یونان کو دیکھنے کی خواہش میرے دل میں برسوں سے ایک خاموش مگر مستقل چراغ کی مانند روشن تھی۔ بچپن سے تاریخ کی کتابوں میں پڑھے ہوئے نام، فلسفے کی دنیا میں جگمگاتے کردار، اور تہذیبوں کے عروج و زوال کی داستانیں میرے تخیل میں ایک ایسی سرزمین کا نقشہ بناتی رہی تھیں جہاں ہر پتھر کے نیچے ایک کہانی دفن ہے اور ہر کھنڈر اپنے سینے میں صدیوں کی یادیں محفوظ کیے ہوئے ہے۔
میں اکثر سوچا کرتا تھا کہ اگر کبھی یونان جانا ہوا تو سب سے پہلے ایتھنز کی گلیوں میں قدم رکھوں گا ، انہی گلیوں میں جہاں کبھی سقراط نے سوالوں کے چراغ روشن کیے تھے، جہاں افلاطون نے اپنے خوابوں کی ریاست بسائی تھی اور جہاں ارسطو نے عقل و دانش کے ایسے در وا کیے جو آج بھی متلاشیان علم کو عقل اور دانش کی دنیا میں لے جاتے ہیں ، میں تصور کرتا کہ ایتھنز کے قدیم مکتبوں کے سائے میں چلتے ہوئے شاید مجھے فلسفیوں کے مکالمے کی بازگشت سنائی دے، جیسے وقت کی دیواریں ابھی مکمل طور پر خاموش نہ ہوئی ہوں ، پھر خیال مجھے ان عظیم الشان محلات اور کھنڈرات کی طرف لے جاتا جہاں اقتدار کی بے شمار سازشیں جنم لیتی رہیں، جہاں بادشاہوں کے فیصلوں نے سلطنتوں کی تقدیریں بدل ڈالیں اور جہاں محبت، نفرت، وفاداری اور غداری نے انسانی تاریخ کے کچھ یادگار ابواب رقم کیے۔ میں اپنے تخیل میں ان قدیم راہداریوں سے گزرتا اور محسوس کرتا کہ دیواروں کے اندر آج بھی ماضی کی سرگوشیاں گونج رہی ہیں۔
ذہن کبھی ایتھنز کے ان قدیم تھیٹروں کی طرف بھٹک جاتا جہاں ہزاروں تماشائی پتھر کی نشستوں پر بیٹھ کر المیوں اور رزمیوں کی دنیا میں کھو جاتے تھے۔ میں سوچتا کہ انہی اسٹیجوں پر کبھی انسانی جذبات، تقدیر کی کشمکش اور دیومالائی کرداروں کی داستانیں پیش کی جاتی ہوں گی، اور انہی تماش گاہوں میں فن اور فکر نے مل کر تہذیب کے نئے زاویے تراشے ہوں گے ، اسی کے ساتھ یونان کے قدیم کھیلوں اور مقابلوں کا تصور بھی دل میں جاگ اٹھتا؛ وہ میدان جہاں جسمانی قوت اور ذہنی استقامت کو یکساں احترام حاصل تھا، جہاں فتح صرف ایک فرد کی نہیں بلکہ پورے شہر اور اس کی روایت کی عزت سمجھی جاتی تھی ، یوں محسوس ہوتا جیسے یونان کی دھرتی پر فلسفہ، فن اور کھیل تینوں ایک ہی تہذیبی روایت کے مختلف رنگ ہوں۔
یونان کا نام آتے ہی یہ تمام خواہشیں بیدار ہو جاتیں، لیکن زندگی کے سفر اکثر ہماری منصوبہ بندی سے مختلف راستے اختیار کرتے ہیں۔
اس بار بھی ایسا ہی ہوا۔
یونان جانے کا خواب تو پورا ہو رہا تھا، مگر میری منزل ایتھنز نہیں تھی۔ اس بار میری راہ بحیرۂ ایجیئن کے نیلگوں پانیوں کے درمیان واقع یونان کے تاریخی جزیرے Rhodes کی طرف مڑ چکی تھی؛ وہ جزیرہ جو کبھی قدیم دنیا کے سات عجائبات میں شمار ہونے والے عظیم مجسمے Colossus of Rhodes کی وجہ سے دنیا بھر میں شہرت رکھتا تھا، وہ جزیرہ جس کی بندرگاہوں پر صدیوں تک تاجر، سیاح، فاتح اور مہم جو آتے رہے، اور جس کی فصیلوں نے بازنطینیوں، صلیبیوں، عثمانیوں اور اطالویوں کے قدموں کی چاپ سنی۔
