تین دِن بعد واپس کوئٹہ آکر اشرف علی بہت یاد آیا۔ اب میں بیرک میں اکیلا تھا۔ ریئر حوالدار نے بتایا کہ کل میں تمہارا نام کوہلو جانیوالے کانوائے میں لکھوادونگا ۔ عموماً ہفتے میں ایک بار کوہلو جانیوالی سڑک کھلتی ہے۔ اگر لورالائی تک جانا چاہو تو کل بھی جا سکتے ہو۔ لورالائی ایف ۔سی قلعے میں کوہلو کیلئے انتظار کرنا ہو گا۔ میری لورالائی سے کوئی دلچسپی نہ تھی ۔ وہاں کے بجھائے کوئٹہ میں انتظار کرنا بہتر تھا ۔ ریئر حوالدار نے مجھے ایک تالا دیا کہ جب بھی بیرک سے باہر جاوٗ تالا لگا کر جانا۔ دوسری بیرکوں میں کچھ ڈرائیور رہتے ہیں جو سامان چوری کرتے ہیں ۔ اُنھیں سزا بھی مل چکی ہے مگر پھر بھی باز نہیں آتے۔ رئیر حوالدار اپنی فیملی کیساتھ گیٹ کے باہر کوارٹر میں رہتا تھا۔ جن جوانوں کے بچے کوئٹہ چھاونی میں تھے اِن کے بیوی بچوں کی دیکھ بھال اُس کے ذمہ تھی ۔ یہ لوگ ایک ماہ میں دو بار تین دن کیلئے کوئٹہ آتے تھے ۔ رئیر حوالدار اِن کے بچوں کو بس پر سکول بھجواتا اور بیماری کی صورت میں ہسپتال بھیجنے کا انتظام بھی کرتا ۔ اسی طرح چھٹی جانے اور آنیوالوں کے علاوہ نئے پوسٹ ہو کر آنیوالوں کی بھی رہنمائی کرتا۔ رئیر حوالدار بڑا ذمہ دار آدمی تھا۔ بیرکوں کی حفاظت اور مرمت بھی اُس کے ذمے تھی۔ باہر جانے اور شہر کا چکر لگانے کیلئے اُس نے مجھے ایک آوٹ پاس دیا تا کہ ملٹری پولیس یا کسی دوسرے ادارے کے پوچھنے پر میں اپنی شناخت بتا سکوں ۔ فجر کی نماز کے بعد میں بیرک میں آکر سو جاتا اور پھر خٹک سٹور پر ناشتہ کرتا ۔ اُن دِنوں نان ایک روپے کا اور چائے کا کپ بھی ایک ہی روپے کا تھا ۔ کوئٹہ کے عوامی ہوٹلوں میں کپوں کے بجائے چھوٹی چھوٹی پیالیاں ہوتیں اور چائے ایک چینک میں ملتی جو ایک کپ سے زیادہ ہوتی ۔ خٹک اور ہزارہ سٹور کا کھانا اور ناشتہ ایک ہی طرح کا ہوتا مگر ہزارہ سٹور پر چائے ڈیڑھ روپے کی ملتی ۔ کئی بار ایسا بھی ہوا کہ خٹک سٹور والوں نے صرف چائے کے ہی پیسے لیے نان مفت دیا ۔ میں نے کئی بار نان کے پیسوں کی ضد کی تو چائے بنانے والے بابا نے کہا بچہ خیر ہے۔

تم بہت دِنوں سے یہاں آتے ہو ۔ ایک صبح ناشتے کے بعد میں اٹھنے لگا تو چائے والا بابا آگیا۔ میں نے اسے بتایا کہ پہلے میں سبی جانے کے انتظار میں تھا اور اب کوہلو کیلئے آر ۔او۔ ڈی کے انتظار میں ہوں ۔ بابا نے بتایا کہ ہم لوگ کاروبار کے سلسلے میں یہاں عرصہ سے ہیں ۔ انگریز کے دور میں ہمارے بزرگ صوبہ سرحد کی تحصیل نوشہرہ کے گاوٗں چراٹ سے یہاں منتقل ہوئے اور چھاونی میں دکانداری کرنے لگے ۔ بابا ہمدرد انسان تھا، کہنے لگا اگر پیسے ختم ہو گئے ہیں تو روٹی کے پیسے مت دیا کرو۔ فوجی جوان یہاں سے اُدھار بھی لے جاتے ہیں اور پھر واپس کر دیتے ہیں ۔ تمہیں ضرورت ہے تو لے جاوٗ۔ میں نے بابا جی کا شکریہ ادا کیا اور روزانہ کی شہر گردی پر چل پڑا۔
