آج شیخ محمد عبداللہ کا 44 یوم وفات ہے۔ بہت سارے دوستوں نے اس خواہش کا اظہار کیا تھا کہ شیخ صاحب کی سیاسی جدوجہد کو میرپور کے مقامی تناظر میں لکھوں ، ذیل کی تحریر کو اسی زمرے میں سمجھیں۔
اس باب کو پڑھنے سے پہلے پہلے ہمیں یہ بات مدنظر رکھنی ہوگی کہ 1930ء کی دہائی جموں و کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک غیر معمولی بیداری کا زمانہ تھا۔ ڈوگرہ ریاست کے سیاسی و انتظامی نظام میں عوامی نمائندگی، معاشی انصاف اور بنیادی حقوق کے سوالات شدت اختیار کر رہے تھے۔ اسی ماحول میں شیخ محمد عبداللہ ایک ابھرتے ہوئے عوامی رہنما کے طور پر سامنے آئے تھے۔
1930ء میں علی گڑھ سے تعلیم مکمل کرنے کے بعد وہ کشمیر واپس آئے اور جلد ہی سیاسی جدوجہد کا حصہ بن گئے۔ ریاست جموں کشمیر کے مختلف خطوں میں سیاسی زعما کے اُن کے روابط کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں تھی، میرپور میں کامریڈ کرشن دیو سیٹھی، وید بھسین، راجہ اکبر خان چمالوی، مولانا عبداللہ سیاکھوی مرحوم، کامریڈ محمد حسین سمیت اُن کے بے شمار رفقا اُس وقت باہمی خط و کتابت کے ساتھ آپس میں جڑے ہوئے تھے۔
اسی تحریک کا ایک اہم سنگِ میل میرپور میں آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کا دوسرا تاریخی اجلاس تھا، جو 15 سے 17 دسمبر 1933ء تک منعقد ہوا اور جس کی صدارت شیخ محمد عبداللہ نے کی۔ میرپور کے ممتاز سیاسی رہنما بطل حریت راجہ محمد اکبر خان چمالوی، راجہ سجاول خان اور مولوی فضل دین اس اجتماع کی میزبانی اور انتظام میں نمایاں کردار ادا کر رہے تھے۔
میرپور میں شیخ صاحب کی آمد کے ضمن میں ایک اور بات ہمیں پیش نظر رکھنی ہوگی کہ شیخ محمد عبداللہ کی میرپور آمد محض ایک سیاسی دورہ نہیں تھی۔ یہ اس زمانے میں وادی کشمیر اور جموں کے مختلف علاقوں کے درمیان سیاسی رابطے اور عوامی احساسِ محرومی کو ایک مشترکہ سیاسی زبان دینے کی کوشش بھی تھی جس کے آگے چل کر بڑے دورس نتائج بھی برآمد ہوئے۔
میرپور اس دور میں سیاسی اعتبار سے انتہائی اہم خطہ تھا۔ یہاں کے عوام نے ریاستی نظام کی سختیوں، گرفتاریوں، محصولات اور انتظامی ناانصافیوں کا سامنا کیا تھا۔ 1931ء کے بعد کی سیاسی ہلچل میں میرپور، کوٹلی اور پونچھ کے علاقوں میں بھی شدید سیاسی بے چینی پیدا ہوچکی تھی۔
مرزا محمد شفیق کی کتاب” کشمیری مسلمانوں کی سیاسی جدوجہد "میں شیخ صاحب کے اس دورہ میرپور، مسلم کانفرنس کے سالانہ اجلاس میں بطل حریت راجہ محمد اکبر خان چمالوی کے خطبہ صدارت اور پھر شیخ صاحب کی صدارتی تقریر کا بھرپور تذکرہ ملتا ہے۔
