Tarjuman-e-Mashriq

یہ اُن دِنوں کی بات ہے-35

شمالانگ تنگی سے اُترنے میں کافی دیر لگی ۔ نیچے میدان میں پہنچ کر گاڑیاں ایک لائن میں کھڑی ہو گئیں ۔ کچھ دیر بعد پہاڑوں پر فائیر ہوا اور پھر آہستہ آہستہ کم ہوتا گیا ۔ جس گاڑی میں ہم سوار تھے اُس میں اسلحہ بردار کم تھے اور جو تھے وہ بھی پہلی بار کوہلو جا رہے تھے ۔ اُن میں سے کچھ جوانوں کو دوسری گاڑیوں میں شفٹ کیا گیا اور ہماری گاڑی میں نئے لوگ آگئے ۔ فوجی رسم و رواج کے مطابق اُنہوں نے اپنا تعارف کروایا اور ہمارا حال احوال پوچھا ۔ اُن سے پتہ چلا کہ یہ پروٹیکشن پارٹی کے جوان ہیں جو صبح کاذب سے ہی  اپنی پوزیشنوں میں تعینات ہوتے تھے۔ طریقہ کار کے مطابق سپاہ اپنی پوزیشنوں پر فائیر کرتی ہے تاکہ کوئی دھشت گرد وہاں موجود نہ ہو اور پھر طے شدہ طریقے کے مطابق پوزیشنیں سنبھال کر سڑک کھلنے کا پیغام دیا جاتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق جب ہمارا قافلہ کوئٹہ سے روانہ ہُوا تھا تو اُس سے ایک گھنٹہ پہلے لورالائی سے کوہلو اور دوسری جانب دکی ، بارکھان اور ڈیرہ غازی خان جانیوالی سڑکوں پر حفاظتی دستے تعینات ہو چکے تھے۔ عام شہری اِس بات کا اندازہ نہیں کر سکتا کہ فوج کی نوکری کتنی سخت جان اور پر مشقت ہے۔ شمالانگ آپریشن کے بعد کوہلو اور گرد ونواح کے علاقوں میں دھشت گردوں کا کوئی ٹھکانہ تو نہ تھا مگر اِکا دُکا کاروائیوں کے  خلاف حفاظتی اقدامات بھی ضروری تھے۔ رات دس بجے کے قریب  جب ہم اپنی یونٹوں میں پہنچے  تو سب لوگ سو رہے تھے ۔  سنتری کو اپنی شناخت کروائی تو اُس نے مجھے ایک بنکر میں بستر لگانے کی جگہ دی۔ بنکر میں دو لوگ پہلے سے سوئے ہوئے تھے۔ سنتری نے مجھے مسجد ، پانی کے ٹینک اور واش روم کی جگہ بتائی جو قریب ہی تھی۔ تھوڑی دور ایک ٹیکری سے کچھ لوگوں کی آوازیں آ رہی تھیں ۔ پتہ چلا کہ یہ سگنل سینٹر ہے جہاں رات کی ڈیوٹی پر معمور افراد اپنا کام کر رہے تھے۔
میں نے کوہلو میں دو ماہ گزارے۔ کوہلو ایک خوبصورت وادی ہے۔ تین اطراف بلند پہاڑ ہیں ۔ ایک طرف دکی ، بارکھان اور پھر ڈیرہ غازی خان ہے اور دوسری جانب وادی کبھی تنگ اور کئی مقامات پر وسیع ہو جاتی ہے۔ اس علاقہ میں آبادی انتہائی کم ہے۔ یہ علاقہ بلوچوں کا ہے جو آگے جا کر پختون علاقے سے ملکر افغان سرحد پر ملتا ہے۔ کوئٹہ کی جانب بلند اونچے اور خشک پہاڑ ہیں ۔ کوئٹہ آنے کا راستہ لورالائی سے ہو کر گزرتا ہے جو شمالانگ پہاڑ سے گزر کر شمال سے مُڑ کر جنوب کی طرف نکلتا ہے۔ شاید یہی وجہ تھی کہ دھشت گردوں نے شمالانگ ٹاپ پر اپنا مرکز قائم کیا جو سارے علاقہ پر نظر رکھنے کے علاوہ کوئٹہ اور دوسری طرف ڈیرہ غازی خان تک کے راستوں پر دھشت گردی کی کاروائیوں کیلئے محفوظ مقام  تھا ۔