عرصہ بعد میں نے ناظم چراٹ لطف الرحمٰن کو خٹک سٹور کا واقعہ سنایا تو کہنے لگا کہ خٹک سٹور ، چلتن مارکیٹ کا ہوٹل اور تقریباً نصف دکانیں ہماری ہیں ۔ ایف ۔ سی کی بہت سی یونٹوں میں ہماری کینٹین اور سٹور ہیں ۔ چمن بارڈر پر مال بردار ٹرکوں کا وزن کرنے والا کانٹا بھی ہماری فیملی کا ہے۔ میں نے پوچھا تب تم کہاں تھے؟ کہنے لگا میں تو پیدا بھی نہیں ہوا تھا ۔ لطف الرحمٰن بڑا نفیس انسان تھا ۔ پشاور صدر میں درویش مسجد کے قریب اُسکا پیٹرول پمپ تھا ۔ وہ ہر روز میرے دفتر آتا چائے پیتا اور چلا جاتا۔ ایک دِن میں نے مذاق میں کہا لطف الرحمٰن میں نے تمہارے دادا کے ہوٹل سے اتنے مفت نان نہیں کھائے جتنی تم نے چائے پی ہے ۔ کہنے لگا سر یہ تو محبت کی چائے ہے اور جنرل مشرف صاحب کی طرف سے ہے۔ پوچھا وہ کیسے تو کہنے لگا مشرف صاحب کی حکومت نہ ہوتی تو نہ آپ یہاں ہوتے نہ ہم آتے۔

ملک میں بلدیاتی الیکشن ہوئے تو لطف الرحمٰن نے چراٹ سے الیکشن لڑا اور بڑے مارجن سے جیت گیا۔ اب اُس کی نظر نوشہرہ کے ناظمِ اعلیٰ کی سیٹ پر تھی ۔ مقابلے میں پرویز خٹک اور اُسی کے علاقہ کا ایک سیاستدان تھا۔ بات سیاست سے دُشمنی کی طرف جانے لگی تو مجھ سمیت بہت سے دوستوں نے اسے سمجھایا کہ پرانے سیاستدانوں سے اُلجھنے کا فائدہ نہیں ۔ اسطرح تمہارے کاروبار میں رکاوٹ آئے گی اور دشمنی بھی بن جائیگی۔ ابھی تمہاری ابتداء ہے۔ کسی سیاسی جماعت میں شامل ہو کر صوبائی یا مرکزی الیکشن لڑو ۔ بہت سے لوگ اسے ناظم اعلیٰ کے الیکشن کیلئے اُبھار رہے تھے۔ ایک دِن میرے پاس آیا اور کہنے لگا کہ بہت سے علاقائی کونسلر میری سپورٹ کیلئے تیار ہیں سمجھ نہیں آتی کیا کروں ۔ اتنی دیر میں ڈپٹی کمشنر نوشہرہ اور ارباب ایوب جان آگئے ۔ دونوں نے لطف الرحمٰن کو مباک باد دی تو میں نے اُنھیں اُس کی الجھن کا بتایا۔ ارباب صاحب پرانے سیاستدان اور کئی بار صوبائی حکومت کا حصہ رہ چکے تھے۔ کہنے لگے جو کونسلر تمہیں شہہ دے رہے ہیں وہ دوسری طرف بھی وعدہ کر چکے ہونگے۔ ارباب صاحب کی بات سنتے ہی اُس نے ناظمِ اعلیٰ بننے کا ارادہ تو ترک کر دیا مگر مخالفین کی نظروں میں آگیا ۔ چلنے لگا تو میں نے کہا کل خوشحال خان خٹک کے مزار پر جا کر دعا کرنا تا کہ اگلی بار تم ایم۔ این۔اے بن جاوٗ۔ کہنے لگا وہ کدھر رہتا ہے، ہم سب ہنس پڑے ۔ ڈپٹی کمشنر نے کہا جہاں ضلعی اسمبلی کا اجلاس ہو گا اُس کے سامنے سڑک کی دوسری جانب ہے۔ یہ سنکر خود بھی ہنس دیا اور چلا گیا۔
