مچھ کوئٹہ سے زیادہ دور نہیں مگر احتیاطی تدابیر کے مدِ نظر ہم رات کے وقت مچھ جیل کے سامنے وسیع گراونڈ میں اُترے۔ گراونڈ کے سامنے بیرکوں کی ایک لائن تھی جس میں جیل پولیس اور دیگر عملہ رہتا تھا ۔ بہت سی بیرکیں خالی تھیں جس میں ہماری کمپنی کو ٹھہرایا گیا۔ بیرک کے ایک کونے پر مسجد اور آگے ڈیزل سے چلنے والا پاور ہاوٗس تھا جو مچھ جیل اور ٹاوٗن کو بجلی فراہم کرتا ۔ دوسرے کونے پر پیپل کا درخت اور نیچے ایک بڑا دریا تھا جو سارا سال بہتا تھا۔ دریا سلسلہ کوہ مردار سے نکلتا اور جیل کی شمالی دیوار سے کوئی دو سو گز کے فاصلے پر بہتا پہاڑ کی جانب جاتا اور پھر نیم دائیرے کی شکل میں آبِ گم ریلوے اسٹیشن سے پہلے زیر ِ زمین چلا جاتا ۔ آبِ گم اور مشہور آٹھ نمبر سرنگ کے درمیان ایک ریلوے اسٹیشن ہے جہاں ایمرجنسی کی صورت میں گاڑی مین لائین سے ہٹا کر کھڑی کی جا سکتی ہے۔ آبِ گم اور آٹھ نمبر سرنگ کے قریب واقع ریلوے اسٹیشن کے قریب خشک دریا پر لوہے کا پُل ہے چونکہ برسات کے موسم میں یہ دریا پبھر جاتا ہے۔ آبِ گم کے قریب زیر زمین جانے والا دریا اِسی نالے کی تہہ سے گزرتا جنوب کی سمت تین چار کلو میٹر کے فاصلے اور کئی سو فٹ گہرائی پر پھر نمودار ہوتا ہے۔ اس جگہ پر ایک گاوٗں واقع ہے اور درختوں کے کئی جھنڈ ہیں جو دریا کے ساتھ جنوب کی طرف چلے جاتے ہیں ۔ آٹھ نمبر سرنگ کے بعد سبی کی جانب پنیر ریلوے اسٹیشن اور ایک طویل پل ہے جس کی لمبائی تین سو گز ہے۔ دریا کا پاٹ کہیں میلوں چوڑا اور کہیں دو تین سو گز سے زیادہ نہیں ۔ یہ دریا پنیر سے شمال مغرب سے ہوتا طویل فاصلے پر کوہ مردار کے مشرق سے گھومتا ہرنائی اور کوئٹہ کے درمیان واقع پہاڑی سلسلے سے ملتا ہے۔ پنیر ریلوے اسٹیشن کے آخری کونے اور پل سے تھوڑا پہلے ہم نے وائیرلیس جیپ کھڑی کی اور اگلے تین ماہ تک یہاں قیام کیا جس میں آٹھ روزہ سرچ آپریشن بھی شامل تھاجو دریائے پنیر کے ساتھ ساتھ شمال کی طرف کیا گیا۔ یہ علاقہ سبی، کوئٹہ ، ہرنائی اور آگے چل کر کوئٹہ اور لورالائی تک چلا جاتا ہے۔ سرچ آپریشن میں فرنٹیر فورس رجمنٹ کی ایک کمپنی ، ایف سی بلوچستان اور لیویز کے جوان شامل تھے۔
