اردو میں فطرت نگاری کی گنی چنی مثالوں میں سب رنگ میں شائع ہونے والی ’امبربیل‘ کی 21ویں قسط بھی آتی ہے جس میں جنگل کاماحول یوں باندھا گیا ہے کہ پڑھنے والے کو صرف آس پاس کے منظر دکھائے ہی نہیں گئے بلکہ سنوائے اور محسوس بھی کروائے گئے ہیں۔ انوار صدیقی تو خیر کسی شمار قطار میں ہی نہیں، اردو کے اچھے اچھے ادیب بھی عام طور پر خود کو صرف حسِ بصارت کی تنگ گلی تک محدود کر کے اسی میں ٹامک ٹوئیاں مارتے چلے جاتے ہیں، جب کہ اچھا فکشن تو کیا، اچھی نثر بھی وہی ہوتی ہے جو باقی چار حسوں سے بھی کام لینے پر قادر ہو۔ اسی جنگل والی قسط سے ایک مثال دیکھیے:
’ لیکن میری آہٹ سے پیڑوں پر بسیرا کرنے والے پرندے پھڑپھڑانے لگے۔ میں نے ان کی پروا نہیں کی۔ تھوڑی دیر میں ایسا محسوس ہوا جیسے پورا جنگل جاگ گیا ہو۔ شاید جنگل کے تمام باسیوں کو پتہ چل گیا تھا کہ کوئی پاگل جانور اندھیرےمیں سفر کر رہا ہے۔ ہر طرف پرندوں کا شور گونجنے لگا اور پھر اس شور پر درندوں کی چنگھاڑ غالب آ گئی۔ پورا جنگل حرکت میں آ گیا تھا۔‘
جمشید جتنا بھاگتا دوڑتا اس سے باہر نکلنے کی کوشش کرتا ہے، اتنا ہی اس دلدل جنگل میں دھنستا چلا جاتا ہے۔ وہ جس چوٹی پر چڑھ کر کسی آبادی کے آثار دیکھنے کی کوشش کرتا ہے، اسے چاروں طرف جنگلوں سے ڈھکی پہاڑیوں کا لامتناہی سلسلہ نظر آتا ہے۔ یہ جال دراصل کیچو نے بچھایا ہے اس کا مقصد بالآخر جمشید سے وصال کی آرزو ہے۔
جمشید اس طلسم میں یوں پھنس جاتا ہے کہ اسے لگتا ہے یہ جنگل پھیل کر سارے کرۂ ارض پر محیط ہو گیا ہےاوروہ کبھی یہاں سے نکل نہیں پائے گا۔ کئی بار ایسا ہوا کہ وہ ہفتوں یا مہینوں دن رات چلنے کے بعد دوبارہ اسی جگہ پہنچ گیا جہاں سے پہلے بھی گزرا تھا۔ (اس موقعے پر شاید آپ کو ایک ہارر فلم ’بلیئر وِچ پراجیکٹ‘ یاد آئے، جس میں اسی قسم کا نہ ختم ہونے والا جنگل ہے، مگر وہ بھی بہت بعد میں یعنی 1999میں بنی تھی۔ )
ایک طویل عرصہ اس جنگل میں سر مارنے کے بعد آخر ایک دن جمشید کی ملاقات ایک سادھو سے ہوتی ہے۔ وہ سادھو اسے بتاتا ہے کہ دیوی نجانے کب سے جمشید کی راہ دیکھ رہی ہے اور اس سے وصال کا لمحہ قریب ہے۔ جلد ہی دیوی کے درشن ہو جاتے ہیں۔ یہاں ذرا شکیل عادل زادہ کے قلم کی جولانیاں دیکھیے کہ جیسے و ہ بھی نجانے کب سے اسی لمحے کا منتظر تھا:
’ اس کی زلفیں سیاہ اور دراز تھیں، اور ان کے درمیان اس کا چہرہ، وہ چاندی سے بنا ہوا تھا یا شفق سے یا خون سے۔ میری آنکھوں کو سکتہ ہو گیا۔ اس کے دمکتے ہوئے رخساروں سے جیسے کرنیں پھوٹ رہی تھیں، یا جیسے اس کے رخسار آئینہ ہوں جن پر دودھیا اور سرخ رنگ کی روشنی کا ملا جلا عکس پڑرہا ہو۔ اس کے ہونٹ، ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے ان کی کھال کھینچ دی گئی ہو اور اندر کا گلابی گوشت عریاں ہو گیا ہو۔ یا جیسے وہ دیر سے آنچ پر رکھے ہیں۔ اگر آنچ دور نہیں کی تو وہ ابھی جل اٹھیں گے۔ وہ مجھ سے کچھ فاصلے پر کھڑی ہوئی تھی۔ پورا بدن سرو کی طرح کھنچا ہوا، مجسمے کی طرح ترشا ہوا، آبشار کی طرح گنگناتا ہوا۔‘
