کہیں پڑھا تھا کہ "خبر، تاریخ کا پہلا مسودہ ہوتی ہے۔”
یہ جملہ مختصر ہے، لیکن اس کے اندر صحافت، تاریخ، سچائی اور انسانی کرداروں کی ایک پوری دنیا آباد ہے۔ بعض اوقات ایک خبر آنے والے زمانوں کے لیے ایک ایسی شہادت بن جاتی ہے جسے تاریخ اپنے صفحات میں محفوظ کر لیتی ہے۔ اور کبھی کبھی کچھ واقعات ایسے بھی ہوتے ہیں جو خبر نہیں بن پاتے، مگر ان کے اثرات آنے والی کئی دہائیوں تک معاشرے اور اداروں کے کردار پر ثبت رہتے ہیں۔
گزشتہ روز نیٹ فلکس پر فلم رپورٹنگ لائیو دیکھی تو مجھے بہت سال پہلے کی لندن کی ایک دوپہر یاد آ گئی۔ ایک ایسی دوپہر جس نے مجھے صحافت کے بدلتے ہوئے چہرے، انسانی کردار کی کمزوری اور میڈیا کی دنیا میں تیزی سے فروغ پاتی ہوئی ایک نئی سوچ سے روشناس کروایا تھا۔
فلم رپورٹنگ لائیو میں ایک نوجوان صحافی سندھیا، جس کا کردار پرینیتی چوپڑا نے ادا کیا ہے، اپنے ساتھی کیمرہ مین ونود کے ہمراہ ایک پل گرنے کے حادثے کی خبر لینے پہنچتی ہے۔ بظاہر یہ ایک حادثہ ہوتا ہے، مگر جب وہ اس کے پس منظر میں جھانکتی ہے تو غیر قانونی ریت کی کان کنی، کاروباری مفادات اور طاقتور لوگوں کا ایک ایسا جال سامنے آتا ہے جسے بے نقاب کرنا آسان نہیں ہوتا اور فلم کے آخر میں دو لاشیں سڑک پر بھیگ رہی ہوتی ہیں جبکہ پس منظر میں ۔
اس کہانی کا اہم پہلو صرف یہ نہیں کہ ایک صحافی سچائی تلاش کر رہی ہے، بلکہ یہ بھی ہے کہ جس ادارے کے لیے وہ کام کرتی ہے، اس کی انتظامیہ کے اپنے تجارتی مفادات ہیں۔ ایک طرف خبر ہے، دوسری طرف کاروبار۔ ایک طرف صحافی کا ضمیر ہے اور دوسری طرف ادارے کی ترجیحات۔
یہی وہ مقام ہے جہاں فلم کی کہانی مجھے اپنے ماضی کی طرف لے گئی۔
یہ ان دنوں کی بات ہے جب میں لندن میں ایک پاکستانی ٹیلی وژن چینل سے وابستہ تھا۔
مجھے یاد ہے کہ ایک مرتبہ میری خواہش ہوئی کہ معروف کشمیری نژاد صحافی، دانشور اور مصنف خالد حسن کو اپنے ٹیلی وژن پروگرام میں مدعو کروں۔ خالد حسن، آزاد کشمیر کے سابق صدر اور قائداعظم محمد علی جناح کے سابق پرائیویٹ سیکرٹری خورشید حسن خورشید کے برادرِ نسبتی تھے۔ وہ ایک ایسے صحافی اور صاحبِ قلم تھے جن کی تحریروں، مشاہدات اور تاریخی تجربات کی اپنی ایک اہمیت تھی۔
میں چاہتا تھا کہ ان کے ساتھ ایک تفصیلی نشست ہو، جس میں کشمیر، برصغیر کی سیاست، تاریخ اور ان کے ذاتی مشاہدات پر گفتگو کی جا سکے۔
میں نے معروف کشمیری دانشور، محقق اور مصنف شمس الرحمٰن سے رابطہ کیا اور ان سے خالد حسن کا ٹیلی فون نمبر حاصل کیا۔
خالد حسن جیسے صاحبِ علم اور تجربہ کار صحافی سے براہِ راست گفتگو کرنا میرے لیے کسی اعزاز سے کم نہ تھا۔ میں نے بڑے احترام سے اپنا تعارف کروایا اور انہیں اپنے ٹیلی وژن پروگرام میں شرکت کی دعوت دی۔
