کوئٹہ آمد کی پہلی رات تھی اور ساری رات برف باری جاری رہی۔ میں اور اشرف علی کمبلوں کا ڈھیر لیکر کمرے میں آئے۔ دو دو کمبل چارپائیوں پر بچھائے اور تین اوپر اوڑھ لیے۔ میں نے اپنا کینوس بیگ نکال کر تکیہ بنا لیا اور گریٹ کوٹ بھی کمبلوں کے اوپر ڈالا مگر سردی سے بچاوٗ ممکن نہ ہوا ۔ تھوڑی دیر بعد صبح کی آذان سنائی دی۔ میں نے اُٹھ کر نماز کی تیاری کی تو اشرف بھی جاگ گیا۔ باہر نکلے تو دوسری بیرکوں سے اِکا دُکا لوگ ایک طرف جا رہے تھے ۔ ہم بھی اُن کے پیچھے چلے تو سامنے کھیلوں کا میدان نظر آیا جسکے ایک طرف بہت سی گاڑیاں کھڑی تھیں اور میدان کے پار مسجد تھی۔ مسجد میں داخل ہوئے تو سردی کا احساس جاتا رہا۔ مسجد میں دو کوئٹہ سٹوو جل رہے تھے اور وضو کیلئے گرم پانی بھی میسر تھا۔ نماز سے فارغ ہو کر میں اور اشرف ایک کونے میں بیٹھ گئے تو نیند نے غلبہ کیا۔ ہم دیر تک سوتے رہے اور کوئی تین گھنٹوں بعد جاگے تو حجرے سے ضعیف العمر امام صاحب آ گئے۔ ہم نے مسجد میں سونے کی معذرت کی اور وجہ بھی بتائی تو کہنے لگے کوئی بات نہیں ۔ امام صاحب نے کہا کہ بیرک میں جا کر اپنا تولیہ اور صابن لے آوٗ۔ مسجد کے غسل خانوں میں گرم پانی ہے ۔ واپس آکر نہا لو تا کہ تمہاری تھکاوٹ کم ہو سکے۔ امام صاحب کی اجازت سے ہم اگلے تین دِن تک مسجد کے پانی سے نہاتے اور وضو کرتے رہے۔ صبح دیر تک مسجد میں سونے کی وجہ سے ہم طعام خانہ کی طرف نہ جا سکے ۔ مین گیٹ پر کھڑے سنتری سے پوچھا تو اُس نے ہمیں ایک کمپنی کے طعام خانہ کا بتایا جو کوئٹہ آنے اور جانے والوں کے لیے کھلا رہتا تھا۔ چونکہ اب ناشتے کا وقت نہیں تھا اور ہمیں بھوک لگی تھی۔ سنتری نے قریب ہی خٹک سٹور کا بتایا جہاں سے کھانا اور ناشتہ مل سکتا تھا۔ خٹک سٹور سے ناشتہ کیا اور پھر شہر کی طرف پیدل چل پڑے۔ شہر تک سڑک صاف، قدرے ویران اور ڈھلوان تھی ۔ برف رک چکی تھی مگر سڑک کے دونوں اطراف برف کی موٹی تہہ جمی ہوئی تھی۔ اشرف نے بتایا کہ وہ کوئٹہ شہر سے واقف ہے۔ اِس کی خالہ کوئٹہ میں توغی روڈ پر رہتی ہیں اور پی۔آئی۔اے آفس کے قریب عیسیٰ ہاوٗس کے سامنے والے گرلز ہائی سکول میں پڑھاتی ہیں ۔
