ناظرینِ کرام!
یوں تو شوقِ آوارگی کا جذبہ ہمیشہ سے حسن پرستی کے ساتھ ایک گہرا تعلق رکھتا ہے، اور جب یہ تعلق نبھنے لگے تو یہی ذوق رفتہ رفتہ ایک خوبصورت مشغلہ بن جاتا ہے۔ ہم جیسے سادہ لوح لوگ جلد ہی اس سحر میں گرفتار ہو جاتے ہیں۔ غالباً یہی وجہ تھی کہ زمانۂ طالب علمی ہی میں اُس وقت کے ڈھائی اضلاع پر مشتمل آزاد کشمیر کے بیشتر حسین قدرتی مناظر دیکھنے اور ان سے لطف اندوز ہونے کا موقع ملتا رہا۔
انگریزی کا ایک محاورہ ہے:
“Habits die hard”
ازاں بعد، صحت، عمر اور بفضلِ تعالیٰ سازگار حالات نے اس ذوق کی تکمیل میں بڑی معاونت فرمائی، اور دنیا کے ایک کونے آسٹریلیا سے لے کر دوسرے کنارے امریکہ، کینیڈا، یورپ، خلیجی ممالک اور کیریبین ممالک تک کبھی اہلِ خانہ کے ساتھ، کبھی دوست احباب کے ہمراہ اور کبھی کسی یورپی ٹورنگ کمپنی کے ساتھ بری، بحری اور فضائی راستوں سے سفر جاری رہا۔
مگر اس بار ایک انوکھے اور انتہائی دلچسپ “دی فیملی ٹریول گروپ” کے ساتھ محوِ سفر ہونے کا جو موقع ملا، اس کی اپنی ہی جذباتی کیفیت تھی۔ امیرِ کارواں برطانیہ کی پہلی تاریخی شاہجہان مسجد ووکنگ کے سابق امام اور موجودہ سول سرونٹ، میرے دیرینہ خیر خواہ جناب سید اسد علی شاہ صاحب تھے، جن کی دینی و دنیاوی علمیّت اور قابلیت کسی بھی شک و شبہے سے بالاتر ہے۔
ساتھ ہی نصف صدی سے زائد عرصے سے میرے گورنمنٹ ڈگری کالج میرپور، آزاد کشمیر کے سینئر کالج فیلو جناب نذیر احمد ڈار صاحب بمع اہل و عیال کا نام بھی گروپ لسٹ میں دیکھا تو یقین ہو گیا کہ سفر ان شاء اللہ خوشگوار رہے گا۔
مورخہ 27 اپریل 2026ء بروز سوموار پہلی مہربانی چھوٹے صاحبزادے ڈاکٹر حمزہ الیاس صاحب نے یہ فرمائی کہ:
“ابو! رات گئے میں آپ کو اسٹینسٹڈ ایئرپورٹ چھوڑ آؤں گا۔”
بوقتِ روانگی اپنے میاں کو کمپنی دینے کے لیے ان کی اہلیہ بھی تیار ہو گئیں، اور یوں گپ شپ میں گھنٹوں کی مسافت کا احساس ہی نہ ہوا۔ دوسرے دن برخودار گاڑی کی ایئرپورٹ انٹری فیس ادا کیے بغیر ہی کام پر تشریف لے گئے اور تیسرے دن دس پاؤنڈ کے بجائے ستر پاؤنڈ ادا کیے۔ انگریزوں کو “اک ایتھے تے ستر آخر” کے فارمولے کی سمجھ نہیں، اس لیے وہ فوری حساب چکانے کو ہی بہتر سمجھتے ہیں۔
صبح چار بجے جب گروپ ممبران کا ایک دوسرے سے تعارف ہو رہا تھا تو میں محوِ حیرت تھا کہ گروپ کا عمرانی دائرہ بچپن کے پانچ سالہ بچوں سے لے کر اناسی سالہ خواتین و حضرات تک پھیلا ہوا تھا، مگر شاہ صاحب کے کمالِ فن نے کسی ایک فرد کو بھی یہ محسوس نہیں ہونے دیا کہ وہ گروپ میں “مس فٹ” ہے۔
سراۓوو انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے فارغ ہوتے ہی ہم “ٹنل آف ہوپ” پہنچے، جہاں بوسنیا کے مسلمانوں پر ڈھائے گئے ظلم و بربریت کے آثار آج بھی نمایاں نظر آتے ہیں، اور ذہن بے ساختہ فلسطین، کشمیر اور غزہ کے مسلمانوں کی کسمپرسی اور خونِ مسلم کی ارزانی پر افسردہ ہو جاتا ہے۔
ان کیفیات سے نکالنے کی غرض سے شاہ صاحب گروپ ممبران کو ملحقہ پارک دکھاتے ہوئے بغرضِ آرام ہوٹل لے گئے۔