اُن دِنوں کوہلو کے ڈسٹرکٹ ہسپتال کو فوج اچھی حالت میں لانے کی کوشش کر رہی تھی ۔ جس ٹیکری پر ہماری کمپنی تعینات تھی اُس کے ایک طرف لینڈنگ سٹرپ ، ھیلی پیڈ اور باداموں کا وسیع باغ تھا۔ ھیلی پیڈ کے دوسری جانب پہاڑ کے نیچے چشمے تھے جن کا پانی نالے کی صورت میں مغرب کی طرف بہتا تھا۔ اسی طرح شمالانگ پہاڑ سے منسلک سلسلہ کوہ تھا چشموں کی وجہ سے باغات کا ایک طویل سلسلہ وادی کی رونق میں اضافہ کرتا۔ اُن دِنوں سردیاں تھیں اور باغات خشک منظر پیش کر رہے تھے مگر ہمارے ساتھیوں نے بتایا کہ تھوڑے دِنوں بعد وادی کوہلو پھولوں اور خوشبووٗں کی وادی بن جائیگی ۔ کوہلو میں سرکاری عمارتوں کے علاوہ کچھ سرداروں کے مکانات بھی تعمیر ہو چکے تھے اور کچھ زیر تعمیر تھے۔ ترقیاتی کام زوروں پر تھے جن میں پیپلز کالونی بھی شامل تھی ۔ چند روز بعد مجھے بھی سگنل سنٹر میں کام کا موقع ملا جو سارے صوبے میں ہونے والی مختلف انتظامی اور فوجی کاروائیوں کے متعلق اطلاعات کا مرکز تھا۔ ڈیرہ غازی خان سے روزنامہ جنگ اور مساوات کے علاوہ پاکستان ٹائم کے بنڈل آتے اور پھر مختلف یونٹوں کے چھٹی رساں  اپنی اپنی ڈاک لے جاتے۔ اِن کے آنے سے پہلے جو لوگ اخبار پڑھنے کے شوقین تھے وہ اخبارات کا مطالعہ کرتے اور پھر ساری شفٹ سیاست ، معیشت اور دیگر امور پر بحث کرتی ۔ کوئی بھٹو کا حامی تھا اور کوئی ولی خان کا ، کسی کو دونوں ناپسند تھے۔ گل محمد ، نیک محمد اور امیر عبداللہ خان نیازی سگنل سنٹر کا تھنک ٹینک تھے۔ گل محمد کا تعلق کوٹ فتح خان چکوال سے ، نیک محمد کا تعلق ملتان سے اور سگنل مین امیر عبداللہ خان نیازی کا تعلق واں بچراں میانوالی سے تھا۔ خبروں پر تبصروں کے بعد تینوں میں ہلکی پھلکی جنگ ہوتی۔ نائیک محفوظ کا تعلق راولا کوٹ اور فقیر محمد کا تعلق ہجیرہ سے تھا۔ دونوں صلح صفائی کے ماہر تھے۔ ایسے معرکے رات کی شفٹ میں ہوتے ۔ محفوظ شفٹ انچارج ہوتا اور فقیر محمد وائیرلیس سسٹم میں موسمیاتی شور کی وجہ سے فارغ ہوتے ہی گل محمد کے ساتھ ملکر چاہیے کا انتظام کرتا۔ چائے کے بعد عالمی حالات پر تبصرہ ہوتا تو گل محمد کرسی پر بیٹھے بیٹھے نیند پوری کر لیتا ۔ عبداللہ اور نیکا (نیک محمد) نے ایف اے پاس کر رکھا تھا اور کالج یونین کے عہدیدار بھی رہے تھے۔ عبداللہ مولانا عبدالستار خان نیازی اور نیکا بھٹو کا پرستار تو تھا مگر پارٹی پالیسیوں کو پسند نہ کرتا تھا۔


