پانچ فروری 1974ء کی خنک شام تھی جب ملتان پسنجر کوئی تین گھنٹے لیٹ راولپنڈی ریلوئے اسٹیشن سے روانہ ہوئی ۔ اُن دِنوں بسوں کا اڈہ لیاقت باغ میں ہوتا تھا۔ وہاں سے ریلوئے اسٹیشن اور صدر کیلئے تانگے چلتے تھے ۔ میں دوپہر کے وقت ہی راولپنڈی آ گیا اور ریلوئے اسٹیشن کے بجائے صدر اُتر گیا۔ میرے پاس ابو جی ( مرحوم ) کا کینوس بیگ تھا جس میں میرے استعمال کی چند چیزیں اور کپڑے تھے۔ صدر اُتر کر میں ٹرانزٹ کیمپ گیا تا کہ گلگت اور سکردو جانیوالی سپاہ کا پتہ کروں ۔ وہاں پہنچا تو سب ہی سے ملاقات ہو گئی ۔ پتہ چلا کہ مارچ تک شمالی علاقوں کی فلائیٹ میں جگہ نہیں مگر ہو سکتا ہے کہ فضائیہ کے سی۔ون۔تھرٹی میں کوئی بندوبست ہو جائے ۔ یہ لوگ اپنی یونٹوں میں جانے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتے تھے اور سردیاں راولپنڈی اور اپنے گھروں میں گزارنا چاہتے تھے۔
میں نے ان دوستوں کیساتھ کافی دِن گزارا اور پھر ریلوئے اسٹیشن جا کر سٹور سے اپنا کٹ بیگ وصول کیا۔ ریلوئے اسٹیشن پر کافی گہما گہمی تھی چونکہ کراچی اور لاہور جانیوالی گاڑیاں پلیٹ فارم پر لگی تھیں ۔ اِن گاڑیوں کی روانگی پر دنیا کی سست ترین گاڑی کسی تھکی ماندی بھکارن کی طرح آئی جس میں مسافروں کیلئے صرف تین چار کوچ تھے۔ باقی ڈبے مال گاڑی کے تھے اور ٹرین کا نام ماڑی انڈس لکھا تھا۔ میں نے ٹکٹ کلرک سے پوچھا تو پتہ چلا کہ میانوالی تک اُسکا یہی نام رہے گا اور پھر دُلہن یہی رہے گی اور خاوند بدلتے رہیں گے ۔ میانوالی کے بعد اسکا نام ملتان پسنجر ، ملتان سے آگے روہڑی پسنجر، روہڑی سے آگے سبی پسنجر اور آخری سفر کوئیٹہ پسنجر پر ہو گا۔ آپ ہر اسٹیشن پر احتیاط کرنا اور ڈبے بدلتے رہنا ۔ راولپنڈی کے بعد پہلا اسٹیشن گولڑہ شریف تھا۔ میں نے باہر نکل کر دیکھا تو اسٹیشن ویران تھا۔ سارے ڈبے میں دس پندرہ مسافر تھے جنھیں کیملپور (اٹک) جانا تھا ۔ گولڑہ شریف کے بعد ماڑی انڈس ماڑی ماڑی چلتی ایک دو اور اسٹیشنوں پر رکی اور تین گھنٹوں بعد اٹک پہنچی ۔
(اٹک) کیمبل پور ایک تاریخی شہر اور انگریز کے دور کی چھاونی ہے ۔ دریائے سندھ کے کنارے آباد اِس شہر میں کئی بڑی شخصیات پیدا ہوئیں جن میں ڈاکٹر غلام جیلانی برق جیسے عظیم مدبر، محقق ، دانشور اور مورخ شامل ہیں ۔ اٹک شہر سے ایک راستہ دریا کی جانب نکلتا ہے جو عام طور پر سمگلروں کے استعمال میں رہتا ہے۔ اس راستے کے اختتام پر ایک پرانے قلعے کے آثار ہیں جس کے متعلق خیال کیا جاتا ہے کہ اِس کی تعمیر شمس اُلدین التمش کے زمانہ میں ہوئی ۔ قلعے کے سامنے مغربی کنارے پر (کاوافیری) کا مشہور مقام ہے۔ 1980ء میں یہاں ایک بیڑہ چلتا تھا جسکے ذریعے لوگ دریا کے آر پار سفر کرتے تھے۔ سمگلر بھی اِسی بیڑے کا استعمال کرتے اور جیپوں پر اپنا سامان خیبر پختون خواہ سے پنجاب منتقل کرتے ۔ یہاں دریائے سندھ ایک تنگ گھاٹی سے گزرتا ہے جس کی وجہ سے کشتیوں پر مال برداری آسان ہے ۔ دریا کے مغرب میں سرحد کے ضلع نوشہرہ کی تحصیل خیر آباد واقع ہے۔ عین سامنے چند میل کے فاصلے پر چراٹ کا مشہور بلند مقام اور چھاونی ہے جس کے جنوبی کونے پر جلالہ سر کا مشہور مقام ہے ۔ یہ مقام خوارزم کے بادشاہ جلال الدین خوارزم شاہ کے نام سے منسوب ہے۔ چنگیز خان نے 1215ء میں خوارزم شاہ پر حملہ کیا اور 1224ء تک خراسان ، بلخ ، مرو، توس ، نیشاپور ، ہرات اور غزنی تک تاخت و تاراج کا سلسلہ جاری رکھا۔ جلال الدین خوارزم شاہ پے در پے شکست کھاتا چراٹ کے سلسلہ کوہ کی اِس چوٹی سے گزرتا کا‘‘کاوا ’’ تک آیا اور اس بلند مقام سے اپنا گھوڑا دریائے سندھ میں ڈال دیا ۔ تاتاریوں نے یہاں تک جلال الدین کا تعاقب کیا مگر آگے بڑھنے سے گریز کیا ۔ کاوا سے شمال میں تقریباً پچاس میل کے فاصلے پر دریا کے مغربی کنارے پر ہنڈ کا تاریخی گاوٗں واقع ہے ۔ مشرقی کنارے پر ہری پور کی تحصیل غازی کے گاوٗں قاضی پور اور حضرو ہیں۔ تاتاری لشکر جلال الدین کی فوج کے بکھرے ہوئے کچھ دستوں کے تعاقب میں ہنڈ تک بھی آئے مگر دریا عبور نہ کر سکے ۔
کم لوگ جانتے ہیں کہ دُنیا کی عظیم سلطنت گندھارا کا پائیہ تخت ہنڈ تھا۔ نامور مورخ اور محقق ڈاکٹر احمد حسن وانی نے ہنڈ کو ہی ہند کی وجہ تسمیہ لکھا ہے۔ لکھتے ہیں کہ ہنڈ کا قدیم نام اوبھانڈ پورہ تھا جہاں مٹی کے بڑے بڑے مٹکوں کو باندھ کر ایک بڑی کشتی یا بیڑہ بنایا جاتا جسپر بیٹھ کر لوگ دریا عبور کرتے۔
کوئی ڈھائی ہزار قبل مسیح میں اسی ہنڈ سے آریاوٗں نے موجودہ ہند میں دخول کیا اور اسی جگہ سے ھُن اور درد بھی آئے۔ ساڑھے تین سو سال قبل مسیح میں سکندر اعظم اور بعد کے ادوار میں ترکوں اور مغلوں نے اسی راستے کو اپنایا۔ 1586ء میں اکبر اعظم نے متبادل راستہ تلاش کیا اور اٹک کے مقام پر کشتیوں کا پل تعمیر کروایا۔ اٹک کا قلعہ اور خیر آباد کے مقام پر سرائے تعمیر کروائی۔ خیر آباد کے لوگوں کا کہنا ہے کہ پل مکمل ہُوا تو اکبر گھوڑے پر بیٹھ کر مغربی کنارے پر پہنچا تو اس جگہ کا نام خیر آباد رکھا۔ غرباٗ میں لنگر تقسیم کیا اور ہنرمندوں کو انعامات سے نوازا ۔ یہ پل بنارس کے ملاحوں نے تعمیر کیا جو مغلیہ دور میں کشتیوں کے پل بنانے کے ماہر تھے۔ پل کی حفاظت اور مرمت کیلئے ملاوٗں اور کاریگروں کی ایک بستی، اٹک پل کے جنوب میں بسائی گئی جسکا نام ملاحی ٹولہ رکھا گیا۔
اٹک کے جنوب میں باغ نیلاب واقع ہے۔ یہاں سلطان نوری باباؒ کا مزار اور دیگر اولیاٗ کرام کی قبریں ہیں ۔ اِس جگہ دریا پہاڑوں کے درمیان ایک نہر کی صورت اختیار کر جاتا ہے۔ کہتے ہیں کہ قدیم دور میں یہاں رسوں کی مدد سے ایک پل تعمیر کیا گیا جس کے ذریعے دریا کے اطراف آمد و رفت ہوتی تھی۔ ماڑی انڈس اٹک پہنچ کر ٹھنڈی ہو گئی۔ انجن گاڑی سے جدا ہو کر سیٹیاں بجاتا آگے چلا گیا ۔ ڈبے میں بیٹھے مسافروں نے بتایا کہ اب شنٹنگ ہو گی۔ انجن پیچھے جاکر مال بردار بوگیاں اتار کر دوسری پٹڑی پر ڈالے گا اور پھر آگے آ کر سفر شروع کرے گا۔ کوئی دو گھنٹے تک شنٹنگ جاری رہی پھر انجن نے اپنی جگہ آ کر سیٹی بجائی اور آہستہ آہستہ اٹک سے چل پڑا ۔
گولڑہ سے میانوالی تک یوں محسوس ہوا جیسے بُو جی اور ابا جی (والدہ اور والد) میرے ساتھ ہیں ۔ تقسیم ہند سے پہلے میرے والد کافی عرصہ تک گولڑہ شریف ،اٹک اور میانوالی میں تعینات رہے۔ گولڑہ شریف میں تعیناتی کے دوران یہیں آپ کی ملاقات حضرت پیر مہر علی شاہؒ سے ہوئی اور آپ نے پیر صاحب ؒ کے دست مبارک پر بیعت کی۔ والدہ مرحومہ گولڑہ شریف ، اٹک اور میانوالی میں والد محترم کے ساتھ رہیں اور اکثر گولڑہ شریف دربار پر حاضری دیتیں ۔ والدہ مرحومہ ان علاقوں کے عام لوگوں ، فقراٗ اور علماٗ کی باتیں کرتیں جن سے والد محترم مولوی محمد عزیزؒ کا تعلق تھا۔ والد محترم ابھی کمسن ہی تھے جب میرے دادا راجہ وزیر خان کا انتقال ہو گیا۔ میری دادی محترمہ کے چھوٹے بھائی صوبیدار صلاح محمد خان نے میرے والد کی پرورش کا ذمہ لیا۔ دادی محترمہ کے مطابق والد صاحب کو سوتیلے چچاوٗں اور اُن کی اولادوں سے زمینداری اور نمبرداری کی وجہ سے خطرہ تھا۔ والد محترم نے اپنے ماموں کے ساتھ رہتے ہُوئے میرٹھ، جھانسی اور پونے میں قائم دینی مدارس سے تعلیم حاصل کی ۔ ان دینی اداروں سے فارغ التحصیل بیشتر علماٗ والد محترم کے ہم مکتب رہ چکے تھے ۔ علاوہ اِن کے پیر صاحبؒ گولڑہ شریف کے مریدین کی خاصی تعداد اِن ہی علاقوں میں آباد تھی۔
