Tarjuman-e-Mashriq

مراکش — امام محمد بن سلیمان الجزولیؒ کی بارگاہ میں حاضری

جیسے ہی ہمارا مراکش کا واکنگ ٹرپ مکمل ہوا، میں نے اپنے گائیڈ سے اجازت چاہی کہ اب میں حضرت امام محمد بن سلیمان الجزولیؒ کے مزار پر حاضری دینا چاہتا ہوں۔  یہاں مراکش آنے سے پہلے کوئی پچھلے تیس سال سے اس شہر سے میرا ایک تعلق ہے اور میری یہ خواہش محض کسی تاریخی مقام کو دیکھنے کی خواہش نہیں تھی بلکہ میرے پاس ایک امانت بھی تھی، بہت سے جذبات  تھے اور اپنے والد صاحب کا  ایک  پیغام تھا جو مجھے دعا کی صورت یہاں پہنچانا تھا ۔

گائیڈ مجھے اپنے ساتھ جامع الفنا کے سامنے  اسکوائر تک لے آیا۔ اس نے بتایا کہ یہاں سے میں ایک چھوٹا رکشا، جسے مقامی لوگ   ’’ٹک ٹک‘‘ کہتے ہیں، لے کر   امام جزولیؒ  کے زاویہ تک پہنچ سکتا ہوں۔

وہاں بے شمار ٹک ٹک کھڑے تھے۔میں نے پہلے ٹک ٹک والے سے امام جزولیؒ کے مزار تک جانے کا کہا تو اس نے دو سو درہم مانگے۔ میرے گائیڈ نے پہلے ہی سمجھا دیا تھا کہ کوشش کرنا، سو درہم سے زیادہ نہ دینا۔ میں نے کرایہ کم کرنے کی بات کی تو اس نے صاف کہہ دیا کہ   وہ نہیں جائے گا۔میں دوسرے ٹک ٹک والے کے پاس گیا۔ وہ ایک ٹانگ سے معذور تھا۔ اس نے کہا ’’ایک سو پچاس سے کم میں نہیں جاؤں گا۔‘‘

آخرکار ڈیڑھ سو درہم میں بات طے ہوگئی اور یوں ہم مراکش کی قدیم مدینہ کی تنگ، پیچیدہ اور بھول بھلیوں جیسی گلیوں میں داخل ہوگئے۔ٹک ٹک کبھی ایک تنگ گلی میں مڑتا، کبھی دوسری میں۔ اردگرد قدیم عمارتیں، چھوٹے دروازے، دکانیں اور صدیوں پرانی آبادی تھی۔   انہی گلیوں کے کسی حصے میں وہ شخصیت آرام کر رہی  تھی  جس کی لکھی ہوئی کتاب صدیوں سے افریقہ سے ہندوستان، عثمانی علاقوں سے جنوب مشرقی ایشیا اور حتیٰ کہ چین تک مسلمانوں کے گھروں، مساجد اور خانقاہوں میں پڑھی جاتی رہی ہے۔

امام کا مکمل نام ابو عبداللہ محمد بن سلیمان الجزولیؒ تھا۔ آپ پندرھویں صدی کے عظیم مراکشی عالم، صوفی اور شاذلی روایت سے وابستہ بزرگ تھے۔ آپ کا تعلق جنوبی مراکش کے جزولہ(سوس ) کے علاقے سے تھا اور آپ  حصولِ علم کے لیے فاس بھی گئے۔ بعد میں آپ کی نسبت سے ایک  روحانی سلسلہ، جزولیہ، معروف ہوا۔

لیکن دنیا میں امام جزولیؒ کی سب سے بڑی پہچان ان کی مرتب کردہ عظیم کتاب دلائل الخیرات وشوارق الانوار فی ذکر الصلاۃ علی النبی المختار ﷺ بنی۔

دلائل الخیرات بنیادی طور پر حضور اکرم ﷺ پر درود و سلام اور صلوٰۃ کی ایک عظیم الشان مجموعہ ہے۔ پندرھویں صدی میں مراکش میں مرتب ہونے والی یہ کتاب بعد کی صدیوں میں اسلامی دنیا کے سب سے زیادہ پڑھے، نقل کیے جانے والی  اور گردش کرنے والے روحانی تحریر وں میں شامل ہوگئی۔ اس کے نسخے شمالی اور مغربی افریقہ سے عثمانی دنیا، برصغیر، جنوب مشرقی ایشیا اور بالآخر چین تک پہنچے۔

