شاید زندگی کا سب سے بڑا دھوکا یہی ہے کہ انسان اُن نعمتوں کو بھول جاتا ہے جو اُس کے پاس موجود ہیں، اور اُن چیزوں کے پیچھے بھاگتا رہتا ہے جو اُس کے پاس نہیں ہیں۔
ہم اکثر اپنی محرومیوں کا حساب رکھتے ہیں، مگر اپنی نعمتوں کی گنتی نہیں کرتے۔
ہم اُن دروازوں پر نگاہ جمائے رکھتے ہیں جو بند ہو گئے، مگر اُن بے شمار کھڑکیوں کو نہیں دیکھتے جن سے رحمت کی روشنی مسلسل ہمارے اندر اتر رہی ہوتی ہے۔
اس دن جامع الفنا کے اُس گوشے میں مجھے کوئی فلسفہ نہیں ملا، کوئی کرامت نظر نہیں آئی، کوئی ماورائی منظر بھی نہیں دیکھا۔
بس ایک بے گھر ماں تھی، دو معصوم بچے تھے، اور ایک ایسا سبق تھا جس نے میری روح کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔
مجھے یوں محسوس ہوا جیسے اللہ تعالیٰ نے چند لمحوں کے لیے میری آنکھوں سے شکایت کا پردہ ہٹا دیا ہو تاکہ میں دیکھ سکوں کہ میں کتنا مالدار ہوں۔
میرے پاس چھت ہے، بستر ہے، اپنے ہیں، یادیں ہیں، سفر ہیں، امیدیں ہیں، اور سب سے بڑھ کر ایمان کی وہ دولت ہے جس کی کوئی قیمت نہیں لگائی جا سکتی۔
ہم میں سے ہر شخص اپنی زندگی میں کسی نہ کسی محرومی کا بوجھ اٹھائے پھرتا ہے، مگر اگر ایک لمحے کے لیے رُک کر اپنے اردگرد نظر دوڑائے تو اُسے معلوم ہوگا کہ اللہ نے اُس کے دامن میں اتنی نعمتیں ڈال رکھی ہیں کہ اُن کا شمار ممکن نہیں۔
اسی لیے شاید شکر صرف زبان سے ادا کیا جانے والا لفظ نہیں، بلکہ ایک طرزِ فکر ہے۔
ایک کیفیت ہے۔
ایک ایسا زاویۂ نظر ہے جو انسان کو اندھیروں میں بھی روشنی دکھا دیتا ہے۔
آج بھی جب کبھی دل میں کوئی حسرت سر اٹھاتی ہے، کوئی ادھوری خواہش بے چینی پیدا کرتی ہے، یا زندگی کا کوئی سوال مجھے گھیر لیتا ہے، تو مجھے مراکش کی وہ عید، مسجدِ قطبیہ کا وہ صحن، اور گتے پر سوئی ہوئی وہ ماں یاد آجاتی ہے۔
اور پھر میرے لبوں پر بے اختیار یہی الفاظ آجاتے ہیں:
یا رب!
اگر تو نے مجھے وہ سب نہیں دیا جو میں چاہتا تھا،
تو یقیناً وہ سب عطا کیا ہے جس کی مجھے ضرورت تھی۔تیرا شکر میرے رب…میرے حال پر بھی،میرے ماضی پر بھی،اور اُس مستقبل پر بھی
جسے میں نہیں جانتا مگر تو جانتا ہے۔
الحمدللہ علیٰ کل حال۔