Tarjuman-e-Mashriq

گورنمنٹ ڈگری کالج میرپور

گورنمنٹ ڈگری کالج میرپور آزادکشمیر کے سابق طلباء و طالبات کی مورخہ 10 مئی 2026 بروز اتوار منعقد ہونے والی پُروقار ری یونین کی کامیاب تقریب نہ صرف ایک یادگار اجتماع ثابت ہوئی بلکہ اس نے ماضی کی حسین یادوں، علمی روایات اور باہمی محبتوں کو ایک مرتبہ پھر تازہ کر دیا۔ اس شاندار تقریب کے انعقاد پر محترم جناب اعظم خان صاحب، ڈاکٹر اشفاق احمد صاحب، کالج انتظامیہ، پروفیسر محمد ظہیر چوہدری صاحب، عزیزانِ گرامی محمد شکیل، ساجد یوسف اور ایگزیکٹو کمیٹی کے تمام معزز اراکین مبارکباد کے مستحق ہیں جنہوں نے اخلاص، محنت اور محبت سے اس یادگار لمحے کو ممکن بنایا۔

وطن عزیز سے ہزاروں میل دور رہنے کے باوجود دل آج بھی میرپور کالج کی ان راہداریوں، کلاس رومز، اساتذہ کرام کی شفقت اور دوستوں کی محبتوں سے جڑے ہوئے ہیں۔ اس تقریب کی تصاویر اور مناظر دیکھ کر ایک عجیب سی قلبی خوشی محسوس ہوئی کہ وہ چہرے جنہیں کبھی بچپن اور نوجوانی کے ایام میں دیکھا تھا، آج ادھیڑ عمری میں بھی سلامت، مسکراتے اور زندگی سے بھرپور نظر آئے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ تمام عزیزان کو کامل صحت، ایمان، سلامتی اور اپنی حفظ و امان میں رکھے۔ آمین ثم آمین۔

یہ حقیقت کسی تعارف کی محتاج نہیں کہ گورنمنٹ ڈگری کالج میرپور آزادکشمیر صرف ایک تعلیمی ادارہ نہیں بلکہ ایک عظیم علمی و فکری درسگاہ ہے، جس کے اساتذہ کرام نے نہ صرف تعلیم بلکہ سماجی، ثقافتی، رفاہی اور عملی میدانوں میں بھی ایسے ایسے کارہائے نمایاں انجام دیے جن کی مثال کم ہی ملتی ہے۔ یہی وہ ادارہ ہے جہاں علم صرف کتابوں تک محدود نہیں رہا بلکہ انسان دوستی، خدمت خلق اور کردار سازی کی صورت میں معاشرے میں منتقل ہوتا رہا۔

سنہ 1996 میں “الفلاح فاؤنڈیشن ٹرسٹ میرپور آزادکشمیر” کے قیام کے موقع پر منعقد ہونے والی پریس کانفرنس کی تصویر آج بھی اس عظیم روایت کی گواہ ہے۔ اس موقع پر تنظیم کے پہلے چیئرمین محترم پروفیسر خالد نظامی صاحب دیگر معزز ٹرسٹیز کے ہمراہ موجود تھے۔ ان کے ساتھ پروفیسر محمد یوسف چوہدری صاحب، سابق سیکریٹری ایجوکیشن آزادکشمیر، جناب عبدالواحد قریشی صاحب، سابق پرنسپل گورنمنٹ ڈگری کالج میرپور، اور کالج کی ہر دور کی نہایت مقبول شخصیت جناب لالہ اکرام صاحب ڈی پی ای بھی نمایاں طور پر نظر آتے ہیں۔ یہ تمام شخصیات اپنی زندگی کے آخری ایام تک الفلاح فاؤنڈیشن ٹرسٹ سے وابستہ رہیں اور خاموشی کے ساتھ خدمتِ خلق کے سفر کو آگے بڑھاتی رہیں۔

