بعض ناموں سے ہمارا تعارف تاریخ کی درسی کتابوں میں نہیں ہوتا۔ وہ کسی ناول کے صفحات، کسی ڈرامے کے کردار یا کسی بزرگ کی سنائی ہوئی کہانی سے ہماری یادداشت میں داخل ہوتے ہیں اور پھر برسوں ہمارے ساتھ سفر کرتے رہتے ہیں۔
اردو ادب اور تاریخی ناولوں سے دلچسپی رکھنے والے ہمارے عہد کے بہت سے لوگوں کی طرح میرا تعارف بھی اسلامی تاریخ کے کئی کرداروں سے نسیم حجازی کی تحریروں اور ان سے ماخوذ ٹیلی وژن ڈراموں کے ذریعے ہوا۔ میں نے نسیم حجازی کے ناولوں پر بننے والے ڈرامے دیکھے، ان کی تاریخی دنیا سے متاثر ہوا اور پھر ان کی کتابوں تک پہنچا۔ انہی دنوں پہلی مرتبہ امیر یوسف بن تاشفینؒ کا نام میری نظروں سے گزرا۔ ان دنوں گورنمنٹ کالج میرپور بہت زرخیز ذہنوں کی ایک نرسری تھی . طلباء و اساتذہ دونوں کا ذکر کیے بغیر پس منظر سمجھا نہیں جا سکتا . جناب غازی علم الدین ہمارے استاد تھے اور ہمارے ہم عصروں میں عرفان ذوق ، سرفراز احمد، عبدالقیوم چوہدری، سنور کمالی ، عمران مہدی اور ایسے بیشمار دوست تھے جنھیں پڑھنے کا شوق تھا اور پھر سرفراز بھائی تو تحریکی آدمی تھے ، اس لیے ہم میں سے کسی نہ کسی کے پاس نسیم حجازی کا کوئی نہ کوئی ناول ضرور ہوتا .
گرمیوں کی تعطیلات میں گاؤں میں ، میں نے گھر کے تہہ خانے میں ایک چھوٹا سا کتب خانہ آباد کیا اور یہیں نسیم حجازی کی ناولوں سے ملاقات ہوئی. داستان مجاہد، انسان اور دیوتا ، محمد بن قاسم، آخری چٹان ، خاک اور خون ، اور تلوار ٹوٹ گئی ، قیصر و کسریٰ ، قافلہ حجاز ، ’یوسف بن تاشفین اور سفید جزید یہ تمام ناول اس کتب خانے میں موجود تھے. نسیم حجازی کا تاریخی ناول یوسف بن تاشفین 1951ء میں شائع ہوا جس پر بعد میں ایک ڈرامہ فلمایا گیا ۔ ناول نے برصغیر کے اردو قاری کے سامنے گیارہویں صدی کے اس مراکشی حکمران کو محض ایک فاتح سپہ سالار نہیں بلکہ ایسے وقت میں ابھرنے والی مضبوط قیادت کے طور پر پیش کیا جب مسلم اندلس اندرونی انتشار اور طوائف الملوکی کا شکار تھا۔
تب کہاں معلوم تھا کہ کئی دہائیاں بعد میں خود مراکش کی سرزمین پر کھڑا ہوں گا۔
اور اس شخص کا نام، جسے کبھی اردو کے ایک ناول کے صفحات پر پڑھا تھا، مجھے مراکش شہر کی گلیوں میں اس کی آخری آرام گاہ تلاش میں ڈال دے گا۔
ایک طویل سفر کے بعد میں مراکش شہر پہنچا تو مجھے یہاں صرف جامع الفنا، بازاروں، رنگ برنگی گلیوں تک ہی نہیں جانا تھا بلکہ یہاں آنے کا مقصد حضرت امام الجزولی ؒ کے مزار اقدس پر حاضری اور امیر یوسف بن تاشفینؒ کی آرام گاہ پر کچھ وقت گزارنا تھا ۔ امام جزولی ؒ کے مزار تک رسائی کی داستان خود میں ایک طویل داستان ہے ، ابھی تو میں امیر یوسف بن تاشفین سے ملاقات کی تفصیلات آپ تک پہنچانا چاہتا ہوں . یہ مضمون طویل ہو سکتا ہے کیونکہ اسے اسے مختصر بیان کرنا امیر کی شان کے خلاف ہے.صبح ساڑھے سات بجے میں اگادیر سے چلا اور کوئی چار گھنٹے کے سفر کے بعد میں ایک سادہ سے دروازے کے باہر کھڑا تھا جو بند تھا ۔
میں نے دستک دی، انتظار کیا اور دوبارہ دستک دی۔ کوئی جواب نہ آیا۔