میری خوش نصیبی کہ میرے روم میٹ بریڈفورڈ کے ایک معروف چیریٹی چیمپئن جناب حاجی نذیر حسین صاحب ٹھہرے، جو صوم و صلوٰۃ کے بڑے پابند تھے، اور ان کی دیکھا دیکھی ہم نے بھی خوب نیکیاں سمیٹیں۔
“صحبتِ صالح ترا صالح کند”
ایئرپورٹ کے قریب واقع “ٹنل آف ہوپ” میں گزارے گئے وقت کے دلسوز تاثرات ابھی ذہن سے محو نہیں ہوئے تھے کہ دوسرے ہی دن محترم شاہ صاحب نے ہمارے مقامی گائیڈ محمد صالح کے مشورے سے “جنگی تاریخ اور مسلم نسل کشی” سے متعلق مقامات اور سلطنتِ عثمانیہ کے چند تاریخی آثار دکھانے کا فیصلہ کر لیا۔
ہسٹری میوزیم اور شہداء کے اس قبرستان میں، جہاں مسلمانوں کو کوفیوں کی طرح دھوکے سے بلا کر قتلِ عام کیا گیا تھا، فلم دیکھتے ہوئے بیشتر آنکھیں اشک بار تھیں، اور خواتین ایک دوسرے کو گلے لگا کر اپنے محسوس شدہ غم میں کمی لانے کی کوشش کر رہی تھیں۔
وہاں سے آگے بڑھے تو ایک ہی مقام پر کم و بیش آٹھ ہزار شہداء کی قبور نے ذہنوں پر انمٹ نقوش چھوڑ دیے۔ افسوس کہ ظلم و بربریت کے اس عمل پر یہود و نصاریٰ، عالمی اداروں اور غیرت سے عاری مسلمان حکمرانوں کی خاموشی قابلِ مذمت تھی۔
صورتِ حال جب ناقابلِ برداشت ہو گئی تو مجاہدین جذبۂ شہادت سے سرشار ہو کر میدان میں اترے، اور بوسنیائی مسلمانوں نے سکھ کا سانس لیا۔ اب لوگ چھپ چھپا کر سرنگوں میں پناہ لینے کے بجائے کھلے عام ایک دوسرے کو خورد و نوش کی اشیاء پہنچانے لگے۔
اگر درد و الم کی یہ داستانیں بچشمِ خود نہ دیکھی اور سنی ہوتیں تو شاید نہیں بلکہ یقیناً ہم قیامتِ صغریٰ کے ان المناک مناظر کو محسوس نہ کر پاتے۔
ہماری ملاقات تو نہیں ہو سکی، مگر ہمیں بتایا گیا کہ اس المیے سے متاثرہ وہ نو بیاہتا بچیاں جن کے سہاگ اجڑ گئے، وہ بچے جنہوں نے اپنے والد کو دیکھا تک نہیں، اور کئی ایسی مائیں جن کے معصوم بچے شہید کر دیے گئے، آج بھی اس غم کو سینے سے لگائے کسمپرسی کے دن گزار رہی ہیں۔
اللہ تعالیٰ انہیں صبر و استقامت عطا فرمائے اور ہم سب کو ایک دوسرے کے لیے آسانیاں پیدا کرنے کی توفیق نصیب فرمائے۔ آمین۔
ناظرینِ کرام!
اگر اس سات روزہ ٹور کی مکمل تفصیلات لکھنا شروع کر دوں تو ایک مفصل سفرنامہ بن جائے، تاہم طوالت سے بچنے کے لیے اشارتاً چند مقامات کا ذکر کیے دیتا ہوں۔
ان میں بلند و بالا پہاڑوں کی وہ برف پوش چوٹیاں بھی شامل ہیں جہاں 1984ء کی اولمپک اسکیئنگ کا انعقاد ہوا تھا۔ ہم تمام ساتھیوں نے پہلے ہی برفانی ٹیلوں پر جا کر پھسلن کے خطرے کو بھانپ لیا تھا، اس لیے الٹے پاؤں واپسی ہی میں عافیت جانی۔
پلیوا جھیل، جس کے گرد گھنے درختوں سے ڈھکے بلند پہاڑ ایک دلکش منظر پیش کرتے ہیں، وہاں کشتی رانی کا بھی اپنا ہی لطف ہے۔
تراونک شہر، جو سلطنتِ عثمانیہ کے دور میں تقریباً ڈیڑھ سو سال تک دارالحکومت رہا، اپنی تاریخی اہمیت کے باعث خصوصی توجہ کا مستحق ہے۔
موسٹار اولڈ سٹی جا کر انسان صدیوں پہلے مسلمانوں کے فنِ تعمیر سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ پتھروں سے تعمیر شدہ وہ عظیم پل، جو بغیر ستونوں کے قائم ہے، فنِ تعمیر کا شاہکار محسوس ہوتا ہے۔
بوسنیا کی پہلی تعمیر شدہ محمد پاشا مسجد میں نماز ادا کرنے اور ایک دوسری تاریخی مسجد میں نمازِ عصر کی سعادت بھی نصیب ہوئی۔ دونوں ائمہ کرام کے حسنِ اخلاق نے دل موہ لیے۔
28 جون 1914ء میں پہلی جنگِ عظیم کے آغاز کا سبب بننے والا واقعہ، یعنی ہنگری کے شہزادے آرچ ڈیوک فرانز فرڈینینڈ اور شہزادی صوفیہ کا قتل بھی بوسنیا ہی میں پیش آیا، جو بذاتِ خود ایک طویل داستان ہے۔
سراۓوو کے قدرتی حسن و جمال کا جائزہ لینے کے لیے کیبل کار کی سواری لازمی محسوس ہوتی ہے۔ وہاں سے دیکھ کر واقعی محسوس ہوتا ہے کہ یورپ میں سوئٹزرلینڈ کے بعد شاید سراۓوو ہی دوسرا خوبصورت ترین مقام ہے۔
سیاحت کسی بھی ملک کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے، اور اگر مسلمان اس نیت سے برادر اسلامی ممالک کا رخ کریں کہ ان کی آمد سے وہاں کی معیشت میں بہتری آئے گی تو اس میں سیاحت کے ساتھ ساتھ ثواب کا پہلو بھی شامل ہو جائے گا۔
ہمارا گروپ چونکہ انتہائی علم و دانش رکھنے والے خواتین و حضرات پر مشتمل تھا، جس میں ڈاکٹر، انجینئر، اساتذہ، سول سرونٹس، بینکرز، شعراء، آرٹسٹس اور کامیاب بزنس کمیونٹی کے سلجھے ہوئے نمائندگان شامل تھے، اس لیے ہر شخص ایک دوسرے کے جذبات، احساسات اور عزت و احترام کا پورا خیال رکھتا تھا۔
یہ حسنِ اتفاق ہی تھا کہ گروپ کے سینئر رکن جناب رضا احمد صاحب کا 76واں یومِ پیدائش دورانِ سفر آ گیا۔ ہمارے گروپ لیڈر جناب شاہ صاحب نے ہوٹل کا کانفرنس روم بک کروا کر ان کے دوستوں کے تعاون سے ایک یادگار برتھ ڈے پارٹی کا اہتمام کیا، جسے تمام ممبران نے خوب انجوائے کیا۔
علاوہ ازیں، دن بھر کی تھکن دور کرنے کے لیے محفلِ نعت، سماع اور ساز و نغمہ بھی سجائے جاتے رہے۔
اس طرح خوشی اور غم کے ملے جلے جذبات سے بھرپور اس دورے کی مکمل عکاسی شاید قلم نہ کر سکے، تاہم چند تصویریں اس کی گواہی ضرور دیتی ہیں۔
ملک کی صفائی ستھرائی اور بوسنیائی باشندوں کے خوش اخلاق رویے کا ذکر نہ کیا جائے تو بات ادھوری رہتی ہے۔ انتہائی صاف ستھرا ملک، حتیٰ کہ واش روم بھی ایسے صاف جیسے گھروں کے اندر ہوں۔ یوں محسوس ہوتا ہے گویا وہ لوگ صفائی کو نصف ایمان سمجھتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ ان پر اپنا رحم و کرم فرمائے اور دیگر ممالک کو بھی ان کی اچھی باتوں کی تقلید کی توفیق عطا فرمائے۔
ناظرینِ کرام!
آپ میں سے جو لوگ ذوقِ سیاحت رکھتے ہیں، وہ خود بھی جائیں اور حالات سازگار ہونے پر بچوں کو بھی فلسطین، غزہ، کشمیر اور ایران کی سیاحت کی ترغیب دیں، کیونکہ ان ممالک کے حالات آپ کی آمد کے متقاضی ہیں۔
آخر میں، میں جناب پروفیسر راجہ یعقوب صاحب، ڈاکٹر مرغوب صاحب، جرنلسٹ وحید کیانی صاحب، امریکہ سے امتیاز کمال صاحب، صبحیہ حسن صاحبہ اور ماہرِ سیاحت جناب انوار ایوب راجہ صاحب کا بے حد ممنون ہوں کہ یہ حضرات وٹس ایپ، فون کالز اور فیس بک کمنٹس کے ذریعے نہ صرف مفید مشوروں سے نوازتے رہے بلکہ بھرپور حوصلہ افزائی بھی فرماتے رہے۔
دعا گو ہوں کہ ربِ کریم میرے تمام خیر خواہوں کے علم و عمل میں مزید برکتیں عطا فرمائے۔اللہ پاک ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔ آمین ثم آمین۔اپنی پرخلوص دعاؤں میں ضرور یاد رکھیے گا۔