اسی جذبۂ خدمت کے تحت سنہ 2000 میں گورنمنٹ ڈگری کالج میرپور کے سابق طالبعلم کرنل (ر) ڈاکٹر جمشید صاحب کی نگرانی میں ایک کلینیکل سرجری پروگرام کا آغاز کیا گیا، جہاں مستحق خاندانوں کو علاج معالجے کی سہولیات فراہم کی جانے لگیں۔ ایک وقت میں تقریباً اٹھارہ سو مستحق خاندان اس سہولت سے مستفید ہو رہے تھے۔ ڈاکٹر صاحبان کسی قسم کی فیس وصول نہیں کرتے تھے جبکہ ادویات بھی بلا معاوضہ فراہم کی جاتی تھیں۔ اس مستقل ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے ایم ڈی اے سے سیکٹر ڈی فور میں دس کنال اراضی خریدی گئی تاکہ مستقبل میں ایک مکمل کلینیکل کمپلیکس تعمیر کیا جا سکے۔ اس منصوبے کی مجموعی لاگت ایک کروڑ ساٹھ لاکھ روپے مقرر ہوئی جس میں سے ایک کروڑ چالیس لاکھ روپے ادا کیے جا چکے ہیں جبکہ بقیہ رقم کی ادائیگی کے بعد تعمیراتی کام کے آغاز کی امید ہے۔

اسی تسلسل میں سنہ 2010 میں “ایجوکیشنل اسکالرشپ اسکیم” کا آغاز کیا گیا جس کے تحت مستحق مگر ذہین طلباء و طالبات کو ماہانہ دو ہزار روپے وظیفہ دیا جاتا ہے تاکہ وہ اپنی تعلیم جاری رکھ سکیں۔ الحمدللہ آج بھی گورنمنٹ ڈگری کالج میرپور کے متعدد طلبہ اس اسکالرشپ سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ تاہم یہ تمام فلاحی سرگرمیاں محدود وسائل اور چند مخیر خواتین و حضرات کے تعاون سے جاری ہیں، اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ کالج کے زیادہ سے زیادہ سابق طلباء و طالبات اس کارِ خیر میں شریک ہوں۔

قرآنِ مجید میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
“اور احسان کرو، بے شک اللہ احسان کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔”

الفلاح فاؤنڈیشن کا کوئی منی کلیکٹر نہیں اور نہ ہی کسی فرد کو نقد رقم دینی چاہیے۔ تمام مخیر حضرات براہ راست تنظیم کے بینک اکاؤنٹس میں عطیات جمع کروائیں تاکہ شفافیت برقرار رہے اور انتظامیہ باضابطہ طور پر شکریہ کے خطوط ارسال کر سکے۔

برطانیہ سمیت دنیا بھر میں مقیم سابق طلباء و طالبات اگر اس صدقۂ جاریہ میں حسبِ توفیق مستقل بنیادوں پر تعاون کریں، خصوصاً اسٹینڈنگ آرڈر کے ذریعے، تو عیدالاضحیٰ اور دیگر مواقع پر مزید مستحق خاندانوں تک امداد پہنچائی جا سکتی ہے۔

راقم کو حال ہی میں ایک بین الاقوامی تعلیمی ادارے کی جانب سے ملنے والے اعزاز پر بھی یہی احساس ہوا کہ اس کامیابی میں اللہ تعالیٰ کے خاص فضل، والدین کی دعاؤں، مخلص احباب کی محبتوں اور گورنمنٹ ڈگری کالج میرپور کے ان عظیم اساتذہ کرام کی تربیت کا بہت بڑا دخل ہے۔ اسی لیے یہ اعزاز بھی اسی مادرِ علمی کے نام کیا جاتا ہے جس نے بے شمار طلباء کو نہ صرف علم بلکہ کردار، شعور اور انسانیت کا درس دیا۔

اللہ تعالیٰ مرحومین کی مغفرت فرمائے، زندہ لوگوں کو صحت و سلامتی عطا فرمائے، اور ہمیں خدمتِ خلق اور علم و ادب کے اس سفر کو جاری رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین۔

فی امان اللہ
یار زندہ، صحبت باقی

Exit mobile version