انہوں نے میری بات سنی اور پھر پہلا سوال کیا:
"کیا یہ چینل کوئی سیٹھ چلاتا ہے؟”
یہ سوال میرے لیے غیر متوقع تھا۔ میں انہیں تاریخ، سیاست اور صحافت پر گفتگو کی دعوت دے رہا تھا، لیکن ان کی پہلی دلچسپی اس بات میں تھی کہ جس ادارے سے میں وابستہ ہوں، اس کی باگ ڈور کس کے ہاتھ میں ہے۔ اس وقت مجھے اس سوال کی اہمیت کا احساس نہ ہوا مگر وقت گزرنے کے ساتھ مجھے اس میں ایک گہرا صحافتی نکتہ دکھائی دینے لگا۔
آخر ایک تجربہ کار صحافی کے لیے یہ جاننا کیوں اہم ہو سکتا ہے کہ کسی نشریاتی ادارے کو کون چلاتا ہے؟
شاید اس لیے کہ کسی بھی صحافتی ادارے کی اصل شناخت صرف اس کے نام، عمارت، کیمروں یا نشریاتی سہولتوں سے نہیں بنتی۔ اس کی شناخت اس بات سے بھی بنتی ہے کہ ادارتی فیصلے کون کرتا ہے، صحافی کو کتنی آزادی حاصل ہے اور جب خبر اور کاروباری مفاد آمنے سامنے آ جائیں تو ترجیح کس کو دی جاتی ہے۔
خالد حسن کا وہ مختصر سا سوال میرے ذہن میں کہیں محفوظ رہ گیا۔
اس زمانے میں پاکستان کے بیشتر ٹیلی وژن چینل اپنی نشریاتی سرگرمیاں متحدہ عرب امارات منتقل کر چکے تھے۔ لندن میں شاید دو ہی ایسے پاکستانی چینل باقی رہ گئے تھے جہاں سے براہِ راست نشریات کا باقاعدہ انتظام موجود تھا۔
ان چینلوں کا معیار کتنا اچھا تھا یا کتنا خراب، یہ ایک الگ بحث ہے۔ اصل اہمیت اس بات کی تھی کہ ان کے پاس پروگرام پیش کرنے، براہِ راست نشریات چلانے اور ناظرین کی ضروریات کے مطابق فوری ردعمل دینے کی سہولت موجود تھی۔
اگر کوئی بھارتی یا پاکستانی فنکار، ادیب، سیاست دان یا معروف شخصیت برطانیہ آتی تو ہمارے پاس موقع ہوتا کہ ہم فوری طور پر اس کا انٹرویو کریں اور اس کی گفتگو ناظرین تک پہنچائیں۔
اس وقت ٹیلی وژن محض تفریح کا ذریعہ نہیں تھا۔ یہ رابطے، تشہیر، سیاسی پیغام رسانی اور عوامی رائے کی تشکیل کا ایک طاقتور وسیلہ بھی تھا۔
کاروباری اداروں کو اپنی مصنوعات متعارف کروانے کے مواقع ملتے، فنکاروں کو اپنی تخلیقات پیش کرنے کا پلیٹ فارم میسر آتا اور سیاست دانوں کو اپنے خیالات براہِ راست عوام تک پہنچانے کی سہولت حاصل ہوتی۔
ایک لحاظ سے ہم سیاسی تشہیر اور پروپیگنڈے کے بھی اہم مراکز بن چکے تھے۔
محترمہ بے نظیر بھٹو سے لے کر میاں نواز شریف تک، عمران خان سے لے کر جنرل پرویز مشرف تک، ہم نے تقریباً ہر اہم سیاسی شخصیت سے ملاقاتیں کیں، انٹرویوز کیے اور ان کی کہانیاں عوام تک پہنچائیں۔
اس دور میں صحافت کا ایک عالمی تناظر تھا۔ لندن میں بیٹھ کر ہم پاکستان، بھارت، مشرقِ وسطیٰ اور برطانیہ میں آباد جنوبی ایشیائی برادریوں کے درمیان ایک رابطے کا کردار ادا کر رہے تھے۔