موجودہ دور کے سیاستدانوں ، دانشوروں اور صحافیوں کی ذہنی سطح دیکھ کر نیکا، گلا، عبداللہ ، محفوظ اور فقیر محمد یاد آجاتے ہیں جو ان سے بڑھ کی زیرک ، دور اندیش ، حالات پر نظر رکھنے والے معاملہ فہم اور مدبر تھے۔ عبداللہ نے امریکی آئین از بر کر رکھا تھا۔ وہ فالتو وقت میں تاریخ اور فلسفے کی کتابیں پڑھتا یا پھر پینٹنگ کرتا ۔ بعد میں وہ فوج چھوڑ کر امریکہ چلا گیا ۔ اسے انڈے اور مرغے لڑانے کا بھی شوق تھا جس کیلئے اُسکا شہر واں بچراں ساری دنیا میں مشہور ہے۔ وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو اور گورنر اکبر بگٹی کوہلو ڈیرہ بگٹی ، سبی ، خضدار اور بلوچستان کے مختلف علاقوں کا دورہ کرتے جس کی خبریں اخباروں کی زینت بنیں ۔ نیکا خبریں پڑھ کر مختصر تبصرہ کرتے ہوئے کہتا بھائی سب ڈرامہ ہے۔ عبداللہ کہتا سب خیر تھیسی اور گلا مختصر تبصرے سے گریز کرتا۔ اخباروں کے علاوہ بھی خبریں ملتیں جو سیاستدانوں اور فوجی افسروں کے درمیان ہونے والی گفتگو کے متعلق ہوتیں۔ اُن دِنوں بلوچستان کراچی کور کی ذمہ داری میں تھا اور جنرل راجہ اکبر خان کو ر کمانڈر تھے۔ کوئٹہ میں ایک ہی ڈویژن تھا اور کمانڈر میجر جنرل عبداللہ سعید تھے۔ دونوں نے بھٹو صاحب کو مشورہ دیا کہ دھشت گردی کے خاتمے کیلئے فوجی ایکشن کافی نہیں۔ سوائے چند شہروں کے بلوچستان کی ساری آبادی ایک وسیع اور دشوار گزار خطے پر پھیلی ہوئی ہے۔ عوام کو حکومت اور ریاست کی اہمیت کا پتہ ہی نہیں اور نہ ہی اُنھیں قانون اور آئین کی پاسداری کا احساس ہے۔ تعلیم ، صحت اور روزگار کے نام سے قبائل واقف ہی نہیں ۔ جڑی بوٹیوں ، ٹونے ٹوٹکوں کے علاوہ گائے، بکری اوربھیڑ کے دودھ سے ہر مرض کا علاج کیا جاتا ہے۔ وڈیرہ اور سرداران کا حکمران ہے جسے کبھی ان لوگوں نے دیکھا ہی نہیں ہوتا ۔ یہی وڈیرے اور سردار حکومت میں بھی ہوتے ہیں اور حکومت مخالف بھی رہتے ہیں ۔ انھیں ملنے والے فنڈ کا کبھی ایک روپیہ بھی اِن قبائیلیوں پر خرچ نہیں ہوتا۔ وڈیرے اور سردار کوئٹہ ، کراچی ، ملتان ، لاہور اور اسلام آباد کے علاوہ بیرون ملک رہتے ہیں ۔ پہلے یہی لوگ انگریز کے مراعات یافتہ تھے اور پاکستان بننے کے بعد حکومتِ پاکستان نے ہر سردار کے ساتھ الگ الگ معائدہ کیا تاکہ ان کی مراعات اور سہولیات پر آنچ نہ آئے۔ ان کے علاقوں سے نکلنے والے کوئلے ، قدرتی گیس ، سنگِ مرمر، جپسم اور دیگر معدنیات کی انھیں رائلٹی ملتی ہے۔ کوئٹہ ، سبی اور قلات کے تعلیمی اداروں پر سردار (BSO)بلوچ سٹوڈنٹ آرگنائزیشن کے ذریعے کنٹرول کرتے ہیں ۔ ضروری ہے کہ سرداروں ، وڈیروں اور مقامی علماٗ جن کی تعداد بہت کم ہے کے علاوہ سول انتظامیہ کی مشترکہ کوششوں سے تعلیم، صحت ، رسل و رسائل اور دیگر فلاحی منصوبوں کا آغاز کیا جائے۔ بارشوں کے سیلابی پانی کو چھوٹے بڑے ڈیموں میں جمع کیا جائے تا کہ بنجر زمینوں کو آباد کیا جا سکے ۔ انگریز کے سروے کے مطابق بلوچستان کی مٹی پھلوں، سبزیوں خاص کر پیاز اور کپاس کیلئے انتہائی موزوں ہے۔ پہاڑوں پر مقامی لوگوں کی مدد سے زیتون کاشت ہو سکتی ہے سارے بلوچستان میں دُنیا کا بہترین انگور ، سیب ، انار ، چیری ، شہتوت ، خوبانی اور صحرائی علاقوں میں رینٹھا ، شریفہ اور دیگر نقد آور فصلیں پیدا ہو سکتی ہیں ۔ قلات ڈویژن اور ساحلی علاقہ کھجور کیلئے مشہور ہے مگر کسانوں اور باغبانوں کے پاس وسائل نہیں کہ وہ پیداوار بڑھا کر اسے ملکی اور غیر ملکی منڈیوں تک لے جا ئیں۔
بلوچستان کی ترقی اور خوشحالی کے کئی راستے ہیں جنکا تعین برٹش انڈین گورنمنٹ نے 1920ء سے پہلے ہی کر رکھا تھا۔ انگریزوں نے ارضیاتی سروے کا مرکز کوئٹہ میں قائم کیا اور مختلف علاقوں کی مٹی کی پیداواری صلاحتیں بھی جانچ رکھی تھیں ۔ بد قسمتی سے پاکستان بننے کے بعد کسی نے اسطرف توجہ نہ دِی اور ہر دور میں حکمرانوں نے صرف سرداروں کی خوشنودی کو ہی کافی سمجھا۔
بلوچستان میں اصلاحات اور امن کے قیام کیلئے ایک تجویز یہ بھی تھی کہ سارا وان اور جھالاوان کے اہم سرداروں پر مشتمل ایک مستقل کمیٹی قائم کی جائے اور سرداروں نقد رقوم دینے کے بجائے اُنھیں ترقیاتی کاموں کی نگرانی سونپ دی جائے تا کہ وہ اپنے قبیلوں کی معاونت سے ترقی کا سفر طے کریں ۔ بدلے میں سرداروں کو قومی اسمبلی اور سینٹ کے ممبران جیسی سہولیات اور مراعات دی جائیں جو مستقل بنیادوں پر ہوں جیسے انگریز کے دور میں سرداروں کو مستقل وظائف دیے جاتے تھے۔ لیویز یعنی مقامی پولیس سردار کے سامنے جواب دہ اور علاقے میں امن و امان قائم کرنے کی ذمہ دار تھی۔ لیوی کا کمانڈر جمعدار کہلاتا تھا جو موروثی ہوتا۔ تجویز یہ تھی کہ جمعدار کو لیویز کا کپتان بنا دیا جائے اور اُس کی تنخواہ اور مراعات میں اضافے کیساتھ لیویز کے جوانوں کو بہتر تنخواہ ، علاج معالجے کی سہولیات ، پنشن ، بچوں کی مفت تعلیم اور بہتر اسلحے سے لیس کیا جائے۔
صوبہ سرحد کی طرح’ بی ‘ ایریا کو فاٹا کا درجا دیا جائے تا کہ ترقیاتی کام مرکزی حکومت کی نگرانی میں ہوں ۔ دراصل یہ ساری تجویزیں انگریز کی مستقبل کی پالیسیوں کا حصہ تھیں جسے بہتر کرنے کے بجائے نظر انداز کر دیا گیا۔ وقت گزرنے کے ساتھ حالات خرابی کی طرف گامزن رہے اور حکومتیں حالات پر قابو پانے کی صلاحیتوں سے محروم ہو گئیں ۔ افغان مہاجروں اور ایرانی انقلاب نے فرقہ واریت ، قبائیلی تعصب اور حقوق کے نام پر تشدد کو ایسی ہوا دِی کہ بلوچستان کے ساتھ ساتھ سارے ملک میں نفرت اور دھشت گردی کی آگ لگا دِی۔
‘اے’  اور ‘بی’  ایریا دو دشمن ملکوں کی سرحدوں میں تبدیل ہوگئے ۔ سمگلروں اور پاکستان مخالف تحریکوں نے بھارت سمیت ساری دُنیا کی دھشت گرد تنظیموں سے روابط قائم کیے ۔