ایک لمحے کو خیال آیا کہ اجنبی ملک میں کسی بند تاریخی مقام کا دروازہ بار بار کھٹکھٹانا شاید کسی مشکل کا باعث بن جائے۔ مگر میں کسی ممنوع مقام میں داخل ہونے نہیں آیا تھا۔ خواہش صرف اتنی تھی کہ اس حکمران کی آرام گاہ پر حاضر ہوکر سلام عرض کرسکوں جس کا نام میرے ذہن میں ہزاروں میل دور برصغیر کے اردو ادب کے ذریعے داخل ہوا تھا۔دروازہ نہ کھلا۔
اور اسی بند دروازے کے سامنے ایک سوال میرے ساتھ کھڑا ہوگیا:کیا مراکش نے اپنی تاریخ کی اس غیر معمولی شخصیت کو وہ مقام دیا ہے جس کی وہ مستحق ہے؟
امیر یوسف بن تاشفینؒ مرابطین کے عظیم ترین حکمرانوں میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کے عہد میں مرابطی اقتدار شمال مغربی افریقہ کی ایک بڑی سیاسی و عسکری قوت بن گیا اور مراکش شہر اس سلطنت کا مرکز بنا، لیکن ان کا نام صرف مراکش کی تاریخ تک محدود نہیں رہا۔
گیارہویں صدی کے اواخر تک مسلم اندلس چھوٹی چھوٹی طائفہ ریاستوں میں تقسیم ہوچکا تھا۔ باہمی رقابتیں انہیں اندر سے کمزور کررہی تھیں جبکہ شمال کی مسیحی سلطنتیں مسلسل جنوب کی طرف بڑھ رہی تھیں۔
1085ء میں قشتالہ و لیون کے بادشاہ الفانسو ششم نے طلیطلہ پر قبضہ کرلیا۔ اندلس کے مسلم حکمرانوں کے لیے یہ ایک بہت بڑا دھچکا تھا۔
اشبیلیہ کے حکمران المعتمد بن عباد سمیت اندلسی امراء نے مرابطین سے مدد طلب کی۔امیر یوسف بن تاشفینؒ نے آبنائے جبل الطارق عبور کی اور 1086ء میں معرکۂ زلاقہ میں الفانسو ششم کی افواج کا مقابلہ کیا۔
مسلم افواج نے ایک بڑی فتح حاصل کی۔ اس جنگ نے اندلس کے اندرونی مسائل ختم نہیں کیے، مگر مسیحی سلطنتوں کی پیش قدمی کو ایک اہم رکاوٹ ضرور پہنچی اور مسلم اندلس کو مزید وقت ملا۔
بعد کے برسوں میں مرابطین نے اندلس کی متعدد طائفہ ریاستوں کو اپنی سلطنت میں شامل کرلیا اور یوں مراکش میں قائم سیاسی طاقت کا دائرہ شمالی افریقہ سے یورپ تک پھیل گیا۔
یہی وہ تاریخی پس منظر ہے جسے نسیم حجازی نے اپنے ادبی انداز میں برصغیر کے لاکھوں اردو قارئین کے تخیل تک پہنچایا۔
مراکش میں اس بند دروازے کے سامنے کھڑے ہوئے مجھے اس بات کا شدت سے احساس ہوا کہ تاریخ بعض اوقات بڑے عجیب راستوں سے سفر کرتی ہے۔
امیر یوسف بن تاشفینؒ نے شاید کبھی تصور بھی نہیں کیا ہوگا کہ تقریباً نو صدیاں بعد، ہزاروں میل دور کشمیر اور برصغیر کے لوگ ان کا نام جانتے ہوں گے۔
اور اس میں اردو ادب، بالخصوص نسیم حجازی، کا حصہ نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ایک پاکستانی ادیب نے 1951ء میں ان کے نام سے ایک تاریخی ناول لکھا۔ وہ ناول برصغیر میں پڑھا گیا۔ تاریخی ناولوں پر ڈرامے بنے، ایک نسل نے ان کے ذریعے مسلم تاریخ کے کرداروں میں دلچسپی لینا شروع کی، اور انہی قارئین اور ناظرین میں کہیں ایک کشمیری لڑکا بھی تھا جس کے ذہن میں امیر یوسف بن تاشفینؒ کا نام محفوظ ہوگیا۔
کئی دہائیاں گزر گئیں۔وہی کشمیری اب برطانیہ سے مراکش آیا اور ایک دن مراکش شہر کی گلیوں میں اسی نام کا سراغ لگاتا ہوا ان کی آرام گاہ تک پہنچ گیا۔