لیویز کے جوان گائیڈ تھے اور اُنہیں علاقے سے واقفیت تھی۔ یوں لگتا تھا جیسے اُن کا یہاں آنا جانا رہتا ہے ۔ راستے میں جتنی بستیاں ملیں ، پکنک سپاٹ نظر آئے ، پانی کے چشمیں دیکھے انھہوں نے رُک کر بلوچ چرواہوں کا حال احوال پوچھا ۔ یہ سفر بیس پچیس میل سے کم نہ تھا ۔ تین روز بعد ایک مقام پر پہاڑ بلنداور دریا کئی چھوٹے چھوٹے نالوں کی شکل اختیار کر گیا۔ حیرت کی بات یہ تھی کہ سارے راستے میں شکاری کیمپوں اور پکنک منانے والوں کے آثار موجود تھے جہاں علاقہ کے سردار ، وڈیرے اور اُن کے مہمان تنہائی میں شغل میلہ کرتے اور قدرت کی رعنائیوں کا مزہ لیتے ۔ دریا کے آخری کونے پر ضلع بولان کی حد ختم ہوتی تھی اور مچھ لیویز اس سے آگے نہیں جا سکتی تھی۔ دریا کے دونوں جانب تھوڑے تھوڑے فاصلے پر درختوں کے جھنڈ اور سبزہ تھا ۔ اسی طرح پانی کے چشمیں بھی موجود تھے ۔ شکاری اور پکنک منانے والے اونٹوں یا پھر جیپوں پر آتے اور مختصر قیام کرتے ۔ موجودہ حالات کے تناظر میں دیکھا جائے تو ایسے علاقے ، دھشت گردوں کیلئے انتہائی موزوں اور محفوظ ہیں ۔ بولان کا علاقہ ایک طرف ہرنائی اور زیارت تک چلا جاتا ہے اور دوسری جانب جنوب مغرب میں کوہ کیر تھر سے جا ملتا ہے۔ شمال مغرب میں ٹکاٹو اور چلتن پہاڑ ملکر وادی کوئٹہ کو اپنے حصار میں لیتے ہیں جبکہ مچھ اور کوئٹہ کے درمیان کوہ مردار کا پہاڑی سلسلہ ہے جو شمال اور جنوب میں اسی پہاڑی سلسلے سے ملتا جنوب میں قلات تک چلا جاتا ہے۔
مچھ آتے ہی میں اور ظفر عالم اسی طرح کے ایک سرچ آپریشن پر گئے جو ایک دِن کی مسافت پر تھا ۔ یہ سارا علاقہ ویران تھا جس میں کوئی چرواہا نظر نہ آیا ۔یہاں ایک دریا تھا جیسے لوگ دریائے بولان اور کچھ مچھ دریا بھی کہتے تھے۔ یہ علاقہ کوہ مردار کی پشت پر واقع ہے جہاں کوئلے کی کانوں کا ایک سلسلہ موجود تھا۔ کوئلے کی کانوں میں کام کرنے والے مزدوروں کی اکثریت کا تعلق آزاد کشمیر، ضلع ہری پور ، مانسہرہ ، کوہستان اور کوئٹہ سے تعلق رکھنے والے ہزارہ قبیلے سے تھا جبکہ کوئٹہ سبی ، دالبندین ، ہرنائی چمن اور قلعہ سیف اللہ سیکشن پر چھوٹے اور تقریباً ویران ریلوے اسٹیشنوں کے اسٹیشن ماسٹر اہل زبان یعنی اردو بولنے والے تھے۔ ان سیکشنوں پر زیادہ تر پرانے لوکو موٹو انجن چلتے تھے جن کے ڈرائیور اور فائیر مین مقبوضہ کشمیر سے تعلق رکھنے والے کشمیری تھے۔ ریلوے کے لائن مینوں اور دیگر عملے میں بھی زیادہ تعداد اُن ہی لوگوں کی تھی جبکہ اکا دکا بلوچ بھی عملے میں شامل تھے ۔ مجھے ان سیکشنوں پر کوئی پٹھان نظر نہ آیا ۔ بلوچی عملے کا تعلق قریبی بلوچ بستیوں سے تھا جن کے باپ دادا انگریزوں کے دور سے ریلوے کے ملازم رہے تھے ۔ ان ورکروں کی یہ تیسری یا چوتھی نسل تھی جو ریلوے کی ملازمت میں تھی۔ ہماری ایک واقف کار اور انتہائی حسین و جمیل ڈاکٹر نادرہ کے والد بھی انجن ڈرائیور تھے ۔ ڈاکٹر نادرہ ہمارے دوست مرحوم ڈاکٹر حنیف کی کلاس فیلو اور دوست تھی۔ حنیف مرحوم کا تعلق راولا کوٹ اور نادرہ کے آباو اجداد تقسیم سے پہلے جموں سے بسلسلہ روزگار سبی آئے اور پھر یہیں کے ہو گئے۔