تھوڑے ہی عرصے بعد پشاور سے نوشہرہ جاتے ہوئے تاروجبہ کے قریب نا معلوم افراد نے اُس کی گاڑی روک کر پچھلی سیٹ پر بیٹھے لطف الرحمٰن خٹک پر کلاشنکوف کے کئی برسٹ مارے اور شہید کر دیا۔ لطف الرحمٰن کی اللہ مغفرت کرے۔ آجکل اُسکا چھوٹا بھائی خلیق الرحمٰن صوبائی اسمبلی کا ممبر ہے۔
آر او ڈی کے انتظار میں جتنے دِن کوئٹہ رہا آوٗٹ پاس کی اتھارٹی پر چھاوٗنی کے مختلف حصوں کا چکر لگاتا یا پھر شہر کی طرف چلا جاتا۔ تب کوئٹہ شہر صاف ستھرا اور آبادی کم تھی ۔ شہر میں کسی بلوچی کی دکان یا بڑا کاروبار نہ تھا۔ کاروباری لوگ پختون ، پنجابی یا پھر اردو بولنے والے مہاجر تھے جو تقسیم ہند کے بعد کوئٹہ آکر آباد ہوئے ۔ کچھ ہندو اور مسلمان گھرانے نسلوں سے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں آباد تھے جو تقسیم کے بعد بھی یہیں رہے۔ علمدار چوک کے سامنے دِتو اینڈ سنز کی مشہور اور قدیم دُکان تھی جو سر کے اور خشک میوہ جات کا بڑا مرکز تھا۔ چوک اور جناح روڈ کو ملانے والی سڑک پر سیکنڈ ہینڈ جوتوں کی مارکیٹ تھی جہاں یورپ سے آئے تقریباً نئے جوتے انتہائی سستے داموں ملتے تھے۔ نوکری کے ابتدائی دِنوں میں سارے کوئٹہ شہر اور چھاونی کا چکر میرے لیے مطالعاتی اور انتہائی معلوماتی تھا۔ کوئٹہ میں لوڈز ہوٹل کے علاوہ باقی سب ایرانی سٹائل کے سستے اور معیاری ہوٹل تھے جہاں کھانا انتہائی سستا ، صاف اور ذائقہ دار ہوتا۔
اُن دِنوں چھاونی سے شہر میں داخلے کے دو راستے تھے۔ ایک جناح روڈ کی طرف اور دوسرا ڈی۔آئی۔ جی آفس کے سامنے سے تھا۔ شاید اور راستے بھی ہوں مگر ان دو راستوں کا زیادہ استعمال تھا۔ شہر میں داخل ہوتے ہی شبینہ ڈاکخانہ تھا جو دن رات کھلا رہتا۔ تھوڑا آگے دائیں جانب ایرانیوں کا ہوٹل تھا جس کی دیواریں رضا شاہ پہلوی ، ملکہ فرح دیبا، مادام گوگوش اور شہزادی اشرف پہلوی اور دیگر حسین ایرانی خواتین کی تصویروں سے مزین تھیں۔ اس ہوٹل کا مٹن شوربہ، اچار اور نان مشہور تھے۔ میں جب بھی کوئٹہ آتا یہاں کھانا کھانے ضرور جاتا۔ ایرانی انقلاب کے بعد کوئٹہ کا حسن بھی ماند پڑ گیا اور رہی سہی کسر ثور انقلاب نے پوری کردی۔ افغان مہاجرین نے نہ صرف کوئٹہ کا امن تباہ کیا بلکہ اِس کی آبادی میں بے تحاشا اضافہ کردیا۔ اچکزئی، غیبی زئی اور دوسرے افغان قبائل کے درمیان خونریز تصادم ہوئے اور پھر پاسدارانِ انقلاب نے بھی کوئٹہ پر خونی یلغار کی۔ افغان مہاجرین نے وادی کوئٹہ کو اپنے حصار میں لے لیا اورقدرتی حسن کو گہنا دیا۔
کوہلو روانگی سے پہلے ایک دِن حسب عادت باہر نکلا اور انفنٹری سکول سے گزر کر پانی تقسیم چوک والی سڑک جسے سٹاف کالج روڈ بھی کہتے ہیں پر جا نکلا۔ چلتن باباؒ کے مزار پر فاتحہ پڑھی اور پھر پولیس آفس کے سامنے سے شہر میں داخل ہوا۔ ایرانی ہوٹل پر کھانا کھایا اور آگے چلا گیا۔ وہاں بھی ایک چوک تھا جس کے درمیان میں ایک بڑی اور پرانی عمارت تھی۔