آپ نے دیکھا ہو گا کہ اس سراپے میں صرف بصری نہیں بلکہ صوتی اور حسی تشبیہات اور استعارے بھی برتے گئے ہیں جن میں سے کئی ایسے ہیں جو غالباً پہلے کسی اور نے استعمال نہیں کیے، حالانکہ حسنِ نسواں کا بیان ایسا پیش پا افتادہ موضوع ہے کہ اس پر ہر کسی نے ہاتھ صاف کر رکھا ہے اور کوئی نئی بات نکال محال ہے۔
جعلی ’امبربیل،‘ یعنی انوار صدیقی کی تحریر میں بھی اسی قسم کی کہانی ہے۔ جمشید کا بےپایاں جنگل میں کھو جانا، پھر ایک سادھو سے ملاقات میں دیوی سے ملاقات کی نوید اور آخر میں خود دیوی سے ملاقات اور ملاپ، اور پھر جدائی۔ مگر یہ سارا پلاٹ یوں بیان کیا گیا ہے کہ جیسے گنگو تیلی نے جان بوجھ کر راجہ بھوج کا منھ چڑانے کی کوشش کی ہو۔ اس سے بڑا ظلم حضرت نے یہ کیا کہ داستان میں طالبانیت کا پیوند لگا دیا۔ اس سے قبل پورے ’امبربیل‘ میں کہیں مذہب کو مسئلہ نہیں بنایا گیا تھا، مگر اب میر جمشید عالم ایک سادھو کو دیکھ کر فرماتے ہیں کہ ’میرا مذہب ان سے الگ تھا، ہمارے اور ان کے اعتقاد میں زمین آسمان کا فرق تھا۔ وہ پتھر کی موتیوں کے آگے سجدہ کرتے تھے، میں ایک خدا پر بغیر دیکھ کر ایمان لانے والے جتھے سے تعلق رکھتا تھا۔‘
اگر مذہب کہانی کا حصہ بنایا جائے تو اس کے استعمال میں کوئی قباحت نہیں، لیکن یہ کیا کہ بارہ تیرہ سو صفحے کالے کرنے کے بعد اچانک آپ کو مذہب کارڈ کھیلنے کا خیال آ جائے، جب کہ اس سے پہلے کہانی کسی اور ڈگر پر چلتی رہی ہو۔
یہی مذہب کارڈ انوار صدیقی نے جعلی امبربیل کی چوتھی اور آخری جلد میں اور جگہوں پر بھی کھیلا ہے اور بڑی ڈھٹائی سے کھیلا ہے۔ ایک اور منظر آپ کو دکھاتا ہوں۔ لیکن اس سے پہلے وضاحت ضروری ہے کہ یہ منظر بھیانک بلکہ گھناونا ہے، اس لیے کمزور دل افراد سے پیشگی معذرت۔
جمشید نے کتاب کے آخری صفحوں میں جگ دیپ کو گولیاں مار کر اپاہج کر دیا ہے، اور اب وہ اس کی آنکھوں کے سامنے اس کی بہن انیتا کا ریپ کرنے پر تلا ہوا ہے۔
(معلوم ہوتا ہے کہ ریپ کرنا اور کروانا انوار صدیقی صاحب کا مرغوب عمل ہے کہ اس سے پہلے وہ دنیش کمار کی بہن راج کماری پریت کا ریپ اس کے ڈرائیور کے ہاتھوں کروا چکے ہیں۔)
اب جمشید خود جس انیتا کا ریپ کرنے پر کمربستہ ہے، یہ وہی انیتا ہے اوپر دیے گئے اقتباس کے مطابق جس کا منھ بند نہ ہوتا تو وہ جمشید کے پستول سے یکے بعد دیگرے نکلی دو گولیوں کی داد دیے بغیر نہ رہ سکتی۔ یہ وہی انیتا ہے جس کے لیے جمشید دل میں نرم گوشہ رکھتا ہے اور ایک موقعے پر وہ اس کا ممنونِ احسان بھی ہونے پر مجبور ہو جاتا ہے جب جمشید کو پولیس پکڑ کر لے جاتی ہے اور انیتا بدنامی کی پروا نہ کرتے ہوئے آئی جی کو فون کر کے کہتی ہے کہ جمشید کو چھوڑ دیا جائے کیوں کہ واردات کی رات وہ میرے ساتھ تھا۔ اور واردات بھی وہ جب خود انیتا کے اپنے خاندان کے ڈیڑھ درجن کے قریب لوگ قتل ہوئے ہیں۔