پھر آہستہ آہستہ منظر بدلنے لگا۔
میڈیا میں ایسے لوگوں کی ایک پوری فوج داخل ہو گئی جن کے پاس نہ صحافت کی بنیادی تربیت تھی، نہ خبر کی اہمیت کا ادراک اور نہ ہی اس پیشے کی اخلاقی ذمہ داریوں کا کوئی خاص احساس۔
انہوں نے صحافت کی ایک نئی قسم متعارف کروائی۔
وہ صحافت جس میں عالمی سیاست، معاشرتی مسائل، تاریخ اور سنجیدہ مکالمے کی جگہ اس قسم کی خبریں لینے لگیں کہ فلاں صاحب نے فلاں شہر میں جلیبیاں کھائیں، فلاں خاتون نے سموسوں کی دکان کھول لی، یا فلاں شخصیت نے کسی تقریب میں شرکت کر کے لوگوں کے ساتھ تصویریں بنوائیں۔
یہ خبریں اپنی جگہ مقامی دلچسپی کا باعث ضرور ہو سکتی تھیں، لیکن جب یہی مواد صحافت کی بنیادی شناخت بننے لگے تو پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ ہم خبر دے رہے ہیں یا محض وقت گزار رہے ہیں؟
میرے لیے یہ اپنے پیشہ ورانہ سفر کا ایک مختلف اور قدرے تکلیف دہ مرحلہ تھا۔
میں اکثر سوچتا کہ کیا یہی وہ کام تھا جس کے لیے میں اس شعبے میں آیا تھا؟
کیا صحافت کا مقصد محض کسی کی شہرت بڑھانا، کسی کی خوشامد کرنا یا کسی معمولی واقعے کو غیر معمولی بنا کر پیش کرنا رہ گیا تھا؟
انہی دنوں ایک ایسا واقعہ پیش آیا جسے میں آج تک فراموش نہیں کر سکا۔
میں نے ایک شخص کو اپنے چینل میں کام کرنے کا موقع دیا تھا۔ اس کی صلاحیتوں کو سامنے رکھتے ہوئے میں نے اس کے لیے ایک مخصوص کردار تخلیق کیا، اس کی شخصیت کو نکھارا اور اسے ناظرین کے سامنے ایک ایسے انداز میں پیش کیا جو بہت جلد مقبول ہو گیا۔
دیکھتے ہی دیکھتے وہ ہمارے چینل کا ایک نمایاں چہرہ بن گیا۔ اس کی مقبولیت سے چینل کو مالی فائدہ ہونے لگا۔ اشتہارات آنے لگے، ناظرین کی دلچسپی بڑھی اور انتظامیہ بھی خوش تھی۔
بظاہر سب کچھ بہت اچھا چل رہا میرے دفتر میں آیا اور کہنے لگا:
"راجہ صاحب، ذرا باہر چل کر سگریٹ پیتے ہیں۔”
میں اس کے ساتھ باہر آ گیا۔
اس کی تنخواہ کوئی بہت زیادہ نہیں تھی۔ عام طور پر وہ پاکستان کے کسی سستے برانڈ کے سگریٹ پیا کرتا تھا، لیکن اس روز اس کی جیب میں ایک مہنگے غیر ملکی برانڈ کا پیکٹ تھا اور ہاتھ میں سنہری رنگ کا ایک خوب صورت لائٹر۔
مجھے یہ تبدیلی کچھ عجیب لگی، لیکن میں نے کوئی سوال نہیں کیا۔
وہ عین اس جگہ جا کر کھڑا ہو گیا جہاں ہمارے ادارے کے مالک کھڑے ہو کر سگریٹ پیا کرتے تھے۔
اس نے بڑے اطمینان سے جیب سے سگریٹ کا پیکٹ نکالا، ایک سگریٹ میری طرف بڑھایا اور پھر مجھے کچھ عجیب سی نظروں سے دیکھنے لگا۔
اچانک اس نے پوچھا:
"راجہ صاحب، آپ یہاں کتنے پیسے کماتے ہیں؟”
میں ایک لمحے کے لیے حیران رہ گیا۔
یہ وہی شخص تھا جو چند ماہ پہلے تقریباً بیس میل سائیکل چلا کر ہمارے دفتر پہنچتا تھا، استقبالیہ کے قریب بیٹھا رہتا تھا اور کسی کام یا موقع کی تلاش میں ہوتا تھا۔