22 اپریل 2025 کی ایک روشن دوپہر کو جب طیارے کے پہیے رہوڈوس کے ہوائی اڈے کی زمین سے آ لگے تو یوں محسوس ہوا جیسے میں کسی نئے ملک میں نہیں بلکہ تاریخ کی ایک زندہ کتاب کے پہلے صفحے پر قدم رکھ رہا ہوں۔ کھڑکی سے باہر نظر دوڑائی تو نیلے آسمان، چمکتے سمندر اور دھوپ میں نہائے ہوئے پہاڑوں نے میرا استقبال کیا۔ ہوا میں نمکین سمندری خوشبو گھلی ہوئی تھی اور دور کہیں افق پر تاریخ اور فطرت ایک دوسرے کے ہاتھ تھامے کھڑی دکھائی دیتی تھیں۔
مجھے اس لمحے شدت سے احساس ہوا کہ بعض سفر صرف فاصلے طے نہیں کرتے، بلکہ انسان کو زمانوں کے درمیان لے جاتے ہیں۔ رہوڈوس کا یہ سفر بھی شاید ایسا ہی سفر تھا؛ ایک ایسا سفر جس میں میرے ہمراہ صرف میرا سامان نہیں بلکہ تاریخ سے محبت، تہذیبوں کے قصے سننے کا اشتیاق اور ان خوابوں کی ایک طویل فہرست بھی تھی جو برسوں سے یونان کے نام کے ساتھ میرے دل میں آباد تھیں ، اب دیکھنا یہ تھا کہ رہوڈوس کی بلند فصیلیں، خاموش گلیاں اور سمندر کی لہریں مجھے کون کون سی کہانیاں سنانے والی تھیں۔
23 اپریل کی صبح تھی۔ بحیرۂ ایجیئن کی نیلگوں وسعتوں پر سورج پوری آب و تاب سے چمک رہا تھا اور ہم اپنے ریزورٹ سے رہوڈوس کے تاریخی شہر کی جانب روانہ ہوئے ، ہماری بس سمندر اور پہاڑوں کے درمیان بل کھاتی ہوئی سڑک پر آگے بڑھ رہی تھی ، ایک طرف چٹانی ڈھلوانیں تھیں جن پر وقت کے ہاتھوں تراشے ہوئے نقش دکھائی دیتے تھے اور دوسری جانب سمندر تھا جو کبھی گہرے نیلے، کبھی فیروزی اور کبھی سبز رنگ میں ڈھل کر اپنی ازلی خوبصورتی کا اظہار کر رہا تھا۔۔
جوں جوں ہم تاریخی شہر کے قریب پہنچتے گئے، رہوڈوس کی عظیم فصیلیں افق پر ابھرنے لگیں ، یہ وہی فصیلیں تھیں جنہوں نے صدیوں تک حملہ آوروں، تاجروں، فاتحوں اور مہم جوؤں کو آتے جاتے دیکھا تھا۔
ایک وسیع پارکنگ جو بسوں کی پارکنگ کےلیے مخصوص ہے اس میں ہماری بس رکی ، باقی مسافر تو شہر کی گلیوں، کیفے اور قدیم بازاروں کی طرف بڑھ گئے، مگر میرے قدم انجانے میں سمندر کی طرف اٹھ گئے۔
میں ساحل کے کنارے ایک بنچ پر جا بیٹھا۔
میرے سامنے تین براعظموں کے سنگم پر پھیلا ہوا سمندر تھا؛ وہی سمندر جو یورپ، ایشیا اور افریقہ کے درمیان صدیوں سے تہذیبوں، لشکروں اور تجارتی بیڑوں کا راستہ بنتا آیا ہے ، میرے پیچھے قدیم رہوڈوس کی بلند فصیلیں تھیں جو آج بھی اپنی شکستہ عظمت کے ساتھ کھڑی ہیں، گویا وقت کے سامنے سرنگوں ہونے سے انکار کر رہی ہوں۔
ساحل سے ٹکراتی لہروں کا شور، فضا میں چکر کاٹتے سمندری پرندوں کا غوغا، بندرگاہ میں لنگر انداز ہوتے اور نئے سفر پر روانہ ہونے والے بحری جہازوں کی آمدورفت، سیاحوں کی چہل پہل، یہ سب میرے اردگرد موجود تھا، مگر میں ان سب سے بے خبر اپنی سوچوں میں گم تھا
میں رہوڈوس بہت دیرسے آیا ہوں ؛