یہ صرف اخلاقی کجی نہیں، تکنیکی اور فنی ناکامی بھی ہے جس سے کوئی بھی اچھا ادیب بچنے کی کوشش کرتا۔ ذرا تصور کیجیے کہ جمشید جیسا مہذب کردار، جس میں خلوص، تہذیب، برداشت اور نفاست کوٹ کوٹ کر بھرے ہوئے ہیں، وہ انیتا کی قدر بھی کرتا ہے، اور اس کا زیرِ بار بھی ہے، وہی جمشید گھٹیا ترین سی بلکہ ڈی گریڈ فلموں کے ولن کی کریہہ سطح پر اتر کر بھائی کے سامنے بہن کا ریپ کرنے پر تلا ہوا ہے۔
کیچو اپنے ایک چیلے کی مدد سے جمشید کو اس اسفل ترین عمل سے باز رکھنے کی کوشش کرتی ہے، لیکن اس کے ردِ عمل میں جمشید کے اندر ایک شعلہ بھڑک جاتا ہے، کون سا شعلہ؟ مذہب کا شعلہ۔
’غیرتِ دینی کی چنگاری شعلہ بن کر میرے اندرون کو روشن کرنے لگی۔ اس ذاتِ پاک کا نام روشن ہو کر جگمگانے لگا جس نے مجھے ایک مشتِ خاک سے تخلیق کیا تھا۔‘ اس موقعے پر ایک مجذوب صاحب جمشید کی مدد کو آ جاتے ہیں اور اسے کیچو کے مکھن میں سے بال کی طرح نکال لے جاتے ہیں۔
چہ خوب! ذرا سوچیے کہ ایک ہندو دیوی کسی مسلمان کو ایک ایسے مکروہ کام سے باز رکھنے کی کوشش کر رہی ہے جس سے نیچ حرکت کا کسی انسان سے ارتکاب کا تصور بھی مشکل ہے، مگر ایک مسلمان مجذوب اس کالے کرتوت والے کو بچانے کے لیے آن دھمکتا ہے، اور کالے کرتوت پر تلا شخص کہتا ہے کہ میرے سامنے ذاتِ پاک کا نام جگمگما رہا ہے۔
کہانی، پلاٹ، کردار تو بھاڑ میں گئے، انوار صاحب نے نیک و بد، سیاہ و سفید، ہیرو اور ولن کی تفریق ہی تہس نہس کر ڈالی۔
اس موضوع پر اس سے زیادہ اور کچھ کہنے کا یارا نہیں، اس لیے ہم شکیل عادل زادہ والے اصل ’امبربیل‘ کی طرف پلٹتے ہیں، اور دوبارہ اسی لمحے کا رخ کرتے ہیں جب جادوئی جنگل میں جمشید کا سامنا دیوی سے ہوتا ہے۔
دیوی، جس کا نام اب چندراوتی ہو گیا ہے، جمشید کو شربتِ وصال سے شرابور کرتی ہے۔ اس کی نشیلی قربت میں ماہ وسال کی گنتی تو الگ رہی، جمشید اپنا آپ تک بھلا بیٹھتا ہے۔ کون پرکاش بھون، کون شاردا، کون ڈالی؟ اسی بہشت میں سالہاسال لمحوں کی طرح گزر جاتے ہیں۔
اور پھر ایک صبح جب وہ نیند سے جاگتا ہے تو چندراوتی پہلو میں نہیں ہوتی۔ جمشید کی وحشت کا کوئی ٹھکانہ نہیں رہتا۔ وہ اپنا گریبان چاک کر لیتا ہے، منھ کھرچ لیتا ہے، درختوں سے سر مارتا ہے، مگر چندراوتی کا پتہ نہیں ملتا۔ ایک سادھو نمودار ہو کر اسے بتاتا ہے کہ اب وہ کبھی واپس نہیں آئے گی اور تمہیں اب دوبارہ انسانی آبادیوں کی طرف چلے جانا چاہیے۔
ہم نےایک دو فلموں کا ذکر کیا ہے جو ’امبربیل‘ کے بعد آئیں لیکن ان میں امبربیل کی جھلک نظر آئی۔ لیکن ایک گیت ایسا ہے جو ’امبربیل‘ سے پہلے آ کر اس کی نوید دے گیا تھا۔
مہدی حسن کی آواز میں فلم ’میری زندگی ہے نغمہ‘ کا ایک مشہور گیت مہدی حسن نے اپنی لافانی آواز میں گایا ہے۔ پتہ نہیں ہمارے ذہن کا اوور ری ایکشن ہے یا پھر واقعی ’امبربیل‘ کی 21ویں قسط اور اس گیت میں کوئی تعلق ہے۔ اس کے بول شیون رضوی نے لکھے تھے اور یہ فلم 1972 میں آئی تھی، یعنی سب رنگ کی اس قسط سے کوئی چار سال پہلے۔
