لندن سے 78 میل کی مسافت پربرطانیہ کا ایک ساحلی شہر ڈوور (DOVER) اپنی سفید پہاڑیوں کی وجہ سے سیاحوں کے لیے خاص کشش رکھتا ہے،یہاں کی بندرگاہ یعنی سٹریٹ آف ڈوور آبنائے ڈوور کہلاتی ہے۔ یہ انگلش چینل کی سب سے تنگ آبنائے ہے جہاں سے فرانس کا سمندری فاصلہ صرف 21 میل ہے۔ اس کا شمار دنیا کی مصروف ترین بندرگاہوں میں ہوتا ہے کیونکہ انگلینڈ اور یورپ کے درمیان رابطے کا یہ سب سے قریبی اور آسان ذریعہ ہے۔ اس سمندری راستے سے ہر روز ہزاروں لوگ اور مال بردار بحری جہاز برطانیہ اور فرانس کے درمیان سفر کرتے ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق ہر سال گیارہ ملین سے زیادہ مسافر، تقریباً ڈھائی ملین لاریز (بڑے ٹرک/ٹرالر)، دو ملین سے زیادہ کاریں اور موٹر سائیکلیں اور 80 ہزار کوچز اس آبنائے سے دونوں ملکوں کے درمیان آتے جاتے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ 1606ء سے اس سمندری راستے پر بادبانی کشتیوں کی آمد و رفت کا سلسلہ شروع ہوا تھا۔فرانس اور انگلینڈ کے درمیان اس مختصر ترین سمندری راستے اور ڈوور پورٹ کی ایک اوروجہ شہرت وہ غیر قانونی تارکین وطن ہیں جو اس آبنائے کو کسی نہ کسی طریقے سے عبور کر کے فرانس سے برطانیہ آنے کی کوشش کرتے ہیں۔ غیر قانونی تارکین وطن کی بڑی تعداد دنیا کے مختلف ملکوں (خاص طور پر ایشیائی اور افریقی ممالک) سے یورپ میں داخل ہو کر فرانس پہنچتی ہے، جہاں سے وہ اپنی منزلِ مقصود یعنی انگلینڈ آنے کے لیے اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر کوئی نہ کوئی حربہ استعمال کرتی ہے۔ بہت سے غیر قانونی امیگرنٹس غیر محفوظ کشتیوں کے ذریعے ڈوور پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں جبکہ ہر سال ہزاروں تارکین وطن بڑے ٹرکوں اور لاریوں میں چھپ کر برطانوی حدود میں داخل ہوتے ہیں۔ بارڈر فورس اور امیگریشن کنٹرول کے عملے کی طرف سے بازیابی پر یہ غیر قانونی امیگرنٹس سیاسی پناہ طلب کرتے ہیں۔گزشتہ 7 ماہ کے دوران 14,561 غیر قانونی تارکین وطن چھوٹی کشتیوں کے ذریعے انگلش چینل عبور کر کے فرانس سے ڈوور پہنچے۔ ان میں سب سے زیادہ تعداد اریٹیریا اور افغانستان کے باشندوں کی تھی، جن کے بعد سوڈان، ایران اور صومالیہ کے تارکین وطن بالترتیب تیسرے، چوتھے اور پانچویں نمبر پر تھے۔ برطانیہ اور فرانس کے درمیان ایک معاہدے کے تحت ڈوور پہنچنے والے تارکین وطن کو واپس فرانس بھیجا جا سکتا ہے لیکن بعض شرائط کی وجہ سے تمام غیر قانونی امیگرنٹس کی برطانیہ بدری ممکن نہیں ہوتی۔گزشتہ چند برسوں کے دوران سینکڑوں تارکین ان چھوٹی کشتیوں کے انگلش چینل میں ڈوبنے سے ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ لاریوں میں چھپ کر برطانیہ پہنچنے کی کوشش میں بہت سے امیگرنٹس دم گھٹنے سے موت کی نیند سو چکے ہیں۔فرانس میں ہر سال ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ غیر قانونی تارکین وطن سیاسی پناہ کی درخواستیں دائر کرتے ہیں، جبکہ برطانیہ میں یہ تعداد تقریباً 60 ہزار سالانہ ہے۔ فرانس اور یورپ کے دیگر ممالک میں پہنچنے کے باوجود غیر قانونی تارکین وطن برطانیہ کا ہی رخ کیوں کرتے ہیں؟ اور اس کوشش میں ایک بڑی تعداد اپنی جان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتی ہے۔ آخر کس وجہ سے امیگرنٹس کے لئے یو کے ایک پر کشش ملک ہے؟ اس کی کئی وجوہ ہیں۔ پہلی بڑی وجہ تو یہاں غیر قانونی تارکینِ وطن کو ملنے والی مراعات ہیں،دوسری بڑی وجہ امیگرنٹس کی اکثریت لندن پہنچنے کی خواہش مند ہوتی ہے جو واقعی اب ایک ملٹی کلچرل شہر بن چکا ہے، انگریزی زبان بھی ایک وجہ ہے۔یونائٹیڈ کنگڈم میں غیر قانونی تارکین وطن کی بھر مار کے باعث اب یہ مسئلہ ہر سیاسی جماعت اور حکومت کے لیے تشویش کا باعث بنتا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں جو گرہیں پچھلی حکومتوں نے اپنے ہاتھوں سے لگائی تھیں اب انہیں موجودہ حکومت اپنے دانتوں سے کھولنے کی کوشش کر رہی ہے۔ گریٹ برطانیہ میں غیر قانونی تارکین وطن کی اصل تعداد کے اعداد و شمار تو دستیاب نہیں، لیکن ایک اندازے اور مختلف تنظیموں کے سروے کے مطابق اس وقت یہاں ایک ملین یعنی دس لاکھ سے زیادہ غیر قانونی تارکین وطن مقیم ہیں، جن پر حکومت کو تقریباً 4 بلین پاؤنڈز سالانہ کے اخراجات کرنے پڑتے ہیں۔ حکومت جب امیگرنٹس پر اس خطیر رقم کے اعداد و شمار جاری کرتی ہے تو مقامی لوگوں میں تارکین وطن کے خلاف ردِ عمل کا بیدار ہونا ایک فطری بات ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نائیجل فراج اور ان کی ریفام پارٹی اس عوامی ردِ عمل سے سیاسی فائدہ اٹھانے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں۔ یورپ کے دیگر خوشحال ملکوں کی طرح اب برطانیہ میں بھی امیگرنٹس کے خلاف عوامی جذبات کو سیاسی مفادات اور انتخابی مہم کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔برسرِ اقتدار لیبر پارٹی نے حکومت کی باگ ڈور سنبھالتے ہی اپنی امیگریشن پالیسی کو عوامی امنگوں سے ہم آہنگ کرنے کی ہر ممکن جستجو کی ہے اور اس ضمن میں غیر قانونی تارکین وطن کے برطانیہ میں داخلے کو روکنے اور یہاں پہلے سے موجود غیر قانونی امیگرنٹس کی ملک بدری کے لیے نئے قوانین اور ضابطے متعارف کرائے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ جو تارکین وطن گزشتہ چند سال کے دوران قانونی طور پر برطانیہ آئے اور انہیں یہاں مستقل سکونت یا شہریت دینے کے لیے نئی شرائط وضع کی گئی ہیں۔ ان تمام اقدامات کے باعث برطانیہ آنے والے غیر قانونی اور قانونی تارکین وطن کی تعداد میں کسی حد تک کمی آئی ہے۔ برطانیہ اب نئے تارکین وطن کے لیے کوئی مثالی اور پرکشش ملک نہیں رہا۔ اس کے علاوہ برطانوی شہریت رکھنے والے تارکین وطن نے اس ملک کے ویلفیئر سسٹم کو جو چونا لگایااور اس کا ناجائز فائدہ اٹھایا ہے، اس کی داستانیں آئے روز ذرائع ابلاغ کی زینت بنتی رہتی ہیں۔ جرم کوئی ایک فرد کرتا ہے لیکن اس کا خمیازہ پوری کمیونٹی کو بھگتنا پڑتا ہے۔ گزشتہ دنوں سیکس گرومنگ سکینڈل کے جس گینگ کو سزاوار ٹھہرایا گیا اس کی وجہ سے بھی پوری پاکستانی کمیونٹی شرمسار اور نادم ہے۔
آج کل یہ سوال بھی لوگوں سے بار بار پوچھا جاتا ہے کہ کیا انگریزوں پر برا وقت آیا ہوا ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ابھی توبرا وقت نہیں آیا، لیکن بریگزٹ کے بعد یورپی تارکین وطن کا جو سیلاب لندن اور برطانیہ کے دیگر شہروں میں آیا تھا، اس کے اثرات اب نمایاں ہونا شروع ہو چکے ہیں۔ تعلیم اور صحت کے شعبوں (این ایچ ایس) پر اس کا براہِ راست اثر پڑا ہے۔ سوشل سروسز اور بینیفٹ سسٹم کو دھچکا لگا ہے۔
گزشتہ چند برسوں کے دوران ورک پرمٹ پر برطانیہ آنے والے پاکستانی تارکین وطن کے لئے بھی اب یہاں کے حالات بہت زیادہ سازگار نہیں رہے۔ خاص طور پر لندن میں مقیم پاکستانی امیگرنٹس بڑی مشکل سے گزارہ کرتے ہیں۔ لندن میں گھروں، اپارٹمنٹس یا فلیٹس کے کرائے آسمان سے باتیں کرنے لگے ہیں اور پھر ویسے بھی برطانوی دارالحکومت کا شمار دنیا کے مہنگے ترین شہروں میں ہوتا ہے۔
جو لوگ بھی جائز یا ناجائز طریقے سے برطانیہ اور بالخصوص لندن آنے کے خواہش مند ہوں، انہیں کسی ایجنٹ یا انسانی سمگلروں کے کسی کارندے کے بہکاوے میں نہیں آنا چاہیے۔ یہ لوگ مجبوروں اور ضرورت مندوں سے مال بٹورنے کے لیے انہیں طرح طرح کے سبز باغ دکھاتے اور انہیں اُ لّو بناتے ہیں۔ ایسے ہزاروں بدقسمت تارکین وطن جو اپنی زندگی بھر کی کمائی اور جمع شدہ پونجی کو داؤ پر لگا کر یورپ یا برطانیہ پہنچے اور اب یہاں غیر قانونی امیگرنٹس کے طور پر حراستی مراکز میں مقیم اور ملک بدری کے منتظر ہیں، کوئی ان سے پوچھے کہ وہ کن صعوبتوں اور مصیبتوں سے گزرے اور اُن کے خواب کس طرح چکنا چور ہوئے۔انگریزوں پر یہاں برا وقت آیا ہے یا نہیں البتہ غیر قانونی تارکین وطن کے لیے یہاں اچھا وقت نہیں ہے۔ کسی ایجنٹ کے بہکاوے میں آنے اور اپنی جمع شدہ پونجی کو داؤ پر لگانے سے پہلے یہ ضرور سوچیں کہ اگر اپنا وطن چھوڑ کر بھی انہیں کوئی منزل نہ ملی تو ان کا مستقبل کیا ہوگا؟