میں نے وہ وقت دیکھا نہیں صرف کتابوں میں پڑھا ہے جب یہاں ڈوریائی یونانیوں کی بستیاں آباد ہو رہی تھیں، جب معبدوں کے ستون تازہ تراشے گئے پتھروں سے چمک رہے تھے اور جب بحیرۂ روم کی ہوائیں یونانی دیومالا کے قصے اپنے دوش پر اٹھائے پھرتی تھیں ، وہ وقت بھی تو دیکھنے والوں نے دیکھا ہوگا جب فینیقی تاجر اپنے بادبانی جہازوں میں ارغوانی رنگ، شیشہ اور مشرقی دنیا کی نایاب اشیا لے کر اس بندرگاہ میں داخل ہوتے تھے ، ان کے پیچھے مصر، قبرص، شام اور اناطولیہ کی تہذیبوں کے رنگ بھی اس جزیرے تک پہنچتے تھے ، لیکن اس زمانے کی گواہی اب صرف تاریخ کی کتابوں میں ملتی ہے
پھر فارسی سلطنت کا زمانہ آیا۔ ہخامنشی فرمانرواؤں کے اثرات اس پورے خطے پر پھیل گئے ، رہوڈوس نے کبھی مزاحمت کی، کبھی مصلحت اختیار کی، مگر تاریخ کے بڑے دھاروں سے خود کو الگ نہ رکھ سکا ، پھر سکندر اعظم کی فتوحات نے مشرقی بحیرۂ روم کا نقشہ بدل دیا اور رہوڈوس ہیلینسٹک دنیا کے روشن ترین مراکز میں شمار ہونے لگا۔
305 قبل مسیح کا وہ عظیم محاصرہ تاریخ کا ایک یادگار باب ہے۔ دیمتریوس پولیورکیٹس اپنی دیوقامت جنگی مشینوں اور بے پناہ لشکر کے ساتھ آیا، مگر جزیرے کے باشندوں نے آزادی کی قیمت جانتے ہوئے مزاحمت کی ، فتح ان ہی کے حصے میں آئی اور اسی کامیابی کی یاد میں ایک ایسا مجسمہ تعمیر ہوا جس نے رہوڈوس کا نام دنیا کے سات عجائبات میں شامل کر دیا ، کولوسس آف رہوڈوس صرف کانسی کا ایک مجسمہ نہیں تھا، بلکہ آزادی، اعتماد اور انسانی عزم کی علامت تھا ، اگر میں اُس دور میں یہاں ہوتا تو شاید سورج کی پہلی کرنوں کو اس دیو قامت مجسمے کے چہرے پر پڑتے دیکھتا ، شاید بندرگاہ میں داخل ہونے والے جہازوں کے ملاح اسے دور سے دیکھ کر اپنے سفر کے اختتام کا اندازہ لگاتےہوئے ہوں گے ۔پھر رومی آئے ، انہوں نے رہوڈوس کی تلوار سے زیادہ اس کے علم کی قدر کی ، اس جزیرے کے فلسفی، خطیب اور اساتذہ پورے رومی عالم میں شہرت رکھتے تھے ، رومی اشرافیہ اپنے بچوں کو یہاں تعلیم حاصل کرنے بھیجا کرتی تھی ، اس دور میں رہوڈوس صرف ایک بندرگاہ نہیں بلکہ دانش کا ایک مرکز بھی تھا۔
بازنطینی دور آیا تو کلیساؤں کے گنبد ابھرنے لگے ، مشرقی رومی سلطنت کے جھنڈے یہاں لہرانے لگے ، پھر عرب بحری مہمات کی بازگشت اس سمندر تک پہنچی ، کچھ عرصے کے لیے جزیرہ ان حملوں کی زد میں بھی رہا ، بعد کے زمانوں میں جینوا اور وینس کے تاجروں کی نظریں بھی اس پر جم گئیں، کیونکہ جو رہوڈوس کا مالک ہوتا، وہ مشرقی بحیرۂ روم کی تجارت کے ایک اہم دروازے پر قابض ہوتا۔
1309ء میں سینٹ جان کے نائٹس یہاں پہنچے ، صلیبی جنگوں کے یہ سپاہی رہوڈوس کو اپنا مضبوط ترین قلعہ بنانے آئے تھے ، انہی کے ہاتھوں وہ عظیم فصیلیں تعمیر ہوئیں جو آج بھی شہر کے گرد ایک پتھریلے حصار کی صورت کھڑی ہیں ، انہوں نے برج بنائے، خندقیں کھدوائیں، دروازے تعمیر کیے اور رہوڈوس کو ایک ناقابلِ تسخیر قلعے میں تبدیل کر دیا۔