اشرف دوبار کراچی سے کوئٹہ آ چکا تھا ۔ اُن دِنوں جنرل موسیٰ خان ہاکی ٹورنامنٹ اور بلوچستان کا ہزارہ ہاکی کلب بھی مشہور تھا ۔ سابق کمانڈر انچیف آف پاکستان آرمی ، گورنر مغربی پاکستان اور آخر میں گورنر بلوچستان جنرل محمد موسیٰ خان اپنے دور میں ہاکی کے کھلاڑی تھے ۔ اسی طرح سابق وزیراعظم پاکستان مرحوم میر ظفر اللہ خان جمالی ہاکی کے نامور کھلاڑی اور مسلم لیگ گارڈ کے ممبر بھی رہے۔ اُنھیں قائداعظم ؒ اور مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناح کے حفاظتی دستے کا کمانڈر تعینات کیا جاتا جو دونوں محترم شخصیات کے دورہ بلوچستان کے وقت اُن کے ہمراہ رہتے۔
میں اور اشرف چلتے چلتے کوئٹہ کے مین بازار کی آخری بڑی مارکیٹ ( جنگشن مارکیٹ) جا پہنچے تو دن کے بارہ بجے تھے ۔ جنگشن مارکیٹ کے ایک کونے میں کوئٹہ کے مشہور لال کباب والے کا ریسٹوران تھا جہاں کباب اور جائینٹ کھانے لوگ دور سے آتے ۔
جنگشن مارکیٹ سے بائیں مڑ کر ایک دوسری سڑک سے گزرتے اشرف مجھے ایک گلی میں لے گیا ۔ یہ گلی نما سڑک تھی جسپر رکشے چل رہے تھے۔ دراصل یہ سڑک مین بازار کیساتھ چلتی چھاونی کی طرف ہی جا رہی تھی ۔ تھوڑی دیر بعد اشرف نے ایک گھر کی گھنٹی بجائی تو ایک خاتون باہر آئی۔ اشرف سے گلے ملی ، پیار کیا اور اشرف کی والدہ اور بہنوں کا پوچھا۔ خاتون نے میرے سر پر بھی ہاتھ رکھا تو اشرف نے بتایا کہ یہ میرا دوست ہے ہم رات ہی کوئٹہ آئے ہیں ۔ خاتون نے اندر آنے کا بہت کہا مگر ہمیں واپس چھاونی پہنچنا تھا ۔ یہ خاتون اشرف کی والدہ کی کوئی سہیلی تھی جنکا خاندان تقسیم ہند کے بعد کوئٹہ آکر آباد ہُوا۔ اشرف کے خاندان نے روہتک سے ہجرت کی ۔ پہلے فیصل آباد آئے اور پھر جسے جہاں ٹھکانہ ملا جا آباد ہوا۔ اشرف کے خاندان کی خواتین اور مرد تعلیم یافتہ تھے۔ اشرف کی والدہ اور مرحوم والد بھی محکمہ تعلیم سے وابستہ تھے ۔ اشرف تین بہنوں کا اکلوتا بھائی تھا۔ تین سال بعد وہ فوج چھوڑ کر ملائیشیا میں کسی ہاکی کلب میں نوکری کا ارادہ رکھتا تھا۔ اشرف نے بتایا کہ اُسے ریلوے اور ایک بنک نے نوکری کی آفر کی تھی مگر وہ فوج کی طرف سے ہاکی کھیلنے آگیا۔

اسی گلی کے آخر میں پرندوں کی مارکیٹ اور دوسری جانب رضائیوں کے گودام تھے۔ ہم نے دوکاندار کو بتایا کہ ہمیں کم وزن مگر گرم رضائیاں درکار ہیں ۔ یہ سنکر پختون دکاندار بولا کیا تم فوجی ہو؟ ہم نے اقرار کیا تو اُس نے ہمیں ایرانی رضائیاں کسی دوسرے گودام سے لا کر دیں ۔ اِن کیساتھ کینوس کے دو تکیے بھی تھے جن میں منہ سے ہوا بھری جاتی ۔ رضائی ، دو تکیے اور واٹر پروف بستر بند کی قیمت ستر روپے لگی تو اشرف نے پچاس روپے پر ضد کی۔ میں خاموش رہا اور ستر اور پچاس کی بحث ساٹھ پر ختم ہوگئی ۔ قریبی دکان سے ہم نے ایرانی ساختہ کھانے کے دو ڈبے خریدے جن کے ڈھکن لاک ہوتے تھے۔ ابھی ہم رکشے کے انتظار میں ہی تھے کہ اشرف کو سویٹ ڈش یاد آگئی ۔ کہنے لگا ایک ایک ڈبہ اور لیتے ہیں ۔ ایک روٹی اور ایک سالن کیلئے تولیا ہے مگر سویٹ ڈش بھی ملتی ہے۔ آگے چل کر کیپٹن ناصر شاہ کے اردلی علی حسن کی بات کرینگے جب اُس نے کیپٹن واصف سجاد سے پوچھا، سر جی سپیڈنگ کھاوٗ گے۔ آگے کیا ہُوا۔ یہ آگے ہی بیان ہو گا۔ اشرف نے دُکاندار سے مزید ڈبے مانگے تو اُس نے صرف ایک کے پیسے لیے اور ایک مفت دے دیا۔ کھول کر دیکھا تو اِن میں ایرانی ساختہ پیتل کے چمچ بھی تھے۔ پتہ چلا کہ یہ تین کاہی سیٹ ہوتا ہے ہم نے غلطی سے دو لیے تھے۔
رکشے میں سامان رکھ کر واپس ہزارہ سٹور پر آئے اور مٹن شوربے کے ساتھ تندور کے قریب بیٹھ کر کھانا کھایا۔ سامان اُٹھا کر بیرک میں پہنچے تو منگلا سے جعفر حسین تشریف لا چکے تھے۔ جعفر پکا سپاہی تھا اور تین سال نوکری کر چکا تھا۔ تعلق ملتان سے تھا۔ دوبار فوج سے بھاگنے کے بعد کالا پانی کی سزا کاٹنے سبی جانیوالے قافلے میں شامل ہواتھا۔ وہ کافی دنوں سے کوئٹہ آیا ہُوا تھا اور اپنے کسی رشتہ دار کے پاس رابرٹ مارکیٹ کے قریب رہ رہا تھا۔ رابرٹ مارکیٹ کسی گورے افسر کے نام سے منسوب تھی اور سامنے چرچ بھی تھا جو اب بھی ہے ۔ فوجیوں نے اسکا نام ربڑ مارکیٹ رکھا۔ بعد میں ربڑ مارکیٹ کا نام میجر شبیر شہید (نشانِ حیدر) کے نام پر ‘‘شبیر شہید’’ مارکیٹ رکھ دیا گیا مگر اب بھی فوجی جوان اسے ربڑ مارکیٹ کے نام سے یاد کرتے ہیں ۔
کھانا ہم کھا چکے تھے۔ جعفر حسین سے ملاقات کے بعد نماز ظہر پڑھنے اور امام صاحب کے پاس حاضری کیلئے مسجد چلے گئے ۔ ٹھنڈی برفائی ہَوا جسے کوئٹہ والے قندہاری ہوا کہتے ہیں ایک ہی رفتار سے چل رہی تھی مطلع بالکل صاف تھا اور دھوپ ٹھنڈی تھی۔ مسجد سے باہر آئے تو کوہ مردار کی چوٹی سے پی۔ آئی۔اے کا جہاز نمودار ہُوا۔ ہم کھڑے ہو کر اداس نظروں سے جہاز دیکھنے لگے چونکہ وہ اسلام آباد سے آیا تھا۔ اسلام آباد اترنے اور اڑنے والے جہازوں سے میرا ایک تعلق رہا ہے۔ گاوٗں میں ہمارا گھر بلندی پر واقع ہے ۔ گھر کے سامنے کالی دھار نامی پہاڑ ہے جو مشرق کی جانب دریائے توی کے کناروں سے بلند ہوتا مغل بادشاہ اکبر اعظم کے تعمیر کردہ قلعہ بُڑجن کی ڈھلوانوں پر ختم ہوتا ہے۔ قلعے کے قریب ہی شی کس نامی نالہ بہتا ہے جو آگے چل کر منگلا ڈیم میں شامل ہو جاتا ہے۔ شی کس یعنی شیروں کے دریا کی دوسری جانب کا پہاڑی سلسلہ مغرب میں دریائے جہلم تک چلا جاتا ہے۔
بُڑجن کے گیپ سے منگلا ڈیم اور پھر اگر صاف موسم ہو تو گوجرخان اور راولپنڈی نظر آتے ہیں ۔ اسلام آباد ائیر پورٹ سے اڑنے اور اُترتے والے جہاز بھی نظر آتے ۔ ہمارا کوئی رشتہ دار بیرون ملک جاتا تو پتہ ہوتا کہ لندن جانیوالی فلائیٹ رات آٹھ بجے روانہ ہوتی ہے۔ میں نے کئی بار رات ساڑھے آٹھ بجے جہاز کو اُڑتے دیکھا۔ اب بھی اگر آپ اسلام آباد سے لاہور جائیں تو تھوڑی دیر بعد پائیلٹ اناونس کرتا ہے کہ آپ کے دائیں جانب منگلا ڈیم اور بائیں جانب سالٹ رینج ہے۔ شاید نئے ائیر پورٹ کا راستہ مختلف ہو۔
جہاز کوہ مردار سے نیچے اترتا آہستہ آہستہ سمگلی ائیر پورٹ پر اترا تو ہم دونوں گورکھا ائیر فیلڈ دیکھنے چلے گئے حفاظتی تاروں کے باہر کھڑے ہو کر دیکھا تو درجنوں ایل ۱۹ چھوٹے جہاز دو قطاروں میں کھڑے تھے۔ دوسری جانب ایم آئی 8 ہیلی کاپٹر اور کچھ چھوٹے ھیلی کاپٹر اور ایک گلائیڈر کھڑا تھا۔ اُن دنوں مشاق طیاروں کی جگہ پرانے ایل 19جہاز ایوی ایشن کا حصہ تھے۔ ہمارے دیکھتے ہی ایک بڑے سائیز اور دو روٹروں والا دیو ھیکل ھیلی کاپٹر ائیر فیلڈ پر اترا۔ ہمارے ساتھ کچھ سائیکل سوار فوجی بھی اِس ھیلی کاپٹر کو دیکھنے کھڑے ہو گئے۔ ھیلی کاپٹر ائیر فیلڈ پر رُکا تو بڑے بڑے بگ پیک اُٹھائے خاصی تعداد میں فوجی باہر آئے اور ایک جگہ اکھٹے کھڑے ہو گئے۔ اِن کے بال اور داڑیاں لمبی اور بے ہنگم تھیں ۔ یہ لوگ الگ قسم کی وردی میں تھے۔ اتنی دیر میں ایک موٹا تازہ چوڑے سینے اور درمیانے قد والا فوجی آیا تو سب نے ملکر نعرہ لگایا جسکی سمجھ نہ آئی۔ سائیکل سواروں میں سے ایک نے کہا کہ یہ شنوک ھیلی کاپٹر ہے جو امریکہ نے ایران کو دے رکھے ہیں ۔ شاہ ایران بھٹو صاحب کا دوست ہے اور موجودہ انسرجنسی میں ہماری مدد کیلئے یہ ھیلی کاپٹر بھجوائے ہیں ۔ ھیلی کاپٹر سے اُترنے والی ایس ایس جی کمپنی ہے اور اِن کا کمانڈر میجر طارق محمود (TM) ہے۔ 