امام جزولیؒ 1465ء میں وفات پا گئے۔ ابتدا میں انہیں مراکش کے ایک دوسرے مقام پر دفن کیا گیا تھا، لیکن تقریباً 1523-24 میں سعدی حکمران احمد الاعرج کے دور میں ان کے جسد کو مراکش شہر منتقل کیا گیا اور ان کے گرد موجود زاویہ بعد میں شہر کے اہم روحانی مراکز میں شمار ہونے لگا۔ امام جزولیؒ آج مراکش کے مشہور سات اولیاء میں شمار کیے جاتے ہیں۔  جب تک میں مراکش نہیں آیا تھا مجھے کہاں علم ہوتا کہ یہ شہر ” سبعة رجال ” کہلاتا ہے جن کے نام یہاں آ کر پتہ چلے اور ان سب شخصیات پر کئی مضامین لکھے جاسکتے ہیں . دلچسپ بات یہ ہے کہ یوسف بن تاشفینؒ مراکش کی تاریخ کے عظیم ترین ناموں میں سے ایک ہونے کے باوجود سبعة رجال میں شامل نہیں ہیں؛ یہ فہرست بنیادی طور پر صوفی، علمی اور روحانی شخصیات کی ہے۔ میں ان  سات مردانِ خدا  کے شہر میں ایک  کے دروازے کی طرف   بڑھ رہا تھا۔

جیسے جیسے ہم مزار کے قریب پہنچ رہے تھے، مراکش کی گلیاں میرے سامنے تھیں لیکن ذہن کئی برس پیچھے  سفر کر رہا  تھا۔ مجھے اپنی زندگی کا وہ دور یاد آنے لگا جب دلائل الخيرات میری زندگی میں داخل ہوا تھا۔

زندگی میں بعض حادثات ایسے ہوتے ہیں جن کے بعد انسان کے سامنے شاید صرف دو راستے رہ جاتے ہیں: یا وہ اپنے آپ کو سنبھال لیتا ہے، یا پھر اپنے ہی دکھ کے صحرا میں مجنوں ہو جاتا ہے۔میں بھی شاید مجنوں ہو جاتا، اگر اللہ نے مجھے اس وقت کچھ اچھے دوست نہ دیے ہوتے۔انہی دوستوں میں ایک محترم چوہدری عبدالجبار صاحب تھے۔ ان سے میری ملاقات ہائی ویکم کے سابق میئر، مرحوم چوہدری اللہ دتہ صاحب نے کروائی تھی۔

چوہدری عبدالجبار صاحب نے ایک دن مجھے دلائل الخيرات پڑھنے کی تلقین کی۔ دلائل الخیرات سے میرے گھر کا تعلق بھی نیا نہیں تھا۔ جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے، میرے والد صاحب کئی برسوں سے اس   کا ورد کرتے آئے ہیں۔مراکش آنے سے پہلے انہوں نے مجھے خاص طور پر تاکید کی تھی کہ اگر میرا  امام جزولیؒ کے مزار پر جانا ہوا  تو میں ان کا سلام  یہاں ضرور پہنچاؤں۔ چنانچہ میں ایک سیاح کی حیثیت سے نہیں بلکہ ایک پیغام رساں کی حیثیت سے  جا رہا تھا۔میں ایک بیٹے کی حیثیت سے اپنے والد کی امانت لے کر جا رہا تھا۔

ٹک ٹک  امام جزولیؒ کے زاویے کے قریب پہنچ گیا۔میں اترا تو سامنے منظر میری توقع کے بالکل برعکس تھا۔ تعمیر و مرمت کا کام جاری تھا۔ ہر طرف گرد و غبار، مٹی اور کام کے آثار تھے۔

یہاں پہنچ کر پتا چلا کہ مزار بند ہے۔ایک لمحے کے لیے  میں مایوس ہوا ، کیونکہ مراکش میں یہ دوسرا دروازہ بند ملا ۔ رانی نے مجھے اداس دیکھا تو بولی ” دیکھیں الله کوئی وسیلہ کریں گے ؟  اگر امام کو آپ کو ملنا ہے تو دروازہ کھل جائے گا . میں مسکرایا ، مجھے یاد آ گیا ، میں نے کہیں پڑھا تھا کہ سلطان جلال الدین خلجی حضرت خواجہ تاج الدین دہلویؒ   کو ملنا چاہتا تھا ۔ حضرت  خواجہ تاج الدین دہلویؒ حکمرانوں اور دربار سے فاصلہ رکھتے تھے، اس لیے انہوں نے سلطان کی ملاقات کی خواہش قبول نہیں کی۔ اور اگر میں غلط نہیں تو روایت ہے کہ ایک روز سلطان دروازے پر پہنچا اور حضرت  عبادت میں مشغول تھے ،   سلطان  دروازے پر ہی کھڑا  رہا . ایک محافظ نے کہا ” سلطان آپ حکم فرمائیں تو حضرت کو بتایا جائے کہ انہیں سلطان ملنے آئے ہیں ؟” کہتے ہیں سلطان بولا ” سلطان تو وہ ہے جو سجدے میں ہے ” . میں اس روایت کی تصدیق نہیں کرسکتا مگر اس وقت وہاں ایک سلطان تو نہیں  ایک مسافر ضرور کھڑا تھا جس کے پاس بہت سے پیغامات تھے جو ایک پیغام رساں تھا اور  اداس تھا مگر رانی کے الفاظ میں  اعتماد تھا ۔