بھٹو دور میں کچھ اصلاحات ہوئیں جو آٹے میں نمک کے برابر تھیں ۔ بولان میڈیکل کالج ، خضدار میں سائنس کالج اور بعد میں یونیورسٹی کا قیام ، پٹ فیڈر کینال کا منصوبہ ، گڈو تھرمل پاور پلانٹ اُسی دور کے منصوے ہیں ۔ آبپاشی کیلئے ڈیموں پر تو توجہ نہ دی گئی مگر کچھ علاقوں میں بڑے بڑے تالاب اور کانک ویلی ، خضدار اور قلات میں ٹیوب ویل نصب کئے گئے۔ سنا تھا کہ دریائے ناڑی اور ہرنائی پر ڈیموں کی بھی تجویز ہے مگر سیاسی ہلچل کی وجہ سے منصوبے مکمل نہ ہو سکے۔ اسی طرح سیاحتی مقامات کے بھی منصوبے تھے جن سے دورِ حاضر کے حکمران واقف بھی نہ ہونگے ۔ اِن منصوبوں کا ذکر کوئٹہ کے مقامی اخباروں میں ہی ہوتا ۔ میں نے کبھی کسی بڑے اخبار میں اسکا احوال نہ پڑھا ۔ کوئٹہ کے مقامی اخبار کو ہلو کے چھپر ہوٹلوں پر آتے جنھیں فوجی جوان ہی پڑھتے۔ کبھی کبھی میں بھی عبداللہ ، گل محمد یا پھر فقیر محمد کیساتھ خضدار بازاری میں تھڑے پر بیٹھ کر بکری یا گائے کے دودھ کی چائے سے لطف اندوز ہوتا۔ بازار میں لیویز کا گشت ہوتا ۔ بلوچی بڑی تعداد میں بازار میں گھومتے اور سودا سلف خرید کر لے جاتے۔ کوہلو میں ایک جگہ قبائلی اپنی بھیڑ بکریاں بیچنے بھی آتے جنھیں ڈیرہ غازی خان ، دکی اور لورالائی سے آئے بیو پاری اور ایف سی کے ٹھیکیدار خرید کر لے جاتے۔ ہو سکتا ہے کہ فوج کو گوشت سپلائی کرنے والے ٹھیکیدار بھی ان بلوچوں سے ہی مویشی خریدتے ہوں ۔


مویشی منڈی اور چھپر ہوٹل قبائل ، سول انتظامیہ اور فوج کے درمیان رابطے اور بھائی چارے کا ذریعہ بن گئے ۔ کوہلو بازار میں کبھی کسی قبائلی کو ہتھیار بند نہ دیکھا جبکہ پختونخواہ کے سابق فاٹا اور پاٹا میں کوئی بھی شخص ہتھیار کے بغیر گھر سے نہیں نکلتا۔ کوہلو بازار میں بلوچی دائرے کی شکل میں چٹائیوں پر بیٹھ کر چائے پیتے اور دھیمے انداز میں گفتگو کرتے۔ بلوچی ہمیشہ سفید لباس پہنتے ۔ آسودہ حال بلوچی ویسٹ کوٹ اور بھاری پگڑی سر پر رکھتے ۔ میں نے ایک بلوچ لڑکے سے پوچھا تو پتہ چلا کہ اچھی پگڑی بائیس گز کپڑے کی اور شلوار قمیض پندرہ گز سے تیار ہوتی ہے۔ شاید اسی لیے عام لوگ سر پر بلوچی ٹوپی رکھتے ہیں ۔ کوہلو کے مختصر قیام کے دوران میں ایک بار دکی اور ڈیرہ غازی خان کے سرحدی علاقے تک گیا ۔ جلد ہی کوہلو کے علاقہ میں ایف سی ، لیویز اور سول انتظامیہ نے اپنا کام شروع کر دیا ۔ فوج کے بجائے ایف سی نے سڑکوں کی حفاظت کا ذمہ لیا تو ہمارا بریگیڈ دو دِن کی مسافت کے بعد واپس کوئٹہ آگیا۔