اور آج وہ مجھ سے ایک ایسا سوال کر رہا تھا جو عموماً کسی ملازمت کے امیدوار سے کیا جاتا ہے۔
میں نے اس کی طرف دیکھا، لیکن خاموش رہا۔
اس نے سگریٹ سلگایا، ایک لمبا کش لیا اور نہایت پراعتماد انداز میں کہنے لگا:”دیکھیں راجہ صاحب، اب میں ایک مشہور آدمی ہوں۔ لوگ مجھے پہچانتے ہیں، مجھ سے ملنا چاہتے ہیں۔ جمعے کی رات میں ننانوے پینس والی کوچ پکڑتا ہوں اور ویسٹ مڈلینڈز چلا جاتا ہوں۔ وہاں میرے بہت سے مداح ہیں۔ ”
میں خاموشی سے اس کی بات سنتا رہا۔
اس نے مزید کہا:
"لیکن یہ سب خفیہ رکھنا پڑتا ہے۔ میں نہیں چاہتا کہ چینل کی انتظامیہ کو اس کا علم ہو اور میرے لیے کوئی مسئلہ پیدا ہو۔”
اسے اچھی طرح معلوم تھا کہ اس کی مقبولیت کی بنیاد وہی کردار تھا جو میں نے اس کے لیے تخلیق کیا تھا اور جسے چینل نے اپنے وسائل اور نشریات کے ذریعے لوگوں تک پہنچایا تھا۔
اب وہ اسی کردار کو ذاتی آمدن کا ذریعہ بنا چکا تھا۔
اس نے اچانک کہا:
"راجہ صاحب، میرے پاس آپ کے لیے ایک پیشکش ہے۔”
میں نے حیرت سے پوچھا:
"کیسی پیشکش؟”
اس نے سگریٹ کا ایک اور کش لیا، منہ سے دھوئیں کا ایک بڑا سا حلقہ بنایا، آسمان کی طرف دیکھا اور پھر میری طرف متوجہ ہوا۔
” میں جو کماتا ہوں اس کا ایک حصہ آپ کو دے سکتا ہوں ، لیکن آپ کی چینل میں میرا بچاؤ کرنا ہو گا ۔”
یہ سن کر میرے اندر جیسے آگ بھڑک اٹھی۔
میں نے فوراً اپنا سگریٹ زمین پر پھینکا اور شدید غصے میں اس سے کہا کہ آخر وہ مجھے سمجھتا کیا ہے؟
کیا اسے واقعی یہ گمان تھا کہ میں چند پیسوں کے عوض اپنے پیشے، اپنی ذمہ داری اور اپنے ضمیر کا سودا کر لوں گا؟
میں نے اسے دیانت داری، عزتِ نفس، پیشہ ورانہ اصولوں اور اعتماد کی اہمیت پر خاصا طویل لیکچر دیا۔
لیکن حیرت کی بات یہ تھی کہ میری ناراضی کا اس پر کوئی خاص اثر نہیں ہوا۔
وہ نہ گھبرایا، نہ پریشان ہوا اور نہ ہی اس کے چہرے پر کسی شرمندگی کے آثار نمایاں ہوئے۔
اس نے بڑے اطمینان سے میری بات سنی، پھر ہاتھ بڑھایا، معذرت کی اور ہم دونوں واپس دفتر آ گئے۔
میں اپنے کمرے میں بیٹھا کافی دیر تک سوچتا رہا کہ اب مجھے کیا کرنا چاہیے۔
کیا میں اس گفتگو کے بارے میں انتظامیہ کو آگاہ کروں؟
لیکن میرے پاس اس کی باتوں کا کوئی ثبوت نہیں تھا۔ یہ ایک نجی گفتگو تھی اور اس کے علاوہ میرے پاس کچھ بھی نہیں تھا۔
میں اسی کشمکش میں تھا کہ چند گھنٹے بعد مجھے ادارے کے مالک نے اپنے دفتر میں بلایا۔
میں اندر داخل ہوا تو ایک عجیب منظر میرا منتظر تھا۔
وہی شخص، جو چند گھنٹے پہلے مجھے اپنی خفیہ کمائی میں حصہ دینے کی پیشکش کر رہا تھا، مالک کے سامنے بیٹھا تھا۔