پچھلے کچھ سالوں سے میں ترکیہ ہر سال جاتا ہوں ، ترکیہ میں سفر کرتے ہوئے بارہا محسوس ہوتا ہے کہ ترک اپنے سلجوقی اور عثمانی ورثے کو قومی حافظے کا حصہ بنانے کی بھرپور کوشش کرتے ہیں۔ تاریخی حکمرانوں، سپہ سالاروں، علماء اور اہم شخصیات سے وابستہ مقامات، مقابر، مساجد اور عجائب گھر صرف محفوظ نہیں کیے جاتے بلکہ ان کی کہانی بھی آنے والے شخص کو سنائی جاتی ہے۔
یقیناً ہر ملک کا اپنا تاریخی، مذہبی اور انتظامی طریقہ ہوتا ہے۔ مراکش کا ترکی کی نقل کرنا ضروری نہیں۔
مگر میں اس بند دروازے کے سامنے سوچ رہا تھا کہ کیا امیر یوسف بن تاشفینؒ کی آرام گاہ ایک زیادہ باوقار، منظم اور قابلِ رسائی تاریخی مقام نہیں ہونی چاہیے؟
یہاں مرابطین کے عہد پر ایک چھوٹا سا معلوماتی مرکز کیوں نہ ہو؟ دنیا بھر سے آنے والے سیاحوں اور تاریخ کے طالب علموں کو عربی، امازیغ، فرانسیسی، انگریزی اور ہسپانوی زبانوں میں بتایا جائے کہ یہاں کون آرام کررہا ہے، مرابطین کون تھے اور 1086ء کے زلاقہ نے تاریخِ اندلس میں کیا کردار ادا کیا۔ جب دروازہ نہ کھلا تو میرا ڈرائیور بولا ” یہ دروازہ نہیں کھلتا” میں نے وجہ پوچھ تو اس نے دو چار بار دروازے کے اندر جھانکنے کی کوشش کی اور حتمی طور پر بولا” ہم اپنے بزرگوں کی قبروں کو محفوظ رکھتے ہیں اور تکریم کے لیے یہ دروازہ بند ہے .”
ترکیہ اپنے ابتدائی سلجوقی اور عثمانی حکمرانوں کے آثار کو اپنی قومی داستان کا حصہ بنا کر پیش کرتا ہے۔ وہاں تاریخ صرف یونیورسٹیوں کی کتابوں میں نہیں بلکہ شہروں، مقبروں، عجائب گھروں اور یادگاروں کے ذریعے بھی بولتی ہے۔
مراکش کے پاس بھی اس سے کم شاندار ورثہ نہیں۔مرابطین، موحدین، مرینی، سعدی اور علوی ادوار یہ ایک غیر معمولی تاریخی تسلسل ہے۔قومیں اپنے محسنوں کو یاد کرکے انہیں عظیم نہیں بناتیں۔وہ اپنے محسنوں کو یاد کرکے اپنی نئی نسل کو اپنی تاریخ سے جوڑتی ہیں۔
میں بہت بے چینی سے دستک دینے کے بعد جب اندر داخل نہ ہوسکا تو میں نے امیر کے نام ایک خط لکھنے کا سوچا اور یہ ارادہ کیا کہ یہ خط موجودہ علوی بادشاہ محمد السادس بن الحسن جنہیں محمد ششم کہا جاتا ہے کو بھجواؤں گا کو جن کے ہاتھ میں آج اس تاریخی ورثے کی کنجیاں ہیں۔
میں نے بند دروازے کے باہر کھڑے ہوکر بصد احترام با آواز بلند کہا”السلام علیکم یا امیر المسلمین، امیر یوسف بن تاشفینؒ” اور پھر پھر واپس چل پڑا۔
لیکن راستے میں ایک خیال مسلسل میرے ساتھ رہا کہ کتاب ختم ہوجاتی ہے مگر بعض کردار ذہن سے نہیں نکلتےاور شاید تاریخ کی طاقت بھی یہی ہے۔
سلطنتیں ختم ہوجاتی ہیں، سرحدیں بدل جاتی ہیں، لشکر بکھر جاتے ہیں اور تخت مٹی ہوجاتے ہیں، لیکن بعض نام صدیوں بعد بھی کسی اجنبی مسافر کو ہزاروں میل دور سے اپنی طرف کھینچ لیتے ہیں۔
امیر یوسف بن تاشفینؒ انہی ناموں میں سے ایک ہیں۔اس روز میں ان کی آرام گاہ کا دروازہ نہ کھول سکا۔
مگر شاید نسیم حجازی نے کئی دہائیاں پہلے میرے لیے تاریخ کا وہ دروازہ کھول دیا تھا جو آج تک بند نہیں ہوا۔