میں ابھی اسی کیفیت میں خود سے محو گفتگو  تھا کہ چار نوجوان میرے اردگرد جمع ہوگئے۔انہوں نے پوچھا کہاں  سے آئے ہو؟ میں نے کہا،’’برطانیہ سے۔‘‘

اگلا سوال فوراً آیا،’’پاکستانی ہو؟‘‘میں نے اثبات میں سر ہلایا تو اچانک ان نوجوانوں نے بلند آواز میں نعرے لگانے شروع کردیے،’’پاکستان زندہ باد! پاکستان زندہ باد!‘‘میں حیران رہ گیا۔

اتنی بلند آواز، اتنے جوش اور اتنی اپنائیت سے پاکستان زندہ باد کے نعرے شاید بعض اوقات اسلام آباد میں بھی نہ گونجتے ہوں، جتنے مراکش کی اس تنگ گلی میں امام جزولیؒ کے مزار کے باہر گونج رہے تھے۔

میں سوچنے لگا کہ آخر ان مراکشی نوجوانوں کے دل میں پاکستان کے لیے اتنی محبت کیوں ہے؟اس سوال کا جواب  تھوڑی دیر میں آپ بھی جان پائیں گے ۔

فی الحال میرے سامنے بند دروازہ تھا۔’’ہم آپ کے لیے دروازہ کھلوانے کی کوشش کرتے ہیں‘‘ ایک نوجوان بولا اور پھر ایک مرد جس نے صرف جانگیا  فن رکھا تھا دوڑتا ہوا آیا اور اس نے دروازے کے کھینچ کر کھولنے کی کوشش کی .ان نوجوانوں نے بتایا کہ تعمیراتی کام کی وجہ سے اندر جانا ممکن نہیں ۔

انہوں نے مجھے قریب موجود امام کی والدہ سے منسوب قبر دکھائی اور پھر دروازہ کھلوانے کی کوشش شروع کردی۔

مقبرے میں داخلے کے لیے دو دروازے تھے۔ ایک پر تالا لگا ہوا تھا جبکہ دوسرا اندر سے بند معلوم ہوتا تھا۔ دو آدمیوں نے اسے کھولنے کی پوری کوشش کی مگر وہ نہ کھلا۔اور پھر اسی انتظار میں اچانک میرے کانوں میں ایک مانوس سی آواز پڑی۔کچھ لوگ اجتماعی طور پر کچھ پڑھ رہے تھے۔میں نے غور کیا۔

دلائل الخیرات شریف کا ورد ہو رہا تھا۔مجھے بتایا گیا کہ عصر کے بعد یہاں دلائل الخیرات پڑھنے کی روایت ہے۔یہ میرے لیے ایک عجیب لمحہ تھا۔

جس شخص کی کتاب میرے والد برسوں سے پڑھ رہے تھے، آج میں اسی شخص کے مزار کے باہر کھڑا تھا اور اندر سے اسی کتاب کے درود و سلام کی آوازیں آرہی تھیں۔

میں نے وہیں ظہر اور عصر کی نماز قصر ادا کی اور پھر ان بزرگوں کی محفل میں جا بیٹھا جو دلائل الخیرات کے ورد میں مصروف تھے جبکہ رانی  ایک پردے کے پیچھے بیٹھی تھی ۔ محمد میرے ساتھ تھا  کچھ دیر بعد مسجد میں موجود ایک صاحب ہمارے پاس آئے۔

انہوں نے میری بات سنی اور کہا  کہ،’’میں کوشش کرتا ہوں کہ مزار کی چابی مل جائے۔‘‘انتظار شروع ہوگیا۔پھر کچھ دیر بعد ایک شخص ہاتھ میں چابی لیے نمودار ہوا۔تالا کھولا گیا۔دروازہ کھلا اور میں اندر داخل ہوگیا۔ اس لمحے کی کیفیت بیان کرنا شاید میرے لیے ممکن نہیں۔میں امام محمد بن سلیمان الجزولیؒ کے مزار کے قریب کھڑا تھا۔میں نے اپنے والد کا سلام پیش کیا۔

حاضری مکمل ہوئی تو میں نے اس بزرگ شخصیت سے پوچھا،’’دربار شریف کی خدمت کے لیے میں کیا کرسکتا ہوں؟‘‘