عمارت سے پہلے ایک تنگ بازار تھا جس میں عام سی دکانیں تھیں چونکہ یہ رہائشی علاقہ تھا۔ میں اس گلی نما بازار کے قریب پہنچا تو دس بارہ لوگ دو ملٹری پولیس کے جوانوں کو گھیرے میں لیے کھڑے تھے۔ قریب جا کر دیکھا تو ملٹری پولیس والے اُن کے نام لکھ رہے تھے۔ یہ لوگ پنجابی تھے اور جاتے وقت آہستہ آہستہ ملٹری پولیس والوں کو گالیاں دے رہے تھے۔ اُن کے جانے کے بعد ایک کار آئی جسے ساڑھی میں ملبوس لیڈی ڈاکٹر چلا رہی تھی۔ ایم ۔پی والوں نے اُسے سیلوٹ کیا اور وہ گلی میں مڑ گئی ۔ میں نے ایم پی والوں کے قریب جا کر پوچھا کہ آپ ان لوگوں کے نام کیوں لکھ رہے تھے۔ اُن میں سے ایک نے کہا تمہارا نام کیا ہے ، کیا تم فوجی ہو؟ ۔ ہاں میں جواب دیا تو اُس نے آوٗٹ پاس کا پوچھا ۔ میں نے فوراً آوٗٹ پاس دکھایا تو ہنس کر کہنے لگا یہ لوگ فوجی تھے اور آوٹ پاس کے بغیر چھاونی سے باہر جانا جرم ہے۔ اسکے علاوہ یہ ممنوعہ علاقے سے آ رہے تھے ۔ اسطرف جانا بھی منع ہے ۔ وجہ پوچھی تو اس نے بتایا کہ آگے چلکر ایک گلی میں بازارِ حسن ہے اور گلی کے سامنے آوٹ آف باونڈ بھی لکھا ہے ۔ لیڈی ڈاکٹر بھی تو اسی طرف گئی ہے ؟ ایم۔ پی والوں نے بتایا کہ اِسکا نام میجر نجمہ ہے اور وہ ماہر امراض جلد ہے۔ سورج گنج بازار رہائشی علاقہ ہے بس ایک گلی ممنوعہ ہے اسی لیے فوجیوں کیلئے اس طرف جانا منع ہے۔ ڈاکٹر یہاں کی رہائشی ہے۔ آگے غلے کے گودام اور کاروباری علاقہ ہے ۔ ایم۔پی والوں نے پوچھا کہ ایک ہفتے کا آوٹ پاس کیوں لے رکھا ہے ۔ بتایا کہ کوہلو جانے کا انتظار ہے اس لیے باہر نکلنے کیلئے آوٹ پاس لیا ہے۔

ایم۔پی والوں سے بات ہوئی تو پتہ چلا کہ دونوں کا تعلق پلندری آزاد کشمیر سے ہے۔ اُنہوں نے بتایا کہ کوہلو جانے والا کانوائے سی۔ ایم۔ایچ کے سامنے والے گراونڈ سے صبح سویرے چلتا ہے اِسلیے یہ جگہ جاتے ہوئے دیکھ جانا۔ ویسے تو گاڑیاں مسافروں کو چھوڑنے آتی ہیں مگر جگہ سے واقفیت بھی ضروری ہے۔ دوسرے دِن میں سی۔ ایم ۔ ایچ کے سامنے والے گراونڈ میں گیا تو سڑک پر کافی گاڑیاں کھڑی تھیں ۔ ایک کونے میں ایمبولینس اور ایک ٹرک بھی موجود تھا۔ اتنی دیر میں ایک ٹرک میدان میں داخل ہوا تو سب لوگ صفوں میں کھڑے ہو گئے۔ ٹرک سے چھ تابوت اُتارے گئے اور مولوی صاحب نے نمازِ جنازہ پڑھائی۔ تابوت دوبارہ ٹرک پر رکھے گئے اور ایمبولینس کے پیچھے ٹرک گورکھا ائیر فیلڈ کی طرف چلا گیا۔ پتہ چلا کہ یہ جوان کسی ایکشن کے دوران شہید ہوئے ہیں ۔ ان کے تابوت بذریعہ ہیلی کاپٹر ،ملتان بھجوائے جا رہے ہیں ۔