65ء اور 71ء کی جنگوں میں انھیں دوبار ستارہ جراٗت ملا ہے ۔ 71ء کی جنگ میں ان کی کمپنی ہماری یونٹ کے ساتھ تھی اور ہمارے کمانڈنگ افیسر کرنل سلطان محمود کیساتھ اِن کی دوستی بھی تھی۔ آج کا دن بڑا معلوماتی تھا مگر بیرک میں پہنچتے ہی رئیر حوالدار اور سٹور مین صاحب تشریف لائے۔ فرمانے لگے کہ گرم وردی ، گریٹ کوٹ اور بوٹ جمع کروا دو اور نئی وردی لیکر دو دِن میں فٹ کروالو۔ اب فوج میں وردی بدل چکی ہے۔ انفنٹری سکول، چلتن مارکیٹ ، ہزارہ سٹور اور ربڑ مارکیٹ میں ٹیلرنگ کی دُکانیں ہیں جو سستی وردیاں فٹ کرتے ہیں ۔ اشرف کے پاس تو وردی تھی ہی نہیں جبکہ جعفر پرانا سپاہی تھا اور نئی وردی ساتھ لایا تھا۔ میں نے اور اشرف نے نئی کیمو فلاج کرتا نما بو شرٹ قسم کی قمیض، بیلٹ، ڈی ایم ایس بوٹ ، ماوٗ کیپ قسم کی ٹوپیاں اور روئی سے بھری گرم جیکٹیں لیں جنھیں فوجی بھائی پھتوہی کہتے ہیں۔ بارش سے بچاوٗ کیلئے ایک پانچو ملا جو شٹل کاک برقعے سے مشابہت رکھتا تھا۔ یہ سب سامان ڈالنے کیلئے گرین کلر کا ایک بِگ پیگ بھی دیا گیا۔ اِس کے علاوہ بھی بہت کچھ ملا جس کی کل تعداد 36 تھی۔ فوج میں 36 آرٹیکل کی بڑی اہمیت ہے۔ اگر آپ شادی شدہ ہیں ، کنوارے، رنڈوے یا طلاق یافتہ اس کے باوجود آپ کو ایک ہاوٗس وائف بھی ایشو ہوتی ہے جو عورت یا لڑکی نہیں بلکہ ایک تھیلی ہوتی ہے۔ اسی طرح ایک فسٹ ایڈ کِٹ اور شناختی ڈسک بھی ایشو ہوتے ہیں ۔ فسٹ ایڈ کٹ آپ زخمی ہونے کی صورت میں ہی کھول سکتے ہیں اور شناختی ڈسک انتہائی کم وزن کی دو پتریاں ہوتی ہیں جن کے ایک طرف آپ کا آرمی نمبر اور دوسری جانب نام لکھا ہوتا ہے۔ شہادت کی صورت میں آپ کا ساتھی آپ کے گلے میں لٹکی ڈسکیں اتار کر ایک آپ کی جیب میں اور دوسری منہ میں ڈال دیتا ہے تا کہ شہیدوں کو اُٹھانے والی ٹیم کو پہچان میں آسانی ہو۔
ہمارے دوست مرحوم کرنل ضیغم محمود عباسی نے شناختی ڈسک چین میں پروکر ہمیشہ گلے میں ڈالے رکھے۔ اُن کی دیکھا دیکھی بہت سے افسروں نے یہ فیشن اپنایا اور چاندی کی ڈسکیں گلے میں ڈالنے لگے۔ ضیغم مرحوم ایس ایس جی کے مائیہ ناز افسر اور پیراشوٹ سکول کے کمانڈر اور ہمارے کورس میٹ تھے۔ میں اُنھیں ٹی ڈی ایچ کہتا تو خوش ہوتے۔ ٹی ڈی ایچ کا مطلب ٹال، ڈارک اینڈ ھینڈسم تھا جو کرنل ضیغم کیلئے ہی مخصوص تھا۔ وہ واقعی ٹال ، ڈارک اور ھینڈسم تھا۔
میں نے اور اشرف نے نئی یونیفارم لی اور ہزارہ سٹور کے ٹیلر نے دس روپے یونیفارم کی فٹنگ کے لیے اور دوسرے دن ہم دونوں ٹی ایف ایچ یعنی ٹال فئیر اینڈ ھینڈسم بن گئے۔ اشرف کا رنگ گندمی مائل تھا مگر نئی کیموفلاج یونیفارم میں سمارٹ لگتا تھا۔ میرا رنگ گورا، بال اور آنکھیں براون اور قد پانچ فٹ گیارہ انچ تھا اسلیے نئی یونیفارم میرے لیے نیا فیشن تھا۔
رئیر حوالدار کو مکمل تیاری کی رپورٹ دی تو اُس نے ہمیں کوئٹہ کی سیر کیلئے مزید تین دن دیے۔ کہنے لگا تین دن بعد آر او ڈی (ROD)روڈ اوپننگ ڈے ہو گا ۔ اگر نہ ہوا تو تمہیں کسی بھی ٹرین پر سبی روانہ کر دیا جائے گا ۔ اگلے دو دن ہم نے کوئٹہ کی سیر کی ۔ حنہ جھیل دیکھی اور پھر رکشے پر اوڑک چلے گئے۔ رکشے والا پانچ سواریاں بٹھاتا تھا۔ تین پیچھے اور ایک ڈرائیور کے دائیں اور بائیں۔ رکشے کی سواری سستی تھی اور سردیوں میں اِن سیاحتی مقامات پر لوگ جاتے بھی نہیں تھے ۔ ہم نے بھی تھوڑا وقت وہاں گزارہ اور پھر پیدل چلتے واپس آگئے۔ کوئٹہ شہر بھی اتنا بڑا نہ تھا اور نہ ہی اُن دِنوں فینسی مارکیٹوں اور ایرانی مال کی بھرمار تھی۔ البتہ روسی سامان، کتابیں ، کاپیاں اور پینسلیں دستیاب تھیں ۔ میں جب بھی کوئٹہ آتا جناح روڈ پر واقع کتابوں کی دکان سے روسی انگریزی رسالہ ‘‘سپٹنک’’ اردو ترجمے والے مشہور روسی ناول اور چین باتصویر کے علاوہ پرانے اردو ڈائجسٹ اور سب رنگ واجبی سی قیمت پر خرید کر ساتھ لے جاتا۔ سب رنگ میں کورا نامی تبتی لڑکی کی رومان پرور کہانی تھی جو کھمب کے میلے میں اسٹیشن ماسٹر کے بیٹے باہر سے ملتی ہے۔ باہر کوراپر عاشق ہو جاتا ہے اور سارے ہندوستان میں اُس کی تلاش میں مارا مارا پھرتا ہے۔ اس کہانی میں کئی خوفناک ، خطرناک اور جان لیوا مرحلے آتے اور پھر سین بدل جاتا ۔ کورا جہاں جاتی اپنے معصوم حسن کے جلوے بکھیرتی۔ کورا کے پاس کچھ اہم راز تھے جنھیں حاصل کرنے کیلئے تبت سے اُس کے دُشمن پیچھے لگے ہوئے تھے۔ ہند میں بھی اِن دُشمنوں کے ساتھی اور غنڈے اُن کے مددگار تھے مگر‘‘ کورا ’’ ہر خطرے سے قدرتی طور پر بچ کر اگلی منزل کی طرف روانہ ہو جاتی۔
کورا کی طرح ایڈم حوالدار نے ہمیں کراچی جانیوالی مال گاڑی کے گارڈ کے حوالے کیا اور سبی کی طرف روانہ کر دیا ۔ مال گاڑی میں فوجیوں کیلئے ایک مسافر بردار ڈبہ لگایا گیا تھا جو ساری رات کی مسافت کے بعد صبح سویرے سبی ریلوے اسٹیشن پر مسافروں سمیت مال گاڑی سے الگ کر دیا گیا۔