اس گیت کے بول دیکھیے:
اک حُسن کی دیوی سے مجھے پیار ہوا تھا
دل اُس کی محبت میں گرفتار ہوا تھا
وہ روپ کہ جس روپ سے کلیاں بھی لجائیں
وہ زلف کہ جس زلف سے شرمائیں گھٹائیں
میخانے نگاہوں کے، اداؤں کے ترانے
دے ڈالے مجھے اُس نے محبت کے خزانے
—
کشمیر کی وادی کے وہ پُر کیف نظارے
لمحات محبت کے جہاں ہم نے گزارے
انگڑائیاں لے کر مری بانہوں کے سہارے
گلنار نظر آتی تھی وہ شرم کے مارے
یک طرفہ نہ تھے حُسن و محبت کے اشارے
اُس نے بھی کئی بار مرے بال سنوارے
—
کچھ روز کٹے یوں بھی برا وقت جب آیا
اُس حُسن کی دیوی نے بھی نظروں کو پھرایا
غربت نے زمانے کی نگاہوں سے گرایا
آنچل مرے ہاتھوں سے محبت نے چھڑایا
—
اک رات کو اُس نے مجھے سوتا ہوا چھوڑا
چل دی وہ کہیں، پیار کو روتا ہوا چھوڑا
سویا ہوا میں نیند سے جاگا جو سویرے
وہ جب نہ ملی، چھا گئے آنکھوں میں اندھیرے
معلوم نہیں آپ کو مماثلت لگتی ہے یا نہیں، بہرحال جس طرح ہم نے ’امبربیل‘ کے بعد آنے والی دو فلموں کی ’امبربیل‘ سے مشابہت کو اتفاق مان لیا تھا، اسی فارمولے کے تحت اس سے پہلے آنے والے گیت کو بھی حسنِ اتفاق ماننے کے سوا کوئی چارہ نہیں!
ہم نے شروع میں وعدہ کیا تھا کہ ’امبربیل‘ کا تقابل سب رنگ ہی میں شائع ہونے والے ایک اور مقبول سلسلے ’بازی گر‘ سے کیا جائے گا۔ ’بازی گر‘ بابر زماں خان نامی ایک نوجوان کی کہانی ہے جو ایک تبتی لڑکی کی تلاش میں ہندوستان کے کونے کونے میں مارا مارا پھرتا ہے۔ یہ سب رنگ کا پہلا سلسلہ تھا جس میں کوئی دیومالائی عنصر شامل نہیں، ورنہ اس سے پہلے ’غلام روحیں،‘ ’سونا گھاٹ کا پجاری،‘ ’انکا،‘ ’اقابلا‘ اور خود ’امبربیل‘ سب ماورائے عقل اور پراسرار واقعات پر مبنی ہیں۔
’بازی گر‘ بھی شکیل عادل زادہ لکھتے تھے اور اس کی تحریر کی داستان بھی امبربیل کی طرح ایک خاص انداز میں ارتقا پذیر ہوئی۔ ہم ذکر کر چکے کہ شروع میں اس میں بھی واقعات کی رفتار تیز، بہت تیز تھی، پھر رفتہ رفتہ سست ہوتی گئی، خود کلامیاں بڑھتی گئیں، مکالمے طول پکڑنے لگے، دو واقعات کا درمیانی فاصلہ اتنا ہی ہونے لگا جتنا اس زمانے میں سب رنگ کے دو شماروں کا درمیانی وقفہ ہوا کرتا تھا۔ آخری قسطوں تک آتے آتے پلاٹ کی گاڑی تقریباً ٹھپ ہو کر رہ گئی اور پھر جب سب رنگ بند ہوا تو ساتھ ہی یہ پتنگ بھی کٹ گئی۔
اس بات کا ذکر ضروری ہے کہ جب شکیل صاحب نے سب رنگ کسی اور کے حوالے کر دیا تو ساتھ ہی ’بازی گر‘ کے حقوق بھی بیچ دیے، جس کے بعد’بازی گر‘ کی ایک دو قسطیں کسی اور صاحب نے لکھیں ضرور، مگر وہ بھی جلد ہانپ گئے۔ شکیل صاحب نے ایک انٹرویو میں واویلا کیا تھا کہ ہائے انہوں نے میرے کردار بٹھل کو بوری میں بند کر کے دکھا دیا۔
