Tarjuman-e-Mashriq

جاوید اختر چودھری – ایک ہمہ صفت قلمکار

خدائے سخن میر نے کہا تھا
چشم ہو تو آئینہ خانہ ہے دہر
منہ نظر آتا ہے دیواروں کے بیچ
ابتدائے آفرینش سے دنیا دو قسم کے لوگوں سے بھری ہے۔ ایک وہ جو اس جہان سے سرسری گزر جاتے ہیں۔ جو پیدا ہوتے ہیں، کھاتے پیتے ہیں، نسل کَشی کرتے ہیں اور اس نیرنگ خانۂ دہر میں اپنا کوئی نقش قائم کیے بغیر رخصت ہوجاتے ہیں۔ دوسری قسم کے لوگ وہ ہیں جو دیدۂ بینا رکھتے ہیں۔ جو قطرے میں دجلہ اور ذرّے میں صحرا دیکھنے اور دکھانے کی صلاحیت کے حامل ہوتے ہیں۔ جن کی نوائے شوق حریمِ ذات میں شور بن کر گونجتی ہے۔ جن کے خونِ جگر سے معجزۂ فن کی نمود ہوتی ہے۔ ان میں کوئی شاعر ہوتا ہے، کوئی ادیب، کوئی مصور، کوئی خطیب۔ جن کے تخیّل کی تابانی اور کلام کی درخشانی قرن ہا قرن سے نسلِ انسانی کی راہیں روشن کرتی آئی ہیں۔ جو خاک نژاد ہوتے ہوئے بھی افلاک سے ربطِ مسلسل رکھتے ہیں۔ جن کی صریرِ خامہ میں نوائے سروش ہوتی ہے۔
جناب جاوید اختر چودھری بھی اسی اخص الخواص اور اشرف الاشراف قبیلے کی اردو شاخ سے تعلق رکھتے ہیں۔ اردو کی خوش قسمتی ہے کہ اسے ہر عہد میں ایسے شاعر و ادیب میسّر رہے ہیں جنھوں نے اپنے تخلیقی جوہر اور فکری گہرائی سے اس زبان کو ثروت مند بنایا۔ قلی قطب شاہ سے ولی دکنی، میر و غالب سے لے کر اقبال اور فیض، ملا وجہی سے لے کر راشد الخیری اور پریم چند سے منٹو، بیدی، انتظار حسین، اشفاق احمد، احمد ندیم قاسمی تک، اور جدید دور کے سیکڑوں شاعر و ادیب جنھوں نے نظم و ںثر میں ایسے شاہکار تخلیق کیے ہیں جو اردو ادب کی آبرو قرار دیے جاسکتے ہیں۔ جاوید اختر چودھری بھی ہمہ صفت ہیں، شاعری ہو، فسانہ نگاری یا ناول نگاری، انھوں نے ہر میدان میں اپنی شہ سواری کا سکہ جمایا ہے۔
جاوید اختر چودھری سے میرا تعارف برطانیہ آنے کے کچھ ہی عرصے بعد ہوگیا تھا۔ پھر اکثر علمی و ادبی مجالس میں ان سے ملاقاتیں رہیں۔ کہتے ہیں پہلا تاثر حتمی ہوتا ہے لیکن چودھری صاحب کے معاملے میں یہ درست نہیں۔ ان سے پہلی بار ملنے والے کو وہ کچھ کم آمیز، درشت مزاج اور اکھڑے اکھڑے لگ سکتے ہیں۔ لیکن جب ربط ضبط بڑھتا ہے تو پہلا تاثر زائل ہوجاتا ہے اور کھلتا ہے کہ ان سے بڑھ کر ملنسار، خوش مزاج اور مجلسی آدمی کوئی نہیں۔ ان کی صحبت، ان کی گفتگو، ان کی رفاقت، سماعت کو آسودگی اور قلب کو طمانیت سے بھر دیتی ہے۔