جنازے کا منظر دیکھ کر مجھے دکھ ہوا۔ زندگی میں پہلی بار اتنے لوگوں کا ایک ساتھ جنازہ دیکھ کر سکتہ طاری ہو گیا ۔ یوں لگا جیسے میں ، اشرف علی اور جعفر ایک دن یہی اکھٹے ہونگے۔ نہ جانے اِس سے پہلے کتنے جوان گھروں سے ہنسی خوشی آئے ہونگے اور پھر ہیلی کاپٹروں پر تابوتوں میں بند گھروں کو لوٹے ہونگے۔
دوسرے روز مجھے آر او ڈی کی خبر ملی تو اپنا سامان لیکر صبح چار بجے گراونڈ میں پہنچ گیا ۔ سردی کے بوجود کوئی بیس کے قریب جوان دو کھلے ٹرکوں میں سوار ہوئے۔ بہت سے جوان مسلح تھے اور کچھ میری طرح کے نو وارد تھے جن کے پاس کوئی ہتھیار نہ تھا۔ کانوائے نے پہلا پڑاو ٗ مسلم باغ جسے تب ہندو باغ بھی کہا جاتا تھا میں کیا۔ ایف۔ سی کے جوانوں نے کانوائے والوں کو ناشتہ دیا اور کچھ دیر رکنے کے بعد کانوائے لورالائی کی طرف چل پڑا ۔ لورالائی میں ایف۔سی والوں نے دال روٹی سے تواضع کی اور دو بجے کے قریب قافلہ کوہلو کی جانب روانہ ہوا۔ تھوڑی دیر بعد پہاڑی سلسلہ شروع ہوگیا۔ سڑک کچی اور گرد آلود تھی ۔ جگہ جگہ پکٹنگ کرنے والی یونٹوں کی گاڑیاں کھڑی تھیں ۔ کانوائے کمانڈر رک کر انھیں گاڑیوں اور جوانوں کی تعداد لکھ کر دیتا اور کانوائے چل پڑتا۔ لورالائی میں بتایا گیا تھاکہ سوائے ایمرجنسی کے کانوائے کسی جگہ نہیں رکے گا۔ شام سے پہلے ہمیں کوہلو پہنچنا ہوگا۔
سورج غروب ہونے سے پہلے کانوائے ایک جگہ رک گیا۔ مسلحہ جوانوں نے اُتر کر پوزیشنیں سنبھال لیں اور غیر مسلحہ افراد کو اُتر کر پتھروں کی اوٹ میں بیٹھنے کا حکم ہوا۔ آگے مسلسل ڈھلوان اور پُر پیچ موڑ تھے۔ تقریباً دس سے زیادہ موڑ مڑنے کے بعد نیچے کوہلو سے بارکھان جانیوالی سڑک تھی ۔ ہم سے پہلے بھی کوئی کانوائے یہاں پہنچ چکا تھا جس کے ساتھ سپلائی کے سول ٹرک اور ایف۔سی کی گاڑیاں تھیں ۔ احتیاطی اقدام کے طور پر دو یا تین گاڑیاں وقفے وقفے سے نیچے اتر رہی تھیں ۔ سنا کہ اِس جگہ پر شر پسندوں نے آزاد کشمیر رجمنٹ کے کانوائے پر گھات لگایا تھا جس کے نتیجے میں بہت سی گاڑیاں جل گئیں اور بڑی تعداد میں جوان شہید ہوئے۔ شہیدوں میں باغ آزاد کشمیر کے کیپٹن راجہ شفیق بھی شامل تھے۔ کیپٹن راجہ شفیق شہید باغ آزاد کشمیر کی مشہور سیاسی اور سماجی شخصیت کرنل راجہ نسیم (مرحوم) کے برادر نسبتی تھے۔ کرنل نسیم مرحوم کئی بار آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے ممبر اور وزیر رہے۔ رپورٹ کے مطابق دو سو سے زیادہ شرپسندوں نے یہاں چاروں طرف گھات لگایا جن میں پنجابی بھی شامل تھے۔ شرپسندوں نے ایک سوچے سمجھے منصوبے اور مکمل تیاری کے بعد اِس جگہ کا چناوٗ کیا چونکہ راستہ پر پیچ ہونے کی وجہ سے ٹریفک انتہائی کم رفتار سے چلتی تھی۔ ہر طرف چھوٹی بڑی پہاڑیاں اور درمیان میں اونچی جھاڑیوں سے بھرے ہوئے نالے تھے جو دُشمن کو چھپاوٗ اور انخلا کے محفوظ راستے مہیا کرتے۔ جگہ دیکھنے سے پتہ چلتا ہے کہ اس گھات کی کسی ماہر نے منصوبہ بندی کی اور فائر کرنے والی ٹولیوں کو ایسے مقامات پر بٹھایا جہاں سے اُن کا فائیر کارگر ثابت ہو۔ اسی طرح ایکشن کے بعد انخلا کے راستوں کا بھی تعین کیا تا کہ سارے دھشت گرد مختلف سمتوں سے نکلنے میں کامیاب ہوں۔
