کئی سال پہلے جب میں پہلی مرتبہ لندن پہنچا تو اس اجنبی شہر میں میرے لیے ہر منظر نیا، ہر چہرہ انجان اور ہر آواز مختلف تھی۔ انہی ابتدائی دنوں میں ایک عوامی احتجاجی جلوس کو قریب سے دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ یہ کُرد عوام کا جلوس تھا۔ لوگ اپنے محبوب رہنما عبداللہ اوجلان کی تصاویر اٹھائے اُن کی رہائی کا مطالبہ کررہے تھے۔ میرے لیے یہ منظر محض ایک احتجاج نہیں تھا بلکہ ایک ایسے جذبے کے اظہار کا مشاہدہ تھا جو شاید صرف وہی قومیں سمجھ سکتی ہیں جنہوں نے غلامی، جبر اور قومی محرومی کو قریب سے دیکھا ہو۔
اس جلوس میں بزرگ بھی تھے، نوجوان بھی، عورتیں بھی اور گود میں دودھ پیتے بچے اٹھائے مائیں بھی۔ وہ اپنی مادری زبان میں نعرے لگا رہے تھے۔ جب یہ جلوس برطانوی وزیر اعظم کی رہائش گاہ کے قریب پہنچا تو شرکاء کا جوش دیدنی تھا۔ ہر شخص اپنی قوم کا مقدمہ دنیا کے سامنے رکھنے کی کوشش کررہا تھا۔ ایک لمحے کے لیے مجھے یوں محسوس ہوا جیسے میں لندن میں نہیں بلکہ اپنے خوبصورت جموں کشمیر کے کسی احتجاجی جلوس میں کھڑا ہوں، جہاں لوگ آزادی کے خواب کو اپنی سانسوں میں بسائے نعرے لگاتے ہیں۔ شاید سچ یہی ہے کہ دنیا کے کسی بھی حصے میں جب ظلم، استحصال اور غلامی کے خلاف آواز بلند ہوتی ہے تو کشمیر کا درد بھی وہاں کہیں نہ کہیں محسوس ہونے لگتا ہے، کیونکہ آزادی کی خواہش سرحدوں کی محتاج نہیں ہوتی۔
اس وقت تک کُرد قوم کی تاریخ اور ان کی جدوجہد سے میری واقفیت بہت محدود تھی۔ مگر اُس مختصر جلوس نے میرے ذہن میں بے شمار سوال پیدا کردیے تھے۔ وقت گزرتا رہا مگر کُردوں کا سوال میرے ذہن میں کہیں نہ کہیں زندہ رہا۔ پھر ایک دن بریڈفورڈ کی سنٹرل لائبریری میں میری ملاقات ایک نوجوان انقلابی کُرد سے ہوئی۔ اُس کا نام علی ذہران تھا۔ رفتہ رفتہ ملاقاتیں دوستی میں بدل گئیں اور دوستی نے سوال و جواب کی ایک نئی دنیا کھول دی۔ کشمیر سے کُردستان تک، غلامی سے آزادی تک، تاریخ سے حال تک ہم دونوں اکثر انہی موضوعات پر گفتگو کرتے رہتے تھے۔
علی ذہران کے ساتھ بیٹھ کر مجھے پہلی مرتبہ اندازہ ہوا کہ کُردوں کا قومی سوال دنیا کے قدیم ترین اور پیچیدہ ترین تنازعات میں سے ایک ہے۔ ایک ایسی قوم جو عراق، ایران، ترکی اور شام کے درمیان تقسیم ہوچکی ہے، مگر اس تقسیم کے باوجود اپنی شناخت اور قومی احساس کو زندہ رکھے ہوئے ہے۔ سلطنتِ عثمانیہ کے دور میں بھی یہ لوگ مکمل آزادی حاصل نہ کرسکے۔ بعد میں عالمی طاقتوں نے بھی اُنہیں بارہا استعمال کیا، وعدے کیے، امیدیں دلائیں، مگر آخرکار تنہا چھوڑ دیا۔ امریکہ، برطانیہ، فرانس اور روس جیسے طاقتور ممالک نے وقتاً فوقتاً کُردوں کو اپنے مفادات کے لیے استعمال کیا، مگر آزادی کبھی اُن کے حصے میں نہ آئی۔ کیونکہ تاریخ یہی بتاتی ہے کہ آزادی کسی سامراجی وعدے سے نہیں بلکہ قوموں کے مستقل شعور اور قربانی سے حاصل ہوتی ہے۔
یہ حقیقت بھی دلچسپ ہے کہ بیت المقدس کا فاتح صلاح الدین ایوبی اسی کُرد قوم کا سپوت تھا۔ مگر شاید تاریخ کی یہی ستم ظریفی ہے کہ عظیم کردار پیدا کرنے والی قومیں بھی بعض اوقات اپنی شناخت اور آزادی کے لیے صدیوں تک جدوجہد کرتی رہتی ہیں۔
لندن کے اُس احتجاجی جلوس میں جس شخصیت کی تصاویر ہر ہاتھ میں تھیں، وہ عبداللہ اوجلان تھے۔ ترکی کے زیرِ انتظام کُرد علاقے میں پیدا ہونے والے عبداللہ اوجلان نے 1984 میں کردستان ورکرز پارٹی یعنی “پی کے کے” کی مسلح جدوجہد کا آغاز کیا۔ یہ وہی سال تھا جب کشمیر کے عظیم فرزند مقبول بٹ شہید کو تختۂ دار پر لٹکایا گیا تھا۔ تاریخ کبھی کبھی عجیب مماثلتیں پیدا کرتی ہے۔ ایک طرف کشمیر کی جدوجہد، دوسری طرف کُردستان کی مزاحمت۔ دونوں قومیں اپنے اپنے انداز میں آزادی کا خواب دیکھ رہی تھیں۔
عبداللہ اوجلان کئی برس شام سے اس تحریک کی قیادت کرتے رہے، مگر آخرکار 1999 میں ایک خفیہ آپریشن کے دوران نیروبی سے گرفتار کرکے ترکی منتقل کردیے گئے۔ اُنہیں عمر قید کی سزا دی گئی اور برسوں مکمل تنہائی میں رکھا گیا۔ بعدازاں ترک حکومت اور خصوصاً رجب طیب اردگان کے دور میں مذاکرات کا سلسلہ بھی شروع ہوا۔ انہی مذاکرات کے بعد عبداللہ اوجلان نے ایک تاریخی بیان دیتے ہوئے کہا تھا:
“ہم ایک ایسے مقام پر پہنچ گئے ہیں جہاں بندوقیں خاموش ہوجانی چاہئیں اور خیالات کو بولنا چاہیے۔ ایک نئے دور کا آغاز ہوچکا ہے جس میں سیاست ہوگی، بندوق نہیں۔”
یہ سوال کہ جدوجہد بندوق سے کی جائے یا سیاسی شعور سے، صرف کُردوں کا نہیں بلکہ کشمیریوں سمیت دنیا کی ہر محکوم قوم کا سوال ہے۔ شاید اسی لیے کُردوں کی کہانی ہمیں اپنی کہانی محسوس ہوتی ہے۔ البتہ یہ داستان ابھی مکمل نہیں۔ عراق، شام اور ایران کے کُردوں کی جدوجہد اس کہانی کا ایک اور باب ہے، جو شاید پھر کبھی۔