دونوں کے درمیان خوش گپیاں ہو رہی تھیں۔ قہقہے لگ رہے تھے اور ماحول خاصا خوش گوار تھا۔
چینل کے مالک نے مجھے دیکھا اور کہا:
"راجہ صاحب، آج سے آپ اس کے معاملات نہیں دیکھیں گے۔ اب یہ براہِ راست مجھے رپورٹ کرے گا۔ ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ اسے مختلف شہروں میں لے جا کر لوگوں تک پہنچایا جائے۔ آپ اس کے لیے دو افراد کی ایک ٹیم مقرر کر دیں۔”
میں چند لمحوں کے لیے خاموش رہ گیا۔
صبح جس شخص نے مجھے اپنی آمدن میں شریک کرنے کی پیشکش کی تھی، شام ہونے سے پہلے وہی شخص ادارے کے مالک کے ساتھ ایک نئے انتظام پر متفق ہو چکا تھا۔
اور اب مجھے ہدایت دی جا رہی تھی کہ میں اس کے لیے عملہ بھی فراہم کروں۔
مجھے اس فیصلے کے پس منظر کا علم نہیں تھا۔ نہ میں یہ جانتا تھا کہ اس نے مالک سے کیا گفتگو کی تھی اور نہ ہی میں کسی خفیہ سمجھوتے کا دعویٰ کر سکتا تھا۔
لیکن ایک بات میرے لیے بالکل واضح تھی۔
جس کردار کو میں نے محنت سے تخلیق کیا تھا، وہ اب میرے سامنے ایک ایسے کاروبار میں تبدیل ہو رہا تھا جس میں صحافت، شہرت، ذاتی مفاد اور ادارہ جاتی ترجیحات کے درمیان فرق دھندلا چکا تھا۔
اس واقعے نے مجھے صرف حیران نہیں کیا بلکہ اندر سے بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر دیا۔
اور انہی لمحوں میں خالد حسن کا وہ سوال ایک مرتبہ پھر میرے ذہن میں ابھرا:
"کیا یہ چینل کوئی سیٹھ چلاتا ہے؟”
اب مجھے اس سوال کا ایک مختلف مفہوم سمجھ آنے لگا تھا۔
کسی کاروباری شخص کا میڈیا کا ادارہ قائم کرنا بذاتِ خود کوئی خرابی نہیں۔ صحافتی اداروں کو بھی وسائل، سرمایہ، اشتہارات اور انتظامی صلاحیت کی ضرورت ہوتی ہے۔ اصل مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب کاروباری مفاد، ادارتی فیصلوں اور پیشہ ورانہ اصولوں پر غالب آنے لگے۔
میں نے محسوس کیا کہ بعض اوقات ادارے اپنی کامیابی کو صرف آمدن، مقبولیت اور ناظرین کی تعداد سے ناپنے لگتے ہیں۔ اس عمل میں وہ بھول جاتے ہیں کہ کسی ادارے کی اصل ساکھ اس کے اصول، اس کی دیانت داری اور اس کے لوگوں کے کردار سے بنتی ہے۔
یہاں مجھے ایک مرتبہ پھر رپورٹنگ لائیو کا وہ بنیادی تصادم یاد آتا ہے جہاں صحافی خبر کے پس منظر میں چھپی حقیقت سامنے لانا چاہتے ہیں، لیکن ادارے کی انتظامیہ کے لیے اس خبر کی اشاعت اپنے کاروباری تعلقات کے لیے خطرہ بن جاتی ہے۔
فلم میں چینل کا مالک شیام، جسے شیکھر سمن نے ادا کیا ہے، اور مدیر ودور، جس کا کردار عادل حسین نے نبھایا ہے، دو مختلف ترجیحات کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ایک کے سامنے ادارے کے مالی اور کاروباری مفادات ہیں، جبکہ دوسرا ادارتی آزادی اور صحافتی ذمہ داری کو اہمیت دیتا ہے۔