برطانیہ میں ایک طویل عرصے ان کا گھر ادبی سرگرمیوں کا گڑھ رہا۔ پاکستان اور بھارت کا کون سا ادیب و شاعر ہے جو ان کی میزبانی سے متمتع نہ ہوا ہو۔ مہمان داری کے جو تاریخی اور ادبی قصّے ہم سنتے پڑھتے ہیں جاوید اختر چودھری انھیں عملی طور پر انجام دیتے ہیں۔ ادب اور ادبا کی محبت میں انھوں نے وہ قرض بھی چکائے اور وہ فرض بھی نبھائے جو واجب بھی نہیں تھے۔ اس پر بے نیازی ایسی کہ نہ ستائش کی تمنّا، نہ صلے کی پروا۔ نہ جزا کے طالب نہ بدل کے خواہشمند۔ مرحبا، صد مرحبا، ایں کار از تو آید و مرداں چنیں کنند۔
اُردو کی معروف افسانہ نگار ،ماہنامہ "روپ” کی مدیر اور جنگ کراچی کے ادبی صفحے کی پہلی انچارج محترمہ سلطانہ مہر جب ان کی زندگی میں داخل ہوئیں تو ہمارا تعلق مزید گہرا ہوگیا۔ سلطانہ مہر کا شکیل عادل زادہ اور سب رنگ سے خصوصی تعلق رہا ہے۔ وہ خود بھی کئی کتابیں تصنیف کر چکی ہے۔ جن میں اُردو شعرا اور نثر نگاروں کے تفصیلی تذکار پر مشتمل “سخن وَر” اور “گفتنی” کی سات جلدیں حوالے کی کتب کی حیثیت رکھتی ہیں۔ سلطانہ مہر کی شخصیت ایک الگ مضمون کی متقاضی ہے، باذنہ تعالیٰ پھر سہی۔
سوہاوہ ضلع جہلم سے تعلق رکھنے والے جاوید اختر چودھری صاحب نے دیس سے پردیس تک زندگی کے ہزارہا رنگ، انسانوں کے صدہا روپ دیکھے ہیں۔ یہ ممکن نہیں تھا کہ ان کا حساس دل ان عوائب و نوائب سے لاتعلق رہتا جو مشرق و مغرب کے تمام آدم زادوں کی سرنوشت میں لکھ دیے گئے ہیں۔ ان کی نگاہِ رسا نہ صرف ان آلام و مصائب کو دیکھتی ہے بلکہ ان کے اسباب و علل کا احاطہ بھی کرتی ہے۔ اس کے بعد وہ درد اور دکھ کی ان داستانوں کو اپنے دلپذیر انداز میں افسانوں کی صورت بیان کر دیتے ہیں۔ اس امید، اس آس پر کہ بنی نوعِ انسان کے درد کا درماں اور دکھوں کا ازالہ ہو۔
اقبال نے شاید انھی کے لیے کہا تھا کہ
مبتلائے درد کوئی عضو ہو، روتی ہے آنکھ
کس قدر ہمدرد سارے جسم کی ہوتی ہے آنکھ
چودھری صاحب کی تحریروں میں صرف شکوۂ ظلمت شب نہیں بلکہ اپنے حصّے کی شمع جلانے کی کوشش بھی نظر آتی ہے۔ ایں کار از تو آید و مرداں چنیں کنند۔
جاوید اختر چودھری دنیا جہان کے موضوعات پر نظرِ دقیق اور فکرِ عمیق رکھتے ہیں۔ مطالعے کی وسعت اور مشاہدے کی کثرت سے ان کے بیان میں وہ دلآویزی و دلنوازی در آئی ہے کہ وہ کہیں اور سنا کرے کوئی۔ یہی دلکشی و دلنشینی ان کے طرزِ تحریر میں بھی ہے۔ ناولٹ ہوں یا افسانے، غزلیں ہوں یا نظمیں ، سادگی و پرکاری نے ان کی تخلیقات میں وہ انداز دلربائی پیدا کیا ہے جسے کہتے ہیں از دل خیزد، بر دل ریزد۔