1480ء میں عثمانی لشکر ان فصیلوں کے سامنے پسپا ہوا، مگر تاریخ کا دھارا تھمنے والا نہیں تھا۔ 1522ء میں سلطان سلیمان اعظم ایک بہت بڑے لشکر کے ساتھ آیا ، کئی ماہ تک جنگ جاری رہی ، توپوں کی گھن گرج، تلواروں کی جھنکار اور سپاہیوں کی للکار اس جزیرے کی فضا میں گونجتی رہی ، آخرکار نائٹس کو ہتھیار ڈالنے پڑے اور رہوڈوس عثمانی سلطنت کا حصہ بن گیا۔
تقریباً چار صدیوں تک عثمانی پرچم یہاں لہراتا رہا ، مساجد تعمیر ہوئیں، بازار آباد ہوئے اور مشرقی تہذیب کے رنگ اس جزیرے کے مزاج میں شامل ہوتے چلے گئے ، پھر بیسویں صدی کے آغاز میں ایک نیا باب کھلا۔ 1912ء میں اٹلی نے رہوڈوس پر قبضہ کر لیا ، اطالوی دور میں نئی سڑکیں، سرکاری عمارتیں اور جدید شہری منصوبہ بندی متعارف ہوئی ، آج بھی شہر کے بعض حصوں میں اطالوی طرزِ تعمیر اپنی الگ شناخت رکھتا ہے۔
دوسری عالمی جنگ نے اس جزیرے کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ، اطالویوں کے بعد جرمن افواج آئیں، پھر اتحادی طاقتوں کی بمباری ہوئی ، جنگ کے اختتام پر بالآخر رہوڈوس جدید یونان کا حصہ بن گیا۔
یہ 23 اپریل 2025ء ہے ؛
اب ان تمام ادوار کی گواہی دینے کے لیے صرف ان کی باقیات رہ گئی ہیں ، کہیں ٹوٹی ہوئی دیواریں ہیں، کہیں شکستہ ستون، کہیں فصیلوں پر وقت کے زخم ثبت ہیں اور کہیں پتھروں میں کندہ وہ نشان جو صدیوں پرانے معرکوں کی خاموش شہادت دیتے ہیں۔
میں نے پورا دن رہوڈوس کی گلیوں، فصیلوں، کھنڈرات اور بندرگاہوں میں گھومتے ہوئے گزارا ، ہر موڑ پر مجھے یوں محسوس ہوتا تھا جیسے تاریخ کا کوئی بوسیدہ صفحہ میرے سامنے کھل گیا ہو ، کتابوں میں پڑھے ہوئے نام، واقعات اور جنگیں یکایک حقیقت کا روپ دھار لیتی تھیں ، میں ایک شکستہ محراب کو دیکھتا تو اس کے پیچھے کئی صدیوں کا سفر دکھائی دیتا، کسی فصیل پر ہاتھ رکھتا تو یوں محسوس ہوتا جیسے وقت کی نبض کو چھو رہا ہوں۔
شام ڈھلنے لگی تو سورج آہستہ آہستہ بحیرۂ ایجیئن کے پانیوں میں اترنے لگا ، سنہری روشنی فصیلوں پر بکھر گئی اور یوں لگا جیسے تاریخ ایک بار پھر اپنے اوراق سمیٹ رہی ہو ، میں نے آخری بار سمندر کی طرف دیکھا ، لہریں ویسے ہی ساحل سے ٹکرا رہی تھیں جیسے دو ہزار سال پہلے ٹکراتی ہوں گی، پرندے ویسے ہی فضا میں محوِ پرواز تھے اور ہوا ویسے ہی نمکین تھی ، فرق صرف اتنا تھا کہ وہ تمام لوگ جو کبھی اس جزیرے کے مالک ہونے کا دعویٰ کرتے تھے، تاریخ کے صفحات میں گم ہو چکے ہیں ۔سمندر باقی ہے
فصیلیں باقی ہیں
رہوڈوس اب بھی اپنی تمام تر داستانوں کے ساتھ زندہ ہے ، شاید اسی لیے رہوڈوس صرف ایک جزیرہ نہیں، بلکہ تہذیبوں کا ایک سنگم ہے؛ ایک ایسی زندہ داستان جس کے ہر پتھر میں کسی فاتح کے قدموں کی چاپ، کسی تاجر کی امید، کسی سپاہی کی قربانی اور کسی مسافر کا خواب محفوظ ہے
(جاری ہے )