خیر اب سنا ہے، بلکہ پچھلے پچیس سال سے سن رہے ہیں کہ شکیل عادل زادہ صاحب ’بڑی تیزی‘ سے’بازی گر‘ پر کام کر رہے ہیں اور آخری قسطیں نمٹا رہے ہیں۔ اللہ کرے کہ ہماری زندگی میں یہ کام ہو جائے۔
خیر، مماثلت کی بات ہو رہی تھی۔ پلاٹ کی رفتار کے علاوہ دونوں کہانیوں کا لوکیل بھی آزادی سے قبل کا ہندوستان ہے جہاں انگریزوں کی عمل داری ہے اور دونوں سلسلوں کے مرکزی کردار ان کے خلاف مزاحمت پر کمربستہ ہیں۔
’بازی گر‘ کے بابر زماں خاں اور ’امبربیل‘ کے میر جمشید عالم کے کرداروں میں بھی کئی مماثلتیں ہیں۔ بلکہ بعض اوقات تو دونوں ایک ہی تھان سے کاٹے ہوئے کٹ پیس لگتے ہیں۔ دونوں بےحد سلجھے ہوئے، تہذیب یافتہ، باصلاحیت نوجوان ہیں۔ دونوں گفتگو کے میدان کے دھنی ہونے کے ساتھ ساتھ زبردست ایکشن ہیرو بھی ہیں اور ان کے لیے تنِ تنہا بارہ پندرہ غنڈوں کو سڑک کی دھول چٹانا کوئی مسئلہ نہیں۔ البتہ یہ فرق ضرور ہے کہ جمشید میاں کا پسندیدہ ہتھیار پستول ہے جب کہ بابر زماں چاقو سے کھیلتے ہیں۔
پھر ایک قابلِ ذکر بات دونوں کا زندگی کو دیکھنے کا انداز ہے۔ دونوں کا مصنف ایک ہی ہے، اس لیے لامحالہ دونوں کرداروں کا زندگی کو دیکھنے اور واقعات کی فلسفیانہ تعبیر کا رنگ بھی یکساں ہے۔
لیکن سب سے دلچسپ چیز یہ ہے کہ دونوں ہیرو نہ صرف ضرورت سے زیادہ ’ہینڈسم‘ ہیں بلکہ اس مقناطیسی بلکہ معجزاتی وجاہت کو ڈان ہوان کی طرح بقول انگریزی محاورہ آستین پر لیے لیے پھرتے ہیں، اور تاک میں رہتے ہیں کہ اس کی تشہیر کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہ پائے۔ ہم نے امبربیل سے اس کی چند مثالیں آپ کی خدمت میں پیش کی تھیں، ’بازی گر‘ میں تو یہ ’مقناطیسیت‘ اس مضحکہ خیز حد تک پہنچ گئی ہے کہ محترم ہیرو کا جس شہر سے گزر ہوتا ہے، وہاں سے ایک دو سمن بر، سیمیں اندام نازنینائیں کھینچ کر فیض آباد کی ایک حویلی میں داخل دفتر کرتے چلے جاتے ہیں۔ ان میں سے کوئی آفتاب ہے تو کوئی ماہتاب، کوئی نسترن ہے تو کوئی سوسن، کوئی ’رتن جوت‘ ہے تو کوئی ’رکت چندن۔‘ ہماری گنتی کے مطابق آخری خبریں آنے تک ایسی کوئی ایک درجن کے لگ بھگ اپسرائیں جمع ہو چکی تھیں، جن میں سے وہ کسی سے بھی ہاتھ دھونے کے لیے تیار نہیں، اور نہ وہ ہمارے ہینڈسم سے کسی طرح دست بردار ہونا چاہتی ہیں۔
یہی حال جمشید بابو کا ہے۔ انہوں نے جن ستارہ جبینوں کے دلوں کی دیواروں میں اپنی وجاہت کی سیندھ لگائی، اس کی موٹی موٹی فہرست یہ بنتی ہے: بانو، ڈالی، مالتی، شکنتلا، شاردا، پارو، مہارانی بینا، سندھیا، کنول، ترنم، گیتا، ریتا، انیتا۔ ان میں سے کم از کم آٹھ کے ساتھ ہیرو صاحب بےحد مخلص ہیں اور اپنے معاصر بابر زمان خاں کی طرح وہ بھی ان میں سے کسی کو تیاگنے پر تیار نہیں۔
کہانی لکھتے لکھتے شاید مصنف/ مصنفین کو اندازہ نہیں ہو سکا کہ یہ سلسلہ وار رومان برائے قصہ گفتن تو خوب است، جب تک کہانی چلتی چلی جا رہی ہے، چلائے رکھو، مگر شاید ان کو اندازہ نہیں ہو سکا کہ جب ان سلسلوں کا اونٹ کسی کروٹ بیٹھے گا تو اس کے ہودے پر براجمان اس فوجِ عنبر موج کا کیا بنے گا؟