ان کے افسانے ’’ٹھوکا‘‘ پر تو انھیں دنیا بھر سے داد و تحسین مل چکی ہے، مگر ان کے دیگر افسانے ’’اپنی اصل کی طرف‘‘، ’’حشرِ بلا خیز‘‘، ’’مہذّب، غیرمہذّب‘‘، ’’ہائے کتھے ہووے میرا ڈڈیال‘‘، ’’کس بھروسے پہ آشنائی کی‘‘، ’’رزق کی دھوپ‘‘، ’’حرام کا مال‘‘ سمیت بیشتر تخلیقات خاصّے کی چیز ہیں جو اپنے واقعات، اندازِ بیاں اور بسا اوقات غیرمتوقع انجام کے ذریعے قاری کو بہت دیر تک اپنے حصار میں رکھتے ہیں۔ یہ ہماری اور آپ کی دنیا کی جیتی جاگتی، تلخ و شیریں حقیقتیں ہیں جنھیں ہم عام طور پر نظر انداز کر دیتے ہیں مگر ایک باکمال مصنف کا بے مثال قلم ان واقعات کے تانے بانے سے ایسی سحر انگیز کہانیاں بُنتا ہے جس کے آئینے میں ہمارے سماج کا اصل چہرہ اپنی پوری جزئیات کے ساتھ نظر آتا ہے۔
2020ء میں جب احقر نے ’’سب رنگ‘‘ کی کہانیوں کو کتابی صورت میں شائع کرنے کا ڈول ڈالا تو چودھری صاحب سے تواتر سے ملاقاتیں ہونے لگیں۔ ’’سب رنگ کہانیاں‘‘ کی تشکیل و تالیف میں ان کی مشاورت اور رہنمائی بھی شامل ہے۔ سرِ دست یہ ضرور کہنا ہے کہ اگرچہ راقم کو شاعری سے بھی خاصا شغف ہے، مگر کہانیوں کا تو گویا جنون ہے۔ ’’سب رنگ ڈائجسٹ‘‘ سے عشقِ بے نہایت کی علّت و غایت بھی یہی کہانیاں ہی تھیں۔ سب رنگ کی کہانیوں کو کتابی شکل دینے کا سودا بھی اسی سبب سر پر سوار ہوا۔ اس سلسلۂ شوق کی شدّت و حدّت کی تفصیل ’’سب رنگ کہانیاں‘‘ کی مختلف جلدوں میں بیان کرتا رہا ہوں۔ بلامبالغہ اب تک مشرق و مغرب کی ہزاروں کہانیاں پڑھی ہوں گی اس لیے یہ بات بلاخوفِ تردید کہہ سکتا ہوں کہ جاوید اختر چودھری کے افسانوی مجموعوں ‘اک فرصت گناہ” ، ‘حرف دعا” اور ‘ٹھوکا” کی کئی کہانیاں دنیا بھر کے مشاہیر کہانی کاروں کی تخلیقات کے ساتھ رکھی جاسکتی ہیں۔ ان کی کئی تحریروں پر بہترین فلمیں یا ڈرامے بنائے جاسکتے ہیں۔ اس شعبۂ فن سے وابستہ ارباب و احباب کو اس طرف ضرور توجہ کرنی چاہیے۔
جاوید اختر چودھری نے اپنے تیس بتیس سال کے تخلیقی سفر میں اُردو کے چاہنے والوں کو تقریباً بارہ کتابوں کا تحفہ دیا ہے۔ ’’میں واقعی سوہاوہ کا ادیب ہوں‘‘ میں انھوں نے اپنی مختلف کتابوں پر ادیبوں اور شاعروں کی آرا کو جمع کردیا ہے۔ چودھری صاحب کی ادبی تخلیقات کو سراہنے اور چاہنے والوں کی فہرست میں اُردو کے بڑے بڑے قدآور نام شامل ہیں۔ ایسے نام وَروں کی بھرپور آرا اور تفصیلی تجزیوں کے بعد مجھ بے مایہ کا کچھ لکھنا تحصیلِ حاصل اور تکرارِ لاحاصل ہوتا، تاہم چودھری صاحب سے ارادت و مؤدت کا تقاضا نباہنے کے لیے یہ چند سطریں لکھ دی ہیں، حقیقت تو یہ ہے کہ سفینہ چاہیے اس بحرِ بیکراں کے لیے۔ بہرحال، اُردو ادب سے محبت کرنے والوں کے لیے جاوید اختر چودھری کی تمام کتابیں ایک قیمتی اثاثہ ہیں اور ہر صاحبِ ذوق کے کتب خانے میں ان کا ہونا ناگزیر ہے۔
Exit mobile version