اٹک کے بعد ماڑی انڈس کئی اسٹیشنوں پر رکی مگر ہم میں سے کسی نے باہر نکل کر نہ دیکھا ۔ ایک ویران اسٹیشن پر چند پولیس والے آئے اور مسافروں کے نام اور اگلی منزل کا پوچھا اور چلے گئے ۔ تھوڑی دیر بعد گارڈ آیا اور ھدایت کی کہ مسافر اندر سے دروازے بند کر لیں اور صبح تک مت کھولیں ۔ دو تین مسافر اُٹھے اور دروازے بند کر کے سو گئے۔ سردیوں کی اندھیری رات تھی اور ریل گاڑی رینگ رینگ کر چل رہی تھی ۔ صبح کے قریب گاڑی ایک ویران اسٹیشن پر رکی تو سارے مسافر اپنا سامان اُٹھا کر خاموشی سے چلے گئے ۔ تھوڑی دیر میں دو پولیس والوں کے ہمراہ دس بارہ آدمی کتوں کی زنجیریں پکڑے گاڑی میں داخل ہوئے۔ کتوں کے منہ پر ماسک نما چمڑے کے کور تھے جو گاڑی میں داخل ہوتے ہی سیٹوں پر بیٹھ گئے ۔ پولیس والوں نے میری منزل کا پوچھا اور کہنے لگے کہ یہ لوگ شکاری ہیں ۔ دو تین اسٹیشن آگے اُتر جائینگے ۔ باہر دیکا تو تین چار کھلی جیپیں اسٹیشن پر کھڑی تھیں ۔ ایک بھاری بھرکم آدمی مشکل سے گاڑی میں داخل ہوا اور کتوں کے ساتھ آنے والوں کو ھدایات دیں کہ سونا نہیں ہے ۔ گاڑی سے پہلے ہی ہم اسٹیشن پر پہنچ جائینگے۔ ملک صاحب ہمیں دریا پر ملینگے۔
کوئی ڈیڑھ دو گھنٹوں بعد گاڑی ایک اسٹیشن پر رکی تو وہ موٹا آدمی پھر گاڑی میں داخل ہوا اور سب لوگ کتے لیکر اُتر گئے۔ گاڑی اسٹیشن پر رکی تو کئی دور سے صبح کی اذان سنائی دی۔ تھوڑی دیر بعد کچھ برقع پوش عورتیں ، بچے اور دو تین مرد گاڑی میں سوار ہوئے تو راولپنڈی کے بعد میں نے پہلے بار ٹکٹ چیکر کی شکل دیکھی ۔ گرم وردی کے اوپر اُس نے کمبل لپیٹ رکھا تھا ۔ میرے پاس آکر پوچھنے لگا کہ سفر کیسا کٹ رہا ہے۔
آپ نے راستے میں ڈبہ بھی تبدیل نہیں کیا۔ کئی اسٹیشنوں پر آپ اکیلے ہی بیٹھے رہے۔ یہ صحرائی سفر ہے اور دوسری طرف دریا ہے۔ ماڑی انڈس اور کالا باغ کے علاوہ سبھی اسٹیشن رات کو ویران ہی ہوتے ہیں ۔ راولپنڈی اور اٹک سے آنیوالے مسافر اُتر جاتے ہیں ۔ گاڑی نے اِس اسٹیشن پر بھی مختصر قیام کیا۔ صبح کی اذان ہو چکی تھی مگر اب بھی اندھیرا ہی تھا۔ کوئی دو گھنٹوں بعد صبح کا آغاز ہُوا تو سامنے ایک پل تھا۔ پتہ نہیں یہ کونسی جگہ تھی مگر منظر دلفریب تھا۔ گاڑی پل سے گزری اور اگلے ویران اسٹیشن پررکے بغیر ہی چلتی رہی ۔ دور تک آبادی تو دکھائی نہ دی مگر درختوں کی جھنڈ نظر آۓ۔ عرصہ بعد میں سڑک کے راستے دو تین بار میانوالی گیا تو پتہ چلا کہ آبادیاں اِن کی درختوں میں ہیں ۔ جتنا بڑا جھنڈ تھا اتنا ہی بڑا گاوٗں یا قصبہ تھا۔ اب گاڑی کی رفتار بھی قدرے تیز تھی اور مسافر کوچوں میں بھی اضافہ ہو چکا تھا۔ صبح آٹھ بجے کے قریب گاڑی میانوالی پہنچی تو ایک نئی دُنیا نظر آئی۔ ریلوئے اسٹیشن پر کافی لوگ تھے مگر کوئی عورت نظر نہ آئی ۔ سفید لمبے کرتے، تہبند اور بھاری سفید شلواروں میں ملبوس قد آور مردوں کا شہر نظر آیا۔ ریلوے اسٹیشن صاف ستھرا اور خاموش تھا۔ شاید میانوالی کے لوگ دھیمے انداز اور آواز میں بولتے ہیں ۔ شدید سردی کے باوجود سبھی لوگ چپل پہنے ہوئے تھے اور گرم جرابوں اور بوٹوں کے باوجود میرے پاوٗں ٹھنڈے تھے ۔ راولپنڈی آکر میں نے کٹ بیگ سے گریٹ کوٹ، کیپ کمفٹر اور مفلر نکال لیا اور اپنا کینویس بیگ ، کٹ بیگ میں ڈالکر ایک ہی نگ بنا لیا۔ میانوالی تک سیٹیں خالی ہی رہیں اور میں آرام سے کٹ بیگ کی تیک لگا کر سوتا رہا۔ جن اسٹیشنوں پر میں گاڑی سے اُترتا کٹ بیگ بھی ساتھ ہی رکھتا۔ میانوالی آکر ٹرین شاید چلنا بھول گئی تھی۔ یہاں آکر مسافر کوچوں میں مزید اضافہ ہُوا اور مال بردار ڈبے مزید کم ہو گئے ۔ اسٹیشن پر میں نے چائے اور پراٹھے کا ناشتہ کیا۔ چائے کا گلاس کافی بڑا اور پراٹھہ بھی پیٹ بھرنے کیلئے کافی تھا۔ میانوالی کا ریلوے اسٹیشن مجھے اپنے گھر کی طرح لگا۔ کبھی اسی اسٹیشن کے قریب ریلوے کالونی میں میری والدہ اور ابا جی رہا کرتے تھے اور اسی ریلوئے اسٹیشن سے اپنے گھر اور گاوٗں کے لیے روانہ ہوتے تھے ۔ میانوالی ریلوے اسٹیشن پر بوریت اور بیگانگی کا بالکل احساس نہ ہوا ۔ یہاں کافی دیر تک گاڑی رکی رہی۔ مسافر گاڑی میں سوار ہونے لگے تو سفید ٹوپی والے برقعوں میں ملبوس خواتین ایک جلوس کی شکل میں نمودار ہوئیں اور خواتین کیلئے مخصوص کوچوں میں سوار ہو گئیں ۔ کسی خاتون کس ساتھ بچہ یا مرد نہ تھا ۔ شاید کالج کی لڑکیاں ہوں۔
سارے مسافر سوار ہو گئے تو گارڈ نے سیٹی بجائی اور میں بھی اپنی جگہ جا کر بیٹھ گیا ۔ راولپنڈی سے چلنے والے اس کوچ کی شنٹنگ کی وجہ سے پوزیشن بدلتی رہی مگر مسافروں کی تعداد کم ہی رہی ۔ میانوالی سے تھوڑے ہی دور گئے تو ٹکٹ چیکر نے سب کے ٹکٹ چیک کئے۔ میرا ٹکٹ دیکھ کر کہنے لگا کہ آپ کا سفر تو بہت ہی طویل ہے ۔ لگتا ہے کہ آپ پاکستان کی سیر پر نکلے ہیں ۔ راولپنڈی سے کوئٹہ ایکسپریس چلتی ہے آپ اسپر سفر کرتے تو ابھی تک کوئٹہ پہنچ چکے ہوتے ۔ میں نے پوچھا ملتان کب پہنچیں گے۔ کہنے لگا شاید شام تک ۔ میانوالی کے بعد مکمل صحرائی سفر تھا۔ سردی کی وجہ سے کھڑکیاں بند تھیں مگر باہر ریت کے طوفان تھے۔ گاڑی اسی انداز سے جگہ جگہ رکتی اور چلتی رہی۔ مسافروں کی تعداد کبھی کم اور کبھی زیادہ ہو جاتی مگر رش کی صورت کبھی نہ ہوئی۔ جو آتا سیٹ بلکہ بینچ پر بیٹھتا ۔ کچھ لیٹ کر آرام کرتے اور ساتھیوں کو بتاتے کہ ٹیشن پر جگا دینا۔ کوئی تین بجے کے قریب گاڑی ایک پل سے گزری مگر دریا تقریباً خشک تھا۔ دوسری جانب ایک اسٹیشن پر رکی جو قدرے آباد تھا۔ میں اپنا کٹ بیگ لیکر نیچے اُترا ۔ سامنے ہی ایک سٹال والا دال روٹی کی آواز لگا رہا تھا ۔ دال تو پکی ہوئی تھی مگر روٹی وہ بنا کر دے رہا تھا ۔ باقی مسافروں کے ساتھ لائن میں لگ کر مزیدار گرم چنے کی دال اور تازہ روٹیاں لیکر کھائیں اور چائے کے سٹال پر حاضری دی۔ یہاں بھی چائے میانوالی کی طرح بڑے گلاس میں ملی جو عام ہوٹلوں کے چار کپوں سے کم نہ تھی۔
اس اسٹیشن کے بعد مسافروں کی زبان، لباس اور باہر کے زمینی حالات میں یکسر تبدیلی آ گئی ۔ نئے مسافر سرائیکی اور ہندکو سے ملی جلی زبان بولتے تھے البتہ کوہاٹ ، ہزارہ اور پشاور سے لہجہ مختلف تھا ۔ کچے پکے دیہات، بھٹوں کی چمنیاں ، کھلے میدانوں میں چرتے مال مویشی ، سبزہ اور کھیت نظر آیا تو لگا اب ملتان قریب ہے۔ ملتان کی قربت کا تو اندازہ ہی تھا مگر شام قریب ہو رہی تھی ۔ کل اسی وقت میں راولپنڈی اسٹیشن پر تھا اور آج کی منزل سے پہلے اندھیرا چھا رہا تھا ۔ کوچ میں مکمل خاموشی اور اداسی تھی۔ کوئی کسی سے بات نہ کرتا تھا۔ کچھ دیر مکمل اندھیرا رہا اور پھر گاڑی آہستہ ہوکر رک گئی۔ گاری رکتے ہی مسافروں نے خاموشی توڑی اور باتیں کرنے لگے۔ گاڑی نے دو تین بار ہارن بجائے اور چل دی ۔ کسی نے کہا آوٹر سگنل آگیا ہے گاڑی آہستہ آہستہ ادب واحترام سے چلتی ملتان میں داخل ہوئی تو شہر کی روشنیاں نظر آنے لگیں ۔ کافی دیر چلنے کے بعد گاڑی پلیٹ فارم پر رکی اور مسافر خاموشی سے اُترنے لگے میں نے اپنا کٹ بیگ اُٹھایا اور پلیٹ فارم پر ایک بینچ پر پیٹھ گیا ۔ قلی نے پوچھا آپ باہر نہیں جائینگے۔ نہیں کا جواب سنکر وہ مایوس ہو کر چلا گیا۔ آج کی شام ملتان کے نام کرتے ہوئے ہاتھوں کا پیالہ بناکر پانی پیا ، منہ ہاتھ دھویا اور چائے کا سٹال تلاش کیا۔ یہاں چائے کے آداب بدل چکے تھے لمبے گلاسوں کی جگہ ملتانی مٹی کے چھوٹے کپ اور چائے بھی بد ذائقہ تھی۔ چائے پی کر اسٹیشن سے باہر آیا تو ملٹری پولیس کے دو جوان گریٹ کوٹ پہنے کھڑے تھے ۔ مجھے دیکھ کر قریب آئے ، ہاتھ ملایا اور یونٹ کا پوچھا ۔ میں نے بتایا کہ مجھے کوئٹہ جانا ہے بس تازہ ہوا میں سانس لینے باہر آیا ہوں ۔ اُنھہوں نے ٹکٹ کا پوچھا اور ٹکٹ دیکھ کر کہا کہ آپ کی گاڑی آٹھ بجے اسی پلیٹ فارم پر آئیگی ۔ بہتر ہے آپ ویٹنگ روم جا کر آرام کریں ۔ باہر سردی ہے۔
میں تھوڑی دیر وہاں کھڑا رہا اور پھر اسٹیشن پر جاکر بیٹھ گیا۔ اسٹیشن پر کافی رونق تھی ۔ وقفوں وقفوں سے گاڑیاں آتیں لوگ اُترتے ، چڑھتے اور قلی بھاگ بھاگ کر اُن کا سامان چڑھاتے اور اُتارتے۔ اسی بھاگ دوڑ کو دیکھتے دیکھتے پلیٹ فارم کے گھڑیال نے ٹن سے آٹھ بجنے کا اعلان کیا اور کوئی پندرہ منٹ بعد روہڑی پسنجر کی آمد کا بھی اعلان ہُوا۔ روہڑی پسنجر کی آمد پر کوئی جشن نہ ہوا ۔ نہ بھاگ دوڑ ہوئی اور نہ ہی قلیوں نے گرم جوشی کا مظاہرہ کیا۔ لوگ آہستہ آہستہ آتے گئے اور سامان بینچ نما لکڑی کی سیٹوں پر رکھ کر باہر جاتے۔ شاید یہ لوگ گاڑی کے مزاج سے واقف تھے اور اُنھیں پتہ تھا کہ دس بجے سے پہلے گاڑی حرکت نہیں کرے گی ۔ دس بجے کے بعد گارڈ نے سیٹی بجائی اور میں بھی ایک کوچ میں داخل ہُوا۔ اندر روشنی کم تھی اور مسافر بھی کم تھے ۔ مرد اور عورتیں اکھٹے بیٹھے گپیں لگا رہے تھے جیسے اپنے گھر میں ہوں ۔
گاڑی چلی اور دیر تک نہ رُکی جو ملتان پسنجر کے مزاج کی خلاف ورزی تھی۔ کچھ دیر بعد گاڑی ایک پل سے گزری اور رفتار کچھ تیز ہوگئی۔ خاندان کی طرح بیٹھے مسافروں نے اپنے سامان سے کھانا نکالا۔ ایک نوجوان میرے پاس آیا اور کھانے کی دعوت دی۔ میں نے شکریہ ادا کیا تو کہنے لگا یہ نہیں ہو سکتا ۔ ہم سب کھانا کھائیں اور آپ ہماری دعوت میں شامل نہ ہوں ۔ یہ لوگ اردو بولنے والے اور شائستہ مزاج تھے۔ وہ واپس گیا اور ایک ڈبے میں اچار، آلو کا سالن اور ایک بڑے سائیز کا پراٹھہ لے آیا۔ کہنے لگا انکار مت کیجیے۔ میں نے شکریہ ادا کیا اور ڈبہ لیکر کھانا کھایا جو ابھی تک گرم تھا۔ کھانا ختم ہوا تو وہی نوجوان صراحی سے پانی کا پیالہ بھر لایا ۔ میں نے پانی پی کر اُسکا شکریہ ادا کیا۔ پراٹھہ قوت بخش تھا ۔ کھانے کے بعد میں نے کٹ بیگ سر کے نیچے رکھا اور بینچ پر سو گیا۔ راستے میں گاڑی کہاں کہاں رکی اور میرے میزبان کب اور کہاں اُترے اس کی خبر ہی نہ ہوئی ۔ جسطرح کل صبح گاڑی میانوالی رکی تھی آج سکھر پل کے قریب کھڑی صدائیں لگا رہی تھی۔
یہ اُن دِنوں کی بات ہے-33
پرانی پوسٹ