اس تناظر میں دسمبر 1933ء کا اجتماع غیر معمولی اہمیت رکھتا تھا۔ جموں کشمیر کے دور دراز علاقوں سے وفود میرپور پہنچے اور اجلاس نے اس بات پر تفصیل سے غور و خوص کیا کہ کہ کشمیر کی سیاسی تحریک اب صرف سری نگر تک محدود نہیں رہے گی بلکہ ریاست کے مختلف خطوں میں اس کی بازگشت سنائی دے گی۔ اور پھر واقعی یہی ہوا۔ میرپور دیگر علاقوں کا مرکز ہونے کی وجہ سے سیاسی سرگرمیوں کا مرکز بن گیا۔
آل جموں کشمیر مسلم کانفرنس کے سالانہ اجلاس میں شیخ عبداللہ کے استقبال کے موقع پر راجہ محمد اکبر خان نے ریاستی پالیسیوں اور خصوصاً میرپور کے عوام کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں پر سخت تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے سیاسی قیدیوں کی رہائی، امن کی بحالی اور عوام پر عائد مالی بوجھ کم کرنے جیسے مطالبات پیش کیے۔
مرزا شفیق کی کتاب میں لکھا گیا راجہ محمد اکبر خان چمالوی کا خطبہ صدارت اپنے عہد کا ایک ادبی شاہکار ہے۔
یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ اس دور کی میرپور کی سیاست میں مقامی قیادت کا اپنا ایک مضبوط کردار تھا۔ شیخ عبداللہ کی مقبولیت اپنی جگہ، لیکن میرپور کے سیاسی کارکن، زمیندار اور مقامی رہنما پہلے ہی اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کر رہے تھے۔ چنانچہ شیخ عبداللہ کا دورہ ایک موجود سیاسی شعور سے جڑنے کا ذریعہ بھی بنا۔
شیخ صاحب کے اس دورے کی ایک دلچسپ تفصیل یہ بھی ملتی ہے کہ مسلم کانفرنس کا وفد مہمن پور بھی گیا تھا، یہ پرانے میرپور کا وہ آخری علاقہ تھا جس سے آگے ڈڈیال کی حدود شروع ہوجاتی تھی، مہمن پور جو اب منگلا ڈیم کے پانیوں کی نذر ہوچکا ہے میں ایک عوامی اجلاس منعقد ہوا۔ جس کی میزبانی راجہ سجاول خان نے کی۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ شیخ عبداللہ اور ان کے ساتھی صرف مرکزی شہر تک محدود نہیں رہنا چاہتے تھے بلکہ دیہی علاقوں تک بھی سیاسی رابطہ قائم کر رہے تھے۔یہی عوامی رابطہ اس دور کی سیاست کی اصل طاقت تھا۔ سیاسی قیادت جلسہ گاہوں سے نکل کر قصبوں، دیہات اور عام لوگوں تک پہنچ رہی تھی۔
مسلم کانفرنس کے اس تاریخ ساز اجلاس میں شاعر مشرق وفرزند کشمیر ڈاکٹرعلامہ اقبال نے بھی شرکت کرنا تھی لیکن وہ بوجہ نہ تشریف لاسکے مگر اپنا ایک تاریخی پیغام بذریعہ ایک خط کے ذریعے بھیجا جس مسلم کانفرنس کی کوششوں کو سراہا گیا تھا اور کشمیر کے عوام کو اتحاد و اتفاق کے ساتھ اپنے سیاسی مسائل حل کرنے کی امید دلائی گئی تھی ۔یہ امر اس زمانے کی کشمیر کی سیاست کے وسیع تر سیاسی تناظر کو ظاہر کرتا ہے، کہ کشمیر اب برصغیر کی بڑی سیاسی تحریکوں کی توجہ حاصل کر رہا تھا۔
شیخ عبداللہ کی سیاست کا ایک اہم پہلو یہ تھا کہ ابتدا میں ان کی جدوجہد بنیادی طور پر کشمیری مسلمانوں کے سیاسی، معاشی اور تعلیمی حقوق کے گرد گھومتی تھی۔ بعد میں ان کی سیاست نے ایک وسیع تر اور سیکولر قوم پرستانہ رخ اختیار کیا، جس کا نتیجہ 1939ء میں مسلم کانفرنس کے نیشنل کانفرنس میں تبدیل ہونے کی صورت میں نکلا۔