کوئٹہ آتے ہی کانک ویلی میں سرچ آپریشن شروع ہو گیا جو ایک ہفتہ تک جاری رہا ۔ہمارا بریگیڈ لک پاس سے مستونگ میں داخل ہوا اور چلتن پہاڑ کے دامن سے ہوتا ہوا مری سینی ٹوریم کے علاقہ سے گزر کر واپس کوئٹہ آگیا ۔ کانک کا علاقہ ذرخیز ہے۔ اِس علاقہ میں باغات کے علاوہ گندم اور جو کی فصل ہوتی ہے۔ پیاز اور دیگر سبزیاں یہیں سے کوئٹہ کی منڈی میں آتی ہیں ۔ آبادی کم ہے جو بڑیچ پختون قبیلے پر مشتمل ہے ۔ لوگ تعلیم یافتہ اور سلجھے ہوئے ہیں ۔ اُن دِنوں اِس علاقہ میں سکول بھی تھے۔ ہو سکتا ہے کوئی کالج بھی موجود ہو جو میں نے نہیں دیکھا۔ کوئٹہ کالج اور یونیورسٹی میں جانے والے طلباٗ صبح سویرے بسوں پر سوار کوئٹہ جاتے تھے۔
اِس سرچ آپریشن میں ڈپٹی کمشنر کوئٹہ کے علاوہ ایف سی اور لیویز نے بھی حصہ لیا۔ ڈپٹی کمشنر ہر روز بریگیڈ ہیڈ کوارٹر آتا اور شام تک یہاں رہتا۔ سرچ آپریشن در اصل فلیگ مارچ تھا تا کہ علاقہ کی سول آبادی کو تحفظ کا یقین دلانے کے علاوہ دھشت گردوں کو بھی پُر امن رہنے کا پیغام جائے۔ مری سینٹی ٹوریم کے علاقہ میں بریگیڈ جمع ہوا تو میں نے اپنی وائرلیس جیپ کے سامنے ایک سنتری دیکھا۔ جیپ کے سامنے آزاد کشمیر رجمنٹ کی گاڑیاں کھڑی تھیں ۔ یہ سنتری اِن ہی گاڑیوں کی حفاظت پر تعینات تھا ۔ غور سے دیکھا تو یہ نوجوان میرے علاقہ کا سپاہی رفیق تھا جو بعد میں صوبیدار کے عہدے سے ریٹائر ہوا۔ رفیق کو پہچانتے ہی میں اُسے ملنے گیا تو وہ حیران ہوا۔ اُس کے دوسرے ساتھی نے اس کی جگہ لی اور ہم ایک طرف پتھروں پر بیٹھ کر اپنی اپنی داستان سنانے لگے۔ رفیق کے ہاتھوں پر مہندی لگی تھی مگر وہ رنجیدہ تھا ۔ کہنے لگا کہ اُس کی پہلی بیوی سے علیحدگی کے بعد دو ہفتے ہی گزرے ہیں وہ دوسری شادی کے بعد واپس آیا ہے۔
کوئٹہ واپس آتے ہی ہمارا بریگیڈ مچھ چلا گیا چونکہ اب دھشت گردوں نے اس علاقہ کا رُخ کر لیا تھا ۔ مچھ سے سبی، ہرنائی ، شارگ ، پیر کوہ ، پتھر نالہ، خوست ، کشمور ، سوئی اور ڈیرہ بگٹی کی سیر کرتے ہوئے تین سال کا عرصہ پلک جھپکتے گزر گیا اور میری عارضی نوکری کے چار سال بھی پورے ہو گئے ۔ مچھ کے بعد میں کبھی اپنی کمپنی یا بریگیڈ کے ساتھ نہ رہا۔ سارا سفر ریلوئے اسٹیشنوں ، ویران جگہوں اور دیگر فوجی یونٹوں کے ساتھ گزرا۔ سوائے کشمور (سندھ) جہاں میں چھ ماہ سے زیادہ عرصہ تک رہا باقی کسی بھی جگہ دو یا تین ماہ سے زیادہ رکنے کا موقع نہ ملا ۔
اِسی دوران میں نے بلوچستان کے ایسے دشوار گزار اور ویران علاقے دیکھے جن کا کوئی نام ہی نہیں اور نہ کبھی اِن علاقوں سے کوئی انسان گزرا ہے۔ انفنٹری کے افسر اور جوان جن کے ساتھ میں نے یہ سفر کیے قابلِ تعریف ہیں جن کے چہروں پر کبھی تھکاوٹ ، مایوسی یا محرومی کے آثار نظر نہ آئے۔

—جاری ہے —-

 

سابقہ قسط پڑھنے کے لیے یہاں کلک  کریں  https://www.tarjumanemashriq.com/ayub-77/

Exit mobile version