میرے لندن والے واقعے اور فلم کی کہانی میں حالات یقیناً مختلف ہیں۔ وہاں ایک خطرناک کاروباری نیٹ ورک کو بے نقاب کرنے کا معاملہ ہے، جبکہ میرے سامنے ایک مقبول ٹیلی وژن شخصیت کی ذاتی آمدن اور ادارے کے انتظامی فیصلوں کا سوال تھا۔
لیکن دونوں میں ایک قدر مشترک ہے۔
جب صحافت کے ادارے میں کاروباری مفاد فیصلہ کن قوت بن جائے تو پیشہ ورانہ اصولوں کی حیثیت کمزور پڑنے لگتی ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں اصل صحافت اور محض نشریاتی کاروبار کے درمیان فرق واضح ہوتا ہے۔
اصل صحافت صرف مائیکروفون تھامنے، کیمرے کے سامنے کھڑے ہونے یا کسی مشہور شخصیت کے ساتھ تصویر بنوانا نہیں ہے بلکہ اس کے لیے تحقیق، سوال کرنے کی جرأت، حقائق کی تصدیق، مختلف مؤقف سننے اور عوامی مفاد کو ترجیح دینے کی صلاحیت درکار ہوتی ہے۔
صحافی کا کام محض وہ بات نشر کرنا نہیں جو عوام سننا چاہتے ہیں، بلکہ وہ سوال اٹھانا بھی ہے جس کا جواب طاقتور لوگ دینا نہیں چاہتے۔
تاہم صحافتی آزادی کا مطلب بے بنیاد الزامات لگانا یا کسی کو ثبوت کے بغیر مجرم قرار دینا بھی نہیں۔ اصل صحافت کا امتحان اسی وقت ہوتا ہے جب خبر اہم بھی ہو، حساس بھی ہو اور اس کی تصدیق مشکل بھی۔
فلم میں سندھیا اور ونود کی جدوجہد اسی اصول کو نمایاں کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ وہ ایک حادثے کی سرکاری یا ظاہری وضاحت پر اکتفا نہیں کرتے بلکہ اس کے اسباب جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔ اگرچہ فلم کے بعض واقعات ڈرامائی اور حقیقت سے قدرے دور محسوس ہوتے ہیں، لیکن اس کا مرکزی سوال اپنی جگہ اہم ہے: کیا ایک صحافی کو سچائی کی تلاش میں اپنے ادارے کے مفادات سے بھی اختلاف کرنے کی آزادی حاصل ہے؟
میرے پیشہ ورانہ سفر میں اس نوعیت کے کئی واقعات آئے۔
ایسی بے شمار کہانیاں ہیں جو شاید کبھی کسی اخبار میں شائع نہیں ہوئیں، کسی ٹیلی وژن پروگرام کا موضوع نہیں بنیں اور کسی صحافتی تاریخ کا حصہ بھی نہیں بن سکیں۔
لیکن انہی چھوٹے چھوٹے واقعات نے رفتہ رفتہ برطانیہ میں جنوبی ایشیائی میڈیا کے ایک بڑے حصے کی سمت متعین کی۔
یہیں سے ایک ایسے رجحان نے قوت پکڑی جس میں صحافت کے نام پر ذاتی تشہیر، تعلقات کی تجارت، مصنوعی شہرت اور مفادات کا تحفظ معمول بنتا چلا گیا۔
یقیناً ہر صحافی ایسا نہیں تھا اور نہ ہی ہر ادارہ ان کمزوریوں کا شکار ہوا۔ اس میدان میں بہت سے بااصول، محنتی اور قابل لوگ بھی موجود تھے جنہوں نے مشکل حالات میں صحافت کی حرمت برقرار رکھی۔
لیکن اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ غیر تربیت یافتہ لوگوں کی بڑھتی ہوئی تعداد، اداروں کی تجارتی ترجیحات اور پیشہ ورانہ احتساب کی کمی نے صحافت کو نقصان پہنچایا۔
ہم نے خبر کو تماشے میں، تجزیے کو ذاتی رائے میں اور صحافی کو ایک ایسی شخصیت میں بدلتے دیکھا جس کے لیے سچائی سے زیادہ اہمیت اس بات کی تھی کہ اسے کتنے لوگ پہچانتے ہیں۔
اور پھر رفتہ رفتہ وہ عالمی تناظر، جس کے ساتھ ہم نے لندن سے اپنے نشریاتی سفر کا آغاز کیا تھا، سمٹ کر مقامی تقریبات، مصنوعی شخصیات اور بے مقصد خبروں تک محدود ہونے لگا۔
آج جب میں ماضی کے ان واقعات کو یاد کرتا ہوں تو سوچتا ہوں کہ صحافت کا زوال کسی ایک دن، کسی ایک شخص یا کسی ایک فیصلے سے نہیں آتا۔
یہ ایک مسلسل عمل ہے۔
پہلے اصولوں پر چھوٹے چھوٹے سمجھوتے کیے جاتے ہیں۔ پھر ان سمجھوتوں کو کاروباری ضرورت قرار دیا جاتا ہے۔ اس کے بعد وہی ضرورت ادارے کی پالیسی بن جاتی ہے اور بالآخر ایک وقت ایسا آتا ہے جب دیانت داری پر قائم رہنے والا شخص ہی دوسروں کو غیر معمولی دکھائی دینے لگتا ہے۔
رپورٹنگ لائیو ایک فلم ہے۔ اس کے کردار فرضی ہیں اور واقعات کو ڈرامائی انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ حقیقی صحافت میں معاملات اکثر اتنی آسانی سے حل نہیں ہوتے۔ یہاں ثبوت جمع کرنے میں برسوں لگ سکتے ہیں، ادارے دباؤ میں آ سکتے ہیں اور بعض اوقات درست خبر بھی کبھی نشر نہیں ہو پاتی۔
لیکن فلم ایک ضروری سوال ضرور اٹھاتی ہے:
کیا صحافت کا مقصد طاقتور لوگوں کی کہانیاں سنانا ہے یا ان کہانیوں کے پیچھے چھپی حقیقت تلاش کرنا؟
شاید اسی لیے وہ جملہ مجھے آج بھی سوچنے پر مجبور کرتا ہے:
"خبر، تاریخ کا پہلا مسودہ ہوتی ہے۔”
لیکن میں اس میں اپنے تجربے کی بنیاد پر ایک بات کا اضافہ کرنا چاہوں گا۔
ہر خبر تاریخ کا حصہ بن سکتی ہے، مگر تاریخ صرف ان خبروں سے نہیں بنتی جو شائع ہو جائیں۔ تاریخ ان واقعات سے بھی بنتی ہے جنہیں دانستہ یا نادانستہ طور پر خبر بننے ہی نہیں دیا جاتا۔
لندن کی وہ دوپہر کسی اخبار کی سرخی نہیں بنی۔اس پر کوئی خصوصی رپورٹ نشر نہیں ہوئی، نہ کسی نے اس واقعے کی تحقیقات کیں اور نہ ہی یہ کسی صحافتی بحث کا موضوع بنا لیکن میرے لیے وہ دوپہر ایک پوری کتاب کا باب بن گئی۔
ایک ایسا باب جس نے مجھے سکھایا کہ صحافت میں بعض اوقات سب سے بڑی خبر وہ نہیں ہوتی جو کیمرے کے سامنے پیش کی جا رہی ہو، بلکہ وہ ہوتی ہے جو کیمرہ بند ہونے کے بعد، دفتر کے کسی کونے میں، سگریٹ کے دھوئیں کے درمیان جنم لیتی ہے۔
اور آج جب کبھی کسی ٹیلی وژن چینل کی چمکتی ہوئی عمارت، جدید اسٹوڈیو یا کسی مقبول چہرے کو دیکھتا ہوں تو خالد حسن کا وہ سوال پھر یاد آ جاتا ہے:
"کیا یہ چینل کوئی سیٹھ چلاتا ہے اور اس چینل میں خبر کا مالک کون ہے، صحافی کا ضمیر یا سرمایہ؟”