لیکن 1933ء کا میرپور اجلاس اس تبدیلی سے پہلے کا ایک اہم تاریخی لمحہ تھا۔ اس وقت شیخ عبداللہ مسلم کانفرنس کے پلیٹ فارم سے ریاست کے مسلمانوں کے سیاسی و سماجی حقوق کی جدوجہد کی قیادت کر رہے تھے۔شیخ محمد عبداللہ کا دورمیرپور ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ میرپور کی سیاسی تاریخ محض 1947ء کے بعد شروع نہیں ہوتی۔ میرپور اس سے کئی دہائیاں پہلے ہی ریاست جموں و کشمیر کی سیاسی بیداری، عوامی مزاحمت اور حقوق کی جدوجہد کا ایک اہم مرکز بن چکا تھا۔
1933ء کا میرپور اجلاس دراصل ایک ایسے دور کی علامت تھا جب کشمیر کے مختلف خطوں کے لوگ اپنے سیاسی مستقبل، عزت، حقوق اور نمائندگی کے سوال پر ایک دوسرے کے قریب آ رہے تھے۔
آج جب ہم شیخ محمد عبداللہ کے میرپور آنے کا ذکر کرتے ہیں تو اسے محض ایک تاریخی دورہ سمجھنا تاریخ کے ساتھ ناانصافی ہوگی۔ یہ دورہ میرپور کی سیاسی اہمیت، اس کے عوامی شعور اور جموں و کشمیر کی مشترکہ سیاسی تاریخ میں اس کے کردار کی ایک اہم علامت تھا۔
میرپور نے اس زمانے میں صرف ایک سیاسی رہنما کا استقبال نہیں کیا تھا؛ اس نے کشمیر کی ابھرتی ہوئی سیاسی تاریخ کے ایک اہم باب کی میزبانی بھی کی تھی۔
شیخ صاحب مرحوم کی سیاسی جدوجہد، غلطیوں، پالیسیوں اور انداز سیاست پر بحث کی جاسکتی ہے، اُنھیں غلط و درست بھی کہا جاسکتا ہے، لیکن ایک بات کا ماننا ضرور بنتا ہے کہ اُن کی قیادت میں جموں کشمیر کی مجموعی سیاست کا دھارہ ضرور بدلا تھا۔ وہ بدلاو تباہیوں و بربادیوں کا سامان لے کر آیا یا پھر بغض کے لئے راحت و آرام کا، یہ ایک جاریہ بحث ہے۔ جو سری نگر کے بزرگوں کی سیاسی مجالس میں بھی ہوتی ہوگی لیکن مقام افسوس ہے کہ ہمارے میرپور میں اس مشترکہ تاریخ کا تذکرہ کرنے والے اب شاید خال خال ہی باقی رہے ہوں ۔
میرپور کو منگلا ڈیم نے صرف وجود سے نہیں اجاڑا تھا بلکہ اس کی تاریخ ، تمدن اور روایات کے ساتھ ساتھ ان اسلاف کی قبروں کو اجاڑ دیا ہے جن کے ساتھ ہماری مشترکہ داستانیں وابستہ تھیں ۔
ان داستانوں کو بھی اب ڈیم بردگی کا خطرہ ہے ۔
نوٹ: دستیاب تاریخی حوالوں میں میرپور کا واضح اور مضبوط حوالہ 15–17 دسمبر 1933ء کے مسلم کانفرنس اجلاس کا ہے اس کی روداد مرزا شفیق صاحب کی کتاب کشمیری مسلمانوں کی سیاسی جدوجہد میں تفصیل سے دستیاب ہے اس لیے مضمون میں اسی مستند تاریخی کتاب کو بنیاد بنایا گیا ہے۔
(واحد کاشر لندن میں مقیم بی بی سی سکول آف جرنلزم سے فارغ التحصیل ایک فری لانس تحقیقی صحافی ہیں اور جموں کشمیر ٹی وی کے ہیڈ آف کرنٹ افیئرز کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں )