میرے لیے یہ باعثِ مسرت اور اعزاز ہے کہ مجھے جناب لیفٹیننٹ کرنل (ر) محمد ایوب صاحب کی دوسری تصنیف ’’کو بہ کو صحرا و کہسار‘‘ پڑھنے کا شرف حاصل ہوا۔ اس سے قبل ان کی کتاب ’’غزواتِ رسول ﷺ‘‘ کا مطالعہ بھی میرے لیے ایک یادگار تجربہ تھا جس نے میرے دل و دماغ کو علم، فکر اور عقیدت کی خوشبو سے معطر کیا۔
کتاب کا سرورق، اس پر درج عنوان اور دل موہ لینے والے قدرتی مناظر دیکھتے ہی علامہ محمد اقبالؒ کا یہ شعر ذہن میں گونج اٹھتا ہے:
دو نیم ان کی ٹھوکر سے صحرا و دریا
سمٹ کر پہاڑ ان کی ہیبت سے رائی
محمد ایوب صاحب ایک ریٹائرڈ فوجی افسر، غازی اور صاحبِ مطالعہ شخصیت ہیں۔ قدرت نے انہیں جہاں میدانِ عمل میں کردار ادا کرنے کا موقع دیا، وہیں مشاہدے، غور و فکر اور مطالعے کی دولت سے بھی نوازا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی تحریروں میں سفر محض راستوں اور مناظر کا بیان نہیں بلکہ علم، تاریخ، تہذیب اور انسانی تجربات کا ایک وسیع جہان بن کر سامنے آتا ہے۔
اگر ادبی سفرنامے کی روایت کو دیکھا جائے تو عموماً سفرنامہ مصنف کے مشاہدات، ملاقاتوں اور واقعات کا بیان ہوتا ہے، لیکن ’’کو بہ کو صحرا و کہسار‘‘ اس روایت سے کچھ مختلف نظر آتی ہے۔ اس کتاب میں صرف مناظر کا بیان نہیں بلکہ مطالعہ، تحقیق، تاریخی شعور، فکری بصیرت اور جذباتی وابستگی نمایاں دکھائی دیتی ہے۔ قاری جلد ہی محسوس کر لیتا ہے کہ مصنف کا مطالعہ نہ صرف وسیع ہے بلکہ مختلف علوم اور تہذیبوں تک پھیلا ہوا ہے۔
کتاب کی ایک نمایاں خصوصیت اس میں شامل تاریخی حوالہ جات ہیں۔ مختلف مقامات کے ذکر کے ساتھ تاریخ کے دریچے کھلتے ہیں اور قاری کو محسوس ہوتا ہے کہ وہ محض ایک سفرنامہ نہیں بلکہ کسی تحقیقی اور علمی سفر کا حصہ بن گیا ہے۔ کوہستان کی تاریخ، قدیم تجارتی راستوں، ابن بطوطہ اور دیگر تاریخی شخصیات کے تذکرے کتاب کو ایک منفرد رنگ عطا کرتے ہیں۔
البتہ ایک عام قاری کی حیثیت سے میری یہ رائے ہے کہ بعض مقامات پر حوالہ دی گئی شخصیات، تاریخی واقعات اور فکری مباحث کا تعارف قدرے مختصر رہ گیا ہے۔ مثال کے طور پر افلاطون، ارسطو، شنکر آچاریہ، سگمنڈ فرائیڈ، الکندی، جابر بن حیان اور دیگر شخصیات کے نام تو آتے ہیں، مگر ان کا پس منظر یا مختصر تعارف شامل ہوتا تو قاری کے لیے ان حوالوں سے استفادہ مزید آسان ہو جاتا۔ یقیناً اس کی ایک وجہ میری اپنی محدود معلومات بھی ہیں، لیکن شاید بہت سے دوسرے قارئین بھی اسی کیفیت سے گزرتے ہوں۔
کتاب کے بعض ابواب میں مصنف نفسیات، روحانیت اور انسانی رویوں پر نہایت سنجیدہ اور عمیق گفتگو کرتے ہیں۔ یہ مباحث قاری کو سوچنے پر مجبور کرتے ہیں اور مصنف کے فکری افق کی وسعت کا اندازہ دیتے ہیں۔ تاہم یہ موضوعات اپنی گہرائی کے باعث بعض اوقات مزید وضاحت کے متقاضی محسوس ہوتے ہیں۔
انگریزی کی ایک معروف کہاوت ہے:
"First deserve, then desire "
یعنی کسی شے کے حصول کی خواہش سے پہلے خود کو اس کا اہل بنانا ضروری ہے۔ شاید اس کتاب کے مطالعے کے بعد قاری کو بھی احساس ہوتا ہے کہ وسیع مطالعے اور علمی پس منظر کے بغیر بعض حوالوں کی گہرائی تک پہنچنا آسان نہیں۔ اس اعتبار سے یہ کتاب قاری کو صرف معلومات نہیں دیتی بلکہ مزید مطالعے کی ترغیب بھی دیتی ہے۔
چونکہ میرا تعلق تدریس کے شعبے سے ہے اور ہمیں ہمیشہ یہ سکھایا جاتا ہے کہ بہترین استاد وہ ہوتا ہے جو کبھی کبھی طالبِ علم کی سطح پر آ کر بھی بات کرے، اس لیے مصنفِ محترم سے میری مودبانہ گزارش ہے کہ آئندہ تصانیف میں تاریخی شخصیات، فلسفیوں اور علمی حوالوں کا مختصر تعارف بھی شامل کر دیا کریں۔ اس سے عام قاری کی فکری تشنگی دور ہوگی اور کتاب کا دائرۂ اثر مزید وسیع ہو جائے گا۔
کتاب کی آخری سطور میں مصنف نے ایک نہایت فکر انگیز اور چونکا دینے والا جملہ تحریر کیا ہے:
"ہم ایسی قوم ہیں جو اللہ کے عذاب کی حقدار ہے۔”
یہ جملہ بظاہر مایوسی کا اظہار محسوس ہوتا ہے، لیکن شاید اس کے پس منظر میں اپنی قوم کی کمزوریوں، اجتماعی رویوں اور اخلاقی زوال پر ایک دردمند دل کی فریاد پوشیدہ ہے۔ بہرحال، امید اور اصلاح کا دروازہ ہمیشہ کھلا رہتا ہے اور ایک مسلمان کی حیثیت سے ہمارا ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اس کے غضب پر غالب ہے۔
آخر میں، میں جناب محمد ایوب صاحب کو اس منفرد اور فکر انگیز تصنیف پر دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ یہ کتاب محض ایک سفرنامہ نہیں بلکہ مطالعے، مشاہدے، تاریخ، فلسفے اور انسانی احساسات کا ایک ایسا امتزاج ہے جو قاری کو سوچنے، سیکھنے اور مزید جاننے کی دعوت دیتا ہے۔
اللہ تعالیٰ مصنف کو صحت، عافیت اور مزید علمی و ادبی خدمات کی توفیق عطا فرمائے اور سرزمین پاکستان کی حفاظت فرمائے ۔ (آمین)
ڈاکٹر ظفر اقبال
پرنسپل
اسلام آباد ماڈل کالج فار بوائز، اسلام آباد
ای میل: malikzafar74@gmail.com