میرے سکول کے دِنوں میں ظفر نامی ایک لڑکا کالاڈب سے مستری حنیف مرحوم کے ساتھ آتا تھا۔ ظفر بلوچی سٹائل میں اردو بولتا تھا ۔ پتہ چلا کہ وہ کالا ڈب اپنے ماموں کے پاس ٹھہرا ہوا ہے۔ اُسکا والد راجہ محمد خان ریلوے میں انجن ڈرائیور ہے اورکوئٹہ سے دور دالبندین میں رہتا ہے۔ ظفر اپنی والدہ اور بہنوں کے ساتھ کچھ عرصہ کالاڈب رہا اور پھر واپس کوئٹہ چلا گیا۔
1998ء میں میری پوسٹنگ خضدار میں تھی ۔ میں اپنی فیملی کے ہمراہ بزریعہ ریل جہلم آ رہا تھا کہ اچانک کوئٹہ ریلوے اسٹیشن پر مجھے ظفر نظر آگیا ۔ وہ لوکوموٹو شیڈ کی طرف سے آرہا تھا ۔ میں نے اُسے روک کر ہاتھ ملایا تو وہ گھبرا گیا ۔ میں نے اُسے بتایا کہ میرا تعلق اُسکے ماموں کے گاوٗں سے ہے جہاں تم ہمارے ساتھ پڑھتے تھے۔ ظفر نے مجھے پہچانا تو نہیں مگر ماموں کا نام سنکر مطمعن ہو گیا ۔ پتہ چلا کہ وہ اپنے والد کی جگہ انجن ڈرائیور ہے اور کوئٹہ تفتان سیکشن پر ریل گاڑی چلاتا ہے ۔ زندہ لوگ زندگی کے سفر میں کہیں نہ کہیں مل جاتے ہیں اور یاداشت اچھی ہو تو پہچان بھی لیتے ہیں۔ ڈاکٹر نادرہ سے 1988ء کے بعد کبھی ملاقات نہیں ہوئی البتہ خضدار سول ہسپتال میں تعینات ڈاکٹر فرحت چشتی سے پتہ چلا کہ وہ کوئٹہ میں ہی ہے اور ابھی تک دُلہن نہیں بنی۔
1974ء کی انسرجنسی اور موجودہ دھشت گردی میں زمین و آسمان کا فرق ہے جس کی بہت سی وجوہات ہیں جنھیں ہمارے اہل دانش و حکمت سمجھنے سے عاری ہیں ۔ 1974ء میں بلوچستان اور صوبہ سرحد میں جمعیت علمائے اسلام اور نیشنل عوامی پارٹی کی حکومت تھی ۔ ستیش کمار نے اپنی کتاب ‘‘ نیا پاکستان’’ میں اسکی وجوہات لکھی ہیں ۔ اس کے علاوہ بھی کچھ وجوہات تھیں جنکا تعلق سابقہ مشرقی پاکستان اورشیخ مجیب الرحمٰن سے جوڑا گیا تھا۔ اُس دور میں میڈیا ریڈیو اور اخبارات تک محدود تھا۔ ٹیلی وژن کا احاطہ محدود تھا اور عام لوگوں کو بلوچستان کے متعلق کچھ پتہ نہ تھا۔ فوجیوں کے خاندان بھی سمجھتے تھے کہ سبی اور کوئٹہ پنڈی اور اسلام آباد کی طرح جڑواں شہر ہیں ۔ ریل گاڑیوں پر سفر محفوظ تھا ، سڑکیں بھی کھلی تھیں ، لوگ تفتان کے راستے یورپ تک سفر کرتے تھے ، لوڈز ہوٹل کے سامنے ہیپیوں کے کاروان آتے اور جاتے تھے جس کی وجہ سے یہ ہوٹل فوجیوں کے لیے ممنوعہ علاقہ قرار دیا گیا تھا۔ ڈھاڈر اور زیارت میں لوگ جاتے اور کیمپنگ کرتے تھے ۔ ڈاڈر کے علاقہ میں ایک بار سرچ آپریشن بھی ہوا مگر کوئی انسرجنٹ نہ پکڑا گیا ۔ اس علاقہ میں رہیسانیوں اور رندوں کے درمیان چپقلش تھی جو قبائیلیوں کے درمیان ہمیشہ رہتی ہے۔