انہوں نے کہا’’کچھ رقم دے دیں۔‘‘میں نے اپنی جیب سے برطانوی کرنسی نکالی اور انہیں پیش کردی۔ انہوں نے رقم جیب میں ڈالی اور وہاں سے روانہ ہوگئے۔

پھر  چاروں نوجوان میرے پاس آگئے۔انہوں نے کہا،’’ان صاحب کا اس دربار سے کوئی تعلق نہیں۔ ہم یہاں صفائی اور خدمت کرتے ہیں، آپ ہماری بھی خدمت کریں۔‘‘ میں نی دو مزید نوجوانوں کو پیسے دیے اور   واپس  ٹک ٹک کی طرف بڑھا تو دو مزید نوجوان آگئے۔

ان کی شکایت بڑی دلچسپ تھی،’’ہم رہ گئے ہیں!‘‘ان کی بات سن کر   میں مسکرایا اور مجھے ان کے "پاکستان زندہ باد” والے نعرے سمجھ آ گئے . ٹک ٹک والا مجھ سے زیادہ اس طرح کی صورتحال سے نمٹنے کا ماہر تھا ، اس نے ٹک ٹک کو تیزی سے یہاں سے نکالا اور ہم جامع الفنا واپس پہنچے تو ہمارے درمیان طے شدہ کرایہ ڈیڑھ سو درہم تھا۔

میں نے ادائیگی کے لیے رقم نکالی۔رکشے والے نے کہا،’’میرے پاس بقایا دینے کے لیے کھلے پیسے نہیں ہیں۔‘‘یوں جو سفر ڈیڑھ سو درہم میں طے ہوا تھا، بالآخر مجھے دو سو درہم ہی میں پڑا یعنی سارا بھاؤ تاؤ بس ایک شغل تھا مگر مجھے اضافی کرایہ ادا کرنے کا دکھ نہیں تھا کیونکہ  اس کی بدولت میں آج ایک عظیم استاد، محقق اور مرد حق کے در دے ہو کر آیا تھا ، وہ پیغامات جو میرے پاس امانت تھے وہ پہنچا کر آیا تھا ، ٹک ٹک سے اتر کر میں جامع الفنا کے باہر ایک دیوار کے ساتھ جا کھڑا ہوا، گرمی انتہا کی تھی ۔ یہاں  جامع الفنا کے عقب میں یوسف بن تاشفینؒ کا دروازہ کچھ فاصلے پر تھا ،   جہاں میں کھڑا تھا یہاں سامنے ایک سفید  عمارت تھی جو کوئی مقبرہ یا مزار لگتا تھا ، اس کے سامنے ایک  شخص پانی کی ٹھنڈی بوتلیں بیچ رہا تھا . میں نے اس سے پانی خریدا اور اس مزار کے باہر بورڈ پر پڑھا تو پتہ چلا کہ یہ مزار فاطمہ الزہراء بنت الکوشؒ کا ہے ، جنہیں مراکش میں للا زہراء کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔آپ  شہرِ مراکش کی معروف روحانی خواتین میں شمار ہوتی ہیں۔ ان سے متعلق مقامی روایات میں زہد، عبادت اور نیکی کا ذکر ملتا ہے، اور ان کا چھوٹا سا سفید گنبد دار مزار   جامع الفنا کے پہلو میں واقع ہے۔ مراکش کی صوفیانہ روایت میں اولیاء اور صالحین کے ساتھ نیک اور صاحبِ نسبت خواتین کا تذکرہ بھی ملتا ہے، اور للا زہراء کا مزار اسی روحانی ورثے کی ایک خاموش یادگار ہے جو آج بھی شہر کی ہنگامہ خیز زندگی کے درمیان اپنی الگ پہچان رکھتی ہے۔ یہاں اپنی عقیدت پیش کی اور واپس  جامع الفنا کے عقب میں واقع  باغ میں سائے کی  تلاش میں ہم ایک درخت کے نیچے بیٹھ   گئے اور میں آج کے اس  ہنگامۂ خاموش کے بارے میں سوچنے لگ گیا جہاں میں دو دروازوں تک پہنچا ،دونوں دروازے بند تھے۔
ایک نہ کھل سکا، دوسرا میرے لیے کھول دیا گیا۔شاید یہی فرق حکمرانوں کی سلطنت اور اولیاء کی حکمرانی میں ہوتا ہے۔جامع الفنا کے سامنے  شور بدستور جاری تھا،اور میں  مراکش کے ایک دن میں سمائی کئی صدیوں کی تاریخ  کا کچھ حصہ  اپنے دامن میں سمیٹے گائیڈ کا منتظر تھا  جس نے ہمیں واپس  اگادیر  لیکر جانا تھا۔

 

Exit mobile version