اب ایک ٹیڑھا سوال ہمارے پیشِ نظر ہے، اور وہ یہ کہ ’امبربیل‘ اور ’بازی گر‘ کو اردو ادب کے کس خانے میں رکھا جائے؟ کیا ان کا مقام ادبِ عالیہ یا لٹریری فکشن کے شیلف میں بنتا ہے، جہاں انہیں منٹو، بیدی، قرۃ العین حیدر، غلام عباس وغیرہم کے پہلو بہ پہلو رکھا جائے، یا پھر یہ پاپولر فکشن کی زمرے میں آتے ہیں جہاں ابنِ صفی، اشتیاق احمد، رضیہ بٹ، سلمیٰ کنول، یا پھر آج کے دور کےعمیرہ و نمرہ وغیرہ ڈٹے ہوئے ہیں؟
اس سوال کا جواب آسان نہیں۔ تاہم کچھ سوچ بچار کے بعد ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ ڈائجسٹوں میں شائع ہونے والے ان سلسلوں کا مقام الگ سے بنتا ہے۔ یہ اگر کتابی شکل میں چھپ بھی جائیں تب بھی انہیں ناولوں کے ساتھ جگہ نہیں دی جا سکتی، کیوں کہ ان کی ڈائیمکس الگ ہیں۔ ناول میں کہانی کسی اور انداز سے چلتی ہے، ان سلسلوں کے تقاضے کچھ اور ہوتے ہیں۔ مانا کہ دنیا کے کئی عظیم ناول قسط وار لکھے گئے، مگر ان میں اور ان سلسلوں میں فرق یہ ہے کہ یا تو وہ ناول سموچے پہلے سے لکھ لیے جاتے تھے، پھر انہیں قسط وار شائع کیا جاتا تھا، یا پھر قسط وار چھپنے کے بعد مصنف بعد میں انہیں کتابی شکل میں شائع کروانے سے پہلے ری رائٹ کر لیتا تھا۔
’انکا،‘ ’اقابلا،‘ ’امبربیل،‘ ’بازی گر‘ یا دوسرے ڈائجسٹوں میں شائع ہونے والے سلسلے جیسے ’دیوتا‘ اور ’موت کے سوداگر‘ وغیرہ اپنے الگ زمرہ بناتے ہیں۔ ناول اکثر و بیشتر حقیقی زندگی سے جڑا رہتا ہے، جب کہ یہ کہانیاں بڑی حد تک فینٹیسی کی ذیل میں آتی ہیں۔ ان کے مرکزی کردار ’لارجر دین لائف‘ ہو کر اساطیری حیثیت اختیار کر لیتے ہیں۔ ان کے حالات و واقعات غیرحقیقی اور پلاٹ ڈھیلا ڈھالا ہوتا ہے، اور عام طور پر واقعات قسط بہ قسط چلتے ہیں، کوئی مجموعی ڈھانچہ مصنف کے پیشِ نظر نہیں ہوتا یا اگر ہوتا بھی ہے تو اسے قسط وار نبھانا بےحد مشکل کام ہے۔
ایک اور بل قسط وار ہونے کی وجہ سے پڑ جاتا ہے۔ سلسلہ وار کہانیوں کے مصنفوں کی بھرپور کاوش ہوتی ہے کہ وہ ہر ماہ (یا سب رنگ کے معاملے میں ماہ در ماہ) کہانی کا اختتام کسی ایسے سنسنی خیز موڑ پر کریں کہ اگلے ماہ کا رسالہ خریدنے کے لیے قارئین پورا مہینہ سولی پر لٹکتے رہیں۔ لیکن جب یہی سلسلے کتابی شکل میں پڑھے جائیں تو پتہ چلتا ہے کہ مصنوعی سنسنی پیدا کرنے کے لیے کہانی کو توڑا موڑا، سکیڑا یا پھیلایا گیا تھا جس سے جھول پڑ گیا۔
ناول میں ایسی ہیجان انگیزی کی ضرورت نہیں پڑتی اس لیے اس کا پلاٹ بڑی حد تک منضبط ہوتا ہے اور اس کے ہر حصے کے تار مصنف کے ہاتھوں میں رہتے ہیں، جنہیں وہ اپنی مرضی سے جھنجھنا کر نت نئے سُر بکھیرتا رہتا ہے۔
مزید یہ کہ ناول میں شروع سے آخر تک ایک جیسا اسلوب رہتا ہے، کیوں اچھے ناول کئی بار باز نویسی کے عمل سے گزرنے کے بعد شائع ہوتے ہیں۔ ہیمنگوے کا قول مشہور ہے کہ ناول کا پہلا ڈرافٹ بکواس ہوتا ہے۔