اِن دھشت گروپوں کا مرکز شمالانگ ٹاپ تھا جسپر بعد میں ایس ایس جی کے میجر طارق محمود (بریگیڈیئر طارق محمود ) (ٹی۔ایم) نے ائیر فورس اور توپخانے کی مدد سے کامیاب ایکشن کیا۔ بہت سے دھشت گرد مارے گئے اور جنھیں زندہ گرفتار کیا گیا اُن میں پنجابی گروپ کا کمانڈر نجم سیٹھی ولد عبدلعزیز سیٹھی پیشہ تاجر 7 ایف سی گلبرگ لاہور حال نظر بند ڈسٹرکٹ جیل کوئٹہ کا وکیل انجم کی کتاب ‘‘کمیشن ٹریبونل اور کمیٹیاں ’’ میں دو بار ذکر ہوا۔ نجم سیٹھی میر چاکر کے خفیہ نام سے مسلح کاروائیوں میں ملوث رہا مگر حیدرآباد ٹریبونل کے اختتام پر جنرل ضیاء الحق کی عام معافی کے صلہ میں رہائی پا گیا۔ حیرت کی بات ہے کہ نجم سیٹھی ملک میں مسلح بغاوت میں شمولیت اور افواجِ پاکستان کے جوانوں کا خون بہانے کے باوجود ایک معتبر اور معزز شخصیت ہے۔ پنجاب کی نگران وزارتِ اعلیٰ سمیت جناب نجم سیٹھی کئی اعلیٰ عہدوں پر فائیز رہنے کے علاوہ ملکی اور غیر ملکی شخصیات کے رابطہ کار اور ملکی مشینری چلانے والی شخصیات کے صلاح کار بھی ہیں ۔
شمالانگ گھات اور فوجی ایکشن پر کبھی لکھا نہیں گیا حالانکہ اسے ہماری تاریخ میں شامل کیا جانا چاہیے ۔ ہو سکتا ہے کہ اِس کی سیاسی وجوہات ہُوں ۔ حیدرآباد ٹربیونل کے خاتمے کے بعد سبھی ملزموں اور مجرموں کو عام معافی دی گئی جو بلوچستان میں امن کی بحالی کا باعث بنی ۔ نجم عزیز سیٹھی سمیت بہت سے لوگ قومی دھارے میں شامل ہو گئے اور اعلیٰ ترین عہدوں پر فائیز ہوئے ۔ باوجود اس کے مستقل امن اور بھائی چارے کی فضا پیدا نہ ہوسکی ۔ ضرورت ہے کہ قومی قیادت کوئی ایسا نظام وضع کرے جسکی بنیادیں مضبوط اور مستقل ہوں۔ حیدرآباد ٹربیونل کا خاتمہ ایک عارضی اور فوری حل تھا۔ مگر اس سے کوئی خاطر خواہ فائدہ نہ اُٹھایا جا سکا۔ حکومتی فیصلوں میں عوامی شمولیت نہ ہو تو قوموں کا مستقبل کبھی روشن نہیں ہو سکتا ۔ قومی قیادت اور خاندانی حاکمیت دو الگ ادارے ہیں ۔ خاندانی حکمرانی میں ذاتی مفادات کا عنصر غالب ہونے کی وجہ سے محرومیاں جنم لیتی ہیں جبکہ قومی قیادت مختلف قبیلوں ، خاندانوں اور برادریوں کو ایک ہی نظریے پر متفق کرنے اور قومی دھارا تشکیل دینے کی سعی کرتی ہے۔ محروم طبقے کی داد رسی ، قومی وسائل کی یکساں تقسیم اور عدل کی فراہمی جب قیادت کا نصب العین ہوتو اُمت واحد کا نظریہ از خود اجاگر ہو کر قومی دستور کی شکل اختیار کر لیتا ہے……. جاری ہے …….