اکتیس مئی دو ہزار چھبیس بروز اتوار لندن کے علاقے الفورڈ میں واقع ایک مقامی تقریب گاہ میں جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے جائز مطالبات اور عوامی حقوق کی جدوجہد کی حمایت میں ایک بڑی کانفرنس منعقد ہوئی۔ اس اجتماع میں برطانیہ بھر سے کشمیری اور پاکستانی برادری سے تعلق رکھنے والے امن، انصاف اور عوامی حقوق کے حامی افراد نے بھرپور شرکت کی۔
کانفرنس میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی نمایاں شخصیات موجود تھیں جن میں وکلاء، اساتذہ، سابق سرکاری افسران، مقامی نمائندے، سابق شہری ناظمین، نائب ناظمین، سماجی کارکنان، کمیونٹی راہنما، اور ذرائع ابلاغ سے وابستہ افراد شامل تھے۔ شرکاء بریڈفورڈ، برمنگھم، راہدرم، ناٹنگھم، ریڈنگ، سلو، ہائی ویکم، ووکنگ اور لندن کے مختلف علاقوں سمیت دور دراز شہروں سے اس مقصد کے لیے جمع ہوئے تھے۔
مقررین نے اپنے خطابات میں عوامی ایکشن کمیٹی کے مطالبات کو نہ صرف جائز اور مناسب قرار دیا بلکہ ریاستی وسائل کے غیر ضروری استعمال، مراعات یافتہ طرزِ حکمرانی اور عوامی مسائل سے لاتعلقی پر شدید تنقید بھی کی۔ ان کا کہنا تھا کہ بیرونِ ملک مقیم کشمیری اور پاکستانی جب برطانیہ، یورپ، کینیڈا، آسٹریلیا اور دیگر ترقی یافتہ ممالک میں حکمرانی کے اصولوں کا مشاہدہ کرتے ہیں تو انہیں اپنے آبائی خطے میں موجود طرزِ حکومت پر شدید تشویش ہوتی ہے۔
مقررین نے اس حقیقت کی جانب توجہ دلائی کہ ترقی یافتہ ممالک میں وزراء، مشیر، اعلیٰ سرکاری افسران اور حتیٰ کہ عدلیہ کے ممتاز ارکان بھی عام شہریوں کی طرح سفر کرتے ہیں۔ سرکاری وسائل کا استعمال سخت ضابطوں کے تابع ہوتا ہے اور عوامی خزانے پر غیر ضروری بوجھ ڈالنے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ اس کے برعکس آزاد کشمیر جیسے نسبتاً چھوٹے خطے میں سرکاری مراعات، غیر ضروری عہدوں اور انتظامی اخراجات کے پھیلاؤ پر سوالات اٹھائے گئے۔

کانفرنس کے دوران مقررین اور شرکاء نے اس امر پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ مسلم دنیا کے متعدد حکمران عوامی امنگوں سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔ تاہم بعض ایسے ممالک کے اقدامات کو امید کی ایک کرن قرار دیا گیا جو اپنے قومی مفادات اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے مستقل مزاجی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ اس موقع پر امتِ مسلمہ کی بہتری، انصاف کے فروغ اور قیادت میں دیانت داری کے لیے خصوصی دعائیں بھی کی گئیں۔
شرکاء کا مؤقف تھا کہ اگر عوامی مسائل کے حل میں مزید تاخیر کی گئی تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں، جن کی ذمہ داری ان طبقات پر عائد ہو گی جو دہائیوں سے ریاستی وسائل پر قابض رہتے ہوئے عام آدمی کے مسائل سے چشم پوشی کرتے آئے ہیں۔ مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ قومی وسائل پر چند افراد کی اجارہ داری اور اکثریت کی معاشی محرومی کسی بھی معاشرے کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتی ہے۔
کانفرنس کے اختتام پر شرکاء نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ عوامی حقوق، شفاف حکمرانی، جواب دہی اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کے لیے جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ وقت کا تقاضا ہے کہ حکمرانی کا نظام عوامی خدمت، سادگی اور جواب دہی کے اصولوں پر استوار کیا جائے تاکہ ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد کا رشتہ مضبوط ہو سکے۔