ڈائجسٹوں کے سلسلوں، خاص طور پر سب رنگ کے سلسلوں کے ابتدائی اور آخری حصے بہت ناہموار اور ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ اسلوب تو ایک طرف رہا، بعض اوقات واقعات کی غلطیاں بھی در آئی ہیں۔ ایک دو مثالیں دیکھیے:
’امبربیل‘ کے شروع میں ہمیں بتایا گیا تھا کہ میر جمشید عالم میٹرک بمشکل تھرڈ ڈویژن میں پاس کر سکے تھے۔ لیکن آٹھ دس قسطوں بعد جب کردار کے تقاضے بدل گئے تو انہیں راتوں رات بی اے پاس کروا دیا گیا اور ان کے منھ سے ہیگل، کانٹ، شیلے، ڈارون وغیرہ کے نام اسی سرعت سے سنائی دینے لگے جیسے ان کے ریوالور سے گولیاں نکلتی تھیں۔
ریوالور کا ذکر آیا تو یاد آیا کہ ابتدائی قسطوں میں جمشید نے ارادہ باندھا تھا کہ وہ چچا کے پاس چلا جائے جو شکار کے بڑے دھنی ہیں اور ان کے اپنے جنگلات ہیں، لیکن حالات نے آڑے آ کر یہ خواب پورا نہیں ہونے دیا۔ سوا سال بعد جب ایک موقعے پر نشانہ بازی کے جوہر دکھانے کا موقع آیا تو جمشید میاں کو اچانک یاد آ گیا کہ اس نے تو اپنے چچا کے جنگلات میں خوب شکار کھیلا اور اسی دوران نشانے بازی میں کمال حاصل کیا تھا۔
اس قسم کی ناہمواری اور عدم تسلسل قسط وار سلسلوں کا لازمہ ہیں۔
ایک اور اہم نکتہ یہ ہے کہ ناول نگار کو اپنے ناول کے اختتام کی بڑی فکر ہوتی ہے، اور وہ بڑی کاوش سے آخر میں سارے الجھے ہوئے دھاگوں کو سلجھاتا اور پلاٹ کی چھوٹی موٹی شکنوں پر قلم کا رندہ چلا کر سیدھا کر دیتا ہے تاکہ ناول کو منطقی انجام تک پہنچایا جا سکے۔ اس محنت کی وجہ یہ ہے کہ اچھا انجام ہی ناول کو بناتا یا بگاڑتا ہے۔
اس کے مقابلے پر ڈائجسٹوں کے یہ عاقبت نااندیش/ناعاقبت اندیش سلسلے انجام سے بےنیاز ہو کر قارئین کے ردِعمل کو مدِ نظر رکھ کر لکھے جاتے ہیں اور اس کی بریکیں مصنف کی بجائے عام طور پر قارئین کے پاؤں میں ہوتی ہیں۔
’امبربیل‘ اور ’بازی گر‘ کے ساتھ بھی شاید یہی ہوا کہ انہیں لکھتے وقت یہ نہیں سوچا گیا کہ ان کیا منزل کیا ہو گی۔ شاید یہی وجہ رہی ہو کہ آج تک یہ کہانیاں ناتمامی اور پیاس کے صحراؤں میں بھٹکتی رہ گئیں۔
آخر میں وہ بات جو سب سے زیادہ کھٹکتی ہے۔
’امبربیل‘ ادھوری ہے۔ وہ کہانی جو پچاس سال پہلے شروع ہوئی، جس نے لاکھوں قارئین کو ہر مہینے اپنی طرف کھینچا، جس کے کردار آج بھی بےشمار لوگوں کے ذہنوں اور دلوں میں زندہ ہیں، وہ کہانی ناتمام پڑی ہے۔
یہ تو ہم نے آپ کو بتا دیا کہ شکیل عادل زادہ ’بازی گر‘ کے اختتامی حصے پر کام کر رہے ہیں، لیکن ایسی کوئی اطلاع ہم تک نہیں پہنچی کہ وہ ’امبربیل‘ کو بھی مکمل کرنے کا ارادہ رکھتے ہوں۔
صرف ہماری نہیں، امبربیل کے قتیل سبھی لوگوں کی خواہش ہو گی کہ ’امبربیل‘ کا دائرہ مکمل ہونا چاہیے، شکیل عادل زادہ کے قلم سے، کسی اور کے نہیں۔ جمشید میاں پچاس سال سے طلسماتی جنگل میں سر ٹکراتے پھر رہے ہیں، ان کا انتظار ختم ہونا چاہیے، ان کا اختتام کی چندراوتی سے وصال ہونا ضروری بلکہ لازمی ہے۔
