نکل کر گاڑی نے مشرق کی طرف رُخ کیا اور پھر لمبی لوپ لیکر سانپ کی طرح مغرب کی جانب مُڑ گئی ۔ میں نے کھڑکی سے باہر دیکھا تو ساری گاڑی نیم دائرے کی شکل میں نظر آ رہی تھی۔ آہستہ آہستہ گاڑی سیدھ میں آئی اور پھر ناڑی بینک اسٹیشن پر آکر رک گئی ۔ مچھ ریلوے اسٹیشن سے پہلے جن اسٹیشنوں کے نام پڑھ سکا اُن میں ایک نام بی بی نانی کا بھی تھا۔علاوہ بی بی نانی اور پنیر کے آب گُم کا مشہور اسٹیشن آیا جہاں گاڑی کو دو انجنوں کی مدد سے پہلے مچھ اور پھر کولپور تک پہنچایا جاتا ہے ۔ مچھ سے ایک انجن گاڑی کو آگے سے کھینچتا ہے اور دوسرا پیچھے سے دھکا لگاتا ہے۔ واپسی پر کولپور سے ایک انجن آگے سے ٹرین کی سپیڈ کو کنٹرول کرتا ہے اور دوسرا پیچھے سے کھینچ کر رکھتا ہے تا کہ گاڑی مسلسل ڈھلوان کے باعث بے قابو نہ ہو جائے۔
سبی کے بعد آب گم تک آٹھ سرنگیں ہیں ۔ سب سے لمبی سرنگ آٹھ نمبر ہے ۔ اس کے ایک جانب پنیر ریلوے اسٹیشن اور کوئٹہ کی جانب آب گم ہے۔ اسی آٹھ نمبر سرنگ اور آب گم کے درمیان دہشت گردوں نے جعفر ایکسپریس پر حملہ کیا اور بہت سے مسافروں کو شہید کر دیا۔ 1973-74ء کی دہشت گردی جسے انسرجنسی یا مسلح بغاوت کا نام دیا گیا تھا راقم تین ماہ مچھ اور پھر تین ماہ تک پنیر میں رہا جہاں ایک انفنٹری بٹالین تعینات تھی۔ ان دنوں ہر ریل گاڑی کے آگے اور پیچھے حفاظتی بوگیاں لگتیں تھیں جن میں سینڈ بیگ لگا کر ہر دو جانب مشین گنیں نصب ہوتی تھیں ۔ ہر ٹرین کے آگے ایک سیفٹی ٹرین چلتی تاکہ پٹڑی پر نصب بارودی مواد کا پتہ چل سکے ۔ اگرچہ اُس دور میں پٹڑیاں محفوظ ہی رہیں مگر دھماکے کی صورت میں سیفٹی ٹرین کے عملے کی حفاظت یقینی تھی۔
سبی سے ہرنائی اور آگے شارگ اور خوست تک بھی گاڑی چلتی تھی۔ یہ راستہ تنگ پہاڑوں اور دریائے ہرنائی کے ساتھ ساتھ چلتا ہے۔ ہرنائی سے پہلے بابر کچھ کے علاوہ سپن تنگی اسٹیشن آتا ہے ۔ اِس روٹ پر بلوچ آبادی کم اور پختون زیادہ ہیں ۔ 73-74ء کی انسرجنسی کے دوران اِس علاقہ میں بھی دھشت گردی کی کاروائیاں ہوئیں مگر املاک کو کوئی نقصان نہ ہوا۔ اُن دِنوں سبی سے ہرنائی تک کوئی پکی سڑک نہ تھی۔ دن گیارہ بجے کے قریب ایک بس بابر کچھ سے ہوتی ہوئی سپن تنگی کے قریب سے گزرتی جس کی چھت پر بھی سواریاں ہوتیں ۔ یہ بس سبی سے صبح چلتی اور دریا کے کنارے کچے راستوں پر چلتی شام کے وقت ہرنائی پہنچتی ۔ سپن تنگی ریلوے اسٹیشن پر بھی میں تین ماہ تک رہا۔ یہ اسٹیشن انتہائی دلفریب منظر پیش کرتا تھا۔ مسافر خانے کے علاوہ یہاں ایک چھوٹا سادو کمروں ،کچن ، ڈرائینگ روم ، ڈائیننگ روم سرونٹ کوارٹر اور چاروں اطراف برآمدوں پر مشتمل ریسٹ ہاوس بھی تھا۔ انگریزی دور کی کراکری ، کٹلری کے علاوہ فرنیچر بھی موجود تھا۔ ریلوے اسٹیشن پر بڑے بڑے تین سائیہ دار درخت تھے جنکا سائیہ سارے پلیٹ فارم پر چھایا رہتا۔ ریلوے اسٹیشن بلندی پر تھا۔ سامنے ایک خالی میدان اور دریا کے کنارے ریت اور بجری کا قطعہ جو پانی کم ہونے کی وجہ سے بن جاتا ۔ اسی ریت اور بجری پر کوئلے کے ٹرک اور ایک بس گزر کر ہرنائی سے سبی جاتی۔ آگے ڈنگان کا بلند پہاڑ اور اس کے دامن میں ایک خوبصورت جھیل تھی۔ ڈنگان پہاڑ کے جنوب میں ایک اور پہاڑ تھا جہاں گرم پانی کے چشمے بہہ کر دریا میں شامل ہو جاتے۔ اِن چشموں کے پیچھے کوئی ایک کلو میٹر کے فاصلے پر ٹھنڈے اور میٹھے پانی کے چشمے تھے جن کا پانی ریلوے اسٹیشن سے ڈیرہ بگٹی جانے والے راستے کے ساتھ بہنے والے نالے میں داخل ہو کر صحرا میں زیر زمین چلا جاتا ۔ پانی کے نالے کے دونوں اطراف بلوچ خانہ بدوشوں کی خیمہ بستیاں اور رہائشی غاریں تھیں ۔ ہر بستی میں سینکڑوں اونٹ، گدے ، گائیں اور بھیڑ بکریاں تھیں ۔ یہ لوگ رند قبیلے سے تعلق رکھتے تھے اور دریا کے ساتھ ساتھ سفر کرتے ڈھا ڈر تک جاتے۔
رند اور رئیسانی قبیلے میں سیاسی رقابت تھی مگر خانہ بدوش اسکا حصہ نہ تھے ۔ میری اس اسٹیشن کے قریب ڈیوٹی کے دوران اس حلقہ میں ضمنی الیکشن ہوئے۔ میں نے مال گاڑی کے ڈبوں پر سرور خان کاکڑ کے اشتہار دیکھے مگر خانہ بدوش بلوچوں کے علاقہ میں نہ الیکشن ہوا اور نہ ہی کسی امیدوار کے نمائیندے نے اُن سے ووٹ کی اپیل کی۔
مجھے راولپنڈی سے کوئٹہ کیلئے روانہ ہوئے آج تیسرا دِن تھا۔ سبی سے شام کے وقت کوئٹہ پسنجر نکلی اور ناڑی بینک ریلوے اسٹیشن پر رکنے کے بعد صرف پنیر جا رُکی۔ یہ سب ریلوے اسٹیشن ویران تھے اور بجلی کی سہولت بھی میسر نہ تھی۔ آٹھ نمبر سرنگ سے گزر کر گاڑی آب گم رکی تو جلد ہی اسے دوسرا انجن بھی میسر آگیا ۔ گاڑی پہاڑ کے ساتھ ساتھ گھومتی ہوئی مچھ اسٹیشن کو پیچھے چھوڑتی بہت آگے جاکر چڑھائی پر رُکی اور پھر پیچھے سے دھکا لگانے والے انجن نے اسے پلیٹ فارم پر چڑھا دیا۔ مچھ ریلوے اسٹیشن مین لائین سے ہٹ کر اونچائی پر ہے جو انگریز کی انجینرنگ کا کرشمہ ہے۔ ویسے تو یہ ریلوے لائن ہی کرشمہ ہے کہ انگریزوں نے افغانستان تک رسائی کیلئے کوئٹہ سے چمن اور پھر ایرانی سرحد تفتان تک سنگلاخ اونچے پہاڑوں میں سرنگیں نکالیں اور سینکڑوں فٹ گہرے نالوں اور بے نام موسمی دریاوٗں پر لوہے کے مضبوط پل تعمیر کیے ۔ مچھ ریلوئے اسٹیشن پر کوئلے کی کانوں میں کام کرنیوالے مزدور ٹولیوں میں کھڑے تھے ۔ یہاں بھی ٹرین نے مختصر قیام کیا اور کوئٹہ کی جانب چل پڑی ۔ مزدوروں نے سردی سے بچنے کیلئے پرانے بوسیدہ کمبل اوڑھ رکھے تھے۔ وہ اپنی اپنی ٹولیوں میں گاڑی میں سوار ہوئے اور گپیں لگانے لگے۔ جو ٹولی ہماری کوچ میں بیٹھی اُن کی زبان سے پتہ چلتا تھا کہ اُنکا تعلق آزاد کشمیر کے ضلع باغ اور ہزارہ سے تھا۔ وہ اپنی باتوں میں ہری پور، ایبٹ آباد ، مانسہرہ اور باغ کا ذکر کررہے تھے۔ اُنکا موضوع موسم تھا ۔ کچھ گھروں سے ہو کر آئے تھے اور کچھ جانے کی تیاری میں تھے۔ یہ لوگ کولپور اور سپیزنڈ کے ریلوے اسٹیشنوں پر اُترے تو وہاں سے ایسے ہی مزدور سوار ہوئے جن میں زیادہ تعداد ہزارہ برادری کی تھی۔ شام چھ بجے سبی سے چلنے والی کوئٹہ پسنجر رات ایک بجے کوئٹہ اسٹیشن پر پہنچی تو ریلوے اسٹیشن سے باہر نکلنے والا میں اکیلا مسافر تھا۔ کوئلے والے مزدور گاڑی سے اُتر کر دوسرے پلیٹ فارم کی طرف چلے گئے ۔ شاید اُسطرف اُن کی کالونی یا رہائشی علاقہ تھا۔
اسٹیشن کے باہر دو تین رکشے کھڑے تھے مگر ڈرائیور غائب تھے۔ میں ایک رکشے کے قریب کھڑا ہوا تو ایک بڑی عمر کا ہزارہ ڈرائیور آگیا ۔ میں نے کینٹ جانے کا کہا تو کہنے لگا سات روپے ۔ جتنا جلدی اسنے سات کہا میں نے کہا پانچ روپے ۔ کسی بحث کے بغیر کہنے لگا ٹھیک ہے۔ بیٹھ جاوٗ۔ اسٹیشن سے نکلے تو ہلکی ہلکی برفباری شروع ہو گئی ۔ میں نے کوئلے کے مزدوروں کے متعلق پوچھا کہ راستے میں کسی نے اِن کا ٹکٹ چیک نہیں کیا اور یہ لوگ باہر نکلنے کے بجائے پچھلی جانب کیوں چلے گئے ہیں ۔ ڈرائیور نے بتایا کہ اُسطرف اُن کا ٹرک کھڑا ہوتا ہے جو کارگو والے گیٹ سے باہر نکلتا ہے۔ مزدور ٹکٹ نہیں خریدتے بلکہ اُن کے ٹھیکیدار ریلوے سے اُنھیں فری پاس دلواتے ہیں جسکی ادائیگی ٹھیکیدار یا پھر کول مائین کمپنیاں کرتی ہیں ۔ یہ لوگ ہفتے میں ایک بار گھروں کو آتے ہیں اور دو روز بعد ان کی شفٹ بدل جاتی ہے۔ برف سردی اور رات کے پچھلے پہر کی وجہ سے کوئٹہ کی سڑکیں ویران تھیں ۔ میں نے اُسے بتایا کہ پہلی بار کوئٹہ آ رہا ہوں اور یونٹ کا نام بھی بتایا ۔ کہنے لگا زمزمہ روڈ پر چل کر کسی سنتری سے پوچھ لیتے ہیں ۔ راستے میں اُس نے مجھے بتایا کہ یہ چلتن باباؒ کا مزار ہے اور تھوڑا آگے چلتن پارک جو بعد میں شہباز پارک بن گیا کے ساتھ ہی کوئٹہ چھاونی کی مشہور چلتن مارکیٹ اور آگے پانی تقسیم چوک کا نام لیتے ہوئے وہ زمزمہ روڈ پر مُڑگیا۔ تھوڑا آگے سنتری پوسٹ میں ایک جوان کھڑا تھا ۔ رکشہ ڈرائیور نے میری یونٹ کا نام بتایا تو وہ باہر آگیا ۔ مجھ سے ہاتھ ملایا اور میرے علاقے کا پوچھا ۔ میں نے میرپور آزادکشمیر بتایا تو کہنے لگا میرا تعلق جہلم سے ہے۔ یہ توپخانے کی یونٹ ہے۔ آجکل سارا ڈویژن آئی ۔ایس ڈیوٹی یعنی دہشت گردی کے خلاف جنگ پر ہے۔ تمہاری یونٹ انفینٹری سکول کی دوسری جانب گورکھا ائیر فیلڈ کے قریب ہو سکتی ہے۔ آگے پتہ نہیں ۔
تیسرے گیٹ پر پہنچے تو سنتری نے بتایا کہ یونٹ تو سبی میں ہے البتہ رئیر ہیڈ کوراٹر یہاں ہے، تم سامنے والی بیرک میں چلے جاوٗ۔ تھوڑی دیر پہلے ایک جوان آیا ہے اسے میں نے سٹور پر کمبل لینے بھجوا دیا ہے ۔ میں جلدی سے بیرک میں پہنچا تو سامنے سٹور کی لائیٹ آن تھی ۔ سٹورمین کے پاس پینٹ کوٹ پہنے سردی سے ٹھٹھرتا ایک بابو کھڑا تھا۔میں نے اُنہیں سلام کیا تو اُنہوں نے ہنس کر جواب دیا۔ اس نوجوان کا نام اشرف علی، تعلق گوجرہ سے اور ہاکی کا کھلاڑی تھا۔ فوج میں کھلاڑی بھرتی ہوا تھا ۔ ہم سے پہلے بیج میں تھوڑی ٹریننگ کی اور پھر یونٹ میں پوسٹ ہو کر کراچی کیمپ میں ہاکی کھیلنے چلا گیا ۔ تب یہ یونٹ حیدرآباد میں تھی۔ اشرف ہاکی کیمپ سے فارغ ہوا تو یونٹ کوئٹہ شفٹ ہو چکی تھی۔ سٹور کلرک نے ہمیں پانچ پانچ کمبل دیے اور ھدایت کی کہ صبح کوئٹہ شہر جا کر رضائیاں ، بستر بند اور ایک ایک ٹرنک خرید لو۔ کمبلوں میں گزارہ نہیں ہوگا ۔ یہ کمبل ادھار سمجھو کل یا پرسوں تمہیں سبی بھجوا دیا جائیگا تو کمبل واپس کرنے ہونگے۔ یونٹ وہاں خیموں میں رہتی ہے ۔ سبی کا موسم کوئٹہ سے زیادہ ٹھنڈا ہے ۔ ضروری نہیں کہ تم سبی ہی رہو۔ نئے آنیوالوں کو خضدار ، کوہلو یا پھر ڈیرہ بگٹی بھجوایا جاتا ہے۔ سبی پہنچتے ہی تمہیں نئے احکامات مل جائینگے اسلیے ذھنی طور پر تیار ہوکر جاوٗ۔ …………..جاری ہے ………….