سبی ریلوے اسٹیشن پر ہر یونٹ کی گاڑی کھڑی تھی۔ مسافر سپاہ اپنی اپنی گاڑی میں بیٹھنے کو چلی گئی۔ جعفر نے ڈرائیوروں سے پوچھا تو پتہ چلا کہ ہمیں لینے بھی گاڑی آئے گی فکر کی کوئی بات نہیں ۔ ایم پی والوں سے پوچھا تو اُنھہوں نے بتایا کہ تھوڑی دیر بعد کراچی سے بولان میل آئے گی تو آپ کی یونٹ سے ڈاک والی گاڑی سرکاری ڈاک لینے اور ڈاک دینے کے بعد آپ کو بھی لے جائے گی۔ ہر ایکسپریس گاڑی میں محکمہ ڈاک کا ایک ڈبہ ہوتا ہے جس میں آرمی کے ڈاک رسان بھی سفر کرتے ہیں ۔ تھوڑی دیر بعد خیبر میل آئی تو ڈاک کے تبادلے کے بعد ایک حوالدار ہمارے پاس آیا۔ ایک کاغذ پر ہمارے نام لکھے ہوئے تھے۔ نام پڑھنے اور تصدیق کے بعد ہم ڈاک گاڑی میں بیٹھ کر سبی نہر کے کنارے خیمہ بستی میں پہنچے۔ مجھے اور اشرف کو آپریٹر کمپنی میں اور جعفر کو لائن مین کمپنی میں بھجوا دیا گیا ۔ ہم جس خیمے میں داخل ہوئے وہاں سب لوگ سو رہے تھے۔ پتہ چلا کہ نائٹ شفٹ سے واپس آئے ہیں ۔ ہم نے بھی ایک کونے میں بستر لگائے اور سو گئے۔
دوپہر کے قریب سوئی ہوئی سپاہ جاگ اٹھی تو ہم بھی اٹھ بیٹھے ۔ تعارف کروانے پر انھہوں نے ہمیں خوش آمدید کہا اور ہم نے ملکر ناشتہ کیا۔ پلاٹون حوالدار نے ہماری سفری دستاویزات اور پوسٹنگ آرڈر لینے اور دفتر میں جمع کروا دیے۔ پلاٹون حوالدار نے بتایا کہ کل صبح تمہارا کرنل صاحب سے انٹرویو ہو گا اور پھر نئی پوسٹنگ کا حکم جاری ہوگا۔ دوسری صبح میں اور اشرف انٹرویو کیلئے تیار ہوئے تو ایک کیپٹن اور صوبیدار اشرف کو لینے آ گئے۔ تھوڑی دیر بعد اشرف واپس آیا اور وردی اتار کر ٹریک سوٹ پہنا۔ کہنے لگا کیپٹن طاہر صاحب یونٹ ہاکی ٹیم کے بھی کپتان ہیں ۔ ہاکی ٹیم ڈویژن لیول کے مقابلوں کی تیاری کر رہی ہے ۔ میں ہاکی گراونڈ جا رہا ہوں میرے انٹرویو کی ضرورت نہیں ۔ تھوڑی دیر بعد پلاٹون حوالدار واپس آیا اور مجھے نیا پوسٹنگ آرڈر دے کر کوہلو میں تعینات کمپنی میں جانے کی خوشخبری سنائی۔ کہنے لگا کل ڈاک والی گاڑی پر اسٹیشن چلے جانا وہ لوگ تمہیں کوئٹہ ایکسپریس پر بٹھا دینگے ۔ کوئٹہ رئیر ہیڈ کوارٹر میں تمہیں آر او ڈی (ROD) روڈ اوپننگ ڈے کا انتظار کرنا ہوگا۔ رئیر حوالدار تمہارے کوہلو جانے کا بندوبست کردے گا…..
…………….جاری ہے……………