یہاں تک تو لکھ دیا، مگر دل پر پتھر رکھ کر کہنا پڑ رہا ہے کہ ہمیں نہیں لگتا امبربیل کبھی مکمل ہو پائے گی۔
شکیل صاحب کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ پرفیکشنسٹ ہیں۔ ہم نے خود ان کے دفتر میں دیکھا کہ وہ چھوٹی چھوٹی پرچیوں پر لکھتے ہیں، ایک ہی منظر بار بار لکھا جاتا ہے، کاٹا جاتا ہے، پھر لکھا جاتا ہے، پھاڑ کر پھینکا جاتا ہے، پھر لکھا جاتا ہے، اور یہ لامتناہی چکر چلتا رہتا ہے۔
حالیہ برسوں میں سب رنگ کہانیوں کا انتخاب الگ سے بک کارنر جہلم کے زیرِ اہتمام چھپ رہا ہے، اس کا ایک دو صفحے کا دیباچہ لکھتے لکھتے شکیل صاحب سال بھر لگا دیتے ہیں۔ سوچیے کہ چالیس سال پرانے سلسلے کو انتہا تک پہنچانے میں کتنا وقت لگائیں گے۔ بازی گر کے بارے میں بتا چکا کہ وہ بھی کب سے ناتمام پڑی ہے۔
ان کی عمر اور صحت دونوں ایسی رکاوٹیں ہیں جو اتنے مشکل پراجیکٹ کی تکمیل میں آڑے آ رہی ہیں۔
ایک اور نازک معاملہ یہ بھی ہے کہ میں نے اوپر لکھنے کو تو لکھ دیا کہ امبربیل کے چاہنے والے لاکھوں میں ہیں۔ لیکن نصف صدی کے بعد اب وہ سارے بابے / بابیاں بن چکے ہوں گے، بلکہ بہت سے تو اس سلسلے کا انجام دیکھنے کے سپنے آنکھوں میں بسائے دنیا ہی سے رخصت ہو گئے ہوں گے، جو بچے ہیں ان کا پڑھنے کا حوصلہ اور شوق بھی کم ہوتا چلا جا رہا ہو گا۔
اب جو نئی مخلوق امبربیل کے معطل ہونے کے بعد دنیا میں وارد ہوئی ہے اس کی کتنی تعداد کو خبر بھی ہو گی کہ یہ کیا سلسلہ تھا اور اسے کس عشق، کس دیوانگی سے چاہا اور سراہا جاتا تھا؟
وہ جو ٹرکوں کے پیچھے لکھا ہوتا ہے: پھل موسم دا، گل ویلے دی۔ تو سولہ آنے درست بات ہے۔ ہر چیز کا اپنا اپنا وقت ہوتا ہے۔ وقت گزر جائے تو چیزیں باسی ہو جاتی ہیں۔
لیکن اگر شکیل صاحب چاہیں بھی تو امبربیل کو کیسے ختم کریں گے؟
سنہ 2000 کے لگ بھگ ہماری شکیل صاحب سے چند ملاقاتیں ہوئی تھیں اور ایک بار ہم نے ان پوچھا بھی کہ وہ ’امبربیل‘ کو کب مکمل کریں گے اور اس کے آخر میں کہانی کو کس طرح نمٹائیں گے؟
اس پر انہوں نے ہمیں ’امبربیل‘ کا جو انجام بتایا اسے سن کر ہمیں جھٹکا لگا کیوں کہ وہ سب رنگ میں شائع ہونے والے ایک سلسلے ’انکا‘ سے ہوبہو مشابہ لگا (اتفاق یا ستم ظریفی دیکھیے کہ اس سلسلے کے ’بانی‘ بھی انوار صدیقی تھے)۔
مختصراً وہ انجام یہ تھا کہ لندن سے ریتا آئے گی اور جمشید کو اپنے ساتھ لے جائے گی اور دونوں ماضی کی ہنگامہ خیز گرما گرمیاں بھلا کر ولایت کی ٹھنڈی ٹھار فضاؤں میں ہنسی خوشی رہنے لگیں گے اور کیمرا آہستگی سے اوپر اٹھتے اٹھتے فیڈ ٹو بلیک ہو جائے گا۔
ہم نے ڈرتے ڈرتے شکیل صاحب سے انکا سے اسی مماثلت کا ذکر کیا تو کہنے لگے، ’پھر تمہی بتاؤ اس کا کیا کیا جائے؟‘
ہم بھلا کیا کہتے، چپ رہے، زیرِ لب مسکرا دیے اور پھر موقع پا کر کھسک لیے۔ اندازہ ہو گیا تھا کہ امبربیل کی بیل منڈھے نہیں چڑھنے والی۔