Tarjuman-e-Mashriq

مراکش — اولیاء، فاتحین اور تاریخ کا شہر

اگر کبھی المغرب آئیں تو شہر مراکش ضرور دیکھیں۔ یہاں آپ کو تاریخ جگہ جگہ بکھری ملے گی۔ شہر کا آغاز ہوا تو بائیں ہاتھ ایک فوجی چھاونی تھی۔ گائیڈ بولا ” اب جو آپ عمارتیں دیکھ رہے ہیں یہ فوجی کیمپ ہے اور یہاں ہر دور میں فوج پڑاو کرتی رہی ہے۔ یہیں اس پہاڑ کے دامن میں یوسف بن تاشفین کی فوج نے ڈیرا ڈالا تھا”
بس شہر میں داخل ہوئی اور ہم ایک عظیم تاریخی عمارت کے باہر تھے۔ اس عمارت کا تذکرہ ابھی پیش کرتا ہوں پہلے مراکش شہر کی کہانی سناتی لیتے ہیں۔
گائیڈ اکرم ایک پڑھا لکھا نوجوان تھا۔ اس نے اگادیر یونیورسٹی سے ڈگری حاصل کی ہوئی تھی اور امریکی لہجے میں انگریزی بول رہا تھا۔
گائیڈ نے مراکش کے بارے میں صبح سے ہی بات کرنا شروع کر دی جب ہماری کوچ اگادیر سے مراکش شہر کی طرف ہائی وے پر چڑھی۔
مراكش کی بنیاد گیارہویں صدی میں المرابطون کے دور میں پڑی۔ زیادہ محتاط تاریخی رائے کے مطابق تقریباً 1070–1071ء میں المرابطون کے امیر ابوبکر بن عمر نے یہاں ایک نئے سیاسی اور فوجی مرکز کی بنیاد رکھی۔ بعد میں یوسف بن تاشفین نے اس شہر کو وسعت دی اور اسے المرابطون کی عظیم سلطنت کے اہم ترین دارالحکومت میں تبدیل کر دیا۔ یہی وہ سلطنت تھی جس کا اقتدار شمالی افریقہ سے آگے اندلس تک پھیل گیا۔
ابتدائی مراكش کے اہم مراکز میں ایک پتھر کا قلعہ یا شاہی احاطہ تھا جسے قصر الحجر یعنی ’’پتھر کا قلعہ/محل‘‘ کہا جاتا تھا۔ اس کے قریب ایک بڑی کھلی جگہ موجود تھی جہاں بازار اور عوامی اجتماعات منعقد ہوتے تھے۔ تاریخی روایات میں اس جگہ کو رحبة القصر، یعنی ’’قلعے کے سامنے کا میدان‘‘، اور بعض مقامات پر الساحة الكبرى یعنی ’’بڑا میدان‘‘ جیسے ناموں سے یاد کیا گیا ہے۔
وقت گزرنے کے ساتھ یہی علاقہ مراكش کی تجارتی اور عوامی زندگی کا ایک اہم مرکز بنتا چلا گیا۔ آج کا مشہور جامع الفنا (وہ عمارت جس کے باہر ہماری کوچ رکی تھی) اسی تاریخی شہری علاقے کی صدیوں پر محیط ارتقائی صورت ہے۔ البتہ یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ 1070ء میں جامع الفنا بالکل اسی شکل اور حدود کے ساتھ موجود تھا جس طرح ہم اسے آج دیکھتے ہیں۔
یوسف بن تاشفین کے بیٹے اور جانشین علی بن یوسف (1106–1143ء) کے دور میں مراكش مزید ترقی کر گیا۔ شاہی محلات، مساجد اور شہری عمارات تعمیر ہوئیں۔ ان کے دور کی جامع مسجد کے لیے بنایا گیا نہایت خوبصورت منبر اسلامی فنِ تعمیر کا ایک شاہکار تھا، جسے بعد میں الموحدون نے بھی محفوظ رکھا۔
1147ء میں مراكش کی تاریخ نے ایک فیصلہ کن موڑ لیا۔ الموحدون نے المرابطون کو شکست دے کر شہر پر قبضہ کر لیا۔ نئی حکمران سلطنت نے المرابطون کی کئی اہم عمارتوں کو منہدم یا تبدیل کیا اور اپنے نئے مذہبی و سیاسی مراکز تعمیر کیے۔
اسی دور میں جامع الکتبیہ کی تعمیر شروع ہوئی، جو آج مراكش کی سب سے نمایاں تاریخی علامتوں میں شمار ہوتی ہے۔ بعد میں الموحد خلیفہ یعقوب المنصور کے زمانے، یعنی بارہویں صدی کے آخر میں، شہر کے جنوب میں ایک نیا شاہی قصبہ تعمیر کیا گیا اور شاہی اقتدار کا مرکز پرانے المرابطی علاقے سے جنوب کی طرف منتقل ہوگیا۔
جامع الفنا بھی صدیوں کے دوران بدلتا رہا۔ کبھی یہاں بازار لگے، کبھی شاہی اور فوجی تقریبات ہوئیں، کبھی عوامی اجتماعات اور بعض ادوار میں سزاؤں اور پھانسیوں کا مقام بھی رہا۔ بعد کی صدیوں میں قصہ گو، موسیقار، مداری، حکیم، تاجر اور کھانے پینے والے اس میدان کی پہچان بنتے گئے۔
اس لیے آج جب کوئی جامع الفنا سے الکتبیہ کی طرف چلتا ہے تو وہ محض ایک سیاحتی راستے پر نہیں چل رہا ہوتا۔ اس زمین کے نیچے اور اس کے گرد مراكش کی تقریباً ایک ہزار سالہ تاریخ موجود ہے۔
یہیں کہیں المرابطون نے اپنی نئی سلطنت کا مرکز قائم کیا، یہیں یوسف بن تاشفین کے عہد میں مراكش ایک عظیم دارالحکومت بنا، اور پھر اسی شہر نے المرابطون کا زوال، الموحدون کا عروج اور آنے والی کئی سلطنتوں کے قدم دیکھے۔
مراكش صرف ایک شہر نہیں؛ یہ شمالی افریقہ اور اندلس کی مشترکہ تاریخ کا ایک زندہ ورق ہے۔۔۔۔۔ سفر جاری ہے اور مراکش کی کہانی بھی۔
Exit mobile version