بلوچستان انسرجنسی کے دوران میں جتنے سرچ آپریشنوں کے ساتھ گیا وہ انتہائی طویل اور تین سے چار دِنوں کی مسافت پر تھے ۔ موسم کی شدت اور پھر مخالف سمت سے کارگر فائیر کا خوف ہمیشہ ذہن پر مسلط رہتا۔ میرے ساتھ سامان اُٹھانے والے دو سپاہی بھی ہوتے جو اپنا ہتھیار اور ذاتی سامان بھی اُٹھا کر چلتے مگر کبھی تھکن کا اظہار نہ کرتے ۔ رات کا کیمپ کسی ٹیکری یا بلند مقام پر ہوتا تا کہ دُشمن کیلئے اونچا مقام خالی نہ چھوڑا جائے۔
بلوچستان کے پہاڑوں میں دِن کے وقت انسان یا حیوان کم ہی نظر آتے ہیں ۔ کسی کسی جگہ جہاں پانی ہو وہاں دوپہر کے بعد بھیڑ بکریاں ، اونٹ اور چرواہے پہاڑوں اور وادیوں سے نکل کر آتے ہیں اور پھر واپس چلے جاتے ہیں ۔ بلوچستان کے پہاڑوں اور صحراوٗں کی راتیں انتہائی رومان پرور ہوتی ہیں ۔ مکمل خاموشی ، سکوت اور سکون ۔ سوائے سنتریوں کے ساری سپاہ مختف ٹولیوں میں سو جاتی تو نیچے میدانوں میں گیدڑوں اور بھیڑیوں کے غول نکل آتے اور مختلف سمتوں میں شکار کی تلاش میں چلے جاتے ۔ اِن کے بعد لومڑوں کی باری آتی اور کچھ وقفے کے بعد وہ بھی گیدڑوں اور بھیڑیوں کے پیچھے چلتے۔ پہاڑوں پر جہاں جہاں چرواہے ہوتے وہاں آگ کے آلاوٗ روشن ہوتے جو خوبصورت منظر پیش کرتے ۔ چاندنی راتوں میں چکور اُڑتے تو زندگی کا احساس ہوتا۔
اگر رات کہ وقت پہاڑوں پر آگ اور میدانوں میں درندے نظر نہ آئیں تو اسکا مطلب یہی ہوتا کہ اس علاقہ میں نہ پانی ہے اور نہ ہی انسان اور حیوان ہیں ۔ ایسا منظر نظر آنے پر خاصہ دار یا لیویز کے اہلکار مشن مکمل کا اعلان کر دیتے اور سرچ آپریشن ختم کر دیا جاتا ۔ میں ایسے دو سرچ آپریشنوں پر گیا جب دو راتوں کی مسافت کے بعد زندگی کے آثار نظر نہ آنے پر واپس آگئے۔ موجودہ دھشت گردی اور 1974ء کی انسرجنسی میں نمایاں فرق ہے۔ 1974ء کی انسرجنسی میں بیرونی مداخلت کم تھی۔ افغان حکومت روزِ اول کی طرح بھارت نواز تو تھی مگر طالبان کی طرح کھلی دُشمنی کا اظہار نہیں کر رہی تھی۔ تب تک سوویت یونین برقرار تھا ، شاہ ایران ہماری حمایت میں تھا اور امریکی مداخلت نہ تھی ۔ باغی عناصر کو سوشلسٹ بلاک کی حمائت حاصل تھی جسکا دائرہ محدود تھا ۔ عراق اور شام کا رویہ دوستانہ تو نہ تھا مگر زیادہ خطرناک بھی نہ تھا ۔ عرب امارات کی کوئی حیثیت نہ تھی جبکہ مصر، لیبیا، اردن ، سعودی عرب اور دیگر اسلامی ممالک پاکستان کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ 1973ء کی عرب اسرائیل جنگ کے بعد شام کے رویے میں بھی تبدیلی آ چکی تھی ۔ چین اور ترکیہ ہمیشہ کی طرح پاکستان کے دوست اور مددگار تھے ۔ مشرقی پاکستا ن کی علیحدگی کے باوجود بھارت مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکا اور نہ ہی بنگلہ دیش کو سکم ، حیدرآباد دکن ، مقبوضہ کشمیر اور جونا گڑھ کی طرح ہڑپ کر سکا۔
موجودہ دھشت گردی کو عالمی سطح پر پزیرائی مل رہی ہے۔ افغانستان کے علاوہ کچھ مسلم بردار ملک ، بھارت اور پاکستان مخالف خفیہ ادارے اور حکومتیں طالبان، بی ایل اے ، اور دیگر گروپوں کو ہر طرح کی امداد فراہم کر رہے ہیں جسکے ثبوت کئی بار حکومت پیش کر چکی ہے ۔
افغانستان دُنیا میں غیر قانونی اسلحے کا سب سے بڑا ڈپو ہے جہاں سابق سوویت یونین اور امریکہ کا چھوڑا ہوا جدید ترین اسلحہ، ایمونیشن اور دیگر جنگی ساز و سامان موجود ہے۔ افغان حکومت کے علاوہ قبائلی سرداروں ، دھشت گرد پاکستان مخالف تنظیموں اور عام لوگوں کو اس مہلک اسلحہ اور ایمونیشن تک رسائی حاصل ہے۔ افغانستان کے بھارت کے ساتھ دوستانہ تعلقات کا مطلب بھارت کیساتھ سفارتی ، تجارتی اور دفاعی تعلق رکھنے والے ممالک سے افغانستان کے غیر رسمی ، غیر سفارتی اور مفاداتی تعلقات کا قیام ہے۔
1974ء کی انسرجنسی کی سیاسی وجوہات تھیں جس کی وجہ سے ایک مخصوص طبقہ بغاوت پر اُتر آیا۔ موجودہ دھشت گردی ایک باقاعدہ جنگ ہے جسے افغانستان اور اس کے مفادات سے جڑے ممالک کی مکمل حمائت حاصل ہے ۔ پاکستانی قیادت کو یہ جنگ نہ صرف عسکری محاذ بلکہ سیاسی ، سماجی ، اخلاقی ، سفارتی اور زندگی سے جڑے سب ہی محاذوں پر لڑنی اور جیتنی ہو گی۔
مشہور مورخ ، سفر نامہ نگار ، شاعر اور ادیب جناب خالد احمد لکھتے ہیں کہ قیام پاکستان کے بعد ہم چند دوستوں نے جھیل سیف الملوک کی سیر کا پروگرام بنایا۔ راولپنڈی سے مانسہرہ اور کاغان تک کی مسافت ، مشکلوں اور مصیبتوں کے ذکر کے بعد لکھتے ہیں کہ ابھی جھیل تھوڑے فاصلے پر تھی اور مسلسل چڑھائی تھی ۔ آگے سے گجر بکر والوں کا قافلہ مانسہرہ کی طرف سفر کر رہا تھا ۔ میرے ساتھی آگے نکل گئے اور میں ان خانہ بدوشوں کے ساتھ بیٹھ کر اپنے آباو اجداد کی نسل تلاش کرنے لگا۔ خالد احمد کے مطابق اُن کے خاندان کا ابتدائی تعلق ایسے ہی خانہ بدوش گجر قبیلے سے تھا۔ اُن کا لکڑ دادا اُس دور کا مشہور ڈاکو اور رسہ گیر مگر اپنے علاقے میں با عزت ، باوقار اور معزز شہری تھا۔ لکڑدادیاں تو بہت تھیں مگر اُن کے دِل کے قریب سوما نامی خانہ بدوش حسینہ تھی جسکا تعلق سانسی قبیلے سے تھا ۔ تاریخ کے مطابق مہاراجہ رنجیت سنگھ کا تعلق سانسی جاٹوں کی نسل سے تھاجو سانپ، نیولے ، گیدڑ، لومڑ اور خار پشت جیسے جنگلی جانور شوق سے کھاتے ہیں ۔ مستنصر حسین تارڑ نے اپنی مشہور تصنیف ‘‘خش و خاشاک زمانے’’ میں سانسی جاٹوں کا مفصل احوال لکھا ہے جن کی نسل سے ایک سید زادہ برآمد ہوا ۔ تارڑ صاحب کے بقول یہ شاہ صاحب پاکستان کے مشہور ماہر معاشیات ہو گزرے ہیں ۔ خالد احمد لکھتے ہیں کہ میرے اندر کبھی کبھی بابا گوہر اور لکڑ دادی سوما کا خون جوش مارتا ہے۔ میں بکر وال گجروں کے ساتھ اسی خونی رشتے کی بو سونگھنے بیٹھا تو اُنھیں برادری ازم کی لغت سے مبرا پایا۔
اُن میں سب سے غلیظ اور بد بودار شخص کی نیت میں فتور تھا۔ شاید وہ مجھے لوٹنا چاہتے تھے ۔ میں نے اُس سے پوچھا کہ جھیل سیف الملوک کے پار آسمان کو چھوتے پہاڑ کا کیا نام ہے ۔ اُس نے کہا اسے شیشیہ پہاڑ کہتے ہیں ۔ بدر پری سیف الملوک کو اُٹھا کر شیشہ پہاڑ پر لائی تھی۔
اس پہاڑ پر کوئی چڑھا ہے۔ میرے پوچھنے پر اُن کا لیڈر بولا کوئی نہیں اور نہ ہی کوئی چڑھ سکتا ہے ۔ ہاں "قائد اعظم ؒ ” صرف قائدہ اعظمؒ چڑھ سکتا ہے۔ یہ سن کر میں سکتے میں آگیا۔
اِن عجب الخلقت، آجڑ ، خانہ ؓدوش ، جنگلی باسیوں کے ذھن میں قائد اعظم ؒ کا فوق البشری تخیل کیسے آگیا۔ اُن کیلئے قائد اعظم ؒ ایک داستانی اور دیومالائی ھیرو تھے۔ جو نہ سر ہونے والی چوٹیوں کو بھی سر کر سکتے تھے۔ اُن کے نزدیک قائداعظمؒ ہرکولیس اور سامسون جیسے دیوتاوٗں سے کم نہ تھے ۔ قائد اعظم ؒ کو اللہ نے نا ممکن کو ممکن اور نا مکمل کو مکمل کرنے کیلئے پیدا کیا تھا۔ لیڈر یا قائد بننے کا مقصد اقتداد حاصل کرنا ہرگز نہیں بلکہ لیڈر یا قائد کا کام عوام سے جڑے رہنا اور اُن کے مسائل حل کرنا ہے۔ اگر قائد اعظم ؒ نے نا مکمل کو مکمل اور نا ممکن کو ممکن کر دکھایا تو اُن کے جانشینوں پر فرض ہے کہ وہ اسے متحد ، محفوظ ، خوشحال اور باوقار بنانے میں کوئی کسر باقی نہ چھوڑیں ۔ آج بلوچستان سلگ رہا ہے جس کی تپش سارے ملک میں محسوس کی جا سکتی ہے ۔ قیادت کا کام اس آگ کو تدبر ، حکمت، اخلاق اور اخلاص کی تراوٹ سے ٹھنڈا کرنا ہے۔ موجودہ حالات ہماری سیاسی ، سماجی اور انتظامی کوتاہیوں کا نتیجہ ہے جسے اعلیٰ ظرف قیادت ہی درست کر سکتی ہے….جاری ہے ….
تمام سابقہ اقساط پڑھنے کے لیے لنک پر کلک کریں https://www.tarjumanemashriq.com/category/aina-e-guftar/
